بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد
7؍نومبر2026 کو جامعۃ الھدیٰ جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ میں بلاک سطح کی جمعیت علمائے بسنترائے کی مجلس منتظمہ کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔
نظام الاوقات کے مطابق اجلاس ٹھیک آٹھ بج کر 20 منٹ پر شروع ہوا۔ جامعۃ الہدی کے ایک ہونہار طالب علم احتشام نے تلاوت کی۔ جامعہ ہذا کے ایک دوسرے طالب علم صفات اللہ نے نعت نبوی کو پیش کیا۔ جمعیت علمائے ہند کیوں کے عنوان سے مولانا بلا ل قاسمی صاحب استاد جامعہ نے پرزنٹیشن پیش کیا۔ اس میں انھوں نے جمعیت علما سے وابستگی کے گیارہ لائل و فوائد بیان کیے۔ مشہور مداح رسول مولانا شمیم صاحب مہتمم مدرسہ فخر الاسلام کوریانہ اور آفتاب صاحب مہتمم مدرسہ جامعۃ الطہرات مانجر نے ہدیہ نعت پیش کیے ۔اس کے بعد جمعیت علمائے بسنترا کے ناظم مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے 113 صفحات پر مشتمل سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ پیش کیا، جس میں پہلی مجلس منتظمہ 24 مئی 2026 سے 7؍نومبر 2026تک بسنترائے جمعیت علما کی کارکردگی کو پیش کیا۔ اس دوران دینی بیداری، مثالی مسجد، اصلاح معاشرہ، خواتین اور نوجوانوں کی فکری تربیت جیسے عنوانات پر پیش کی گئی تحریکوں کے ذریعہ دیے گئے کارناموں کا تذکرہ کیا۔
اس کے بعد مولانا سرفراز صاحب قاسمی نے تجویز نمبر ایک : تجویز تعزیت و عیادت پیش کی۔مولانا شمس پرویز صاحب قاسمی نے تجویز نمبر ۲۔ زکوۃ فنڈ کا قیام پیش کی۔ اور زکوۃ فرض ہونے پر گفتگو بھی کی۔
مداح رسول مولانا محفوظ صاحب نے نعت نبی پیش کی۔ اس کے بعد مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے مدارس اور اسکول کے نصاب و تعلیم پر قدامت و جدت کے تناظر میں تاریخی جائزہ پیش کیا اور کہا اس میں اصلاح و ترمیم کی ضرورت ہے یا نہیں؟اس پر اجتماعی غور و فکر کی دعوت دی ۔
اس کے بعد چائے وقفہ کے ساتھ پیش کردہ پرزنٹیشن کے تناظر میں غور و فکر کرنے کا آدھا گھنٹہ وقت دیا گیا ۔اور تاثرات پیش کرنے والے فارم کو پر کرنے کی دعوت دی۔
بعد ازاں جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی بانی و مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ نے موڈل ولیج پر پرزنٹینش پیش کیا، جس میں انھوں نے دیہات چھوڑ کر شہروں کی طرف منتقل ہونے کی تین وجوہات بیان کرتے ہوئے دیہات اور شہر کی آبادی کا ڈیٹا پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں کل آبادی کی صرف تیس فی صد آبادی شہر میں رہتی ہے۔جب کہ 70 فی صد آبادی دیہات میں رہتی ہے۔ انھوں نے دیہات سے شہر کی طرف منتقل ہونے کی تین وجوہات : ذریعہ معاش، ہاسپیٹل اور تعلیم پر گفتگو کرتے ہوئے گاؤں میں ہی ان کے انتظام کرنے کا فامولا پیش کیا گیا۔
اس کے بعد مشہور شاعر جناب محفوظ صاحب نے ہدیہ نعت پیش کی، جس نے اس محفل کو عشق نبی کی بے خودی میں مضطرب ہونے پر مجبور کر دیا۔
جمعیت علمائے بسنت رائے کی تاریخ ساز کتاب کا رسم اجرا
جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کے موقع پر جمعیت کی تاریخ اور ملی و سماجی خدمات پر مشتمل اہم کتاب تاریخ جمعیت علمائے بسنت رائےکا رسم اجرا عمل میں آیا۔
