بموقع : استقبالیہ پروگرام مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی بانی ومہتمم جامعۃ الہدی
بمقام : جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ
بتاریخ : 10؍ دسمبر 2025 ء ۔مطابق
منجانب : مجلس عاملہ جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے گڈا جھارکھنڈ
پیش کش: مفتی زاہد امان قاسمی جنرل سکریٹری، جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے
تمہید
جمعیت علمائے ہند ملک عزیزکی ایک تاریخی، دینی، سماجی اور ملی تنظیم ہے۔ 2019 سے 2025 تک بسنت رائے بلاک میں جو دینی، سماجی، فکری اور تنظیمی بیداری پیدا ہوئی، وہ نہایت قابلِ قدر اور غیر معمولی کامیابی ہے۔یہ رپورٹ انھی خدمات کا اجمالی وجامع رپورٹ ہے۔
بلاک سطح کی جمعیت کے قیام کا پس منظر
2019 تک ضلع گڈا کے کسی بھی بلاک میں جمعیت علمائے ہند کی منظم یونٹ قائم نہیں تھی۔ جب مفتی محمد نظام الدین قاسمی صاحب 2019 میں جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد سے مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ، جہاز قطعہ میں مہتمم کی حیثیت سے تشریف لائے تو ارادہ ہوا کہ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے جڑ کرکے سماجی کام کیا جائے ،لیکن کوئی مناسب مشیر کار نہیں تھا ۔
دہلی کا سفر اور مشاورت
اسی دوران دہلی کے لیے مفتی صاحب کا سفر ہوا اور جمعیت علماۓ ہند کے مرکزی دفتر میں موجود مولانا محمد یاسین صاحب جہازی دامت برکاتہم العالیہ معتمد شعبہ مرکز دعوت اسلام سے جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کو زمین پر اتارنے کے سلسلہ مفصل مشورہ کیا۔انھوں نے اصول اور ضابطے کی روشنی میں بلاک سطح کی جمعیت بنانے کا لائحۂ عمل بتایا۔
جمعیت علمائےبلاک کا قیام
مشورہ کے بعد بتاریخ : 17؍فروری2019 مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کی مسجد منیر میں اس وقت کے ضلعی صدر ڈاکٹر تمیز الدین صاحب اور نائب صدر مفتی محمد اقبال صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زیر سرکردگی ایک مجلس منعقد ہوئی۔ جس میں مفتی سفیان ظفر قاسمی کو صدر ، مفتی محمد نظام الدین قاسمی کو جنرل سکریٹری ، مولانا سرفراز قاسمی کو نائب صدر ، مفتی زاہد امان قاسمی نائب سکریٹری اور مولانا سرفراز صاحب قاسمی کو خزانچی منتخب کیا گیا۔
اس طرح سے ضلع گڈا میں جمعیت کی باضابطہ بلاک یونٹ قائم ہوئی۔ اور اب الحمدللہ سبھی بلاک میں جمعیت کی یونٹ ہے۔
لاک ڈاؤن اور تنظیمی سرگرمیاں
2020 میں جب لاک ڈاؤن لگا اور جولائی میں مولانا محمدیاسین صاحب جہازی بھی اتفاق سے گھر آگئے، تو بقر عید کے بعد یہ مشورہ ہوا کہ علاقائی دورہ کرکے جمعیت کے کام کو مضبوط اور پیغام کو عام کیا جائے۔ چنانچہ آپسی تبادلہ خیال کے بعد جن ایجنڈوں کے تحت پورے بلاک بسنت رائے کی مسلم آبادیوں پر مشتمل باون بستیوں کا دورہ ہوا۔ اور درج ذیل سات موضوعات کو گاوں گاوں تک پہنچایا گیا:
- بستی بستی خود کفیل مکاتب کے قیام کی پرزوراپیل
- ہر مسجد میں درس قرآن اور درس حدیث کا اہتمام
- سماجی اور دینی لیڈر کی ضرورت و اہمیت
- جمعیت علمائے ہند کے ممبر سازی کی اہمیت
- ووٹ بیداری مہم
- معاشی بیداری اور تجارت پر زور۔
دورہ میں بالعموم درج ذیل افراد نے پوری لگن اور جذبے کے ساتھ شرکت کی:
- مفتی نظام الدین قاسمی
- مفتی زاہد امان قاسمی
- مولانامحمد یاسین جہازی
- مولانا سرفراز قاسمی جہاز قطعہ
ان چار افراد کی قیادت میں مختلف دنوں میں مختلف لوگوں کی بھی شرکت رہی۔ اتفاقی طور پر جن افراد کی شرکت رہی ان میں مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی امام وخطیب جھپنیاں ، قاری محمود صاحب بسمبر چک ،مولانا شمیم صاحب مہتمم جامعہ فخر الاسلام کوریانہ ، مولانا انصار صاحب جہاز قطعہ مظاہری مفتی سفیان ظفر قاسمی کی شرکت پورے دورے میں صرف ایک دن بگھاکول میں اور مولانا سرفراز صاحب کی شرکت صرف ان کی بستی بڑی سانکھی میں رہی۔
