جمعہ, اکتوبر 23, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home اسلامیات

ازواج مطهرات كے ساتھ پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم كا سلوك

by Admin
ستمبر 4, 2026
in اسلامیات
0
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات
0
SHARES
15
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

(۲)

شمع فروزاں

2026.09.04 مولانا خالد سیف الله رحمانی

کاموں میں مدد

آپ ایک ایسے محبت کرنے والے شوہر تھے ، جو نہ صرف بیویوں کی دل داری کا خیال رکھتے تھے ؛ بلکہ ان کے کاموں میں بھی مدد فرماتے تھے ، حضرت عائشہ ؓسے دریافت کیا گیا کہ آپ جب اپنے گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا : گھر کے کاموں میں مدد فرماتے : کان فی مھنۃ أھلہ (بخاری ، حدیث :۲۷۶، ترمذی ، حدیث نمبر : ۲۴۸۹ )ایک اور روایت میں ہے : کپڑے میں پیوند لگا دیتے ، بکرے کا دُودھ دُوہ دیتے اور عام طور پر مرد اپنے گھر میں جو کام کرتے ہیں ، اسے انجام دیتے تھے : وکان یرقع ثوبہ ویحلب الشاۃ ویعمل ما یعمل الرجال فی بیتہ(مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۹۴۷ ، مسند ابی یعلی ، حدیث نمبر : ۴۸۷۳)

بیویوں کے ساتھ وقت گذارنا

یہ بھی معمول مبارک تھا کہ روزانہ دو دفعہ تمام ازواج مطہرات کے یہاں تشریف لے جاتے ، ان کی خیریت دریافت کرتے اور کچھ وقت ان کے ساتھ گزارتے ، ایک تو عصر کے بعد آپ کی تشریف آوری ہوتی : وکان إذا صلی العصر دار علی نسائہ ، فدنا منھن واستقرأ أحوا لھن (بخاری ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۴۹۱۸) چنانچہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے ،اظہار محبت کے لئے ان پر ہاتھ رکھتے اور ایسا عمل کرتے جس سے تعلق کا اظہار ہو ، یہاں تک کہ آخری گھر تک پہنچتے ، اورجن کی باری ہوتی ، ان کے یہاں قیام فرماتے : قلّ یوم إلا وھو یطوف علی نسائہ فیذ نومن أھلہ فیضع یدہ ویقبل کل امرأۃ من نسائہ حتی یأتی علی آخرھن فإن کان یومھا قعد عندھا (ابوداؤد ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۲۱۳۵) — دوسرے : فجر کے بعد مسجد میں تشریف فرما ہوتے اور صحابہ استفادہ کے لئے آپ ﷺکے گِرد بیٹھ جاتے ، پھر جب سورج طلوع ہوجاتا تو ایک ایک بیوی کے پاس تشریف لے جاتے ، ان کو سلام کرتے ، انھیں دُعا دیتے اور جس کی باری ہوتی ، ان کے پاس مقیم ہوجاتے ۔ (فتح الباری : ۱۵؍۹۶)

مغرب بعد معمول مبارک تھا کہ جن زوجۂ مطہرہ کی باری ہوتی ، آپ ان کے یہاں مقیم ہوجاتے اور تمام ازواج مطہرات وہیں جمع ہوجاتیں ، کبھی کبھی ایک ساتھ اجتماعی کھانا ہوتا ، جب آرام فرماتے تو جن کی باری ہوتی ، ان کے ساتھ ایک ہی بستر پر اور ایک ہی لحاف میں آرام فرماتے ، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کسی بیوی کی گود میں سر رکھ کر سہارا لیتے ، اگر کوئی زوجۂ مطہرہ حیض کی حالت میں ہوتیں ، تب بھی ان کے ساتھ بے گانگی کا عمل نہ ہوتا ؛ بلکہ ان کے ساتھ ہی سوتے : کان یباشر نساء ہ فوق الإزار وھن حیض  (مسلم ، کتاب الحیض ، حدیث نمبر : ۲۹۴) 