اس کتاب کے مصنف مفتی محمد نظام الدین قاسمی ہیں، جو جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر اور جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ ہیں۔
یہ کتاب جمعیت علمائے بسنت رائے کی جدوجہد، خدمات، موجودہ اکابرین کی قربانیوں اور علاقے کی دینی و سماجی تاریخ کا ایک اہم دستاویزی مجموعہ ہے۔ کتاب کا مقصد نئی نسل کو جمعیت کی تاریخی خدمات اورموجودہ اکابرین کی کوششوں سے روشناس کرانا اور ان کے علمی و ملی ورثے کو محفوظ رکھنا ہے۔
وقت کی قلت کے باعث کتاب کی مکمل طباعت ابھی نہیں ہو سکی ہے، تاہم اجلاس کی مناسبت سے پچاس نسخے کتابی شکل میں تیار کیے گئے، جبکہ کتاب کو پی ڈی ایف کی صورت میں بھی محفوظ کیا گیا ہے، تاکہ اس تاریخی دستاویز کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایاجا سکے
اس رسم اجرا میں مولانا یاسین جہازی مرکزی جمعیت علمائے ہند ، مولانا رضوان اللہ قاسمی دیوگھر نائب صدر جمعیت علمائے جھارکھنڈ ،مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی صدر جمعیت علمائے بسنت رائے ،مولانا سلیم الدین صاحب مظاہری جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا ،مولانا خالد اقبال قاسمی بانی محی السنہ بشن پور رین گاؤں، مولانا مجیب الحق قاسمی نائب صدر جمعیت علمائے بسنت رائے، قاری ارشاد صاحب نائب صدر جمعیت علمائے بسنت رائے، مولانا شمیم صاحب کور یانہ نائب سیکریٹری جمعیت علمائے بسنت رائے، مولانا شمس تبریز صاحب قاسمی نائب سیکریٹری جمعیت علمائے بسنت رائے ،مولانا الیاس ثمر صاحب قاسمی فاؤنڈر الفتح فاؤنڈیشن کرماہاٹ،مولانا سلیم الدین صاحب قاسمی بگھاکول، مولانا اختر حسین جہاز قطعہ ماسٹر اظہر صاحب رکن منتظمہ جمعیت علمائے بسنت رائے ،مولانا غلام رسول صاحب ریسمبا، ڈاکٹر نسیم صاحب پچواقطعہ، مولانا مرشد صاحبِ مدنی چک ،مفتی عبد الجبار صاحب مدنی چک، مولانا شاجہاں صاحب مدرس مدرسہ سلیمانیہ سنہولہ ہاٹ، مولانا شمشیر صاحب قاسمی مدرس مدرسہ سلیمانیہ سنہولہ ہاٹ ،مولانا شہنواز صاحب قاسمی نائب صدر جمعیت علمائے بسنت رائے ،مولانا سرفراز صاحب قاسمی رکن مجلس منتظمہقاری کلیم الدین ۔
تبادلہ خیالات
اس کے بعد پیش کردہ تینوں پرزنٹیشن اور پروگرام کے حوالے سے تبادلہ خیالات شروع کرتے ہوئے مولانا شمس پرویز صاحب قاسمی نائب سکریٹری جمعیت علمائے بسنت رائے نے پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حالات اور وقت کے اعتبار سے اس طرح کے پروگرام کی ضرورت ہے۔ تعلیمی نصاب پر کہا ہے کہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا بہت مشکل کام ہے ، اسےعملی جامعہ پہنانے کی ضرورت ہے
ڈاکٹر نسیم صاحب پچواقطعہ نےتعلیم کے پرزنٹیشن پر کہا کہ موجودہ نظام تعلیم کو ابھی باقی رکھا جائے، البتہ بنیادی تعلیم سے بچوں کو جوڑنے کی زیادہ محنت کی جائے۔ اس بات کی کوشش ہو کہ زیادہ سے زیادہ بچے مکتب اور اسکول سے کیسے جڑیں ۔جمعیت موڈل ولیج پریزینٹیشن پر کہا کہ گاؤں استر پر مظبوط کمیٹی کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو مزید فکری رہنمائی ملے ـ اسی طرح سے گاؤں سے باہر جولوگ ہیں وہاں بھی کمیٹی کی ضرورت ہے اور علاقائی طور پر ڈاکٹر انجینئر اور پروفیسر وغیرہ کو بھی جوڑنے کی ضرورت ہے
