ارتداد کی روک تھام کے لیے دو اہم اور قابلِ عمل طریقے
- جمعیتی طریقہ اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کا قیام: ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں جہاں عصری علوم کی تعلیم کے ساتھ اسلامی عقائد، دینی معلومات اور اسلامی تہذیب و اقدار کی تربیت کا بھی مناسب انتظام ہو۔
اس طریقے کی طرف جمعیت علمائے ہند، عرصے سے رہنمائی کرتی رہی ہے اور اپنی تجاویز اور قراردادوں کے ذریعے اہل ثروت سے عملی جامہ پہنانے کی اپیل کرتی رہی ہے۔ - جہازی طریقہ عصری تعلیمی اداروں میں دینی شعورو معلومات رکھنے والے افراد بالخصوص علمائے کرام کی تقرری: موجودہ عصری تعلیمی اداروں میں ایسے افراد، بالخصوص علمائے کرام کی خدمات حاصل کی جائیں جو اسلامی عقائد و تعلیمات سے گہری واقفیت رکھتے ہوں اور اسکول و کالج سے وابستہ طلبہ و طالبات کی دینی و فکری رہنمائی کر سکیں۔
اس آخر الذکر طریقے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہے کہ مدارسِ اسلامیہ سے فارغ ہونے والے طلبہ کو حاصل شدہ اسناد کی بنیاد پر حکومتِ ہند سے مساوی تعلیمی ڈگریوں کی منظوری دلائی جائے، تاکہ وہ عصری تعلیمی اداروں میں تدریسی اور دیگر متعلقہ ذمہ داریاں انجام دینے کے اہل قرار پائیں۔
یہ طریقہ نہ صرف قابلِ عمل ہے بلکہ نئے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے مقابلے میں کم خرچ، زیادہ وسیع اور نسبتاً آسان بھی ہے۔
محمد یاسین جہازی
4/نومبر 2026
@all


















