جمعرات, مارچ 26, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home زبان و ادب

مقالہ نگاری کے چند رہ نما اصول

by Md Yasin Jahazi
جنوری 22, 2026
in زبان و ادب
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

مقالہ نگاری کے چند رہ نما اصول
افہام و تفہیم اور اظہار ما فی الضمیرکے دو طریقے ہیں : تحریر اور تقریر ۔ تقریر وقتی اور غیر پائدار ہوتی ہے، جب کہ تحریر دیر پااور ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔ تقریر کا اثر و رسوخ محدود اور مختصر ہوتاہے ، جب کہ تحریر کادائرۂ اثر بہت وسیع اور حلقۂ تاثیر نہایت کشادہ ہے ۔ تقریر میں کم مطالعہ سے بھی کام چل جاتا ہے، جب کہ تحریر مطالعہ میں وسعت چاہتی ہے۔ تقریر کسی جوش و جذبے کی پیداوار ہوتی ہے ، جب کہ تحریر نہایت عرق ریزی سے کیا ہوا مطالعے کا نچوڑ اور عقل وفکر کی کاوش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس لیے تحریر کے لیے مطالعہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، لہذا مطالعے میں جتنی گہرائی و گیرائی ہوگی ، تحریر بھی اتنی ہی عمدہ اور معیاری ہوگی ۔
مطالعے کی اہمیت و افادیت اس درجہ مسلم ہے کہ اس حوالے سے کچھ لکھنے کی چند اں ضرورت نہیں ہے ، کیوںکہ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ کسی بھی علم و فن کا دارومدارسراسر مطالعے پر ہے ۔اسی وجہ سے کہاگیا ہے کہ’’مطالعہ روح علم کے لیے غذا کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔
’’مطالعے کی اہمیت و افادیت ہمیشہ اور ہر دور میں مسلم رہی ہے۔ اس سلسلے میں کسی بھی نقطۂ نظر یا مدرسۂ فکر کو کوئی اختلاف نہیں ، بلکہ مطالعہ ہی سے نقطہ ہائے نظر اور مدارس فکر کی شناخت ہوتی ہے ۔ اور مطالعہ ہی کی مدد سے ان کے روشن یا تاریک پہلو سامنے آتے ہیں ۔سماج یا معاشرہ کی تعمیر و تطہیر میں مطالعہ کا بڑا اہم اور واضح رول ہوتا ہے ۔دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان کے شرف و تفوق کی بنیاد علم پر ہے، اور علم صرف مطالعہ ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔ اس صورت میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مطالعہ انسا نی زندگی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے ، اور مطالعہ کے بغیر انسان اپنی اس منزل کو نہیں پا سکتا ، جس کے لیے خالق کائنات نے اس کی تخلیق فرمائی ہے ۔بعض دانش وروں کے نزدیک جو اہمیت انسانی زندگی کے لیے پانی ، ہوا اور غذا کی ہے ، وہی اہمیت مطالعے کی بھی ہے۔ اس لیے کہ پانی ،ہوا اور غذا سے جسم انسانی کو نشو و نما ملتی ہے، اور مطالعہ سے ذہن و فکر میں گیرائی و بالیدگی اور روح میں تازگی و روشنی پیدا ہوتی ہے ‘‘
(میرا مطالعہ،ص؍۷)
’’ بصیرت و استدلال کو جلا دینے کا ایک اہم وسیلہ مطالعہ ہے۔ انسان مطالعہ کرتا ہے ، تو اپنی جستجو کی تسکین بھی کرتا ہے ۔وہ بہتر سے بہتر کی تلاش کرتا ہے ، اور زندگی کے زیادہ روشن راستوں پر گامزن ہوتا ہے ‘‘ ۔ (ایضا،ص؍۱۳۲)
ذیل میں مطالعہ کرنے اور مقالہ لکھنے کے چندزریں اصول لکھے جاتے ہیں ، انھیںبغور پڑھیں ، اور ذہن میں محفوظ کر لیں ۔
