محمد یاسین جہازی
اشہر حج کی مناسبت سے محبت نبوی سے سرشار ایک منفرد تحریر
قسط نمبر(1)
روانگی کی تمہید
جب سورہ النصر نازل ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ نے قدرت کا یہ اشارہ سمجھ لیا کہ اب رحلت کا وقت قریب آگیاہے، چنانچہ 10ھ، مطابق632ء میں یہ ارادہ فرمالیا کہ آخری حج کرلیا جائے۔ بڑا اہتمام کیا گیا۔ کوشش یہ کی گئی کہ کوئی عقیدت مند محروم نہ رہ جائے، آس پاس کے قبائل میں ارادہ پاک کی اطلاع دی گئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت یمن میں تھے، ان کو حج میں شرکت کی دعوت بھجوائی گئی۔ تمام ازواج مطہرات کو ساتھ چلنے کی خوش خبری سنائی گئی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیاری کا حکم ملا۔24/ ذی قعدہ 10ھ، مطابق 21/فروری 632ء جمعہ کا دن تھا، مسجد نبوی میں جمعہ میں 25/ذی قعدہ 10ھ، مطابق22/فروری 632ء کی روانگی کا اعلان ہوا۔
روانگی کا پہلا دن: 25/ذی قعدہ 10ھ، مطابق22/فروری 632ء، بروز ہفتہ
25/ذی قعدہ 10ھ، مطابق22/فروری 632ء بروز سنیچر، آپ ﷺ نے غسل فرمایا۔ لباس تبدیل کیے اور مسجد نبوی میں ظہر کی نمازکے لیے تشریف لائے۔ نماز سے قبل آپ نے خطبہ دیا، جس میں مسائل حج بیان کیے۔ پھر نماز ادا فرمائی اور حمد و شکر کے ترانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد صحابہ کرام آپ ﷺ کے ہمرکاب تھے۔ جہاں تک نظر جاتی تھی، ہر طرف انسانوں کا سیلاب نظر آتا تھا۔
پہلا مقام: ذو الحلیفہ
مدینہ منورہ سے9/کلو میٹر کے فاصلے پر مقام ذوالحلیفہ(ابیار علی) ہے۔ آپ ﷺ یہاں پہنچے، تو عصر کا وقتæw2 ہوچکا تھا، اس لیے سب aaسے پہلے آپ ﷺ نے نم²222111از عصر کی دو رکعت ادا کی اوررawawات بھی یہیں قیام à۔سبھی نوازواج مطہرات شریک سفر تھیں، اس رات سبھی سے صحبت فرمائی۔
(جاری)


















