10 جولائی 2026
بسنت رائے بلاک کی مشہور بستی کوریانہ کے بازار میں ایک نئی مسجد کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی تھی۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے تقریباً 15 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا۔ مقامی تعاون کی بنیاد پر تقریباً چار لاکھ روپے کا انتظام ہو سکا، جس کے پیش نظر تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا۔موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تقریباً چار لاکھ روپے کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ کام کا بڑا حصہ ابھی باقی ہے۔ اندازے کے مطابق مزید 10 سے 11 لاکھ روپے کا انتظام ضروری ہے۔اسی ضرورت کے پیش نظر جمعیت علمائے بسنت رائے کے ذمہ داران نے اس مہم کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ بستی جھپنیاں کی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئےمفتی محمد زاہد امان قاسمی(ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے بسنت رائے، مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ بسنت رائے)نے کہا کہ:”ہماری مسجد ہمیں ہی تعمیر کرنی ہوگی، اس کے لیے بیرونی امداد کا انتظار ہماری ایمانی غیرت کے لیے ایک چیلنج ہے۔”انہوں نے مساجد کی تعمیر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے تعاون کی ترغیب دی۔ چنانچہ اہلِ جھپنیاں نے کاتک کے مہینے کے باوجود تقریباً پانچ ہزار روپے کا تعاون پیش کیا، جو دیہی حالات کے اعتبار سے ایک قابلِ قدر رقم ہے۔واضح رہے کہ مقامی چندے کا آغاز جھپنیاں سے کیا گیا۔ اس موقع پر مسجد کے معمارمولانا محمد شمیم صاحب (مہتمم مدرسہ فخر الاسلام کوریانہ)نے بتایا کہ اس مہم کو جمعیت علمائے بسنت رائے کی مکمل تائید حاصل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس مہم میں درج ذیل حضرات پیش پیش ہیں:- مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت علمائے بسنت رائے، مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ)- مفتی محمد زاہد امان قاسمی (ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے بسنت رائے، مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ بسنت رائے)- قاری کلیم الدین صاحب (مدرس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ)- مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی (مرکزی جمعیت علمائے ہند)نماز جمعہ سے فراغت کے بعد مولانا محمد یاسین جہازی صاحب کے سسرال میں ایک شاندار ظہرانہ کا انتظام تھا، جسے جمعیت کے ذمہ داران نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔آخر میں اہلِ ایمان سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس مسجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اور اس کارِ خیر میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ یہ عظیم دینی خدمت جلد از جلد مکمل ہو سکے۔رابطہ:مولانا محمد شمیم صاحب (متولی مسجد)موبائل نمبر:






















