جمعیت علمائے بسنت رائے کا چودھواں ’’گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام‘‘ دوگاچھی بستی میں کامیابی کے ساتھ منعقد
بتاریخ: 24 جون 2026، بروز بدھ (نمائندہ بسنت رائے)جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ’’گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام‘‘ کے سلسلے کی چودھویں کڑی ضلع گڈا کے مہرما بلاک کی دوگاچھی بستی کی جامع مسجد میں نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ پروگرام میں سینکڑوں مردوں اور خواتین نے شرکت کی۔ اس موقع پر مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ دو پروجیکٹروں کا انتظام کیا گیا، جس کے ذریعے تمام شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
پروگرام کا آغاز قاری ریاض صاحب، امام و خطیب جامع مسجد مال پرتاپور کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولانا منیر الدین مظاہری صاحب نے نعتیہ کلام پیش کرکے سامعین کے دلوں کو منور کیا۔
اس کے بعد جمعیت علمائے بسنت رائے کے ناظمِ اعلیٰ اور جامعہ خدیجۃ الکبریٰ بسنت رائے کے بانی و مہتمم مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے ’’اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے‘‘ کے عنوان پر نہایت مؤثر اور فکر انگیز پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے ایمان کی حقیقت، اس کے تقاضوں اور عملی زندگی میں اس کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے حاضرین کو اپنے عقائد و اعمال کا جائزہ لینے کی دعوت دی۔اپنی پریزنٹیشن کے دوران انہوں نے دوگاچھی بستی کا ایک خصوصی تجزیاتی جائزہ بھی پیش کیا، جس نے حاضرین کو سنجیدہ غور و فکر پر مجبور کردیا۔ پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گاؤں میں تقریبا 350 گھر آباد ہیں۔ اگر فی گھر اوسطا تین بالغ افراد شمار کیے جائیں تو بالغ مرد و خواتین کی تعداد تقریبا ایک ہزار بنتی ہے۔ گاؤں میں چار مساجد ہیں ، گاؤں کی چاروں مساجد کے جائزے سے معلوم ہوا کہ مردوں اور خواتین کو ملا کر اندازا صرف دو سو افراد ہی مسجد اور دینی ماحول سے وابستہ ہیں، جبکہ تقریبا آٹھ سو افراد اب بھی مسجد کی زندگی اور دینی سرگرمیوں سے دور ہیں۔اسی طرح بچوں کے حوالے سے بھی ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اگر فی گھر اوسطا تین بچوں کا حساب لگایا جائے تو گاؤں میں تقریبا ایک ہزار بچے موجود ہیں۔ جبکہ تینوں مکاتب میں مجموعی طور پر صرف 130 بچے زیرِ تعلیم ہیں اور مقامی مدرسے میں تقریبا 35 طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسی طرح اسکولوں میں تقریبا 300 بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ اس طرح تقریبا 500 بچے کسی نہ کسی تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں، جبکہ تقریبا 500 بچے اب بھی منظم تعلیمی ماحول سے محروم ہیں۔ مزید یہ کہ اگر صرف دینی تعلیم کو معیار بنایا جائے تو مکاتب اور مدرسے کو ملا کر تقریبا 200 بچے ہی دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ تقریبا 800 بچے آج بھی دینی تعلیم سے محروم ہیں۔اس موقع پر حاضرین کے سامنے یہ اہم سوال رکھا گیا کہ گاؤں کے ان بچوں، نوجوانوں اور خاندانوں کی دینی و تعلیمی فکر کون کرے گا؟ کیا دلی ، مومبئی اور حیدرآباد سے کوئی آئے گا ، یا فرشتے آئیں گے ؟ جس پر مقامی علماء، ذمہ داران اور عوام نے نئی نسل کو مسجدوں، مکاتب اور دینی تعلیم سے جوڑنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کا عزم ظاہر کیا۔