دورہ کا طریقہ کار
دورہ کا طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے بستی کا انتخاب کرتے ، روزانہ دو بستیوں کا دورہ کرتے ، کبھی مشورہ کے بعد تین میں بھی ہو جاتا ،ہم لوگ اکثر عصر پڑھ کرکے ایک جگہ ملاقات کرتے اور طے شدہ گاؤں میں مغرب اور عشاء پڑھتے ،بعد نماز مغرب اور عشاء مذکورہ عناوین کے تحت مختصر بات چیت اور ملاقات کرکے ترغیب دیتے تھے ،مفتی زاہد امان قاسمی زیادہ تر درس قرآن درس حدیث اور مکاتب پر بات کرتے تھے ، مولانا محمدیاسین جہازی ووٹ بیداری ، مولانا سرفراز صاحب قاسمی جمعیت کی ممبر سازی، مفتی نظام الدین صاحب قاسمی مذکورہ عناوین کا خلاصہ اور دینی و سماجی لیڈر کی ضرورت و اہمیت پر بات کرکے دعا کرا دیتے تھے ، اتفاقی طور پر جن کی شرکت ہوتی ان کو مذکورہ عناوین میں سے کوئی بھی عنوان دے دیا جاتا تھا ، جہاں عشاء پڑھتے وہاں سے کھانے کھاکر واپس آتے تھے یہ سارا نظام مفتی زاہد امان صاحب قاسمی کی نگرانی میں ہوتا تھا ـ یہ ایک ماہ سے زائد کا علاقائی دورہ تھا جو یقینا ایک تاریخی دورہ تھا۔
مندرجہ ذیل بستیوں کا دورہ ہوا
. مدنی چک۔ 2. کدمہ۔3. جگت پور۔4. جمنی کولہ۔5. بیلا قطعہ۔6. نیموہاں۔7. شاہ پور بیلڈھیہ۔8. شاہ پور۔9. سرسہ۔10. سمری۔11. بگھاکول۔12. بسنت قطعہ۔13. موکل چک۔14. پکڑیا۔15. کمرہ کول۔16. بنسی پور۔17. چورا۔18. کیتھ پورہ۔19. جھپنیاں۔20. بسمبرچک۔21. لیتھا۔22. دھپرا۔ 23. سہوڑا۔24. راہا۔
25. کپیٹا۔26. جہاز قطعہ۔27. رسمبا۔28. پھسیہ۔29. بیلسر۔30. لوچنی۔31. پچوا قطعہ۔32. مانجر۔33. مہیش ٹکری۔34. بڑی سانکھی۔35. گوپی چک۔36. کیتھیا۔37. رنسی۔38. چینگے۔39. پھلوڑیہ۔40. بیلڈھیہ۔41. پربتہ۔42. پرسیہ۔43. روپنی۔44. بھٹہ۔45. قاسم علی ٹیکر۔46. کوریا نہ۔47. بودرا ۔48. رانی دیہہ۔49. سیارڈیہہ۔50. پڑوا خورد۔51. پڑوا کلاں۔52. نکٹا۔53. سوڑنیہ۔
اس مہم سے سکسیس اسٹوری
اس مہم اور علاقائی دورہ سے عوام میں نئی فکر پیدا ہوئی ، کئی مقامات پرمکاتب کا قیام ہوا، جو احباب پہلے سے ہی مکاتب چلا رہے تھے ان کو عزم و حوصلہ ملا اور بہت سے ساتھیوں کو یہ احساس ہوا کہ علاقے میں دینی عصری اور سماجی اعتبار سے کام کرنے کی بہت ہی سخت ضرورت ہے اس موقع سے ضمنی الیکشن ہونا تھا ، اس میں زبر دست بیداری آئی اور ووٹ فیصد میں بھی کافی اضافہ ہوا ـ
دورہ کے بعد تاریخی پروگرام
دورہ کے دوران ایک معمول یہ بھی تھا کہ ہر بستی سے تین سے پانچ افراد پر ایک لسٹ تیار کرتے تھے ، جس میں امام ، کوئی عالم اور سماجی ذمہ دار کا نام ہوتا تھا ، جب دورہ مکمل ہوا تو تقریبا تین سو لوگوں پر مشتمل مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں ظہر سے عصر تک 15/ اکتوبر 2020 ایک عظیم الشان اجلاس عام ہوا ، مذکورہ عناوین پر مقالہ لکھا گیا تھا ، پروگرام میں سب کو پچاس روپے کے ہدیہ سے ایک ایک فائل دیا گیا اور اس میں مذکورہ عناوین کی فوٹو کاپی بھی دی گئی تھی ـ اور انہی عناوین پر بیان بھی ہواتھا ، بیان کرنے والوں میں مفتی نظام الدین صاحب قاسمی ، مفتی زاہد امان صاحب قاسمی ، مولانا یاسین جہازی ، مولانا سرفراز صاحب قاسمی تھے ، یہ پروگرام مولانا عرفان صاحب مظاہری رحمہ اللہ کی صدارت میں میں ہوا تھا استقبالیہ مفتی سفیان ظفر قاسمی نے پیش کیا تھا، یہ پروگرام بلاک جمعیت کے استحکام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔
ممبر سازی اور انتخاب
