محمد یاسین جہازی
موجودہ ہندوستانی تناظر میں جب سے حکومتی اداروں میں ایک خاص نظریاتی رجحان—جسے عمومی طور پر آر ایس ایس کی فکر سے تعبیر کیا جاتا ہے—کا اثر و نفوذ نمایاں ہونے لگا ہے، مسلم نوجوانوں کے ایک طبقے میں فکری اضطراب اور نظریاتی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس فضا میں بعض قدیم و جدید ذہن رکھنے والے نوجوان جناحی افکار و نظریات کو موجودہ مسائل کا واحد حل قرار دینے لگے ہیں، اور اس کے برعکس متحدہ قومیت (متحدہ نیشنلزم) کے تصور کو اکابرین کی غیر مدبرانہ یا ناکام قیادت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم اس طرزِ فکر کا سنجیدہ تجزیہ کیا جائے تو خود جناحی فکر ہی اس سوال کا جواب اپنے اندر سموئے ہوئے نظر آتی ہے۔ اگر برصغیر کی تقسیم عمل میں نہ آتی اور جناحی نظریات عملی صورت اختیار نہ کرتے، تو آج متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی محض ایک اقلیت نہ ہوتی بلکہ ان کا تناسب کم از کم ایک تہائی (one-third) یا بعض اندازوں کے مطابق نصف کے قریب ہوتا۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی طاقت کا توازن یکسر مختلف ہوتا، اور کسی بھی گروہ یا نظریے کے لیے یہ آسان نہ ہوتا کہ وہ مسلمانوں کو نظر انداز کرے یا ان کے حقوق پر دست درازی کی جرأت کرے۔یہ محض ایک جذباتی مفروضہ نہیں بلکہ ایک قابلِ غور سیاسی حقیقت ہے کہ عددی قوت جمہوری نظام میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اگر مسلمان متحدہ ہندوستان میں ایک مضبوط اور مؤثر کمیونٹی کی حیثیت سے موجود ہوتے، تو اقتدار کے ایوانوں میں ان کی شمولیت، پالیسی سازی میں ان کا اثر، اور سماجی تحفظ کی صورت حال یقیناً زیادہ مستحکم ہوتی۔ اس کے برعکس تقسیم کے نتیجے میں نہ صرف جغرافیائی بکھراؤ ہوا بلکہ ایک بڑی آبادی اقلیت میں تبدیل ہو کر مختلف نوعیت کے چیلنجز سے دوچار ہوئی۔لہٰذا موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے وقت یہ ضروری ہے کہ جذباتی وابستگیوں کے بجائے تاریخی حقائق اور سیاسی بصیرت کو سامنے رکھا جائے۔ نہ تو جناحی افکار کو مطلق حل کے طور پر پیش کرنا علمی دیانت کے مطابق ہے، اور نہ ہی متحدہ قومیت کے تصور کو یکسر مسترد کرنا درست ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایک متوازن، حقیقت پسندانہ اور دور اندیش حکمتِ عملی اختیار کی جائے، جو موجودہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات کے مطابق ہو۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ کے فیصلوں کو محض رد یا قبول کرنے کے بجائے ان کے اثرات کو سمجھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا ہی دانش مندی ہے۔ موجودہ نسل کو چاہیے کہ وہ فکری انتہاؤں سے نکل کر اعتدال، تدبر اور حقیقت پسندی کے ساتھ اپنے مستقبل کی راہیں متعین کرے۔
فافہم و تدبر۔






















