ہفتہ, ستمبر 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ارکان پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی اورمودی کی شاہ خرچی

    مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش

    مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش

    ریاضی کی تدریس کے نفسیاتی طریقے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ارکان پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی اورمودی کی شاہ خرچی

    مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش

    مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش

    ریاضی کی تدریس کے نفسیاتی طریقے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں دیگر ریاستیں

عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

by Admin
جولائی 13, 2026
in دیگر ریاستیں, دیگر مضامین, قومی و بین الاقوامی, متفرق مضامین
0
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد
0
SHARES
38
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مولانا عبدالحمید نعمانی

بھارت میں بارہا عوامی ، مختلف طبقات اور فرقہ وارانہ اتحاد کو فروغ دے کر سماجی مساوات کی راہ ہموار کرنے کی تحریکیں چلیں، وہ کچھ آگے بڑھیں، کچھ کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئیں، تاہم کچھ وقت گزرتے ہی چار طبقاتی نظام اور سماجی تقسیم و تفریق کی حامی طاقتیں، یا بر سر اقتدار آ کر یا اقتدار کی پشت پناہی و سرپرستی میں سماج پر غالب و حاوی ہو گئیں اور ملک کی محنت کش اکثریت کو محکوم بنانے میں کامیاب ہو جاتی رہی ہیں، 19ویں صدی میں برٹش سامراج کے خاص طرز حکومت اور مسلم سماج کی موجودگی میں دلت تحریکات کا ظہور و ابھار سے ایک مخصوص قسم کی تبدیلی شروع ہوئی لیکن پھر چار طبقاتی نظام کی نمائندگی کرنے والے مختلف ترکیبوں سے حاوی ہو جاتے ہیں، ماضی قریب میں ایسی طاقتوں کی نمائندگی تلک، مدن موہن مالویہ، ساورکر، ڈاکٹر ہیڈ گیوار، گرو گولولکر وغیرہم کرتے تھے تو آج کی تاریخ میں ان کے پیروکار عناصر کر رہے ہیں، انھوں نے نظام مملکت کے سسٹم کو اپنے کنٹرول میں کر کے عوامی اکثریت کے کردار کو کئی طرح سے بے اثر و بے معنی بنانے کا کام کیا ہے، آج کے سماجی و سیاسی حالات میں مایا وتی، راج بھر، سنجے نشاد رام اٹھالے جیسے لیڈروں کا کوئی کردار نہیں رہ گیا ہے، وہ کل ملا کر برہمن وادی ہندوتو کے پلڑے میں وزن ڈالنے کا کام کر رہے ہیں، ہندوتو وادی طاقتوں نے سرمایہ دار طبقے سے ایکا کر کے انتخابی نظام میں رائے دہندگان کے عمل دخل کو جمہوری عمل سے بڑی حد تک باہر کر دیا ہے، ایسی حالت میں عوام کے ضروری مطالبات اور سسٹم میں بنیادی اصلاحات کے لیے کوششوں کو بآسانی نا کام بنا دیا جاتا ہے، عوامی تحریکات کو ختم کرنے اور ہر حال میں سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے تحفظ و بقا۶ کے باہمی تعاون و اشتراک کو آگے بڑھانے کے چلن کو مین اسٹریم کا حصہ بنا دیا گیا ہے، سرکار اور سرمایہ دار طبقے کا خطرناک گٹھ جوڑ، ملک کو ایک الگ ہی قسم کی محکومی اور عدم توازن کی طرف لے جا رہا ہے، ان دو طاقتوں نے مل کر فرقہ واریت کو بڑھاوا دے کر اسے کاروبار کی شکل دے دی ہے، ان سے ہندوتو وادی فرقہ پرست عناصر نے اتحاد و اشتراک