سرمدپور/کدمہ (مہگامہ)30/ مئی 2026
مشہور عالم دین مولانا نشاط اختر قاسمی ٹنکماس سری چک بھاگلپور (مقیم حال پٹنہ) نے اپنے دونوں صاحبزادگان کے نکاح نہایت سادگی اور سنتی طریقے پر انجام دے کر معاشرے میں ایک مثالی پیغام دیا ہے۔
پہلا نکاح 29 مئی 2026 کو جامع مسجد سرمدپور میں بعد نماز جمعہ ان کے بڑے صاحبزادے انجینئر آصف حماد کا جناب نوشاد امین خوشتر کی صاحبزادی کے ساتھ نہایت سادگی کے ساتھ انجام پایا۔ نکاح خود مولانا نشاط اختر نے پڑھایا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں علماء کرام، معززینِ علاقہ اور عوام الناس شریک ہوئے، جن میں حضرت مولانا انصار الحق مظاہری، مولانا معین الحق فیضی، مولانا قمر الزمان ندوی، مولانا اقبال صاحب سمیت دیگر اہل علم شامل تھے۔
دوسرا نکاح 30 مئی 2026 کو کدمہ کی مسجد میں بعد نمازِ ظہر مولانا کے دوسرے صاحبزادے انجینئر اسماعیل جواد کا مولانا جرجیس صاحب کدمہ کی صاحب زادی سے نہایت سادگی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ اس موقع پر بھی مولانا نشاط اختر قاسمی نے مختصر خطاب فرمایا اور خود ہی نکاح پڑھایا۔کدمہ کے نکاح میں نوشہ میاں انجینئر اسماعیل جواد صاحب اور ان کے والد محترم مولانا نشاط اختر صاحب کی خصوصی دعوت پر جہاز قطعہ سے مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت علماء بسنت رائے و بانی و مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ) اور مولانا محمد یاسین جہازی نے خصوصی شرکت کی۔اپنے دونوں خطابات میں مولانا نے نکاح کو آسان بنانے، فضول خرچی سے بچنے اور معاشرے میں پھیلتی ہوئی غیر ضروری رسم و رواج کے خاتمے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ علماء کی قیادت میں چلنا اور ان کی رہنمائی کو قبول کرنا امت کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ علماء ہی حقیقی معنوں میں امت کے خیر خواہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ نکاح کو بوجھ بنانے کے بجائے آسان بنایا جائے تاکہ اس سے پیدا ہونے والی معاشرتی خرابیوں کا سدباب ہو سکے۔مولانا نشاط اختر قاسمی اپنی حیثیت اور منصب کے اعتبار سے شاندار اور پرتعیش تقریبات کا اہتمام کر سکتے تھے، مگر انہوں نے شعوری طور پر سادگی کو اختیار کر کے ایک عملی نمونہ پیش کیا اور غیر اسلامی رسم و رواج کے خلاف بامعنی بغاوت کا اعلان کیا۔ ان کے اس اقدام کو عوامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے سنتی نکاح کی بہترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ بھی رہی کہ نکاح کے بعد محفلِ شعر و سخن کا انعقاد ہوا، جس میں سب سے پہلے مولانا نشاط اختر صاحب نے علامہ اقبال اور دیگر شعراء کی غزلیں اور نظمیں پیش کیں۔ بعد ازاں ان کے دونوں صاحبزادگان نے بھی خوش الحانی کے ساتھ اشعار پیش کر کے محفل کو مزید دلکش اور یادگار بنا دیا۔ یہ حسین لمحے شرکاء کے لیے ہمیشہ یادگار رہیں گے۔
تقریبات میں علاقہ کے معززین، ائمہ مساجد، ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد شریک رہی، جن میں پرمکھ جناب نور محمد صاحب، مکھیا فضل الرحمن، مولانا فاروق شمسی (مہتمم مدرسہ سلیمانیہ) سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔ علاوہ ازیں دبئی سے آئے ہوئے مہمان جناب اسد صاحب کی شرکت نے بھی تقریب کو خاص اہمیت بخشی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولانا نشاط اختر قاسمی اس وقت بہار اسمبلی میں لائبریرین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جب کہ ان کے والد محترم مولانا اختر حسین قاسمی ایک جید عالم اور مناظر اسلام تھے، جنہوں نے غیر اسلامی رسومات کے خلاف ہمیشہ مدلل اور مؤثر آواز اٹھائی۔
یہ دونوں نکاح تقریبات معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ اگر نیت درست ہو تو سنت کے مطابق سادگی کے ساتھ نکاح انجام دینا نہ صرف ممکن ہے بلکہ باعثِ برکت بھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اس طرزِ عمل کو اپنائیں اور نکاح کو آسان بنا کر ایک صالح معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔




















