تحریر: محمد قمرالزماں ندوی
افتتاحی تقریب:
علم و بصیرت کی روشنی میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 34واں تین روزہ فقہی سمینار 8 نومبر 2025 کو جمشید پور (جھارکھنڈ) کی روح پرور فضا میں نہایت پُروقار انداز میں منعقد ہوا۔افتتاحی اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے فرمائی۔پروگرام کا آغاز قاری فیروز انصاری کی خوش الحان تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے ماحول کو نورِ قرآن سے منور کر دیا۔بعد ازاں مولانا زاہد حسین ندوی نے کلامِ اقبال کے اشعار پیش کر کے فکری و ادبی فضا کو معطر کر دیا۔مولانا زین العابدین مظاہری نے پرتاثیر انداز میں مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور اکیڈمی کے سیکرٹری مفتی عبید اللہ اسعدی صاحب نے سمینار کے اغراض و مقاصد اور موضوعات کا تعارف کرایا۔اسٹیج پر ملک کے مقتدر و ممتاز علماء جلوہ افروز تھے، جن میں مولانا عتیق احمد بستوی، مفتی احمد دیولوی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، مفتی صادق محی الدین نظامی اور ڈاکٹر عبد اللہ جولم شامل تھے۔ان حضرات نے مختصر؛ مگر جامع خطابات کے ذریعے شرکاء کو فکر و بصیرت کی روشنی بخشی۔افتتاحی تقریب کی نظامت ڈاکٹر محمد اعظم ندوی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی،جب کہ آخر میں مفتی نشاط احمد مظاہری نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔*شرکاء اور موضوعات*اس فقہی سمینار میں ملک بھر کے تقریباً 250 ممتاز علماء، مفتیانِ کرام، ماہرینِ فقہ اور محققین نے شرکت فرمائی۔سمینار میں چار نہایت اہم اور عصری موضوعات زیرِ بحث آئے:1. مائیکرو فنانس کے شرعی احکام2. میڈیکل انشورنس کے سابقہ فیصلے پر نظرِ ثانی3. آنکھوں کا عطیہ (Eye Donation)4. آن لائن صنفِ مخالف سے تعلیم و تعلم کے مسائلان موضوعات کا علمی تعارف درج ذیل ماہرین نے پیش کیا:ڈاکٹر شارق نثار (ممبئی) مائیکرو فنانسڈاکٹر محمد فیصل خان (دہلی) میڈیکل انشورنسڈاکٹر عادل مجید (کشمیر) آنکھوں کا عطیہ *پہلا دن: 8/نومبر 2025**موضوع: مائیکرو فنانس کی شرعی حیثیت*پہلی علمی نشست بعد نمازِ مغرب منعقد ہوئی۔صدرِ مجلس مولانا رحمت اللہ میر قاسمی (بانڈی پورہ، کشمیر) تھے،نظامت کے فرائض ڈاکٹر فہیم اختر ندوی نے انجام دیے،جب کہ عرضِ مسئلہ مولانا خورشید انور قاسمی اور ڈاکٹر فہیم اختر ندوی نے پیش کیا۔ڈاکٹر شارق نثار صاحب نے نہایت جامع انداز میں موضوع کا تعارف پیش کیا۔مباحثے کے دوران مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا عتیق احمد بستوی نے اس کے فقہی پہلوؤں اور عملی ضرورتوں پر روشنی ڈالی۔صدرِ مجلس کے اختتامی کلمات پر یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔*دوسرا دن — 9 نومبر 2025**پہلی نشست: ہیلتھ انشورنس کے شرعی احکام*اس نشست کی صدارت مولانا عتیق احمد بستوی نے فرمائی،نظامت اور عرضِ مسئلہ کے فرائض مولانا محمد صابر حسین ندوی نے انجام دیے۔ڈاکٹر محمد فیصل خان (دہلی) نے موضوع پر نہایت بصیرت افروز محاضرہ پیش کیا،جس کے بعد شرکاء نے علمی سوالات اٹھائے اور مفصل مباحثہ ہوا۔صدرِ مجلس کے صدارتی خطاب پر اجلاس مکمل ہوا۔*دوسری نشست: آنکھوں کے عطیہ کے شرعی پہلو*اس نشست کی صدارت مفتی عبید اللہ اسعدی صاحب نے فرمائی،نظامت مفتی خالد حسین نیموی نے کی اور عرضِ مسئلہ بھی انہی کی جانب سے پیش کیا گیا۔قرنیہ ٹرانسپلانٹ کے ماہر ڈاکٹر عادل مجید (کشمیر) نے نہایت مدلل اور فنی گفتگو فرمائی۔سوال و جواب کا سلسلہ طویل رہا اور تمام شرکاء نے بھرپور علمی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔*تیسری نشست: آن لائن صنفِ مخالف سے تعلیم و تعلم کے مسائل*یہ نشست بعد نمازِ مغرب منعقد ہوئی۔