محمد یاسین جہازی
تھورنا ڈائک(Edward Thorndike) کا قانون تعلیم
ایڈورڈ تھورناڈائک ایک امریکی ماہر نفسیات تھے،انھوں نےسیکھنے کے قانون(Law of Learning) کا نظریہ تخلیق کیا ہے۔ انھوں نے انسانوں کے عادات و اطوار کے ساتھ ساتھ جانوروں کی نفسیات پر بھی تحقیق کی ہے۔
کنیکشنزم(Connectionism) سیکھنے کا نظریہ ہے جو محرک(stimulus) اور ردعمل (Responses)کے مابین قائم تعلقات کے تصور پر مبنی ہے یعنی صورتحال(Situations) اور رسپانس (Responses) کے مابین قدرتی روابط تشکیل پاتے ہیں۔ محرک حیاتیات کو متاثر کرتا ہے جو اس کے رد عمل کا سبب بنتا ہے۔اور پھرتجربات کے ذریعہ نئے طرز عمل کا آغاز ہوتا ہے۔ تھورناڈائیک نے ان قدرتی روابط کو بنیاد بناکر سیکھنے کے بڑے بڑے قوانین وضع کیے ہیں۔
ڈائیک کے سیکھنے کے دو درجے ہیں :
- پرائمری قانون (Primary Law)
- ثانوی قانون (Secondary Law)
پرائمری قانون کے تین مرحلے ہیں:
- کام کرنے کے لیے تیار ہونا۔ (Readiness)
کوئی شخص کسی چیز کو اسی وقت سیکھ سکتا ہے جب کہ وہ سیکھنے کے لیے خود کو آمادہ کرے اور اس کے لیے تیار ہو۔ اس کے بغیر سیکھنا مشکل ہے۔
- مشق کرنا۔ (Exercise)
یہ استعمال اور غیر استعمال کے قانون پر مبنی ہے۔ جب سچویشن اور رسپانس کے مابین کوئی قابل ترمیم رابطہ بنایا جاتا ہے، تو اس رابطہ کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی کا نام استعمال ہے ، اسی طرح جب سچویشن اور رسپانس کے مابین کوئی قابل ترمیم رابطہ قائم نہیں کیا جاتا ہے، تو اس رابطہ کی طاقت کم ہوجاتی ہے ۔روابط کو مستحکم کرنے کے لیے مشق کرنا ضروری ہے۔ مشق کی تکرار مہارت پیدا کرتی ہے۔
- موثر ہونا (Effective)
سچویشن اور رسپانس کے مابین مستحکم روابط استحکام اور مضبوطی کے باعث بنتے ہیں، جس سے سیکھنے کا عمل اثر دار ہوجاتا ہے ۔اس میں کامیابی اور تجربات سے تقویت ملتی ہے۔
سکنڈری قانون کی درج ذیل صورتیں ہیں:
1. Law of Multiple Response بار بار کرنے کا قانون
تھورناڈائیک کا ماننا تھا کہ سیکھنے میں دشواری اور غلطی ہوتی ہے۔ لیکن ان کو بار بار کرنے سے غلطیاں دور ہوجاتی ہیں اور بالآخر مکمل طور پر سیکھ لیتا ہے۔

















