پریس ریلیز
جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون نے پورے معاملہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کا کیا مطالبہ
بھوپال۔ حال ہی میں بہار کے ارریہ ضلع سے مہاراشٹر کے لاتور ضلع کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے لے کر جارہے مدرسہ کے طلباء کو مدھیہ پردیش کے کٹنی ریلوے اسٹیشن پر آر پی ایف، جی آر پی، بال کلیان سمیتی کی مشترکہ ٹیم نے روک لیا اور اُن کے ساتھ جارہے مدرسہ کے اساتذہ کو حراست میں لے لیا اور بچوں کو جبل پور بال گرہ بھیج دیا، متعلقہ انتظامیہ کے ذریعہ اِس پوری کاروائی کو سنسنی خیز بناتے ہوئے مانو تسکری اور کام کرانے کی غرض سے لے جانے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ اِس پورے واقعہ کی جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کہ ابھی کوئی جانچ یا تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے اِس کے باوجود مانو تسکری اور کام کرانے کی غرض سے بچوں کو لے کر جانے کا سنگین الزام متعلقہ انتظامیہ کے ذریعہ لگایا جانا بہت ہی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ آگے اُنھوں نے کہا کہ اُن کی تفتیش کے مطابق یہ سارے بچے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اپنے والدین کی رضامندی سے بہار سے مہاراشٹر جارہے تھے۔ حاجی ہارون کا کہنا ہے کہ بال کلیان سمیتی اور پولیس کی یہ کاروائی قانون کے خلاف ہے۔ ان بچوں کو کسی بھی طرح کی زبردستی کرکے یہاں نہیں لایا جارہا تھا بلکہ ملک کے الگ الگ صوبوں سے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے طالب علم ایک سے دوسرے صوبے میں جاتے ہی رہتے ہیں۔ مدرسہ کے طلباء ہوں یا کالج، اسکول کے طالب علم ہوں، وہ اپنی ضرورت کے حساب سے الگ الگ جگہوں پر تعلیم حاصل کرنے آتے جاتے ہیں لیکن صرف جان بوجھ کر مدرسہ کے طلباء کو کئی جگہوں پر روک کر کاروائی کرنے کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔ اِس طرح کے واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعات مسلمان بچوں کی دینی تعلیم میں مداخلت کرنے کی کوشش ہے۔ اِس بات کی اُنھوں نے پُرزور مذمت کی۔ آگے اُنھوں نے کہا کہ اِس وقت پورے ملک میں ہزاروں بچے سڑک کے کنارے لاوارث کے طور پر پڑے رہتے ہیں، بھیک مانگتے ہیں اور نشہ کرتے ہیں لیکن اِن بچوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ بال آیوگ اور انتظامیہ کا یہ کام ہے کہ وہ سڑک کنارے لاوارث یتیم بچوں یا کسی بچے کے ساتھ برے برتاؤ کی اطلاع ملنے پر کاروائی کرے لیکن اس کے بجائے بال آیوگ اور انتظامیہ مدرسہ کے طلباء کی آمدورفت میں غیرضروری مداخلت کرتاہے جب کہ یہ طلباء اپنے والدین کی منظوری سے ضروری دستاویزوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ اُنھوں نے مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو جی اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے مانگ کرتے ہوئے کہا کہ اِس پورے معاملہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کی جائے اور جو لوگ بنا کسی جانچ کے مدرسہ کے ذمہ داروں پر اِتنے سنگین الزامات لگا رہے ہیں اُن پر بھی فوری کاروائی کی جائے۔
منجانب:محمد کلیم خان ایڈوکیٹ


