صدرِ مجلس مفتی احمد دیولی،ناظمِ مجلس مولانا محبوب فروغ قاسمی،اور عرضِ مسئلہ پیش کرنے والے مولانا رحمت اللہ ندوی (ندوۃ العلماء، لکھنؤ) اور مولانا محبوب فروغ قاسمی تھے۔موضوع کی عصری اہمیت کے پیشِ نظر نہایت سنجیدہ مباحث ہوئے۔علماء نے مختلف زاویوں سے شرعی، اخلاقی اور سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔آخر میں تجاویز کمیٹی کی رپورٹ تیار کی گئی، جو آخری دن پیش کی گئی۔*اختتامی اجلاس — 10 نومبر 2025*تین دنوں پر مشتمل یہ فقہی سمینار بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔مائیکرو فنانس، میڈیکل انشورنس، آنکھوں کے عطیہ، اور آن لائن تعلیم جیسے اہم موضوعات پر گہرے علمی مناقشے ہوئے،جن کے نتیجے میں متفقہ تجاویز اور شرعی رہنما خطوط طے کیے گئے۔اختتامی نشست میں ملک کے مختلف حصوں سے تشریف لائے علمائے کرام مولانا ابوالکلام شفیق سلیم، مولانا سراج رشادی (تمل ناڈو)، مولانا محمد قاسمی (کڈرو، رانچی)، مولانا بدران سعیدی مظاہری،اور مولانا عبداللہ معروفی (دیوبند) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا:> *”تحقیقِ دین اور دفاعِ دین، دونوں علماء کی ذمہ داری ہیں۔آج سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوان ذہنوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کیا جا رہا ہے،ایسے میں ضروری ہے کہ علماء نئی نسل سے رابطہ قائم کریں اور دین کی صحیح ترجمانی کریں”۔*بعد ازاں جناب ریاض شریف صاحب نے مجلسِ استقبالیہ اور منتظمین کی جانب سےمہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا۔اختتامی پروگرام کی نظامت ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی نے نہایت مؤثر انداز میں کی،اور حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) کی دعا پر یہ علمی محفل اختتام پذیر ہوئی۔*اختتامی کلمات*اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 34واں فقہی سمینار محض ایک علمی اجلاس نہیں بلکہفقہی فکر، عصری شعور اور امت کی فکری رہنمائی کا مظہر تھا۔یہ سمینار ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی بن گیا کہفقہِ اسلامی جامد نہیں؛ بلکہ زندہ، متحرک اور انسانیت کے مسائل کا ابدی حل پیش کرنے والا نظام ہے۔کلمات تشکر اکیڈمی کے اس سہ روزہ پروگرام کو کامیاب بنانے میں شہر آہن جمشید پور کے آہنی و فولادی صفات سے متصف نوجوانوں، بزرگوں اور اہل علم و فضل نے جس طرح جی جان لگا دیا، وہ سب صرف قابل تعریف ہی نہیں، بلکہ لائق تحسین و ستائش ہیں ،وہ سب کے سب مبارک کے مستحق ہیں ،اسی طرح مدرسہ حسینہ جمشید پور اور مدرسہ فیض القرآن جمشید پور کے اساتذہ طلبہ اور جماعت تبلیغ کے ساتھیوں اور جمعیت علمائے جمشید پور کے ذمہ داران بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کا بھی بھرپور تعاون رہا ۔ سب کا علیحدہ علیحدہ نام تو نہیں لیا جاسکتا ، لیکن چند بزرگوں اور نوجوانوں کے نام یاد رہ گئے ہیں، ان کا ہم ذکر کئے دیتے ہیں ۔ ان میں بطور خاص ہیں، ریاض شریف صاحب ، قاضی سعود صاحب قاسمی قاضی شہر آہن جمشید پور ، مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاد المعہد العالی حیدر آباد ،مولانا محمد زاہد ندوی ،مولانا نشاط مظاہری مولانا مشتاق ندوی ، مولانا ارشد ندوی، منظر بھائی ، مولانا حنظلہ مدنی، مفتی اشتیاق قاسمی ،طاہر بھائی بھارت بیکری، وسیم بھائی، مولانا مزمل قاسمی ،عبد الرشید مظاہری ارشد قاسمی مولانا ثناء اللہ قاسمی وغیرہ





