اس بیداری مہم کے بعد جمعیت کو لوگوں نے قریب سے جانا اور ممبر سازی میں زبر دست انقلاب آیا اور پہلی بار بلاک سطح پر اڑتالیس سو سے زائد ممبر سازی ہوئی جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے ضلع گڈا کی انتخابی نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے دفتر میں عمل میں آیا، اس انتخاب کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں دستوری انتخابی ضابطہ کی مکمل پاسداری کی گئی، اس میں نگراں کی حیثیت سے مولانا محمد یاسین صاحب جہازی انچارج شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علمائے ہند کی شرکت رہی، مولانا یاسین صاحب نے تلاوت کلام پاک کے بعد انتخاب کے اصول و ضوابط کو نہ صرف پڑھ کر سنایا بلکہ بہت سے مقامات پر استفسار کے بعد مکمل وضاحت کی، اس کے بعد ہی انتخابی کارروائی عمل میں آئی، چنانچہ ضابطہ کے مطابق 59 افراد مجلس منتظمہ کے ممبران قرار پائے پھر مجلس منتظمہ کے ان ممبران کے ذریعہ مجلس منتظمہ کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے مطابق مفتی سفیان ظفر قاسمی استاد مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی کو صدر اور مفتی نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ کو جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا، جمعیۃ کے خازن مولانا سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ قرار پائے جبکہ نائب صدر کے طور پر مولانا محمد سرفراز قاسمی سانکھی سابق استاذ:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور قاری ارشاد صاحب کدمہ سابق استاد مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی کو منتخب کیا گیا اور نائب ناظم کے طور پر مفتی زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت رائے اور ڈاکٹر نسیم صاحب مانجر اور معاون کے طور پر محمد شاہد جھپنیاں کو منتخب کیا گیا. اس طرح اس انتخابی نشست میں بسنت رائے سے تعلق رکھنے والے 59 اہم افراد مجلس منتظمہ کے ممبر منتخب کئے گئے اور 8 افراد مجلس عاملہ کے اراکین منتخب ہوئے یہ اب تک کا باقاعدہ پہلا انتخاب تھا ـ اس انتخاب کے کچھ ماہ بعد ہی مفتی نظام الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری ملازمت کے سلسلہ میں دہلی چلے گیے ، کچھ ناگفتہ حالات بھی تھے ، اس لیے زمینی طور پر اس باقاعدہ ٹرم میں جمعیت کا کچھ خاص کام نہیں ہوا جب کہ مفتی نظام الدین صاحب قاسمی کے علاوہ سارے ہی افراد بسنت رائے میں ہی موجود تھے ۔
ٹرم 2025 کا انتخاب
بتاریخ : 24؍ اگست 2025 ء بروز : پیر ،بوقت : دس بجے دن ، بمقام : جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ میں مقامی یونٹ کا انتخابی اجلاس ہوا، جس میں کل ممبران : 3515 کے لیے مجلس منتظمہ اور عہدے داران کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس میں بطور صدر مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی کا غائبانہ انتخاب ہوا،نائبین صدرمولانا شہنواز صاحب قاسمی،مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی اور قاری ارشاد کا انتخاب ہوا ،جنرل سکریٹری مفتی زاہد امان قاسمی،نائبین مولانا شمیم صاحب، مولانا شمس تبریز قاسمی اور قاری محسن کا انتخاب ہوا ، جبکہ بطور خزانچی قاری کلیم الدین صاحب راہی مدرس جامعۃ الہدی جہاز قطعہ اور ماسٹر نسیم صاحب لوچنی بطور معاون ناظم منتخب ہوئے۔
مستقبل کا لائحۂ عمل
جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے نےجمعیت علمائے ہند کے مقاصد کی روشنی میں آئندہ ٹرم کے لیے درج ذیل اہداف پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ـ
- قائم شدہ مکاتب کو منظم کرنا اور مزید مکاتب کا قائم کرنا
- اصلاح معاشرہ کے تحت طلاق ، وراثت ، سماجی برائیاں ، آپسی تنازعات کا حل ، نشہ ، سود اور جوا سے تحفظ وغیرہ پر کام کرنا ـ
- تعلمی و تربیتی پروگرام کا انعقاد
- مدارس کے اساتذہ کا تربیتی ورکشاپ ـ
- اسکول کے طلبا و طالبات کے لیے دینی بیداری پروگرام ـ
- تجارتی و معاشی بیداری۔
- ایس آئی آر پر محنت اور درست رہنمائی ، تمام ڈاکومنٹ کی درستگی وغیرہ وغیرہ۔

