(۱)مطالعہ کے لیے سب سے بنیادی چیز کتاب کا انتخاب ہے۔ آج کل طباعت کی سہولت کی وجہ سے بری بھلی اور مفید و مضر ہر طرح کی کتابیں اور رسائل شائع ہو رہے ہیں ، اس لیے کتاب کا انتخاب نہایت نازک مسئلہ بن گیا ہے، لہذا اس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ آپ ایسے مربی اور اساتذہ سے مشورہ لیں ، جو مطالعے کا ذوق اور انتخاب کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اور مشیر ومربی کو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ طلبہ کے ذوق اور ان کی دل چسپیوں کو پیش نظر رکھ کر کسی فن یا موضوع کو منتخب کریں ۔
(۲) اگر آپ خود بالغ نظر ہیں اور صحیح غلط اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، تواپنے ذوق و میلان اور ذاتی دل چسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی کتاب کا انتخاب کریں ، جو اچھے اور اچھوتے مضامین پر مشتمل ہو، اور کسی بڑے ادیب کی لکھی ہوئی کوئی ادبی کتاب ہو ۔ یاد رکھیے کہ ہر کتاب قابل مطالعہ اور مقالہ نگاری سیکھنے کے لیے لائق استفادہ نہیں ہوتی ۔ اس لیے اس سلسلے میں کسی قلم کار یااپنے استاذ سے مشورہ لے لینا ہی بہتر ہے، اور ان کے مشورے پر عمل کرناہی زیادہ کا ر آمد ہے۔
’’مطالعہ اتنا آسان نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے بغیر کسی ترتیب کے پڑھنا شروع کر دے۔ یہ دودھاری تلوار ہے۔ اگر اس کا صحیح استعمال نہ ہوا ، تو وہ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ یہ ایک پل صراط ہے ، اس پر بہت سبک روی اور بہت احتیاط کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے اپنے اساتذہ سے مشورہ کیجیے‘‘۔ (پاجا سراغ زندگی،ص؍۸۵)۔
(۳)مطالعہ کرنے کا مفید طریقہ یہ ہے کہ عبارت کو نہایت توجہ اور دل جمعی کے ساتھ پڑھی جائے ، اور دوران مطالعہ نظر سے گذرنے والے ہر لفظ پر خوب غور و فکر کیا جائے ۔عبارت کو مکمل گرفت میں لینا اور جملے کا پورا پورا مفہوم اخذ کرنا ایک کامیاب اور مفید مطالعے کے لیے ضروری ہے۔
کیفیت کے بجائے کمیت میں مطالعہ چنداں مفید نہیں، یعنی صرف صفحات کی تعداد بڑھانے کو مطالعہ سمجھنا ، اور کیفیتِ مطالعہ کو پیش نظر نہ رکھنا ، مطالعہ کے ساتھ ناانصافی ہے ، کیوںکہ صرف سرسری نگاہ دوڑ انے اور صفحات کی تعداد بڑھانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔اس لیے کمیت میں خواہ ایک ہی صفحہ کیوں نہ ہو، لیکن مطالعہ مذکور ہ بالا کیفیت کے ساتھ ہی ہونا چاہیے ، ورنہ صرف وقت ضائع کرنے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔
(۴) مطالعہ کے دوران جو جو اچھی تعبیرات اور مفید باتیں نظر سے گذریں ،ان سب کو ایک کاپی میں نقل کرتے جائیں ،اور ساتھ ہی انھیں ذہن میں بھی محفوظ کرتے چلیں ۔( اس طرح سے آپ کے پاس الفاظ کا ایک بڑا ذخیرہ جمع ہو جائے گا )۔ایسا نہ کریں کہ کاپی میں نقل کر لینے کے بعد انھیں طاق نسیان میں رکھ دیں اور نقل بے سود ہو جائے۔
’’کار آمد مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ جو بھی اہم کام کی بات یاد رکھنے کے قابل بات، ہمیں دورانِ مطالعہ معلوم ہو، ا سے کاپی یا کسی کاغذ کے پرزے پر ہی نوٹ کر لیں ، کیوںکہ انسانی حافظے کے چاہے وہ کتنا ہی قوی ہو، اپنے حدود ہوتے ہیں‘‘۔ (میرا مطالعہ،ص؍۱۶۰)۔
(۵) اس خیال سے یادکرناترک نہ کریںکہ یادکیاہوابھول جائیںگے، اس لیے جب ضرورت پڑے گی، کاپی سے نقل کر لیں گے؛ کیوںکہ
