اتوار, اگست 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

by Admin
جولائی 11, 2026
in متفرق مضامین
0
0
SHARES
5
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

✍🏻محمد عادل ارریاوی


ہمارے معاشرے کا ایک نہایت ہی دردناک اور دل دہلا دینے والا دل سوز المیہ یہ ہے کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں بیٹیاں شادی کی آس لیے اپنی عمر کا قیمتی حصہ انتظار میں گزار رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیس سے پینتیس سال کی عمر کے ایک کروڑ سے زائد لڑکیاں مناسب رشتے کی منتظر ہیں جبکہ ان میں لاکھوں ایسی ہیں جن کی عمر معاشرتی پیمانے کے مطابق شادی کی حد سے آگے نکل چکی ہے۔ اسی طرح لاکھوں بیوائیں بھی موجود ہیں جن کی دوسری شادی نہ صرف ممکن ہے بلکہ شریعت بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے مگر معاشرے کی بے جا رسمیں غلط سوچ اور خود ساختہ معیار ان کی راہ میں دیوار بنے ہوئے ہیں۔
آج رشتہ تلاش کرنے کا انداز اس قدر مادہ پرستانہ اور ظالمانہ ہو چکا ہے کہ لڑکی کی دینداری اخلاق کردار اور تربیت کو پسِ پشت ڈال کر اس کے خاندان دولت رہائش ظاہری معیار اور بے شمار غیر ضروری چیزوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر لڑکی بیوہ ہو تو گویا اس کے لیے دروازے مزید بند کر دیے جاتے ہیں، اور اگر عمر تیس سال سے بڑھ جائے تو اسے بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے چاہے وہ ہر اعتبار سے بہترین کیوں نہ ہو۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہزاروں بیوائیں ایسی بھی ہیں جن کے لیے نہ کوئی مضبوط سرکاری سہارا موجود ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر سماجی نظام۔ شوہر کے انتقال کے بعد بعض اوقات انہیں جائیداد کے جائز حق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے یہاں تک کہ انہیں اپنے ہی گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ایک تنہا عورت اپنے بچوں سمیت زندگی کا بوجھ کیسے اٹھائے گی اور کن مشکلات کا سامنا کرے گی۔
رشتوں میں غیر معمولی تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہماری بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور مفاد پرستی بھی ہے۔ آج شرافت حسنِ اخلاق دین داری اور اچھے کردار سے زیادہ بینک بیلنس نوکری بنگلہ گاڑی اور ظاہری آسائشوں کو دیکھا جاتا ہے۔ معمولی معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر بہترین رشتے ٹھکرا دیے جاتے ہیں۔ کبھی یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ لڑکی والوں کا گھر کرائے کا ہے کبھی گلی تنگ ہونے پر ناک بھوں چڑھائی جاتی ہے کبھی علاقے کو بہانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی اس بات پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ خاطر خواہ پروٹوکول نہیں ملا۔
یہ رویے نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ اس بات کی علامت بھی ہیں کہ ہم نے نکاح جیسے مقدس رشتے کو آسان بنانے کے بجائے انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
تعلیم بھی بعض اوقات اس مسئلے کا ایک پہلو بن جاتی ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کی تعلیم یافتہ بیٹی کے لیے اسی معیار کا رشتہ ملے جبکہ دوسری طرف بعض لوگ زیادہ پڑھی لکھی لڑکی کو یہ سوچ کر مسترد کر دیتے ہیں کہ شاید وہ بد مزاج یا نافرمان ہوگی۔ حالانکہ تعلیم انسان کو شعور سمجھ اور بہتر اخلاق عطا کرتی ہے، نہ کہ غرور۔
اگر کوئی تعلیم یافتہ یا ملازمت پیشہ خاتون حالات کے جبر یا معاشرتی ناانصافی کی وجہ سے تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے تو ہمارا معاشرہ اس کی مدد کرنے کے بجائے اس کے کردار پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیتا ہے۔ افسوس کہ ہم اس کے دکھ کو سمجھنے کے بجائے اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حالانکہ اس کی تنہائی کے ذمہ دار بھی اکثر ہم خود ہی ہوتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک اور عجیب تضاد یہ ہے کہ جب اپنی بیٹی کے لیے رشتہ تلاش کیا جاتا ہے تو انسان اچھے اخلاق دین داری اور ذمہ دار لڑکا چاہتا ہے لیکن جب اپنے بیٹے کے لیے بہو ڈھونڈی جاتی ہے تو معیار یکسر بدل جاتا ہے۔ اس وقت خوبصورتی کم عمری دولت اور بے شمار غیر ضروری شرائط سامنے آ جاتی ہیں۔
