کتاب: تکبیرِ تشریق کی شرعی حیثیت
مصنّف: مفتی عبیداللہ قاسمی بہرائچی (استاذِ فقہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد)
موبائل نمبر: 8273328688
تبصرہ نگار : فضیل اختر قاسمی بھیروی
سنِ اشاعت: 2024ءصفحات: 88 صفحات
کتاب حاصل کرنے کا پتہ : مکتبہ صوت القرآن دیوبند
زیرِ نظر رسالہ "تکبیرِ تشریق کی شرعی حیثیت” مفتی عبیداللہ بہرائچی حفظہ اللہ (استاذ فقہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد) کی فقہی بصیرت، تدقیقِ نظر، اور علمی فہم و فطانت کا نادر و نایاب مظہر ہے۔ یہ رسالہ صرف ایک فقہی مسئلے کی توضیح ہی نہیں، بلکہ فکری وضاحت، علمی استدلال، اور اکابرین کی تعبیرات و تفصیلات کا مرقعِ نافع اور مجموعۂ جامع ہے۔ اس کتاب کی سب سے امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اسے اکابرِ علم و فقہ کی تائید، تصویب اور تقریظات کا زریں شرف حاصل ہے۔ بالخصوص حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم (مہتمم و استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند)، مفتی زین الاسلام قاسمی الہ آبادی دامت فیوضہم (مفتی دارالافتاء دارالعلوم دیوبند)، ڈاکٹر مفتی اشتیاق احمد صاحب دامت برکاتہم، مفتی شعیب اللہ خاں مفتاحی دامت برکاتہم، اور مفتی محمد مصعب قاسمی حفظہ اللہ جیسی جلیل القدر علمی شخصیات کی تقریظات و تحریری تأییدات نے کتاب کو مقبولیت کا تاج پہنا دیا ہے۔ کتاب کا آغاز تکبیرِ تشریق کی شرعی حیثیت، اس کے وجوب اور عدم وجود ہوتا ہے اور پھر انتہائی حسنِ ترتیب اور استقامتِ اسلوب کے ساتھ تکبیرِ تشریق کی فقہی حیثیت، اس کے وجوب و مشروعیت، اور اس میں وارد اختلافات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ بالخصوص تین مرتبہ تکبیر تشریق کہنے کے حوالے سے جو فقہی اختلاف پایا جاتا ہے، اس پر مؤلف موصوف نے دلائلِ فقہیہ، اقوالِ سلف، اور فتاویٰ اکابر کی روشنی میں نہایت مدلل و محققانہ گفتگو فرمائی ہے، جو نہ صرف تشفی بخش ہے بلکہ تحقیقی ذوق کی تسکین کا باعث بھی بنتی ہے۔ کتاب میں دلائل کا انتخاب نہایت متوازن، حوالہ جات کی ترتیب نہایت مرتب، اور اسلوب نہایت واضح و بلیغ ہے۔ مؤلف نے جہاں مسئلہ کی تہہ میں اتر کر سیر حاصل تجزیہ کیا ہے، وہیں عوام میں رائج بعض غلو آمیز رجحانات اور ناقص فہم و تاویلات کی علمی تردید بھی کی ہے، اور جنوبی ہند میں جو بے جا شدت برتی جاتی ہے، اس کی جانب بھی بصیرت افروز اشارہ کیا ہے۔ اس کتاب کی تالیف کے پس منظر میں حضرت مفتی شمس الدین صاحب بنگلوری دامت برکاتہم کی علمی تحریک بھی قابل ذکر ہے، جنہوں نے مؤلف کی توجہ اس موضوع کی طرف مبذول فرمائی، جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ایک جامع رسالے کی شکل میں ہے۔ مؤلف نے جن مشفق اساتذہ اور معاون علما کا شکریہ ادا کیا ہے، اُن میں سے ہر ایک کی علمی بصیرت اور مخلصانہ رہنمائی کا عکس اس کتاب کے ہر صفحے سے نمایاں نظر آتا ہے۔ خاص طور پر حضرت مفتی محمد مصعب صاحب کی رہنمائی میں اس کتاب کی تنظیم و ترتیب نے اسے معیاری بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آخر میں مؤلف نے جس انکساری، تواضع، اور طلبِ اصلاح کے جذبے سے اپنے اساتذہ، والدین، اور اہل علم کا شکریہ ادا کیا ہے، وہ ان کی علمی دیانت اور روحانی عظمت کی روشن دلیل ہے۔ "تکبیرِ تشریق کی شرعی حیثیت” فقہی ابحاث سے دلچسپی رکھنے والے اہل علم و طلبہ کے لیے مشعلِ راہ، اور عوام الناس کے لیے راہنمائے عمل ہے۔ اس رسالہ کا مطالعہ ہر اس شخص پر لازم ہے جو دین کی دقیق باریکیوں کو سمجھنے اور امت کو اعتدال کی راہ پر گامزن کرنے کا خواہاں ہو۔ یہ رسالہ تحقیق و تنقیح، فہم و فراست، اور ادب و اخلاق کا حسین امتزاج ہے۔ صناعِ لاثانی و منعمِ حقیقی مؤلف محترم کی اس مساعی جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے علماء و طلبہ اور عوام کے لیے مفید بنائے، اور مؤلف کو دین و دنیا کی سعادتوں سے سرفراز فرمائے۔آمین یا رب العالمین10 ذی الحجہ





















