ارشاد قاسمی نانپور ،سیتامڑھی
رابطہ : 9431664474
یہ ایک نہایت افسوسناک اور فکر انگیز حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض مواقع پر تعلیم اور تہذیب کے نام پر ایسے رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے جو اسلامی اقدار سے ہم آہنگ نہیں بلکہ ان سے براہِ راست متصادم ہیں۔ یومِ آزادی، یومِ جمہوریہ اور دیگر تعلیمی و قومی تقریبات میں کم سن بچیوں سے رقص کروانا اور جسمانی نمائش پر مبنی حرکات کرانا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے، حالانکہ یہ طرزِ عمل ہماری دینی تعلیمات، مشرقی تہذیب اور فطری حیا کے سراسر خلاف ہے۔ اسلام نے عورت کو جو مقام عطا کیا ہے وہ عزت، وقار اور احترام کا مقام ہے، نہ کہ نمائش اور تماشہ بننے کا۔ عورت کو معاشرے کی زینت ضرور کہا گیا ہے مگر اس زینت کا تعلق اس کے کردار، علم اور اخلاق سے ہے، نہ کہ اس کے جسمانی اظہار سے۔اسلامی معاشرت کی بنیاد حیا پر قائم ہے، اور حیا محض لباس تک محدود نہیں بلکہ نظر، گفتگو، حرکات و سکنات اور مجموعی طرزِ زندگی کو محیط ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جس معاشرے میں حیا کمزور پڑ جائے وہاں ایمان کی حرارت بھی ماند پڑنے لگتی ہے۔ جب ہم کم عمر بچیوں کو اسٹیج پر لا کر ایسے انداز میں پیش کرتے ہیں جو ان کی فطری معصومیت اور حیا کے منافی ہوں تو دراصل ہم ان کے ذہنوں سے اخلاق کا پہلا سبق خود اپنے ہاتھوں سے مٹا رہے ہوتے ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے اخلاقی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک صورت حال یہ ہے کہ بعض دینی یا نیم دینی اداروں میں رقص کو نئے ناموں اور نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پس منظر میں نعت یا مذہبی کلام چلا کر جسمانی حرکات کو جائز سمجھ لینا ایک فکری مغالطہ ہے، بلکہ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ اسلام میں عبادت، ذکر اور نیکی کا ہر عمل وقار، خشوع اور سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ نمائش اور تماشا۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیں پہلے ہی خبردار فرمایا تھا کہ شیطان انسان کے لیے گناہ کو خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے، اور آج یہی عمل خوبصورت عنوانات اور رنگین پردوں میں لپیٹ کر کیا جا رہا ہے تاکہ برائی کو فن، ترقی اور جدیدیت کے نام پر قابلِ قبول بنا دیا جائے۔تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور منتظمین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کی فکری اور اخلاقی سمت درست کریں۔ استاد محض نصاب پڑھانے والا نہیں بلکہ نسلوں کا معمار اور کرداروں کا معلم ہوتا ہے۔ اگر استاد خود ایسے مناظر کی حوصلہ افزائی کرے جو حیا اور اخلاق کے منافی ہوں تو وہ آنے والی نسل کو صرف تعلیم نہیں بلکہ بے سمتی بھی سکھا رہا ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں کا مقصد یہ نہیں کہ بچے ناچنا سیکھیں بلکہ یہ ہے کہ وہ سوچنا، سمجھنا، سنورنا اور سنبھلنا سیکھیں، تاکہ وہ کل ایک صالح معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں محض ظاہری رنگینیوں سے نہیں بنتیں بلکہ مضبوط کردار، اعلیٰ اخلاق اور واضح اقدار سے بنتی ہیں۔ جب کسی قوم کی ترجیحات میں اخلاق پیچھے اور تفریح آگے آ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس قوم کے زوال کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ ہمیں یہ سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم نئی نسل کو کس سمت لے جا رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں علم، شعور، حیا اور خودداری دے رہے ہیں یا انہیں صرف اسٹیج کی چکاچوند، داد کی بھوک اور وقتی شہرت کا عادی بنا رہے ہیں؟ اگر ہم نے آج رخ درست نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔تعلیمی اور دینی اداروں کا اصل مقصد تقریبات کی چمک دمک نہیں بلکہ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور فکری بالیدگی ہونا چاہیے۔ اگر یہی ادارے بے حیائی کے فروغ کا ذریعہ بن جائیں تو پھر اصلاح کے مراکز خود فساد کا حصہ بن جاتے ہیں، جو کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا المیہ ہوتا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ والدین ہوش کے ناخن لیں، اساتذہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں، ادارے اپنی ترجیحات درست کریں اور معاشرہ مجموعی طور پر اپنی تہذیبی شناخت کی حفاظت کرے۔ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسلامی تعلیمات تنگ نظری نہیں بلکہ انسانیت، شرافت اور وقار کی ضامن ہیں۔ جو قوم اپنی اقدار پر سمجھوتہ کر لیتی ہے وہ رفتہ رفتہ اپنی پہچان بھی کھو بیٹھتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم آزادی اور تہذیب کے نام پر ایسے رجحانات کو فروغ دینے کے بجائے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نسلِ نو کی صحیح رہنمائی کریں، کیونکہ مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی جڑوں سے جڑی رہتی ہیں، نہ کہ وہ جو ہر نئی ہوا کے ساتھ اپنا رخ بدل لیں۔Salam Masnoon





