جذبۂ آرائش کی رعایت

عورتوں میں زینت و آرائش کا جذبہ بہ مقابلہ مردوں کے زیادہ ہوتا ہے ؛ اسی لئے شریعت میں انھیں سونا اور ریشم کی بھی اجازت دی گئی ہے ، جس سے مردوں کو منع فرمایا گیا ہے ، آپ عورتوں کے اس فطری جذبہ کا بھی پورا خیال رکھتے تھے ، حضرت جابر ؓسے روایت ہے کہ ہم لوگ سفر میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے ، جب ہم واپس لوٹے اور مدینہ میں داخل ہونا چاہا تو آپ ﷺنے فرمایا : ٹھہر جاؤ ، رات ہوجانے دو ؛ تاکہ جن کے بال بکھرے ہوئے ہوں ، وہ کنگھی کرلیں اور جسم کو فاضل بال سے صاف ستھرا کرلیں : حتی تمتشط الشعثۃ وتستحد المغیبۃ (ابوداؤد ، کتاب الجہاد ، حدیث نمبر : ۲۷۷۸) — حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے ، آپ ﷺنے دریافت فرمایا: کیا تم نے اس کی زکوٰۃ ادا کی ہے ؟ اگر تم نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو یہ آگ کے کنگن ہیں ، (ابوداؤد ، کتاب الزکوٰۃ ، حدیث نمبر : ۱۵۶۵ ، ترمذی ، کتاب الزکوٰۃ ، حدیث نمبر : ۶۳۷) یعنی آپ نے کنگن پہننے کو ناپسند نہیں کیا ؛ بلکہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر ناگواری ظاہر فرمائی ، اسی طرح واقعۂ افک مشہور ہے ، جس میں حضرت عائشہؓ کا ایک قیمتی ہار گم ہوگیا تھا ، غرض کہ باوجود اس کے کہ آپ کی زندگی نہایت سادہ تھی اورازواج مطہرات کے یہاں تعیش کا کوئی تصور نہیں تھا ؛ لیکن عورتوں میں زیب و زینت کا جو فطری جذبہ ہوتا ہے ، آپ نے اپنی ازواج مطہرات کے لئے اس کا لحاظ رکھا ؛ تاکہ اُمت کے لئے نمونہ ہو ۔

بیوی کیلئے زینت

جیسے شوہر یہ چاہتا ہے کہ بیوی اس کے لئے زیب و زینت اختیار کرے ، اسی طرح بجاطورپر عورتوں کو بھی یہ چاہنے کا حق ہے کہ اس کا شوہر اس کے لئے جائز حدود میں بن سنور کررہے ، آپ ﷺکے یہاں اس کا بھی لحاظ تھا ، یوں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے حسن سے نوازا تھا ، جس کی تاریخ انسانی میں کوئی مثال ہی نہیں ، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق آپ کے رُخ روشن کی روشنی میں بعض ازواج مطہرات سوئی میں دھاگہ بھی پہنالیا کرتی تھیں ؛ (خصائص الکبریٰ : ۱؍۱۰۹) لیکن اس کے علاوہ ظاہری اسباب کے اعتبار سے بھی آپ کو اس کا لحاظ تھا ، آپ زلف مبارک میں تیل لگانے اور کنگھی کرنے کا اہتمام فرماتے ، ریش مبارک میں بھی کنگھی کرتے ، صاف ستھرے کپڑے پہنتے ، کبھی کبھی قیمتی لباس بھی زیب تن فرماتے ؛ حالاںکہ آپ کے پسینے کی خوشبو بھی مشک سے بڑھی ہوئی تھی ؛ لیکن اس کے باجود آپ عطر کا بھی بکثرت استعمال کرتے اورمسواک کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے ۔

سفر میں رفاقت

مرد ہوں یا عورت ، ان میں ایک جذبہ تفریح کا بھی رکھا گیا ہے ، آدمی جب نئے مقامات کو دیکھتا ہے تو اس کو نشاط حاصل ہوتا ہے ، آپ اپنی ازواج کے معاملے میں اس کو بھی ملحوظ رکھتے تھے اور سفر میں ان کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے ، پھر اپنی طرف سے کسی ایک زوجہ کا انتخاب کرنے کے بجائے قرعہ اندازی کیا کرتے تھے ؛ قرعہ میں جن کا نام نکل آیا ، ان کو ساتھ لے جاتے تھے ، کبھی ایک ساتھ دو بیویاں بھی ہمراہ ہوتی تھیں : کان إذ خرج أقرع بین نسائہ ، فطارت القرعۃ لعائشۃ وحفصۃ  (بخاری ، حدیث نمبر : ۵۲۱۱ ، مسلم ، حدیث نمبر : ۲۴۴۵)— سفر کا رفیق بنانے میں جہاں اپنے تعاون کا پہلو ہے ، وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے مرد تفریح کے لئے جاتے ہیں ، جائز حدود میں بیویوں کے لئے بھی اس کا اہتمام ہونا چاہئے ۔

