محمد یاسین جہازی
ہندستانی سماج میں ایک رسم اور غلط نظریہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ عورت مرغا بکرا یا کوئی اور جانور ذبح نہیں کر سکتی۔ صرف مرد ہی ذبح کرنے کا شرعی جواز رکھتا ہے۔ دیکھیے حدیث شریف ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے۔۔۔۔حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی ان کی بکریاں سلع (مدینہ کے ایک پہاڑ) پر چرا رہی تھی۔ان میں سے ایک بکری زخمی ہوگئی، تو اس نے اسے پایا اور ایک پتھر توڑ کر اسی کے ذریعے اسے ذبح کر دیا۔پھر اس واقعہ کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس بکری کو کھانے کا حکم فرمایا۔حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ:أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ، فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا، فَأَدْرَكَتْهَا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَذُكِرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا۔(صحیح البخاری، کتاب الذبائح والصید۔ حدیث: 5502)مطالعہ بخاری محمد یاسین جہازی




