کر کے ایک ایسا مثلث تیار کر دیا ہے ،جس کے چکر ویوہ سے نکلنا بہت دنوں تک آسان نہیں رہ گیا ہے، اس مثلث نے بھارت کے تصور، تصویر اور نقشہ کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے، ماضی میں ہندو مسلم ملن سے جو مشترک تہذیب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا ہوئی تھی، جس کے اچھے اثرات، آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں، کسی نہ کسی شکل میں نظر آتے ہیں کو توڑنے اور ختم کرنے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے، سنگین معاملہ یہ ہے کہ ان کوششوں میں فسادی و فاشسٹ اور غنڈے، جاہل وحشی عناصر شامل ہو گئے ہیں، یہ ہندستانی تہذیب اور سناتن دھرم کے پیروکار ہونے کے دعوے دار ہیں، حالاں کہ یہ عناصر ہندستانی روایات و تہذیب سے نا بلد اور ملک کو عالمی برادری میں بدنام و رسوا کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں، مسلمانوں اور عیسائیوں پر حملے کے ساتھ ان کے ماثر و معابد کو منہدم اور مذہبی و سماجی اعمال و مراسم کی ادائیگی میں کھلے عام رکاوٹیں ڈالتے ہیں، نماز، اذان سے روکنے کی مہم چلاتے نظر آتے ہیں، اس سلسلے میں مختلف مقامات پر پولیس کو مداخلت کرنی پڑتی ہے، وہ عملا یہ بتانا اور باور کرانا چاہتے ہیں کہ بھارت صرف ایک ہندو کمیونٹی کا ہے، یہ ایک غیر جمہوری فاشسٹ ذہنیت ہے، جو ملک کو اس کے متنوع روایات سے ہٹانے کا کام کر رہی، ایسا ماحول اور ذہنیت پیدا کرنے میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے بھی لگے ہوئے ہیں، کئی عدالتوں کے ججوں کا رویہ، ہندوتو وادی عناصر اور برہمن وادی علامتوں اور ماثر و معابد کے تئیں ہمدردی اور تحفظ فراہم کرنے کا ذہن پوری طرح کار فرما نظر آتا ہے، جب دلت تنظیموں اور بدھ مت والوں کی طرف سے معروف ہندو مندروں اور مقامات کے متعلق بدھ ویہار ہونے کے دعوے کو عدالتوں میں مسترد کر دیا جاتا ہے، لیکن اسلامی و مسلم شناخت والے ماثر و معابد کو ہندو عبادت گاہ اور عمارت ہونے کے فرضی دعوے کو سماعت کے لیے منظور کر لیا جاتا ہے، ابھی حال ہی میں غیر قانونی سرکاری عوامی جگہوں پر مندروں کے ہونے کے شواہد پر مبنی دعوے کو ایک عدالت نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان میں کئی بہت پرانے ہیں، ایسا مساجد، مزارات کے بارے میں نہیں کہا جاتا ہے، بدھ مت کی کئی تنظیمیں اور اہل علم تاریخی شواہد کے حوالے سے بتا رہے ہیں کہ” ناتھ ” نام والے سارے مٹھ، مندر، بدھ ویہار کی جگہوں پر بنے ہوئے ہیں، اس طرح کے دعوے کو ایک مخصوص سوچ کے تحت قابل توجہ و اعتنا نہیں سمجھا جاتا ہے، اس سے ایک خاص طرح کا رویہ سامنے آ رہا ہے، رام مندر چڑھاوا چوری کے متعلق ہندوتو وادی عناصر کے بیانات بتا رہے ہیں کہ وہ ملک میں کس طرح کی ماحول سازی میں لگے ہوئے ہیں، یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اصل سوال سے توجہ ہٹانے کے لیے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھنے اور جامع مسجد میں ہنومان چالیسا پاٹھ کرانے کی گمراہ کن باتیں کر رہے ہیں، ان کو یہ پتا نہیں ہے کہ مذہبی اعمال میں گھال میل شناخت کو تباہ کرنے کا کام کرتا ہے، جب کہ مذہبی آزادی کا معاملہ ایک جدا امر ہے، بدلتے سماجی تہذیبی حالات میں چار طبقاتی نظام کے تفوق پسند عناصر جہاں دلت، آدی واسی اور محنت کش طبقات کے ابھار سے غصے و تشویش میں مبتلا ہیں تو وہیں وہ سب سے زیادہ ہندو مسلم اتحاد سے پریشان ہیں، فرقہ وارانہ اتحاد سے ان کا پورا کھیل بگڑ جاتا ہے اور تقسیم و تفریق کی سیاست کی جڑ کٹ جاتی ہے، اس لیے وہ اس اتحاد کو توڑنے کے لیے طرح طرح جتن کے ساتھ جھوٹے پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لیتےہیں، اردو، فارسی، عربی کے الفاظ تک سے نفرت و بیزاری کا اظہار اس طور سے کیا جا رہا ہے کہ اردو مسلمانوں کی طرف منسوب ہو کر تقسیم و تفریق کی زبان بن کر سامنے آئے، حد تو یہ ہے یوگی مہاراج اردو کو مولوی ملا کی زبان بتاتے نظر آتے ہیں، حالاں کہ اردو نے آغاز سے ہی ہندستانی تہذیب و روایات اور عوامی خیالات کی بہتر نمائندگی کی ہے، اس میں بھارت کے افکار و روایات بتانے کے لیے محاورات، تمثیلات اور استعارات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے، مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب کے شعر و ادب میں ہندوی و ہندستانی اثرات واضح پر نظر آتے ہیں، اردو، مختلف روایات کو ساتھ لانے والی اتحاد کی زبان ہے، اس کے خلاف محاذ آرائی کا مطلب، مشترکہ تہذیب و اتحاد کو توڑنے کی مذموم سعی ہے، بہت سے قدیم و جدید مسلم شعراء و ادباء، اسلامی افکار و اعمال سے زیادہ بسا اوقات ہندستانی قصے ،کہانیوں اور استعارات و کنایات میں حد سے زیادہ دلچسپی اور ان سے جوڑ کر خود کو پیش کرتے نظر آتے ہیں، صوفی شعراء و ادباء میں عوام کے قریب اور ذہن تک رسائی کے لیے بہت زیادہ جد وجہد کرتے ملتے ہیں، تصوفانہ تحریک اور بھگتی آندولن نے زبان و ادب کے علاوہ ہندو مسلم عوام کی سطح پر ملک میں فرقہ وارانہ قرب و اتحاد کا مخصوص رنگ والا ماحول پیدا کیا، مسلم صوفیاء اور ہندو سنتوں نے باہمی فرقہ وارانہ تصادم کو ختم کر کے، انسانی اقدار پر مبنی روایات کو فروغ دیا، چاہے اپنی شناخت کو لے کر حساسیت نظر آتی ہے لیکن ہندو مسلم قرب و اتحاد کے خلاف آج کی طرح کوئی بڑی سرگرمی نظر نہیں آتی ہے، مسلم صوفیاء و شعراء نے ایسی زبان اور لفظیات کو اختیار کیا جن کو سمجھنا، مسلمانوں سے زیادہ ہندو اکثریتی سماج کے لیے آسان ہو، اس کے واضح نمونے دکنی شعر و ادب میں بھی ملتے ہیں، تحقیق سے مثنوی کدم راؤ، پدم راؤ، قدیم دکھنی کی اولیں تصنیف سمجھی جاتی ہے، اس مثنوی پر ہندستانی افکار و اساطیر کا گہرا اثر ہے، بیان کردہ قصہ بھی ہندستانی قصے سے ماخوذ سے معلوم ہوتا ہے، اس سلسلے میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے اردو شعروادب کے تناظر میں لکھا ہے کہ اردو شاعری پر سب سے پہلا اور گہرا اثر، ہندوی روایت اور اسطور کا پڑا ہے، اردو زبان و ادب پر چھٹی صدی ہجری سے لے کر دسویں صدی ہجری تک ہندوی روایت کی حکمرانی رہی ہے، اردو شاعری کی پہلی روایت خالص ہندوی اصناف اور اوزان پر قائم ہوتی ہے اور ہندو تصوف کے اسی رنگ کو قبول کرتی ہے جو سارے بر عظیم میں ناتھ پنتھیوں، بھگتی کال اور نرگن واد کی شکل میں رائج تھا، خواجہ مسعود، امیر خسرو، بابا فرید، بو علی قلندر پانی پتی، شرف الدین یحیی، کبیر، عبدالقدوس گنگوہی، شاہ باجن، قاضی محمود دریائی، علی جیو گام دھنی، گرو نانک، شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک اسی روایت کے پیرو ہیں، ۔