جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس بصدارت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب دفتر جمعیت دہلی میں 12و 13/ جولائی1930ء کو منعقد ہوا، جس میں مولانا سید انور شاہ صاحب، مولانا حسین احمد صاحب، مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب، مولانا عبد الحلیم صاحب، مولانا حفظ الرحمان صاحب، مولانا محمد نور الدین صاحب شریک ہوئے۔ مجلس نے دو دن کے غور و خوض کے بعد بارہ تجاویز منظور کی ہیں۔
پہلی تجویز میں مولانا ابو الحسن صاحب اور مولانا فاخر صاحب کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا۔ اور دوسری تجویز میں مولا نا عبد الرحمان، مولانا امیر حمزہ صاحب اور مفتی محمد نعیم صاحب کی گرفتاری پر انھیں مبارک باد دی گئی۔
تیسری تجویز میں مفتی محمد نعیم صاحب کی جگہ مجلس عاملہ کے لیے مولانا فخر الدین صاحب کو منتخب کیاگیا۔
چوتھی تجویز میں جمعیت العلمائے دار الحربیہ دہلی کو بعض ضروری اختیار دیے گئے کہ وہ اپنے عملی پروگرام میں سول نافرمانی کی مزید صورتوں کو داخل کر سکتا ہے اور حسب ضرورت اور مصلحت پروگرام کے کسی جز کو ملتوی بھی کر سکتا ہے۔ مجلس کو روپیہ فراہم کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ گرفتاری کی حالت میں جدید عہدے داروں کے انتخاب کا اختیار صدر جمعیت کو دیا گیا ہے۔
پانچویں تجویز میں رضا کاروں کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے اور جو گرفتار ہوگئے ہیں، انھیں مبارک باد دی گئی ہے۔ اس کے بعد ایک تجویز میں اصول عدم تشدد پر زور دیا گیا ہے اور مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی حالت میں -خواہ کتنی ہی مصیبت برداشت کرنی پڑے- تحمل و برداشت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور کسی طرح تشدد کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ موجودہ حالات میں تحریک آزادی کی کامیابی اسی پر منحصر ہے۔
ساتویں تجویز میں کانگریس کی مجلس عاملہ کو نا جائز قرار دینے کی حکومت کی کارروائی کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی ملامت کی گئی ہے۔ اس قرار دادو میں مجلس عاملہ کانگریس کی جس تجویز کی بنا پر اسے ناجائز مجلس قرار دیا گیا ہے، اس کے متعلق ظاہر کیا گیا ہے کہ ورکنگ کمیٹی کے جس رزولیوشن کو اس قابل نفرت حکم کے جواز کا حیلہ بنایا گیا ہے، اس میں ہندستانی پولیس اور فوج سے انسانی اور شریفانہ خدمات سے کام کام لینے کی اپیل کی گئی تھی، جو انسانی شرافت اور اخلاقی مروت کا لازمی فریضہ ہے۔ ایسے فریضہ کی ادائیگی، یا ادائیگی کی ترغیب دینے کو کسی قانون کے ماتحت رد نہیں کیا جا سکتا
آٹھویں تجویز سائمن رپورٹ کے متعلق ہے، جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ مجلس اس رپورٹ پر اظہار رائے کرنا اس وجہ سے ضروری نہیں سمجھتی کہ کمیشن کا تقرر ہی ہندستانیوں کی خود داری اور وضع کے خلاف تھا، تاہم جہاں تک ہندستان کی آزادی کا تعلق ہے، رپورٹ کو رجعت پسندانہ قرار دیا گیا ہے۔ جہاں تک فرقہ وارانہ مسائل کا تعلق ہے، ظاہر کیا گیا ہے کہ اس میں مسلمانوں کے اہم مطالبات میں سے ایک مطالبہ بھی اس کی اصلی صورت میں منظور نہیں کیا گیا ہے۔ کمیشن نے فیڈرل حکومت کی جو تجویز پیش کی ہے، اسے بھی رپورٹ کی مجوزہ تجاویز کی صورت میں مسلمانوں کے لیے مضر خیال کیا گیا ہے۔
نویں تجویز صوبہ سرحد کے تازہ واقعات کے متعلق ہے، جس میں صوبہ سرحد اور آزاد قبائل کے باشندوں کے ساتھ حکومت کے رویہ پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔
دسویں تجویز شاردہ ایکٹ میں اس ترمیم سے متعلق ہے، جو حال میں مجلس مملکت میں ہوئی تھی اور اسے کافی قرار دیا گیا ہے۔
گیارھویں تجویزریاست میسور میں ……سے متعلق زیر تجویز قانون کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے اور اس قانون کو پرسنل لاء میں مداخلت قرار دیا گیاہے۔
آخری تجویز مراد آباد ……پارٹیوں کی اس کارروائی کے خلاف ہے، جو وہاں کے مکاتب کو بند کرنے کے متعلق اختیار کی گئی ہے اور اسے جبریہ تعلیم کے نفاذ کی تائید کرتے ہوئے مسلمانوں کی قرآنی اورمذہبی تعلیم میں مداخلت قرار دیاگیا ہے اور سفارش کی گئی ہے کہ ایسے بچوں کو -جو اس قسم کی تعلیم حاصل کرتے ہوں – جبری تعلیم سے مستثنیٰ کیا جائے۔
(روزنامہ ملت، 23/جولائی 1930ء، ص/ 3)

















