پیر, جون 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنترائے کا چھٹا "گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” سانکھی میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    بھاگلپور و اطرافِ بھاگلپور کی گمشدہ تاریخ کو منظرِ عام پر لانے کے لیے عظیم الشان سیمینار کی تیاری — دگھی گڈا میں اہم مشاورتی نشستب

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    نوجوانوں کو مقصدِ حیات کا پیغام: جہاز قطعہ میں بیداری مہم جاری

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    دو سادہ نکاح، سنتی طرزِ عمل کی عملی مثال — فضول رسومات کے خلاف بامعنی پیغام

    دو سادہ نکاح، سنتی طرزِ عمل کی عملی مثال — فضول رسومات کے خلاف بامعنی پیغام

    پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنترائے کا چھٹا "گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” سانکھی میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    بھاگلپور و اطرافِ بھاگلپور کی گمشدہ تاریخ کو منظرِ عام پر لانے کے لیے عظیم الشان سیمینار کی تیاری — دگھی گڈا میں اہم مشاورتی نشستب

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    نوجوانوں کو مقصدِ حیات کا پیغام: جہاز قطعہ میں بیداری مہم جاری

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    دو سادہ نکاح، سنتی طرزِ عمل کی عملی مثال — فضول رسومات کے خلاف بامعنی پیغام

    دو سادہ نکاح، سنتی طرزِ عمل کی عملی مثال — فضول رسومات کے خلاف بامعنی پیغام

    پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

by Admin
مئی 14, 2026
in مضامین
0
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد
0
SHARES
6
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملاحظات

مولانا عبدالحمید نعمانی

تاریخ، ماضی کی یاد داشت ہے، ماضی میں جو کچھ ہوا ہے، اس کو ایمانداری و دیانت داری سے، صحیح تعبیرات و تشریحات کے ساتھ، حال اور مستقبل کی نسلوں کے لیے پیش کرنا، انصاف و انسانیت کی بڑی ضرورت ہے، اس کے بر عکس فرقہ پرست اور اشرافیہ عناصر، اپنے فائدے و مقاصد کے حساب سے تاریخ کو گھمانے و استعمال کرتے ہیں، وہ کسی بات کو بھی اس کی صحیح جگہ رکھنے، دیکھنے کے بجائے، تاریخ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے خود کو مفید و محبوب اور دیگر کو مردود و مضر قرار دے کر سماج کو اپنے تفوق و مفادات کے لیے ساتھ کر لینے میں لگ جاتے ہیں، اور باتوں کو اس طرح گھما پھرا سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فرقہ پرستی و اشتعال انگیزی کی تعریف مشتبہ ہو جاتی ہے، بھارت کی قدیم اور عہد وسطی کی تاریخ، برطانوی سامراج کے مورخین نے ایک الگ رنگ میں پیش کر کے، اپنی برتری و خوبی ثابت کرنے کی کوشش کے ساتھ، استعماری و سا مراجی دور حکومت کو رحمت و برکت باور کرانے کا کام کیا تو دوسری طرف دائیں بازو کے ہندو مورخین نے بھارت کی تاریخ کو ہندوتو اور برہمن واد کی سنہری تاریخ کے طور پر سامنے لانے کا کام کیا ہے، ان دونوں گروہ نے اسلام کا غلط تصور پیش کرتے ہوئے مسلم تاریخ کو بگاڑ کر پیش کیا ہے، دائیں بازو کے ہندو مورخین نے برٹش سامراج پر زیادہ تنقید نہیں کی ہے، ان کی زیادہ تر توجہ و توانائی، اسلام اور مسلم حکمرانوں کو مکروہ و نفرت انگیز شکل میں پیش کرنے پر لگی رہی ہے، اس سلسلے میں انہوں نے مغربی و یورپی مورخین سے بھر پور استفادہ کر کے مسلم سماج کو قصائی کی ایسی دکان باور کرانے کی سعی کی ہے، جہاں دن رات چھریاں چلتی ہیں، اس جانب داری و فرقہ وارانہ تاریخ نویسی کے خلاف، غیر مسلموں میں سے کئی سارے مورخین ایسے شواہد و حقائق کے ساتھ منظر عام پر آئے جن سے تاریخ کی تاریکی اور فرقہ وارانہ تعبیر وتشریح کی دھند کو دور کرنے میں مدد ملی، یہ صورت حال دائیں بازو کے مورخین اور ملک کے خاص فرقہ وارانہ سیاست کی طرف لے جانے والوں کے لیے تکلیف دہ اور بے چینی پیدا کرنے والی تھی، انھوں نے دلائل و شواہد سے حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے، مختلف ذرائع ابلاغ اور تحریری و زبانی طور سے، انصاف پسند، غیر جانب دار مورخین اور معروضی مطالعہ کرنے والوں کو غیر معتبر اور ہندو مخالف ذہنیت کا حامل قرار دے کر، اکثریتی سماج میں بے حیثیت و ناپسندیدہ عنصر کے طور پر پیش کیا، ان کو یا تو مارکسی، کمیونسٹ، ماسکو کی چاکری کرنے والے کے طور پر سامنے لانے کا کام کیا یا پھر مسلم نواز، تشٹی کرن کرنے والے زمرے میں ڈال دیا کر، بے وزن اور ناقابل اعتبار بنانے کا کام کیا گیا، گرچہ یہ سلسلہ آزادی سے پہلے، برٹش دور حکومت میں ہی شروع ہو گیا تھا تاہم آزادی کے بعد اس میں برق رفتار تیزی آئی، اس کا بعد کے دنوں میں، آج تک دھواں دھار طریقے سے، بہ طور ہتھیار اور مسلمانوں کو وحشی باور کرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، گزشتہ کچھ دنوں سے یہ پروپیگنڈا زوروں پر ہے کہ اسلام اور مسلمانوں نے بھارت میں آ کر ہندوؤں کے شاندار و روشن ماضی اور موجود ثقافتی و تہذیبی آثار کو نیست و نابود کر دیا اسے آج کی تاریخ میں شدت پسند ہندوتو وادی عناصر ہندو اکثریت میں ڈر پیدا کر کے آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں کہ اگر تم نے انتخابات میں ووٹ دے کر ہمیں کامیاب نہیں کیا تو حملہ آوروں کے وارث تمہارے گھروں پر حملے کر کے خواتین کی عصمت دری اور مردوں کو قتل کر دیں گے، مردوں کو غلام اور بہو بیٹیوں کو باندی بنا لیں گے حتی کہ گھروں سے گائے بھینس لوٹ لے جائیں گے اور نہ صرف یہ بلکہ عورتوں کے گلے سے منگل سوتر تک چھین لے جائیں گے، اس طرح کے پروپیگنڈے میں وزیراعظم مودی سے لے کر پرویش ورما اور یتی نرسنہا نند جیسے لوگ بھی لگے ہوئے ہیں، نریندر بھائی مودی کی ذہنیت ، ان کے بہت سی تقاریر و بیانات کے علاوہ ان کی بہ ذات خود لکھی کتاب” جیوتی پنج "سے بھی سامنے آجاتی ہے، ہندوتو وادی سماج کو تاریخ سے زیادہ، من گھڑت اور من موافق کہانیاں زیادہ سوٹ کرتی ہیں، کہانیوں کو من پسند رخ بآسانی دیا جا سکتا ہے، اس ذہنیت کو دیکھتے ہوئے مغربی و یورپی مورخین و دانش وروں نے سامراجی حکمرانوں کے مقاصد و عزائم کے زیر اثر کام کیا، میکس مولر سے پہلے برہمن وادی طبقے کی اپنے مذہبی گرنتھوں کو شائع کرنے پر کوئی توجہ نہیں تھی، بھارت میں ہندوؤں، مسلمانوں اور انگریزوں کو الگ الگ کرنے کے تاریخ کو بھی تقسیم کر کے پیش کرکے، سماج کو نفرت کی راہ پر ڈالنے کا کام کیا گیا، گزرتے دنوں کے ساتھ تاریخ میں دیگر امور و طبقات کو بھی شامل کرنے کی سمت میں کئی طرح کی پیش رفت ہوئی، تاریخ نگاری میں گروہ بندی و مسلکی وابستگی نے بھی تاریخ کی بہتر تشریح و تعبیر اور معاملات کو پیش کرنے کی راہ میں کئی قسم کی رکاوٹیں اور افہام و تفہیم میں مشکلیں کھڑی کی ہیں، لیکن اس کے باوجود حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، تاج الماثر، طبقات ناصری سے لے کر طباطبائی کی سیر المتاخرین تک لکھیں درجنوں کتب تاریخ میں خاصا مواد ہے، متضاد باتیں بھی ہیں، تاہم تھوڑی محنت و کاوش سے مختلف باتوں سے قدرے مشترک ایسی باتوں کو سامنے لایا جا سکتا ہے جن سے حقائق تک پہنچا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں ماخذ کو لے کر بنیادی سوالات سے بہتر جوابات حاصل کیے جا سکتے ہیں مثلا یہ کہ اورنگزیب کی طرف سے کاشی وشو ناتھ مندر توڑ کر مسجد تعمیر کا معاصر ماخذ کیا ہے؟