ملاحظات
مولانا عبدالحمید نعمانی
تاریخ، ماضی کی یاد داشت ہے، ماضی میں جو کچھ ہوا ہے، اس کو ایمانداری و دیانت داری سے، صحیح تعبیرات و تشریحات کے ساتھ، حال اور مستقبل کی نسلوں کے لیے پیش کرنا، انصاف و انسانیت کی بڑی ضرورت ہے، اس کے بر عکس فرقہ پرست اور اشرافیہ عناصر، اپنے فائدے و مقاصد کے حساب سے تاریخ کو گھمانے و استعمال کرتے ہیں، وہ کسی بات کو بھی اس کی صحیح جگہ رکھنے، دیکھنے کے بجائے، تاریخ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے خود کو مفید و محبوب اور دیگر کو مردود و مضر قرار دے کر سماج کو اپنے تفوق و مفادات کے لیے ساتھ کر لینے میں لگ جاتے ہیں، اور باتوں کو اس طرح گھما پھرا سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فرقہ پرستی و اشتعال انگیزی کی تعریف مشتبہ ہو جاتی ہے، بھارت کی قدیم اور عہد وسطی کی تاریخ، برطانوی سامراج کے مورخین نے ایک الگ رنگ میں پیش کر کے، اپنی برتری و خوبی ثابت کرنے کی کوشش کے ساتھ، استعماری و سا مراجی دور حکومت کو رحمت و برکت باور کرانے کا کام کیا تو دوسری طرف دائیں بازو کے ہندو مورخین نے بھارت کی تاریخ کو ہندوتو اور برہمن واد کی سنہری تاریخ کے طور پر سامنے لانے کا کام کیا ہے، ان دونوں گروہ نے اسلام کا غلط تصور پیش کرتے ہوئے مسلم تاریخ کو بگاڑ کر پیش کیا ہے، دائیں بازو کے ہندو مورخین نے برٹش سامراج پر زیادہ تنقید نہیں کی ہے، ان کی زیادہ تر توجہ و توانائی، اسلام اور مسلم حکمرانوں کو مکروہ و نفرت انگیز شکل میں پیش کرنے پر لگی رہی ہے، اس سلسلے میں انہوں نے مغربی و یورپی مورخین سے بھر پور استفادہ کر کے مسلم سماج کو قصائی کی ایسی دکان باور کرانے کی سعی کی ہے، جہاں دن رات چھریاں چلتی ہیں، اس جانب داری و فرقہ وارانہ تاریخ نویسی کے خلاف، غیر مسلموں میں سے کئی سارے مورخین ایسے شواہد و حقائق کے ساتھ منظر عام پر آئے جن سے تاریخ کی تاریکی اور فرقہ وارانہ تعبیر وتشریح کی دھند کو دور کرنے میں مدد ملی، یہ صورت حال دائیں بازو کے مورخین اور ملک کے خاص فرقہ وارانہ سیاست کی طرف لے جانے والوں کے لیے تکلیف دہ اور بے چینی پیدا کرنے والی تھی، انھوں نے دلائل و شواہد سے حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے، مختلف ذرائع ابلاغ اور تحریری و زبانی طور سے، انصاف پسند، غیر جانب دار مورخین اور معروضی مطالعہ کرنے والوں کو غیر معتبر اور ہندو مخالف ذہنیت کا حامل قرار دے کر، اکثریتی سماج میں بے حیثیت و ناپسندیدہ عنصر کے طور پر پیش کیا، ان کو یا تو مارکسی، کمیونسٹ، ماسکو کی چاکری کرنے والے کے طور پر سامنے لانے کا کام کیا یا پھر مسلم نواز، تشٹی کرن کرنے والے زمرے میں ڈال دیا کر، بے وزن اور ناقابل اعتبار بنانے کا کام کیا گیا، گرچہ یہ سلسلہ آزادی سے پہلے، برٹش دور حکومت میں ہی شروع ہو گیا تھا تاہم آزادی کے بعد اس میں برق رفتار تیزی آئی، اس کا بعد کے دنوں میں، آج تک دھواں دھار طریقے سے، بہ طور ہتھیار اور مسلمانوں کو وحشی باور کرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، گزشتہ کچھ دنوں سے یہ پروپیگنڈا زوروں پر ہے کہ اسلام اور مسلمانوں نے بھارت میں آ کر ہندوؤں کے شاندار و روشن ماضی اور موجود ثقافتی و تہذیبی آثار کو نیست و نابود کر دیا اسے آج کی تاریخ میں شدت پسند ہندوتو وادی عناصر ہندو اکثریت میں ڈر پیدا کر کے آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں کہ اگر تم نے انتخابات میں ووٹ دے کر ہمیں کامیاب نہیں کیا تو حملہ آوروں کے وارث تمہارے گھروں پر حملے کر کے خواتین کی عصمت دری اور مردوں کو قتل کر دیں گے، مردوں کو غلام اور بہو بیٹیوں کو باندی بنا لیں گے حتی کہ گھروں سے گائے بھینس لوٹ لے جائیں گے اور نہ صرف یہ بلکہ عورتوں کے گلے سے منگل سوتر تک چھین لے جائیں گے، اس طرح کے پروپیگنڈے میں وزیراعظم مودی سے لے کر پرویش ورما اور یتی نرسنہا نند جیسے لوگ بھی لگے ہوئے ہیں، نریندر بھائی مودی کی ذہنیت ، ان کے بہت سی تقاریر و بیانات کے علاوہ ان کی بہ ذات خود لکھی کتاب” جیوتی پنج "سے بھی سامنے آجاتی ہے، ہندوتو وادی سماج کو تاریخ سے زیادہ، من گھڑت اور من موافق کہانیاں زیادہ سوٹ کرتی ہیں، کہانیوں کو من پسند رخ بآسانی دیا جا سکتا ہے، اس ذہنیت کو دیکھتے ہوئے مغربی و یورپی مورخین و دانش وروں نے سامراجی حکمرانوں کے مقاصد و عزائم کے زیر اثر کام کیا، میکس مولر سے پہلے برہمن وادی طبقے کی اپنے مذہبی گرنتھوں کو شائع کرنے پر کوئی توجہ نہیں تھی، بھارت میں ہندوؤں، مسلمانوں اور انگریزوں کو الگ الگ کرنے کے تاریخ کو بھی تقسیم کر کے پیش کرکے، سماج کو نفرت کی راہ پر ڈالنے کا کام کیا گیا، گزرتے دنوں کے ساتھ تاریخ میں دیگر امور و طبقات کو بھی شامل کرنے کی سمت میں کئی طرح کی پیش رفت ہوئی، تاریخ نگاری میں گروہ بندی و مسلکی وابستگی نے بھی تاریخ کی بہتر تشریح و تعبیر اور معاملات کو پیش کرنے کی راہ میں کئی قسم کی رکاوٹیں اور افہام و تفہیم میں مشکلیں کھڑی کی ہیں، لیکن اس کے باوجود حقائق تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، تاج الماثر، طبقات ناصری سے لے کر طباطبائی کی سیر المتاخرین تک لکھیں درجنوں کتب تاریخ میں خاصا مواد ہے، متضاد باتیں بھی ہیں، تاہم تھوڑی محنت و کاوش سے مختلف باتوں سے قدرے مشترک ایسی باتوں کو سامنے لایا جا سکتا ہے جن سے حقائق تک پہنچا جا سکتا ہے، اس سلسلے میں ماخذ کو لے کر بنیادی سوالات سے بہتر جوابات حاصل کیے جا سکتے ہیں مثلا یہ کہ اورنگزیب کی طرف سے کاشی وشو ناتھ مندر توڑ کر مسجد تعمیر کا معاصر ماخذ کیا ہے؟گرو تیغ بہادر کے قتل کے سلسلے کا سوال بھی اسی نوعیت کا ہے، بنیادی سوالات سے من گھڑت کہانیوں کی قلعی کھل جاتی ہے، کچھ دنوں پہلے ایک ٹی وی چینل پروگرام میں بی جے پی لیڈر اور ترجمان سردار آر پی سنگھ نے اورنگزیب کے بھیانک مظالم کا ذکر کیا لیکن جب ان سے معاصر تاریخی ثبوت طلب کیا گیا تو وہ ایک بھی حوالہ نہیں دے سکے، ایک منصوبہ بند طریقے سے من گھڑت تنقید و تبصرے کے ذریعے فرقہ وارانہ نفرت و تصادم پیدا کر کے برٹش سامراج کو با برکت