اس کے بعد جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر، بانی و مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ’’ریل سے ریئل تک‘‘ کے عنوان پر نوجوانوں کی فکری، تعلیمی اور عملی رہنمائی پر مشتمل پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کی غیر ضروری مصروفیات سے بچتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو مثبت میدانوں میں استعمال کرنے، وقت کی قدر کرنے اور زندگی کا واضح مقصد متعین کرنے کی تلقین کی۔
بعد ازاں تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن بھسکا کے بانی مفتی قاضی عبد الرحمن قاسمی نے ’’سات بنیادی عقائد‘‘ کے عنوان پر نہایت آسان اور مؤثر انداز میں عقائدِ اسلام کی تعلیم پیش کی اور حاضرین کو بنیادی اسلامی عقائد یاد کرائے۔پروگرام کے اختتامی مرحلے میں مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے حاضرین سے کلمۂ طیبہ کی صحیح تلفظ کے ساتھ اجتماعی تصحیح کرائی اور ذکرِ جہری کی مجلس قائم کی، جس سے روحانی کیفیت پیدا ہوگئی۔
تبصروں کے سلسلے میں دوگاچھی کے معروف عالم دین مولانا بدر الدین مظاہری صاحب نے پروگرام کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی بیداری مہم کی ضرورت بہت پہلے سے محسوس کی جارہی تھی۔ انہوں نے اس پروگرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اس کے پیغام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور ہر ممکن تعاون بھی فراہم کیا جائے گا۔
اس کے بعد جمعیت علمائے بسنت رائے کے نائب صدر، جامعہ تعمیر ملت کے بانی و ذمہ دار مولانا شاہنواز قاسمی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کی بھرپور تائید کی۔ انہوں نے حاضرین کو تین اہم نصیحتیں کرتے ہوئے سچائی اختیار کرنے، امانت میں خیانت سے بچنے اور پڑوسیوں و بھائیوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان اپنے کردار کو بہترین بنائے اور معاشرے میں خیر و بھلائی کا ذریعہ بنے۔پروگرام میں علاقے کے متعدد علماء، حفاظ، ائمۂ مساجد، سماجی شخصیات اور ذمہ داران شریک رہے، جن میں بالخصوص مولانا بدر الدین مظاہری صاحب، مولانا رضوان صاحب، مولانا عرفان مظاہری صاحب، نیتا ریاض صاحب، نیتا عرفان صاحب، حافظ مسعود صاحب، مولوی جنید صاحب، مولوی جاوید صاحب، نیتا شاہ جہاں صاحب، حافظ فضل الرحمن صاحب، ڈاکٹر احتشام صاحب، قاری امتیاز صاحب (امام و خطیب جامع مسجد دوگاچھی)، مولانا شاہنواز قاسمی صاحب، مولانا قاسم صاحب (بانی و مہتمم مہد انور نیموہاں ) اور دیگر معزز حضرات شامل تھے۔
پروگرام کے اختتام پر مفتی قاضی عبد الرحمن قاسمی نے تمام شرکاء، علماء، ذمہ داران اور بالخصوص خواتین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی خدمات کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے میں اصلاحِ معاشرہ اور دینی بیداری کی یہ کوشش آئندہ بھی جاری رہے گی۔قابلِ ذکر ہے کہ اس پروگرام کی مکمل تیاری، رابطہ کاری اور انتظامی ذمہ داری مفتی قاضی عبد الرحمن قاسمی نے انجام دی، جنہوں نے مقامی ذمہ داران اور عوام کو ساتھ لے کر اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ پروجیکٹر اور تکنیکی انتظامات کی ذمہ داری محمد اسماعیل صاحب اور محمد فرقان صاحب نے بحسن و خوبی انجام دی۔بعد ازاں مولانا عرفان صاحب مظاہری نے دعا خوانی کرائی اور یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا .
اس کے بعد عشاء کی نماز مفتی نظام الدین قاسمی نے پڑھائی ، نماز کے بعد اجتماعی طور پر لوگوں نے بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا اپنے گھروں کو ٹے ، علاقائی علماء کے لیے کھانے کا انتظام مولانا عرفان کے گھر پر تھا جبکہ بسنت رائے بلاک کے علماء کی دعوت جناب حافظ ریاص صاحب کے گھر پر انتظام تھا























