محمد یاسین جہازی
بے تکلف اسلوب
اپنے مطلوب و مقصود اور ما فی الضمیرکو سیدھے سادے اور صریح انداز میں بے تکلفی وبرجستگی کے ساتھ ادا کرنے کا نام ’بے تکلف اسلوب‘ ہے، جیسے:
نثر کی مثال:
’’جب آفتاب چھپا اور ماہتاب نکلا۔ خجستہ یا س بھری ہوئی رخصت لینے طوطے کے پاس گئی اور کہنے لگی اے طوطے! میں ہر شب تیرے پاس آتی ہوں اور احوال اپنی بے قراری کا سناتی ہوں، پر تو کچھ نمک کا حق ادا نہیں کرتا اور مجھے ٹھنڈے جی سے رخصت نہیں کرتا‘‘۔ (حیدر بخش حیدری ؔ )
نظم کی مثال:
(الف) اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
(ب) ہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
(میر تقی میرؔ)
بعض مضمون نگار اپنی بات سیدھی سادی اور صریح انداز میں بے تکلفی کے ساتھ کہنے کے بجائے دور دراز کنایات وتلمیحات کا سہارا لے کر گول مول الفاظ میں خوب گھماپھرا کر کہتے ہیں۔ اس سے دو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں: یا تو اسلوب گنجلک اور اس میں پھیر پیدا ہو جاتاہے ، یاپھر کلام سے بے ربطی جھلکنے لگتی ہے ۔
پھیر کی مثال:
’’سورج نکل آیا ‘ کے مفہوم کو اس طرح ادا کرنا کہ ’’شا ہ زادۂ مشرق نے اپنے آتشیں چہرے سے افق کی رنگین نقاب الٹ دی‘‘ ۔ یا شام کی شفق کو دیکھ کر کہنا کہ’’جام فلک خون سے چھلک رہا ہے ، نہیں ؛ مغرب کے ایوانوں میں آگ لگ گئی ہے‘‘۔
بے ربطی کی مثال : ؎
ٹوٹی دریا کی کلائی ، زلف الجھی بام میں
مورچہ مخمل میں دیکھا ، آدمی بادام میں
(انشا)
اس شعر کے دونوں مصرعوں میں کوئی ربط نہیں پایا جارہا ہے۔





