حکومت باور کرانے کا کام کیا گیا ہے، اس کے شکار جدو ناتھ سرکار جیسے معروف اور مغلیہ عہد کے سب سے بڑے مورخ بھی ہو گئے، جس کے اعتراف میں انہیں سر کا خطاب دیا گیا تھا، بعد کے دنوں میں ان کے فکر و عمل میں تھوڑی بہت تبدیلی بھی پیدا ہو گئی تھی، انھوں نے ہندو حکمرانوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے متحد ہو کر ترک و مغل حکمرانوں کا مقابلہ نہیں کیا اور بہتر کردار کا بھی ثبوت نہیں دیا، انھوں نے اپنی کتاب،” شیوا جی کا عہد ” میں سنبھا جی کو اخلاق و کردار کے اعتبار سے پست تر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مراٹھے اپنے اپنے مفادات کو لے کر آپس میں لڑ کر منتشر و کمزور ہو گئے، دائیں بازو کے بیشتر مورخین نے بہت سے حقائق پر پردہ ڈالنے کا کام کیا ہے، وہ انگریزی سامراجی مورخین کے طرز تاریخ نگاری کو اختیار کر کے گمراہ کن تاریخ نویسی کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل رہے، سر ہینری ایلیٹ نے جس سامراجی تاریخ نگاری کی راہ ہموار کی تھی، اسی پر آزادی کے تقریبا 77/78 کے برسوں میں بھی بیشتر دائیں بازو کے لکھنے بولنے والے چل رہے ہیں، انھوں نے ملک کی روایات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تناظر میں کوئی زیادہ نہیں سوچا، ان کو لگتا ہے کہ ملک کی ہندو اکثریت میں تقسیم و تفریق کا ذہن پیدا کر کے ہی اس کا تفوق قائم ہو گا، ایلیٹ نے اپنی تاریخ ہند کی 8/جلدوں میں فرقہ وارانہ نظریات کی آمیزش اس طور سے کر دی ہے کہ بھارت کی تاریخ کا تصور ختم سا ہو گیا ہے اور ملک کی تاریخ، ہندوؤں، مسلمانوں اور انگریزوں کی تاریخ بن کر رہ گئی ہے، اس سلسلے میں یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ مصنف اپنے سامراجی مقاصد و عزائم میں کامیاب ہے، ہندستان کی نسلیں فرقہ واریت کے زہر سے بری طرح متاثر ہیں، آزادی کے بعد تصور تاریخ نگاری میں کئی بہتر تبدیلیاں ہوئیں، حکمراں طبقے کے فکر و عمل کے دائرے سے تاریخ نویسی کو باہر نکال کر عوامی و سماجی کرداروں کو بھی اس میں شامل کرنے پر توجہ دی گئی اور یہ خیال قوی ہوا کہ سماج کی تاریخ کو محدود سیاسی پس منظر میں پوری طرح نہیں سمجھا جا سکتا ہے سیاسی واقعات سے ایک ڈھانچہ ضرور بن جاتا ہے لیکن انسانوں کے فکر و عمل تک پوری رسائی نہیں ہو سکتی ہے، لہذا مذہبی، تہذیبی، اقتصادی، جغرافیائی، عمرانی وغیرہ پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے پورے عوامل و محرکات کے ساتھ تاریخ نگاری ہونا چاہیے، اس تعلق سے خاصا کام بھی ہوا ہے لیکن اسے فرقہ وارانہ ذہنیت نے نظر انداز کر کے فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے پر پورا زور لگا دیا ہے اور مذہبی علامتوں کے جذباتی عنصر کو شامل کر کے ایک الگ طرح کی تاریخ کو سامنے لانے کا کام کیا ہے، اس رویہ و روش اور ذہنیت کے خلاف ایک تسلسل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ دائیں بازو کے مورخین کے پھیلائے زہر کے لیے تریاق کا کام کر سکے،



