گرو تیغ بہادر کے قتل کے سلسلے کا سوال بھی اسی نوعیت کا ہے، بنیادی سوالات سے من گھڑت کہانیوں کی قلعی کھل جاتی ہے، کچھ دنوں پہلے ایک ٹی وی چینل پروگرام میں بی جے پی لیڈر اور ترجمان سردار آر پی سنگھ نے اورنگزیب کے بھیانک مظالم کا ذکر کیا لیکن جب ان سے معاصر تاریخی ثبوت طلب کیا گیا تو وہ ایک بھی حوالہ نہیں دے سکے، ایک منصوبہ بند طریقے سے من گھڑت تنقید و تبصرے کے ذریعے فرقہ وارانہ نفرت و تصادم پیدا کر کے برٹش سامراج کو با برکت حکومت باور کرانے کا کام کیا گیا ہے، اس کے شکار جدو ناتھ سرکار جیسے معروف اور مغلیہ عہد کے سب سے بڑے مورخ بھی ہو گئے، جس کے اعتراف میں انہیں سر کا خطاب دیا گیا تھا، بعد کے دنوں میں ان کے فکر و عمل میں تھوڑی بہت تبدیلی بھی پیدا ہو گئی تھی، انھوں نے ہندو حکمرانوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے متحد ہو کر ترک و مغل حکمرانوں کا مقابلہ نہیں کیا اور بہتر کردار کا بھی ثبوت نہیں دیا، انھوں نے اپنی کتاب،” شیوا جی کا عہد ” میں سنبھا جی کو اخلاق و کردار کے اعتبار سے پست تر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مراٹھے اپنے اپنے مفادات کو لے کر آپس میں لڑ کر منتشر و کمزور ہو گئے، دائیں بازو کے بیشتر مورخین نے بہت سے حقائق پر پردہ ڈالنے کا کام کیا ہے، وہ انگریزی سامراجی مورخین کے طرز تاریخ نگاری کو اختیار کر کے گمراہ کن تاریخ نویسی کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل رہے، سر ہینری ایلیٹ نے جس سامراجی تاریخ نگاری کی راہ ہموار کی تھی، اسی پر آزادی کے تقریبا 77/78 کے برسوں میں بھی بیشتر دائیں بازو کے لکھنے بولنے والے چل رہے ہیں، انھوں نے ملک کی روایات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تناظر میں کوئی زیادہ نہیں سوچا، ان کو لگتا ہے کہ ملک کی ہندو اکثریت میں تقسیم و تفریق کا ذہن پیدا کر کے ہی اس کا تفوق قائم ہو گا، ایلیٹ نے اپنی تاریخ ہند کی 8/جلدوں میں فرقہ وارانہ نظریات کی آمیزش اس طور سے کر دی ہے کہ بھارت کی تاریخ کا تصور ختم سا ہو گیا ہے اور ملک کی تاریخ، ہندوؤں، مسلمانوں اور انگریزوں کی تاریخ بن کر رہ گئی ہے، اس سلسلے میں یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ مصنف اپنے سامراجی مقاصد و عزائم میں کامیاب ہے، ہندستان کی نسلیں فرقہ واریت کے زہر سے بری طرح متاثر ہیں، آزادی کے بعد تصور تاریخ نگاری میں کئی بہتر تبدیلیاں ہوئیں، حکمراں طبقے کے فکر و عمل کے دائرے سے تاریخ نویسی کو باہر نکال کر عوامی و سماجی کرداروں کو بھی اس میں شامل کرنے پر توجہ دی گئی اور یہ خیال قوی ہوا کہ سماج کی تاریخ کو محدود سیاسی پس منظر میں پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا ہے سیاسی واقعات سے ایک ڈھانچہ ضرور بن جاتا ہے لیکن انسانوں کے فکر و عمل تک پوری رسائی نہیں ہو سکتی ہے، لہذا مذہبی، تہذیبی، اقتصادی، جغرافیائی، عمرانی وغیرہ پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے پورے عوامل و محرکات کے ساتھ تاریخ نگاری ہونا چاہیے، اس تعلق سے خاصا کام بھی ہوا ہے لیکن اسے فرقہ وارانہ ذہنیت نے نظر انداز کر کے فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے پر پورا زور لگا دیا ہے اور مذہبی علامتوں کے جذباتی عنصر کو شامل کر کے ایک الگ طرح کی تاریخ کو سامنے لانے کا کام کیا ہے، اس رویہ و روش اور ذہنیت کے خلاف ایک تسلسل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ دائیں بازو کے مورخین کے پھیلائے زہر کے لیے تریاق کا کام کر سکے،

Admin

Admin

Next Post
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

انصاف پسند اور مظلوم برادرانِ وطن کے ساتھ مل کر جدوجہد

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھٹا سال: 1924ء

5 مہینے ago
جمعیت اور سنگھ میں زمین وآسمان کا فرق ہے: مسٹر جے پرکاش نرائن

جمعیت اور سنگھ میں زمین وآسمان کا فرق ہے: مسٹر جے پرکاش نرائن

8 مہینے ago

مقبول

  • تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مردم شماری میں حصہ لینا قومی ومذهبی فریضه

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.