دُکھ سُکھ میں شرکت

مخلص شریک ِزندگی وہی ہے جو سُکھ کے ساتھ ساتھ دُکھ میں بھی شریک ہو ، آپ ﷺ نے اپنی ازدواجی زندگی میں اس کا عملی نمونہ پیش فرمایا، جس سال اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی ، آپ نے اس سال کو ’ عام الحزن ‘ ( غم کا سال ) قرار دیا ، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اُم المومنین کی علالت کے زمانے میں آپ نے کس قدر محبت و غمگساری کا معاملہ فرمایا ہوگا ،اسی طرح جب اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ منافقین کے تہمت لگانے کے صدمہ سے بیمار ہوگئیں تو آپ ﷺہمیشہ ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے ، اور جب وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئیں ، ان کے گھر جاکر عیادت کی ، آپ خبر گیری کرنے کے ساتھ ساتھ اہل خانہ میں سے بیماروں کو دُعا پڑھ کر دم بھی فرمایا کرتے تھے ؛ چنانچہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب آپ کے اہل خانہ میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس پر معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے : کان إذا مرض أحد من أھل بیتہ نفث علیہ بالمعوذات (مسلم ، کتاب السلام ، حدیث نمبر : ۲۱۹۲) 

مالی ذمہ داریاں

بیوی کا ایک اہم حق اس کی مالی ذمہ داریاں ہے ، جس کو اسلام نے شوہر پر لازم قرار دیا ہے ، عام طورپر لوگ اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کوثواب کا کام نہیں سمجھتے ، آپ ﷺنے اس کی نفی کی اور ارشاد فرمایا : بہترین صدقہ وہ دینار ( سونے کا سکہ ) ہے ، جو تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو : أعظم الصدقۃ دینار تنفقہ علی أھلک (مسلم ، حدیث نمبر : ۲۳۱۱) اسی طرح آپ ﷺنے فرمایا : کوئی شخص اپنی بیوی کو پانی پلائے تو اس میں بھی اجر ہے : إن الرجل إذا سقی إمراتہ من الماء أجر (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۱۷۱۹۵) پھر آپ ﷺکا معمول مبارک تھا کہ جب فدک کے باغات سے کھجوریں آتیں تو آپ ﷺتمام ازواج مطہرات کو ان کی ضرورت کے بقدر نفقہ عطا فرمادیتے (المغازی: ۱؍۳۷۱۴)  ؛لیکن چوںکہ آپ کو اپنی زندگی میں ان لوگوں کے لئے بھی عملی نمونہ پیش کرنا تھا ، جو معاشی اعتبار سے کمزور ہوں ؛ اس لئے آپ کی زندگی بہت سادہ ہوتی تھی ، اور ازواج مطہرات پوری خوش دلی کے ساتھ اس میں آپ کا تعاون کرتی تھیں ، جب وسعت پیدا ہوئی ، خوش حالی آئی اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوا تو ازواج مطہرات کو بھی خیال ہواکہ اب ہمارے گھر میں بھی اس خوش حالی کا اثر آنا چاہئے ؛ چنانچہ انھوںنے اجتماعی طورپر آپ سے اس کا مطالبہ کیا ، آپ اس پر ناراض نہیں ہوئے ؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں تنبیہ کی گئی اور ان کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں تو آپ ﷺ کی رفیقۂ حیات ہونے سے مشرف رہیں یاالگ ہوجائیں ، ازواج مطہرات کا یہ مطالبہ خدا نخواستہ اس لئے نہیں تھا کہ انھیں حضور کی رفاقت عزیز نہیں تھی ؛ بلکہ انھوںنے گنجائش دیکھتے ہوئے ایک جائز حق کا مطالبہ کیا تھا ؛ اس لئے تمام ہی ازواج اپنے مطالبہ سے دستبردار ہوگئیں اورانھوںنے آپ کی رفاقت کو ترجیح دی ، آپ کی حیاتِ طیبہ میں اس طرح کے واقعات اللہ کی طرف سے اس لئے پیش آئے ؛ کہ جو مسائل آئندہ پیش آئیں ، رسول اللہ ﷺ کی حیات ِطیبہ میں ان کا نمونہ موجود ہو ۔