مولانا سلیم صاحب مظاہری جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا نے پروگرام کو قابل عمل قرار دیا اور مولانا محمدیاسین صاحب جہازی کو مخاطب بناتے ہوئے کہا کہ مولانا یاسین سے درخواست ہے کہ وہ ضلعی لیول پر بھی رہنمائی کریں تاکہ اس طرح کا پروگرام ضلع میں بھی ہو ۔
مولانا سلیم الدین صاحب قاسمی نے پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ظرف اور مظروف کا بھی خیال رکھیں تو بہتر ہوگا مزید درس نظامی میں تبدیلی یا مرج پر انھوں نے کہا کہ ہم کسی میدان میں کم نہیں ہیں اور تمام ہی علوم پڑھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی بات کو ثابت کرتے ہوئے جزو لایتجزی اور علم الفرائض کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس لیے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
صدارتی خطاب
اجلاس کے صدر مولانا رضوان اللہ صاحب، نائب صدر جمعیت علمائے جھارکھنڈ، نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ وہ بسنترائے جمعیت کے کاموں سے پہلے ہی واقف اور متعارف تھے۔ اسی تعارف نے انہیں یہاں آنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت انفرادی عمل کا نہیں، بلکہ اجتماعیت کا نام ہے۔ جمعیت علمائے ہند اکابرین اور اہل اللہ کی جماعت ہے؛ اس لیے دنیاوی اعتبار سے آپ کو کچھ حاصل ہو یا نہ ہو، لیکن آخرت کے اعتبار سے یہ بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے ہند کے 32 شعبے ہیں اور یہ تمام شعبے قرآن و حدیث سے ماخوذ ہیں۔
تعلیم اور دیگر شعبوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم کچھ کام کر رہے ہیں، لیکن زیادہ تر انفرادی طور پر کر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انفرادی کوششوں کو اجتماعی رنگ دیا جائے۔ اپنے ادارے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم نے حالات کے تقاضوں کے مطابق درسِ نظامی میں تبدیلیاں کی ہیں اور حساب، انگریزی سمیت دیگر ضروری مضامین کو نصاب میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مدارس میں زیرِ تعلیم بچوں کا نام اسکولوں میں بھی ضرور درج کرایا جائے۔
آخر میں انہوں نے دعوتی خدمات انجام دینے والے حضرات، بالخصوص مفتی نظام الدین صاحب اور مفتی زاہد صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ نیز مولانا محمد یاسین جہازی کو مخاطب کرتے ہوئے بطورِ خاص کہا کہ انہیں پورے علاقے کی نگرانی اور اس کے کاموں کی دیکھ ریکھ کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد قاری کلیم الدین صاحب، استاد جامعۃ الہدیٰ جہاز قطع، نے اظہارِ تشکر کی تجویز پیش کی۔ انہی کی دعا پر ڈیڑھ بجے دوپہر یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
یہ اجلاس مولانا رضوان اللہ صاحب کی صدار ت میں ہوا۔ جب کہ نظامت کے فرائض مولانا بلال قاسمی استاذ جامعۃ الہدی نے انجام دیے۔
