تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر ایک
ریشمی رومال تحریک کے سلسلے میں تین خطوط لکھے گئے تھے، جن میں دو سے مولانا عبید اللہ سندھی نور اللہ مرقدہ نے اور ایک مولانا محمد میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ نے ۔ پہلا خط درج ذیل ہے:
مولانا عبیداللہ کا خط مولانا محمود حسن کے نام
احوال انجمن دیگر (موسوم) بنام حکومت موقتہ ہند
ایک ہندستانی رئیس مہندرپرتاپ ساکن بندرابن جسے آریاوں کی جماعت سے خاص تعلق ہے اور ہندستانی راجگان سے واسطہ در واسطہ ملتا ہے ۔ گذشہ سال جرمنی پہنچا۔ قیصر سے ہندستان کے مسئلے میں ایک تصفیہ کرکے اس کا ایک خط بنام روساء ہند و امیر کابل لایا۔
حضرت خلیفۃ المسلمین نے بھی قیصر کی طرح اسے اپنا وکیل ہند بنایا اس کے ساتھ مولوی برکت اللہ بھوپالی جو جاپان و امریکہ میں رہ چکے ہیں ، برلن سے ہمراہ ہوئے۔قیصر کے قائم مقام ایک اور سلطان المعظم کے ایک افسر اس کے ساتھ کابل آئے ، یہ لوگ میرے کابل پہنچنے سے پہلے سے دس روز قبل پہنچ چکے تھے ، انھوں نے ہندووں کے فوائد کی تائید میں ہندستانی مسئلہ امیر کے سامنے پیش کیا اور کابل میں دونوں نے ایک انجمن کی بنام مذکورہ بالا بنیاد ڈالی ۔ اس کا کا م یہ ہے کہ وہ ہندستان کے معاملات پر مستقبل میں دول عظمیٰ سے معاہدات کرے۔
ایسے اسباب پید اہوگئے کہ انھوں نے مجھ سے اس انجمن میں شامل ہونے کی درخواست کی میں نے اسلامی مفادات کی حفاظت کی نظر سے قبول کیا۔
(۱) چند روز مباحثات کے بعد اس انجمن نے قبول کرلیا کہ افغانستان اگر جنگ میں شرکت کرتا ہے تو ہم اس کے شاہزدے کو ہندستان کا مستقبل بادشاہ ماننے کو تیا رہیں۔ اور اس قسم کی درخواست امیر صاحب کے یہاں پیش کردی ، لیکن چوںکہ امیر صاحب ابھی شرکت جنگ کے لیے تیار نہیں ، اس لیے معاملہ ملتوی کر رکھا ہے۔
(۲) اس حکومت کی طرف سے روس میں سفارت گئی ، جس میں ایک ہندو اورا یک مہاجر طالب علم تھا جو افغانسان کے لیے مفید اثرات لے کر واپس آئے ، اب روس کا سفیر کابل آنے والا ہے۔ روس کی انگریزوں سے برہمی میں جس کے فیصلے کے لیے کچز جاتا ہوا غرقاب ہوا، ممکن ہے کہ سفارت مذکورہ کا اثر بھی شامل ہو۔
(۳) ایک سفارت براہ ایران قسطنطنیہ اور برلن گئی ہے ، اس میں دونوں ہمارے مہاجر طالب علم ہیں ، امید ہے حضور میں حاضر ہوکر مورد عنایت ہوںگے۔
(۴) اب ایک سفارت جاپان اور چین کو جانے والی ہے۔
(۵) ہندستان میں پہلی سفارت بھیجی گئی، وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئی۔
(۶) اب دوسری سفارت جارہی ہے۔
(۷) تھوڑے دنوں میں ایک دوسری سفارت برلن جانے والی ہے۔
جرمن سفارت سے میرے ذاتی تعلقات بہت اعلیٰ درجے پرہیں ، جس سے اسلامی فوائد میں بہت مدد ملے گی ۔ اس حکومت موقتہ میں راجہ پرتاپ صدر ہیں ، مولوی برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور احقر وزیر ہند ۔فقط والسلام(عبیداللہ)
مولانا عبید اللہ سندھی کا خط بنام شیخ عبدالرحیم
۹؍ رمضان یوم دو شنبہ
(مطابق ۱۰؍ جولائی ۱۹۱۶ء)کابل


