اہم اُمور میں مشورہ

آپ ازواج مطہرات سے بعض اہم اُمور میں مشورے بھی فرماتے تھے اور ان کے مشوروں کو اہمیت دیتے تھے ، صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کو احساس تھا کہ یہ صلح مشرکین مکہ کی شرطوں پر ہوئی ہے ، اور ایک طرح سے مسلمانوں نے اپنی شکست کو تسلیم کرلیا ہے ، اس لئے دینی حمیت کے تحت ان کا حال یہ تھا کہ آپ کے یہ اعلان کردینے کے باوجود کہ ’ احرام کھول دیا جائے ‘ صحابہ نے احرام نہیں کھولا ، وہ چاہتے تھے کہ عمرہ کرکے ہی واپس ہوں ، آپ ﷺنے اس موقع پر اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ سے صورت حال بیان کی ، حضرت اُم سلمہؓ نے عرض کیا : آپ کسی سے کچھ کہیں نہیں ؛ بلکہ خود باہر نکل کر اپنے جانور کی قربانی کردیں اور بال منڈانے والے کو بلاکر بال منڈالیں ، آپ نے اس مشورہ کو پسند فرمایا اور اسی پر عمل کیا ، نتیجہ ہوا کہ صحابہ نے بھی اپنے جانوروں کی قربانی کردی ، بال منڈالیا اور احرام کھول دیئے ۔ (بخاری ، کتاب الشروط ، باب الشروط فی الجہاد والمصالحہ مع اہل الحرب وکتابۃ الشروط ،حدیث نمبر : ۲۵۸۱)

کوئی ٹھیس نہ پہنچے

آپ اس بات کا بھی پورا خیال رکھتے تھے کہ ازواج مطہرات کو آپ کے ذریعہ کوئی تکلیف نہ پہنچے ، حضرت عائشہؓ راوی ہیں کہ آپ ﷺ نے کسی بیوی یا خادم پر کبھی ہاتھ نہیں اُٹھایا ، کبھی ان کے رُخسار پر تھپر نہیں لگایا ، نہ آپ کسی کو برا بھلا کہتے تھے ، نہ ترش زبانی کرتے تھے ، نہ سخت دل تھے : ما ضرب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إمرأۃ لہ ولا خادماً ولا ضرب بیدہٖ شیئاً قط (ابوداؤد ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۲۱۲۴ ، نسائی ، کتاب عشرۃ النساء ، حدیث نمبر : ۹۱۶۴) — اسی کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ ہمیشہ بیویوں کے درمیان عدل کا خیال فرماتے تھے ، جس دن جس کی باری ہوتی ، اس کے یہاں قیام فرماتے ، ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے تھے ، حضرت عائشہؓ کا بیان ہے : کان لا یفضل بعضنا علی بعض فی مکثہ عند ھن فی القسم (ابوداؤد ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۲۱۳۵)یہاں تک کہ مرض وفات میں جب آپ ﷺکے لئے ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقلی دشوار ہونے لگی تو آپ نے دوسری ازواج مطہرات کی اجازت سے حضرت عائشہؓ کے یہاں قیام فرمایا ۔

سفر میں ازواج مطہرات کو ساتھ رکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا تھا کہ آپ کو سہولت ہو ، صلاحیت و قوت کے لحاظ سے بعض عورتیں سفر کی رفاقت کے لئے زیادہ موزوں ہوتی ہیں ؛ اس لئے آپ چاہتے تو اپنی طرف سے کسی زوجہ مطہرہ کو نامزد فرمادیتے ؛ لیکن آپ اپنی طرف سے نامزد کرنے کے بجائے ہمیشہ قرعہ اندازی فرماتے اور قرعہ اندازی میں جس کا نام نکل آئے ، ان ہی کو اپنے ساتھ لے جاتے ؛ تاکہ دوسری ازواج کو یہ احساس نہ ہو کہ آپ کی ان کی طرف رغبت نہیں ہے ۔

عدل و انصاف

عدل و انصاف کے معاملے میں احتیاط کا حال یہ تھا کہ حضرت عائشہؓ کی ذہانت اورصلاحیت کی وجہ سے آپ ﷺکی ان کی طرف زیادہ رغبت تھی ، تو اگرچہ ظاہری سلوک میں آپ ﷺاس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے ؛ لیکن قلبی جھکاؤ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میں جس چیز کا مالک ہوں ، یہ اس میں میری (مساویانہ ) تقسیم ہے ؛ لیکن خدا وندا ! جس چیز کے آپ مالک ہیں ، میں مالک نہیں ہوں ، اس کے بارے میں آپ گرفت نہ فرمائیے : ھذا قسمی فی ما أملک فلا تلمی فیما تملک ولا أملک (ترمذی ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۱۱۴۰)