مولانامحمد یاسین صاحب جہاز قطعہ، مفتی نظام الدین صاحب جہاز قطعہ، مولانا سلیم الدین صاحب مہگاواں، مولانا سلیم الدین صاحب بگھاکول، مولانا رضوان اللہ صاحب دیوگھر، مولانا شمیم اختر صاحب قاسمی نائب صدر جمعیت علمائے دیوگھر، حافظ نذیر الدین صاحب نائب سکریٹری جمعیت علمائے دمکا، قاری عمران حسینی صاحب رکن عاملہ جمعیت علمائے دیوگجر، مفتی عبداللہ صاحب ندوی دیوگھر، مولانا شاہ نواز صاحب کیتھیا،مولانا خالد اقبال صاحب رینگاوں ،مولانا الیاس ثمر صاحب کرما، مولانا شاہ جہاں صاحب، مولانا شمشیر صاحب سری چک ،مولانا سرفراز صاحب سانکھی، مولانا شمس تبریز صاحب کیتھ پورہ ،مفتی عبد الجبار صاحب مدنی چک ،مولانا مرشد صاحب مدنی چک، ڈاکٹر نسیم صاحب پچواقطعہ، ماسٹر اظہر صاحب کیتھ پورہ، مولانا شمیم صاحب کوریانہ ،مولانا اختر صاحب جہاز قطعہ، مولانا مجیب الحق صاحب جھپنیاں، قاری کلیم الدین صاحب جہاَ قطعہ۔
اس پروگرام میں کل تین تجاویز منظور کی گئیں، جن کا متن درج ذیل ہے:
تجویز نمبر1۔ عیادت و تعزیت
جمعیت علمائے ہند کی دیرینہ روایات کے پیش نظر جمعت علمائے بسنتر ائے علاقے کے جملہ مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے۔ اور ان کے پس ماندگان کے دکھ درد میں اپنے آپ کو برابر کا شریک سمجھتی ہے۔ بطور خاص جناب غلام رسول صاحب سانچ پور سانکھی والد گرامی مولانا سرفراز صاحب قاسمی، جناب محمد بدر الدین صاحب رنسی والد گرامی حافظ قمر الہدی صاحب، جناب مکھیا الیاس صاحب جمنی کولاکے نام شامل ہیںْ۔
اسی طرح جمعت علمائے بسنترائے کی مجلس متنظمہ کا یہ اجلاس اپنا دینی و اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوئے علاقے میں بیمار تمام حضرات کی صحت کاملہ عاجلہ دائمہ مستمرہ کے لیے دعا گو ہے ۔ جن میں بطور خاص مفتی محمد زاہد امان قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے بسنترائے، جناب ظفر الدین صاحب جہاز قطعہ، اہلیہ مولانا ابراہیم صاحب جہاز قطعہ، اہلیہ مولانا مجیب الحق صاحب موکل چک، اہلیہ مولانا قاسم صاحب نیموہاں، جناب انظر صاحب پرمکھ بلاک بسنت رائے ، جناب احتشام صاحب ممبر ضلع پریشد بسنترائے اور دیگر حضرات کے نام قابل ذکر ہیں۔
تجویز نمبر2۔ زکاۃ فنڈ کا قیام
جمعیت علمائے بسنتر ئے کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس اسلامی شریعت کے مزاج و منشا کے مطابق زکاۃ کی اجتماعی وصولی اور مستحقین تک شفافیت کے ساتھ پہنچانے کے اجتماعی نظام بنانے کے لیے پہلے مرحلے میں گاؤ ںگاوں زکاۃ فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہے۔
اس کے کامیاب تجربے کے بعد علاقہ علاقہ، غرض اسی طرح اس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کل ہند سطح پر زکاۃ فنڈ کے قیام کو ممکن العمل بنایا جائے۔
تجویز نمبر3۔ شکریہ
جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس جملہ معاونین و کارکنان اجلاس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ بطور خاص جمعیت علمائے ہند کے مرکز سے تشریف لائے مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی کا، جن کی علمی و فکری رہ نمائی سے اجلاس مستفید ہوا۔ اسی طرح مولانا رضوان اللہ صاحب نائب صدر جمعیت علمائے جھارکھنڈ اور ان کے تمام ساتھیوں،مہمان نوازی میں تعاون کرنے والے حاجی عبداللطیف صاحب حیدرآباد، جناب محمد ذیشان صاحب جمشید پوراور دیگر اہل خیر حضرات کا شکر گزار ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں تمام ترقیات سے نوازے۔ آمین!




