’’کہتے ہیں کہ کوئی پڑھی ہوئی چیز خواہ بھلادی جائے ،بے کارو بے اثر نہیں رہتی ، اپنا اچھا بر اثر ضرور کرتی ہے‘۔‘ (میری علمی و مطالعاتی زندگی،ص۱۲)۔
(۶)ان تعبیرات کو اپنی تحریر اور روزمرہ کی گفتگو میں استعمال کرنے کی کوشش کریں، تاکہ وہ زبانِ قلم اور زبانِ لحم دونوں پر رواں دواں ہو جائیں ، اور ان کو صحیح مقام پر برتنے کا ڈھنگ بھی آ جائے۔
(۷) دورانِ مطالعہ جب کوئی بات اول وہلہ میں سمجھ میں نہ آئے ،تو اس پر باربار غور و فکر کریں۔اگر اس کے باوجود سمجھ میں نہ آئے ، تو اس کو چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں ( تاکہ آپ کا غوروفکر میں مزید وقت ضائع نہ ہو) کیوںکہ کبھی ایسا ہوگا کہ آگے کے مطالعے سے خود بخود سمجھ میں آ جائے گا؛ لیکن اگر خود بخود سمجھ میںنہ آئے، تو پھر کسی اہل علم سے رجوع کریں ، اور اس مسئلے کو سمجھے بغیر نہ چھوڑیں ۔
(۸) جب آپ ایک عنوان مکمل کر لیں ،توکتاب بند کر کے اس کے مفہوم پر غور و فکر کریں ، پھر اسے اپنے الفاظ میں اختصار کے ساتھ دہرائیں۔ اگر یہ اعادہ بہ آ واز بلند ہو، تو زیادہ بہتر ہے ۔
(۹) مذکورہ بالا مراحل طے کر لینے کے بعد اب کاپی اور قلم لے کر بیٹھ جائیں اور ذہن کے نہا خانہ میںمحفوظ مواد و میٹر کو اپنی بے تکلف اور سادہ زبان میں صفحۂ کا غذ پر منتقل کریں ،انھیں اپنے الفاظ میں ڈھالیں ۔ اس سلسلے میں تکلف، بناوٹ اور عبارت آرائی سے پر ہیز کریں اور فطری طور پر لکھنے کی کوشش کریں ، اگر ہو سکے تو اس پر ذاتی تأثر اور تبصرہ بھی لکھیں۔
(۱۰)بہتر ہے کہ پہلے مضمون کو اجزا میں تقسیم کر لیں،پھر ہر جز کو مناسب ترتیب کے مطابق لکھیں، مثلاًآپ کسی کی’’شادی کی تقریب‘‘پر لکھنا چاہتے ہیں،تو اس طرح اجزا نکالیں:(۱) تمہید(۲) گھر، سڑک اور شادی ہال کی آرائش وزیبائش(۳)بارات کی آمد(۴)دلہن کی رخصتی کے مناظر(۵)تقریب کا ذاتی تأثر۔پھر ان کو ان کے ترتیب وجودی کے مطابق لکھیں۔
(۱۱)ہر جز کو لکھنے کے وقت پیرا گراف بد لیںاور نئی سطر سے لکھیں،اور تمام اجزا کے درمیان ربط و تسلسل برقرار رکھیں۔ایسا محسوس نہ ہو کہ مختلف ’’تراشے‘‘جمع کر دیے گئے ہیں۔
(۱۲)مضمون لکھتے وقت اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ موضوع کا کوئی گوشہ تشنہ نہ رہ جائے،بلکہ تمام گوشوں کا احاطہ اور ہر گوشے کی مکمل وضاحت کریں۔
(۱۳)کبھی تو آپ فوراً لکھ لیں گے،اور ایسا محسوس کریں گے کہ آپ کے قلم میں روانی آگئی ہے؛لیکن کبھی ایسا بھی ہوگا کہ قلم کی روانی رک جائے گی اور بہت زیادہ غور وفکر کرنے کے بعد بھی کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا،بس یہی سوچتے رہ جائیں گے کہ کیا لکھیں؟کس طرح شروع کریں؟لیکن اس کیفیت سے گھبرانے یا اکتاہٹ محسوس کرنے کی با لکل ضرورت نہیں ہے،کیوں کہ شروع شروع میں ہر نو آموز کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔اگر کبھی ایسا ہو؛تو لکھنا مؤخر کردیں،اور دل ودماغ تروتازہ ہونے کے بعد کسی دوسرے وقت میں اسے لکھنے کی کوشش کریں۔
(۱۴)اگر دوسرے وقت میں بھی بسیار کو شش کے باوجود اسی طرح کی کیفیت برقرار رہے ، تو ایسی صورت میں کتاب سامنے رکھ لیں ، اور اس کے مضمون کی تلخیص ، عنوان میں تبدیلی اور ترتیب وتنسیق میں ’’الٹ پھیر‘‘ اور ’’ہیرا پھیری‘‘ کرکے مقالہ تیار کریں۔اور یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں ؛ جب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے کہ آپ کتاب بند کر کے لکھ سکنے لگیں۔
