اتوار, مئی 10, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home زبان و ادب

سلیس اور سادہ اسلوب

by Md Yasin Jahazi
جنوری 22, 2026
in زبان و ادب
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
5
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

مختلف اسالیب
’’انگریزی لفظ اسٹائل (style)کے لیے ہماری زبان میںلفظ اسلوب استعمال ہوتا ہے۔اردومیں اسلوب کے لیے طرز ، روش، انداز ، طریق اور پیرایہ جیسے لفظ بھی استعمال ہوتے آئے ہیں ۔ مثلاً:’’ محمد حسین آزادؔ ایک صاحب طرز ادیب تھے ‘‘ یا کہتے ہیں کہ : ع ’’غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور‘‘۔ نظیر اکبر آبادی کی روش شاعری سب سے جدا ہے ‘‘۔ ’’اپنے ہم عصروں میں غالبؔ کا طریق قابل غور ہے ‘‘اور ’’جو ش کے پیرایہ ٔ اظہار میں ایک گھن گرج ہے ‘‘ وغیرہ ۔ اب عام طور پر اسلوب یا طرز زیادہ استعمال ہونے لگا ہے‘‘۔ (اردو ادب ، ص؍۲۱۹ )
اسلوب سے مراد کسی لکھنے والے کا وہ انفرادی طرز نگارش ہے، جس میں وہ اپنی علمی واقفیت اور فکری رجحان کے مطابق خیالات ، جذبات اور تجربات کو اپنے مخصوص انداز اور منفرد اسلوب میں بیان کرتاہے ۔ او ر چوں کہ ہر انسان کے جذبات اور تجربات مختلف ہوتے ہیں ، اس لیے ان کے طریقۂ اظہار اور اسلوب ادا میں اختلاف کا پایا جانا ایک لازمی امر ہے ۔ ان تمام اسالیب کو سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :
(۱)سلیس اور سادہ اسلوب ۔
(۲) بے تکلف اسلوب ۔
(۳)موجزاسلوب ۔
(۴) مصورانہ اسلوب ۔
(۵)پر شکوہ اسلوب ۔
(۶)رنگین اسلوب ۔
(۷)پر زور اسلوب ۔
سلیس اور سادہ اسلوب
سادہ اسلوب سے مراد وہ اسلوب ہے ،جس کی زبان سادہ سلیس ، شستہ وشگفتہ اور روز مرہ استعمال ہونے والی ہوتی ہے ۔ اس اسلوب میں پیچیدہ فقرے ، طویل سے طویل جملے ، الجھی ہوئی گنجلک اور ادق ترکیبیں نہیں ہوتیں ، اور نہ ہی نامانوس الفاظ ، دشوار گذار کلمات استعمال کیے جاتے ہیں ۔نیز اس اسلوب میں قواعد زبان اور اصول بیان کے خلاف بھی کوئی بات نہیں ہوتی ۔نظم ونثر دونوں صنفوں میں اس اسلوب کو برتا جاتا ہے ۔
نثر کی مثال :
’’عزیزی سلمہ ! اب جا کے تم نے ایسی چپ سادھی کی کہ میں سمجھا، کہیں اور چل دیے ۔ میں بھی خاموش تھا اور انتظار کر رہا تھا کہ رمضان گذر جائے ؛ تو مزاج پر سی کروں ۔ روزوں میں مزاج ہاتھ میں نہیں رہتااور ایمان میں فرق آجاتا ہے ، اس لیے ان دنوں میں میں نے چھیڑنا مصلحت نہ سمجھا۔ شکر ہے کہ رمضان ختم ہونے سے پہلے ہی تمھارا خط آگیا‘‘ ۔(مولوی عبد الحق)
نظم کی مثال : ؎
تہمتیں چند اپنے ذمہ دھر چلے
کس لیے آئے تھے ہم کیا کر چلے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
بسا اوقات ایسا ہو تا ہے کہ لکھنے والا ’سادہ اسلوب‘ میں کچھ لکھنا چاہتا ہے ، لیکن وہ لکھتے لکھتے اس اسلوب کی صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے ۔اس کی چند وجوہات ہیں، جو ذیل کی سطروں میں درج ہیں:
