حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ بانی مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ
مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا بیان
مسجد حرام تمام مسجدوں سے افضل ہے ، اس میں نماز پڑھنے کا بڑا ثواب ہے۔ ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہوتا ہے۔
عن أنس بن مالکؓ قال: قال رسولُ اللّٰہِ ﷺ صلوٰۃُ الرجلِ فی بیتِہ صلوٰۃٌ، و صلوٰتُہ فی مسجد القبائل بخمس و عشرین صلوٰۃً، و صلوٰتُہ فی المسجدِ الذی یجمع فیہ بخمس مائۃ صلوٰۃ، و صلوٰتہ فی المسجد الاقصیٰ بخمسین ألف صـــلوٰۃ، و صلوٰتہ فی مسجدی بخمسین ألف صلوۃ و صلوٰتہ فی المسجد الحرام بمائۃ ألف صلوٰۃ۔ (رواہ ابن ماجہ)
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز ہے۔ اور اس کی نماز محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے ۔ اور اس کی نماز جامع مسجد میں پانسو نماز کے برابر ہے ۔ اور اس کی نمازمسجد اقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے۔ اور اس کی نماز میری مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے اور اس کی نما ز مسجد حرام میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے۔
متعدد احادیث میں یہ مضمون وارد ہے کہ مکہ مکرمہ کی مسجد (یعنی مسجد حرام) میں ایک لاکھ نماز کا ثواب ہے ۔ حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ مکہ میں ایک دن کا روزہ مکہ سے باہر ایک لاکھ روزوں کے برابر ہے ۔ اسی طرح وہاں ایک درم کا ثواب باہر کے لاکھ درم کے برابر ہے ۔ اسی طرح وہاں کی ہر نیکی باہر کی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے۔ (اتحاف)
بہت سی احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی کا ثواب مسجد اقصیٰ سے زائد ہے ؛ لیکن اس حدیث میں دونوں کا ثواب پچاس ہزار آیا ہے، اس لیے علما نے ان روایات کی وجہ سے اس حدیث میں یہ توجیہہ فرمائی ہے کہ یہاں ہر مسجد کا ثواب اس سے پہلی مسجد کے اعتبار سے ہے ، یعنی جامع مسجد کا ثواب محلہ کی مسجد کے ثواب سے پانچ سو مرتبہ سے زائد ہے۔ اس صورت میں جامع مسجد کا ثواب بارہ ہزار پانسو ہوگیا ۔ اور مسجد اقصیٰ کا ثواب باسٹھ کروڑ پچاس لاکھ ہوگیا اور مسجد مدینہ کا تین نیل بارہ کھرب پچاس ارب ہوا ۔ اور مسجد حرام کا اکتیس سنکھ پچیس پدم ہوا۔ اس صورت میں مسجد مدینہ کا ثواب مسجد اقصیٰ سے بہت زائد ہوگیا۔ (فضائل حج)
لہذا مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے ۔ سیرو تفریح میں اس مسجد کی نماز نہ چھوٹ جائے ۔ مسجد حرام میں اگر صرف ایک دن پانچوں وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے، تو اس کا ثواب ساری عمر کی نمازوں سے بڑھ کر ہے ۔ مسجد حرام میں خاص ان مقامات میں بھی نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے ، جن مقامات میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ہے ۔ اور وہ یہ ہیں: مقام ابراہیم کے پیچھے۔ حجر اسود کے سامنے مطاف کے کنارے پر۔ رکن شامی کے قریب کعبہ کے دروازے کے پاس۔ بیت اللہ کے سامنے جو گڑھا ہے ، جن کو مقام جبرئیل بھی کہتے ہیں ۔ بیت اللہ کے سامنے حطیم میں۔ بیت اللہ کے اندر اور حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان ۔ رکن غربی کے سامنے اس طرح کہ باب العمرہ پیچھے ہو۔ مصلی آدم علیہ السلام۔ رکن یمانی کی جانب۔