دینی تربیت

جیسے آپ ﷺازواج مطہرات کی ضروریات اور ان کی دل داری کا خیال رکھتے تھے ، اسی طرح آپ ان کی تربیت پر بھی متوجہ رہتے تھے ، رمضان المبارک کے اخیر عشرے میں ازواج مطہرات کو آخر شب میں بیدار کرتے تھے ؛ تاکہ وہ عبادت میں شامل ہوں : کان یوقظ أھلہ فی العشر الأواخر من رمضان (ترمذی ، کتاب الصوم ، حدیث نمبر : ۷۹۵) حضرت عائشہؓ کو شب قدر کی دُعا سکھائی : اللّٰہم إنک عفو تحب العفو فاعف عنی (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۳۸۵۰) — ایک موقع پر حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ گن کر خرچ نہ کرو ؛ تاکہ تم کو بھی اللہ کی طرف سے حساب کتاب سے گن کر نہ ملے ، یعنی خوب خرچ کرو ؛ تاکہ اللہ کی طرف سے خوب ملے : أنفقی ولا تؤکی فیؤکیٰ علیک (إتحاف المہرۃ : ۳؍۱۰ ، حدیث نمبر : ۲۱۳۱ ، بخاری ، کتاب الہبۃ ، حدیث نمبر : ۲۴۵۱)

جہاں آپ نے ازواج مطہرات کو عبادت کی تلقین فرمائی ، وہیں غلو سے منع بھی فرمایا ، آپ ﷺحضرت زینب بنت جحشؓ کے یہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان رسی باندھی ہوئی ہے ، آپ ﷺنے اس کا سبب پوچھا ، عرض کیا گیا : یہ حضرت زینب نے باندھ رکھی ہے ، جب نماز پڑھنے کے دوران تکان ہوجاتی ہے تو اس سے لٹک جاتی ہیں ، آپ ﷺنے اس سے منع کیا اور حکم دیا کہ اسے کھول دو ، جب تک نشاط ہو ، اس وقت تک نماز پڑھو ، اور جب نشاط نہ ہو ، اس وقت چھوڑ دو ۔ (بخاری ، باب ما یکرہ من التشدید فی العبادہ ، حدیث نمبر : ۱۰۹۹)

غرض کہ رسول اللہ ﷺ جیسے زندگی کے دوسرے شعبوں میں انسانیت کے لئے آئیڈیل تھے ، اسی طرح اپنی ازدواجی زندگی میں بھی ایک محبت کرنے والے شفیق و کریم ، قدردان ، مزاج شناس اور بردباد شوہر تھے ؛ چوںکہ آپ ﷺپوری انسانیت کے لئے نمونہ تھے اور زندگی کے ہرشعبہ میں آپ ﷺکا عمل تمام انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے ؛ اس لئے آپ کی نجی زندگی کا ریکارڈ بھی اللہ کی طرف سے محفوظ ہوگیا ، اور اللہ تعالیٰ بے حد رحمتیں نازل فرمائے ، آپ ﷺکی پاک بیویوں اور اُمت کی محسن ماؤں پر ، کہ انھوںنے قیامت تک آنے والے صاحب ایمان بیٹوں اوربیٹیوں کے لئے رسول اللہ ﷺکے مبارک اُسوہ کو پیش فرمایا اور نجی زندگی کی جو باتیں نقل کی جاسکتی تھیں ، ان کو بھی ذکر کرنے میں کسی تکلف سے کام نہیں لیا ، رضی اللہ عنہن ورضین۔

= = = 

_________

Khalid Saifullah Rahmani

Gen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India 

Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.

E-mail :ksrahmani@yahoo.com

Website: www.khalidrahmani.in

Admin

Admin

Next Post
مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:چوتھا سال: 1922ء

9 مہینے ago
حجۃ الوداع

حج و عمرہ میں اسلامی اصلاحات

6 مہینے ago

مقبول

  • ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم

    تدریس کے اصول یا کلیات” (Maxims of Teaching)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • 360ڈگری تشخیص کیا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چھ سات سال کے بچوں کو زبان سکھانے کا طریقہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تدریسی روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بچوں کے امتحانات کی چھ جدید شکلیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.