’’دس بیس مضامین کے ساتھ ’’ہیرا پھیری‘‘ کا یہ عمل ، آپ کے قلم کو ایسا حوصلہ دے گا کہ آپ راہ نگارش پر آگے قدم بڑھاتے چلے جائیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ ‘‘ ۔ (حرف شیریں،ص؍۵۵)۔
(۱۵)کبھی ایسا بھی ہوگا کہ آغاز مضمون میں قلم خوب چلے گا؛ لیکن دوران مضمون یا اختتام میں ذہن و دماغ سے مواد عنقا ہوجائے گا اور بہت زیادہ سوچنے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ کیا لکھیں؟ اور مضمون کس طرح پورا کریں؟ ایسی صورت میں کتاب کی طرف دوبارہ مراجعت کریں ، اور مضمون کو آگے بڑھائیں۔
(۱۶) اور کبھی ایسا بھی ہوگا کہ بعینہ مطالعہ کے الفاظ وتعبیرات نوک قلم پر آئیںگے، اور ان کے علاوہ کوئی لفظ یا تعبیر ذہن میں نہیں آئے گی۔ اگر کبھی ایسی صورت پیدا ہو جائے ، تو اس سے کوئی حرج نہیں ، انھیں الفاظ و تعبیرات کے ساتھ مضمون مکمل کریں ۔
’’جو کچھ مطالعہ کیا جائے ، اس کو اپنی بے تکلف زبان میں لکھ لیا جائے، اگر مطالعہ کردہ کتاب یا مضمون کی عبارت کہیں بیچ میں آجائے، تو کوئی حرج نہیں اور نہ آئے تب بھی کوئی نقصان نہیں‘‘۔
(ایضا،ص؍۵۳)
(۱۸)اس کے بعد مضمون کو ایک ’اصلاح کی کاپی‘ میں نقل کریں، نقل کے دوران بھی کچھ کانٹ چھانٹ کی ضرورت محسوس کریں، تو کانٹ چھانٹ کریں ۔ اوراگرنئی نئی باتیں ذہن میں آئیں ، تو انھیں بھی شامل مضمون کرلیں، اور نہایت صاف ستھرے اور خوش خط انداز میں لکھنے کے بعد اصلاح کے لیے پیش کریں۔
(۱۹) یاد رکھیں کہ تحریر سیکھنے کے لیے کسی استاذ کی رہ نمائی ضروری ہے،کیوں کہ کوئی بھی فن سیکھنے کے لیے تجربہ کار، صاحب نظر اور پختہ کار ماہر فن سے رجوع کرنا ناگزیر ہے، اگر کو ئی بغیر کسی استاذ کی رہ نمائی کے سیکھ بھی لیتا ہے، تو اس کا نقصان یہ ہو تاہے کہ جو غلطیاں اس کے اندر ہوتی ہیں ، وہ کبھی دور نہیں ہوپاتیں، بلکہ اورپر وان چڑھ جاتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ غلطیوں کی اصلاح تو اس وقت ممکن ہے جب کہ غلطیوں کا احساس ہو، اور غلطیوں کا احساس بغیر کسی کے احساس دلائے ممکن نہیں، اور احساس دلانے والے ہی کانام استاذ ہے۔اس لیے تحریر سیکھنے کے لیے کسی ایسے استاذ کو رہ نما اور مصلح بنائیں، جو اسلام کے صحیح فکر کے حامل ہوں، تقویٰ وطہارت کے صفات سے متصف ہوں، مطالعہ کا ذوق رکھتے ہوں ، میدان قلم کے شہسوار ہوں، خیر خواہ اور تجربہ کا رہوں،آفاقی ذہن کے مالک ہوںاورر جال کاری کی بھرپور صلاحیت ان کے اندر موجود ہو۔
(۲۰)اصلاح میں کبھی تو ایسا ہوگا کہ استاذ کہیں چھوٹی اور کہیں بڑی عبارتیںقلم زد کردیں گے ، اور ان کی جگہ کہیں کچھ لکھیں گے اور کہیںنہیں بھی لکھیں گے ۔ اور کبھی ایسا ہوگا کہ جو حصہ آپ نے نہایت عرق ریزی سے لکھا ہوگا اور وہ آپ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ہوگا ، وہی حصہ کاٹ دیںگے۔ بسا اوقات اس سے آپ ناگواری بھی محسوس کریںگے؛ لیکن اس سے شکستہ دل ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ، کیوں کہ جب آپ اس فن میں مہارت پیدا کرلیںگے ، اور اپنے ان ابتدائی مضامین کو دیکھیںگے، تو معلوم ہوگا کہ استاذ کی کاٹ چھانٹ بالکل بر محل تھی ، بلکہ آپ خود اپنے طور پر تراش خراش کی ضرورت محسوس کریںگے۔