مسئلہ: جس طرح کعبہ سے باہر اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا جائز ہے ، اسی طرح کعبہ کے اندر بھی نماز پڑھنا جائز ہے ۔ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کی صورت میں چاروں طرف قبلہ ہے ۔ جدھر کو چاہو نماز پڑھو۔
عن ابن عمرؓ قال: دَخَلَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ الکعبۃَ والفضلُ و اسامۃُ و زیدٌ و عثمانُ بن طلحۃَ، فکانَ أول من لقیتُ بلالاً فقلتُ أینَ صلَّی النبی ﷺ؟ قالَ: بین ھاتین الساریتین (رواہ ابن ابی شیبۃ و رویٰ الطحاوی والبخاری مسلم نحوہ)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، فضل، اسامہ ابن زید اور عثمان ابن طلحہ کعبہ میں داخل ہوئے ، تو سب سے پہلے میں نے حضرت بلالؓ سے ملاقات کی، تو میں نے کہا : نبی کریم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی؟ فرمایا: ان دونوں ستونوں کے درمیان میں۔
مسئلہ: آج کل عورتیں مردوں کی جماعت میں یا آگے پیچھے اس طرح کھڑی ہوجاتی ہیں کہ ان کی محاذات سے یعنی برابر میں کھڑی ہونے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ، اس لیے عورتوں کے برابر میں کھڑے ہونے سے بچے۔
مسئلہ: اگر عورتوں کی صف آگے اور مردوں کی صف پیچھے ہو تو مردوں کی نماز نہیں ہوگی۔
مسئلہ: محاذات کی صورت میں نماز کے فاسد ہونے کی چند شرطیں ہیں:
اول: عورت کا قابل جماع ہونا، بالغ ہو یا نابالغ۔
دوسری: دونوں کا ایک نماز میں شریک ہونا۔
تیسری: درمیان میں حائل یا ایک آدمی کی جگہ خالی نہ ہونا۔
چوتھی: عورت میں نماز صحیح ہونے کی شرط پایا جانا، یعنی مجنونہ اور حیض و نفاس والی نہ ہونا۔
پانچویں: کم از کم ایک رکن کی مقدار نماز میں شریک رہنا۔
چھٹی: دونوں کا تحریمہ ایک ہونا، یعنی دونوں کسی تیسرے کے مقتدی ہوں یاعورت مرد کی مقتدی ہو۔
ساتویں: امام کا عورت کی امامت کی نیت نماز شروع کرتے وقت کرنا۔ اگر نیت نہ کی ہو، تو مرد کی نماز فاسد نہ ہوگی۔ عورت کی نماز فاسد ہوجائے گی۔
مسئلہ: بیت اللہ کی مسجد میں کعبہ کے چاروں طرف نماز پڑھنی جائز ہے ، لیکن بیت اللہ کا سامنے ہونا ضروری ہے ۔ اگر بیت اللہ سامنے نہ ہوگا تو نماز نہ ہوگی ۔ بیت اللہ سے دوری کی صورت میں تو بیت اللہ کی سیدھ کافی ہوجاتی ہے ۔ مگر قریب ہونے کی صورت میں استقبال عین قبلہ کا ضروری ہے ۔ اگر ذرا بھی قبلہ سے انحراف ہوا تو نماز نہ ہوگی۔
مسئلہ: صرف حطیم کا استقبال نماز میں کافی نہیں ہے ؛ بلکہ کعبہ کا استقبال ضروری ہے، چاہے حطیم بیچ میں آجائے۔
مسئلہ: جب امام بیت اللہ سے باہر مسجد حرام میں کھڑا ہوکر نماز پڑھا رہا ہے تو مقتدیوں کو چاہیے کہ چاروں طرف سے حلقہ بناکر اقتداء کرے ، یہ درست ہے۔ البتہ جس طرف امام کھڑا ہو، اس طرف مقتدی امام سے آگے کھڑا نہ ہو، ورنہ اس کی نماز نہ ہوگی۔





