تاریخ ادب اردو جلد اول صفحہ 105)اس روایت نے جو فرقہ وارانہ اتحاد و قرب پیدا کیا تھا وہ برٹش سامراج اور اس کے زیر اثر زندگی گزارنے والے فرقہ پرست، تفوق پسند عناصر کو بالکل پسند نہیں تھا اور ان کے پیروکاروں کو آج بھی پسند نہیں ہے، انھوں نے سماج میں عوامی رول اور فرقہ وارانہ اتحاد و قرب کو ختم کرنے کی مختلف طریقوں سے کوششیں شروع کردیں، ،ان کو تحریکات آزادی ہند میں مختلف شعبہ ہائے حیات کے محنت کش عوام کو شامل کرنا بھی پسند نہیں تھا، مسلمانوں کا ساتھ اور بھی نا پسند تھا، جب کہ گاندھی جی نے یہ دونوں کام کیے، مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے عوام اور مسلمانوں کو اپنے ساتھ لے کر تحریک آزادی کو تقویت اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے کا کام کیا، اس سے ہندوتو وادی تفوق پسند طبقے میں داخلی و خارجی طور پر گاندھی جی کے خلاف سخت ناراضی پیدا ہو گئی، ،کانگریس میں شامل سنگھ بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار، ہندو مسلم اتحاد کی پالیسی سے ناراض ہو کر گاندھی، کانگریس دونوں سے الگ ہو گئے، تلک، چار طبقاتی نظام اور سماجی اونچ نیچ کے حامی ہونے کے باوجود، کھلی فرقہ پرستی کی دعوت دینے کے بجائے ہندو اکثریتی سماج کو ایک مخصوص نہج پر کھڑا کرنا چاہتے تھے، اسی کے پیش نظر انھوں نے گیتا رہسیہ کے نام سے مخصوص قسم کی گیتا کی شرح لکھی، لیکن ان کو رہ نما ماننے والے ڈاکٹر مونجے، ساورکر، ڈاکٹر ہیڈ گیوار، گرو گولولکر وغیرہم برعکس طریقے پر بھارت کی تشکیل، اپنے مزعومہ ہندوتو وادی بنیادوں پر کرنا چاہتے تھے، اس پالیسی میں فرقہ وارانہ اتحاد بڑی رکاوٹ ہے، اس میں پہلے سے قائم فرقہ وارانہ اتحاد و قرب کو توڑ کر ملک کو فرقہ وارانہ تقسیم و تفریق کی راہ پر ڈال دیا گیا، گرچہ کئی سطحوں پر ہندو مسلم اور دونوں طرف کے اتحاد پسند لیڈروں نے بڑی مزاحمت کی اور ایک عرصے تک فرقہ وارانہ نفرت و تفریق کی کوششوں کو زیادہ آگے بڑھنے نہیں دیا، تاہم گزرتے دنوں کے ساتھ اتحاد پسند طاقتیں کمزور اور فرقہ پرست طاقتیں، اقتدار کی پشت پناہی میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئیں، یہ طاقتیں ملک کے مختلف حصوں میں آج کی تاریخ میں، ماضی کی قائم فرقہ وارانہ ایکتا کو توڑنے اور اس کے لیے مسلسل کام کرنے کے لیے تنظیمیں کھڑی کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں، بہت سے تخریب پسند فسادی عناصر، دھرم گروؤں کے لباس میں سامنے آ کر بھارت کی مشترک آبادی کی تہذیبی و سماجی وحدت کو ختم کرنے میں جی جان سے لگے ہوئے ہیں، ان کو لگتا ہے کہ فرقہ وارانہ اتحاد و قرب، ہمارے مقاصد و عزائم کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ ہے، اس صورت حال میں بہتر تبدیلی، ماضی کے فرقہ وارانہ اتحاد و قرب کی واپسی اور باقی بچی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مستحکم و فروغ سے ہی ہو سکتی ہے،

Admin

Admin

Next Post
کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟

کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

کمپنی”گلک” میں خرید و فرخت کا شرعی حکم

کمپنی”گلک” میں خرید و فرخت کا شرعی حکم

12 مہینے ago

میلاد کیلئے ہوگیا، اب امت کیلئے بھی سوچئے

3 ہفتے ago

مقبول

  • عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.