مزید افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اگر ایک مرد عمر رسیدہ ہو بیوہ ہو یا کئی بچوں کا باپ بھی ہو تب بھی اس کے لیے کم عمر کنواری لڑکی تلاش کی جاتی ہے جبکہ اسی عمر کی غیر شادی شدہ لڑکی یا بیوہ کو قبول کرنے کے لیے لوگ تیار نہیں ہوتے۔ یہ کھلا ہوا دوہرا معیار ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ذرا ان والدین کے دل کی کیفیت کا تصور کیجیے جن کی بیٹیاں برسوں سے رشتوں کی منتظر ہیں۔ ہر آنے والا دن ان کے لیے نئی امید اور ہر گزرتا ہوا سال نئی بے بسی لے کر آتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی دعائیں کرتے کرتے بوڑھے ہو جاتے ہیں مگر معاشرے کی بے جا رسمیں اور غیر ضروری مطالبات ان کی راہ میں رکاوٹ بنے رہتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نکاح کو آسان بنائیں غیر ضروری رسم و رواج جھوٹی انا مادہ پرستی اور بے بنیاد مطالبات کو ترک کریں بیوہ خواتین اور عمر رسیدہ غیر شادی شدہ خواتین کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ اختیار کریں اور ہر انسان کو اس کا جائز مقام دیں۔
یاد رکھیے کسی بیٹی کی عزت اس کی عمر دولت یا ظاہری حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے کردار دین داری اور انسانیت سے ہوتی ہے۔ اگر ہمارا معاشرہ اس حقیقت کو سمجھ لے تو نہ جانے کتنے گھر آباد ہو جائیں کتنی ماؤں کی دعائیں قبول ہوں اور کتنی بیٹیوں کی آنکھوں سے انتظار کے آنسو ہمیشہ کے لیے خشک ہو جائیں۔
یہ مسئلہ کسی ایک گھر ایک خاندان یا چند افراد کا نہیں، بلکہ پوری امت اور پورے معاشرے کا مشترکہ درد ہے۔ جب تک ہم اپنی سوچ اپنے معیار اور اپنے رویوں کو نہیں بدلیں گے تب تک نہ جانے کتنی بیٹیوں کی جوانیاں انتظار کی نذر ہوتی رہیں گی کتنے والدین حسرتوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوتے رہیں گے اور کتنے گھر صرف ہماری بے جا شرطوں اور خود ساختہ رسموں کی وجہ سے آباد ہونے سے محروم رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نکاح کو آسان کردار کو معیار اور دین کو ترجیح دیں کیونکہ اسی میں فرد خاندان اور معاشرے کی حقیقی فلاح پوشیدہ ہے ۔
اپنے بچوں کی شادیاں جلد ہی کرو کیونکہ جب انسان کو بھوک لگتی ہے اور جب اسے حلال رزق نہیں ملتا تو وہ حرام کھانا شروع کر دیتا ہے نکاح ﷲ کی طرف سے بھیجا ہوا ایک پاک رشتہ ہے شادی ایک ضرورت ہےکسی بھی نوجوان مرد اور عورت کے لئے باپ جہیز جمع کرتے بوڑھا ہو جاتا ہے اور بیٹی تیس سال گھر پر بیٹھی رہ جاتی ہے بیٹا گھر بناتے بناتے 35 سال کا ہو جاتا ہے اور اسی بے وجہ رسم و رواج نے سُنّت نکاح کو مشکل بنا دیا ہے اور زنا کو آسان آج کی نوجوان نسل زنا کی دَل دَل میں پھنستی جارہی ہے ۔خدارا والدین اس بات کو سمجھیں اور اپنے بچوں کا نکاح جلد از جلد اور سادگی سے کریں۔
اللہ تعالیٰ تمام غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں بیوہ خواتین اور ان کے والدین کی پریشانیاں دور فرمائے انہیں نیک صالح اور مناسب رشتے عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو نکاح آسان بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Admin

Admin

Next Post
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

بھاگلپور و اطرافِ بھاگلپور کی گمشدہ تاریخ کو منظرِ عام پر لانے کے لیے عظیم الشان سیمینار کی تیاری — دگھی گڈا میں اہم مشاورتی نشستب

2 مہینے ago
آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

3 ہفتے ago

مقبول

  • مولانا محمود مدنی

    دل پل میں تولہ ہوتا ہے اور پل میں ماشا: مولانا محمود مدنی صاحب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چار ملعون لوگ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نجات دین اسلام ماننے ہی میں ہے: مولانا اشرف عباس صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • درس قرآن کی مجلس میں ضرور شرکت کریں: نائب امیر الہند مفتی محمد سلمان منصور پوری استاذ دارالعلوم دیوبند کا بیان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.