(۱)تکیۂ کلام: بعض لوگوں کی زبان قلم اور زبان لحم دونوں پر کچھ مخصوص الفاظ چڑھ جاتے ہیں، جن کو وہ بار بار استعمال کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی ہے کہ وہ نفس مضمون کے مطابق اوربر محل ہوتے ہیں؛بلکہ وہ اپنی عادت اور طبیعت سے مجبور ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے وہ الفاظ خود بخود اور لاشعوری طور پر نوک قلم پر آجاتے ہیں اور بے ساختہ لکھے چلے جاتے ہیں، جیسے:
’’ اللہ کے دربار میں ان دونوںمیں زیادہ مقبول کون ہو سکتا ہے؟۔ اپنے دل میں خود سوچیے اور فیصلہ کیجیے کہ اللہ کے یہاں مقبولیت پیدا کرنے والی کون سی چیز ہو سکتی ہیں؟ پر تکلف لباس؟ لذیذ غذائیں؟ عمدہ کوٹھیاں؟ اعلیٰ سامان آرائش ؟ نمائشی چندے؟ رسمی جلسے؟ بناوٹی تقریریں اور تحریریں؟ یا اس کے برعکس زندگی کی سادگی؟دل کی شکستگی؟ایثار وخدمت گذاری؟انکساری وخاکساری؟عاجزی وفروتنی؟صبر وقناعت؟زہد وعبادت؟ تقویٰ وطہارت؟ ‘۔ (مولاناعبدا لماجد دریا بادیؒ )
اس مضمون میں استفہامیہ جملے ’تکیۂ کلام‘ کے طور پر اس کثرت سے استعمال ہوئے ہیں کہ تحریر سادگی کی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔
(۲)آورد: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مضمون لکھتے وقت بسیار کو شش کے باوجود ذہن میں موادکی آمد نہیں ہوتی ہے ۔ایسی صورت میں مضمون نگار ’آمد‘ کی کمی کو چھپا نے کے لیے متوازن جملوں ، مسجع ومقفیٰ عبارتوں ، دور دراز اور متضاد تشبیہوں کو بہ کثر ت استعمال کرنے لگتاہے، جیسے:
’’آج قلم کا دماغ پھول کی خوشبو سے معطر ہے ، صفحۂ کاغذ آنکھ کی سفیدی کی طرح منور ہے ، نظر کا ڈورا راگ گل کے طور پر رنگین ہے، نگاہ کا تاررشتۂ گلدستہ کی مانند نہاریں ہے ، کس واسطے کہ مجھے ایک باغ اور ایک مکان کی صفت لکھنی منظور ہے؟ جس کی میرے چشم مردم میں نور ہے اس کے صحن اور دالان میں خدا کی قدرت کا گل کھلا ہے ، چمن اور میدان صانع کی صنعت کا تماشہ ہے۔وہ کون مکاں ؟ اور کیسا مکاں؟ جو شاہ جہاں ایسے بادشاہ عا لی جاہ کا قیام گاہ ہے ۔ کون اور کیسا ایوان ؟ جو جناب عالیہ بادشاہ بیگم کی آرام گاہ ہے۔ ‘‘ (مولانا غلام امام شہید )
اس میں ’آورد‘ پا یا جاتاہے ،جو’آمد‘ کی کمی پر غماز ہے اور سادہ اسلوب کے لیے ایک قسم کی خامی ہے۔
(۳)نمود علمیت : کبھی مضمون نگار اپنی علمی قابلیت دکھانے کے لیے بڑے بڑے انتہائی زور دار اور پر رعب جملوں اور عجیب وغریب فقروں کا بے محل استعمال کرنے لگتا ہے ، جن میں نہ تو نفس مضمون کے حوالے سے گہرے خیالات ہوتے ہیں او ر نہ ہی مضمون سے اٹیچ معلومات ، بلکہ وہ بے جوڑ اور غیر متعلق ہوتے ہیں ، جیسے: ؎
اے دبدبۂ نظم ! دوعالم کو ہلا دے
اے طنطنۂ طبع ! جزو کل کو ملادے
اے معجزۂ فکر! فصاحت کو چلا دے
اے زمزمۂ نطق! بلاغت کا صلہ دے