(۲۱)کوئی بھی فن یا زبان سیکھنے کے صرف دوطریقے ہیں ، اور دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں: (۱)بنیادی قواعد سے واقفیت (مطالعہ بھی اسی میں شامل ہے) ۔(۲) مشق و تمرین۔
مطالعے کے بارے میں آپ کو معلوم ہی ہوگیا کہ وہ تحریر سیکھنے کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے؛ لیکن مشق اس سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے،کیوں کہ تجربہ شاہد ہے کہ بہت سے لوگ جو قواعدمیں بہت زیادہ ماہر ہوتے ہیں ، لیکن مشق نہ کرنے کی وجہ سے عملی سطح پر بہت زیادہ غلطیاں کرتے ہیں، اور بہت سے لوگ جو قواعد سے کم ہی واقف ہوتے ہیں، لیکن مشق وتمرین کی بدولت ان سے بہتر لکھتے اور بولتے ہیں۔
اس لیے مطالعہ تو لازمی طورپر روز بلا ناغہ کریں، اور ممکن ہوتو ایک معین مقدار روزانہ لکھنے کی کوشش کریں ۔ اگر ہر روز ممکن نہ ہو، تو ہفتہ میں کم سے کم ایک مضمون ضرور لکھیں، اور اس سے زیادہ تاخیر نہ کریں، کیوں کہ آپ جتنے فاصلے سے مضمون لکھیں گے ، تعلم کا زمانہ بھی اتنا ہی دراز ہوتا چلا جائے گا، مزید برآںکبھی کبھار لکھنے سے فکر میں انجماد اور تعطل پیدا ہوجاتا ہے اور قلم میں خشکی جڑ پکڑ لیتی ہے۔
(۲۲)لکھنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیں، بلکہ جب بھی موقعہ ملے ، اور جیسا بھی عنوان ہاتھ آئے ، اس پر ضرورلکھیں ،اس سے آپ کی تحریر سدھرے گی،اس میں نکھار پیدا ہوگاا ور آپ کی بصیرت کو جلا ملے گی۔
(۲۳)آخر میں یہ عرض کردینا مناسب سمجھتاہوں کہ آج کل نئے افسانوں اور جدید ناولوں کا مطالعہ انتہائی انہماک سے کیا جاتاہے، اور یہ سمجھا جاتاہے کہ ان سے بھی ادب آتی ہے، اور معلومات میں اضافہ ہوتاہے،ان باتوں سے یک قلم انکار تو نہیں کیا جاسکتا ،تاہم پریشانی کی بات یہ ہے کہ آج کل کے اکثر افسانیں اور ناولیں فحش ، گندے اور مخرب اخلاق ہوتے ہیں۔ نیز ان کے مطالعے سے معلومات کم اور وقت زیادہ ضائع ہوتاہے، اور ان میں سے اکثر معیاری ادب کے بھی نہیں ہوتے، اس لیے اس سے زیادہ بہتر تویہ ہے کہ کسی دینی اور ادبی رسائل وجرائد کا مطالعہ کیا جائے ، یاسیرت کی کتابوں کو پڑھا جائے۔اور اگر افسانوں کو پڑھے بغیر چین نہ آئے، تو پھر پرانے ادیبوں کی لکھی ہوئی داستانوں اورافسانوں کا مطالعہ کیا جائے ۔جن سے معلومات بھی زیادہ حاصل ہوںگی، اور ادبی سرمایہ بھی زیادہ ہاتھ آئے گا؛ لیکن خیال رہے کہ صرف تفریحی ادب کا مطالعہ بھی نقصان دہ ہے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندویؒ رقمطراز ہیں کہ :
’’محض تفریحی ادب کے مطالعے سے ذہن میں سطحیت ، علم اور فکر میں بے مغزی اور معلومات میں تہی مائیگی پیدا ہوتی ہے، اور ایسا آدمی کوئی وقیع اور مؤثر کام نہیں کرسکتا ، تفریحی ادب کا وہی حصہ ہونا چاہیے، جونمکیات وفواکہ کا ہوتا ہے‘‘ ۔ (میری علمی ومطالعاتی زندگی، ص؍۵۲)۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

سلیس اور سادہ اسلوب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

لمحہ مسرت میں افسردگی

2 مہینے ago
لڑکی ہے تو گلا کاٹ دیں کیا

لڑکی ہے تو گلا کاٹ دیں کیا

6 مہینے ago

مقبول

  • ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سرور کائنات ﷺ کی عید

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.