اے بائے بیاں!معنیِٔ تسخیر کو حل کر
اے سین سخن ! قاف تا قاف عمل کر
(مرزادبیر)
ان اشعار کے جملے تو بہت زور دار اور پررعب ہیں؛ مگر معنوی اعتبار سے ان میں بالکل بھی ہم آہنگی نہیں ہے؛کیوں کہ طنطنہ کو جزو کل کے ملادینے سے کیا نسبت ہو سکتی ہے؟ زمزمۂ نطق سے بلاغت کا صلہ مانگنے کا کیا مطلب ہو سکتاہے ؟ بیان کی ب کو تسخیر سے کیا تعلق ؟ اسی طرح سخن کے سین کو قاف سے تاقاف عمل کرنے کے لیے کیا خصوصیت ہوسکتی ہے؟
(۴)تک بندی: کبھی مضمون نگار رسمی اور فرسودہ خیالات کو سادگی کے طور پر اتنے ہلکے اور پھیکے الفاظ میں ادا کرتاہے کہ تحریر سادگی کے معیار سے گر کر تک بندی کی صف میں داخل ہو جاتی ہے ، اور اس میں جذبات کو متأثر کرنے کی قوت باقی نہیں رہتی ۔ یہ خامی زیادہ تر نظم میں پائی جاتی ہے، جیسے: ؎
(الف) میں نے اپنے سرپہ اک ٹوپی دھری
اور اٹھ کر آگرے کی راہ لی
راہ میں اک دوست یوں کہنے لگا
کیوں نہ موٹر پر سفر تم نے کیا
(ب) ہاتھی کو بڑا کیا، بڑا ہے
لٹھے کو کھڑا کیا، کھڑا ہے،
ان اشعار میں ایک تو مضامین پیش پا افتاد ہ ہیں۔ دوسرے یہ کہ الفاظ بھی رکیک ہیں، اس لیے ان کو تک بندی کے سوا اور کیا کہا جاسکتاہے ؟ ۔
(۵)عامیانہ پن: کبھی مضمون نگار ایسے بازاری اور گرے ہوئے الفاظ کا استعمال کرتا ہے، جو معتبر لوگوں اور ارباب سخن کے حلقوں میں استعمال نہیں کیے جاتے ، جیسے:’’کسی نے کیا جچی تلی ہوئی، باون تولہ پاؤرتی بات کہی ہے کہ من عرف نفسہ ؛ فقد عرف ربہ‘‘۔(مولانا نذیر احمد)
اس میں خط کشیدہ الفاظ ارباب سخن کے یہاں اس طرح مستعمل نہیں ہوتے، جن کی وجہ سے تحریر عامیانہ اسلوب کاحامل ہوگئی ہے ۔
نظم کی مثال: ؎
ادا جان لیتی ہے جانی تمھاری
ستم ڈھا رہی ہے جوانی تمھاری
اس میں کس قدر سوقیانہ ا ورعامیانہ پن دکھائی دے رہا ہے، اسی مضمون کو حضرت داغؔ دہلوی نے کس شرافت اورخوبی کے ساتھ ادا کیا ہے کہ : ؎
ہر ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی
اف تیری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

بے تکلف اسلوب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: پہلا سال: 1919ء

4 مہینے ago
کارروائی رپورٹ سالانہ تعلیمی پروگرام جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ

سکریٹری رپورٹ جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے ضلع گڈا جھارکھنڈ

5 مہینے ago

مقبول

  • فکر و عمل میں فرقہ واریت کی شمولیت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مسائل متفرقہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مسائل نماز و طواف

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طواف کے ارکان، شرائط، واجبات، مستحبات مکروہات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طواف کا بیان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.