حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ بانی مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ
مسائل متفرقہ
مسئلہ: مریض معذور کو طواف کرانے کے لیے اجرت پر اٹھانا جائز ہے ۔
مسئلہ: اگر اٹھانے والے نے طواف کی نیت نہیں کی اور معذور بے ہوش نہیں تھا ، اس نے خود طواف کی نیت کرلی تو طواف ہوگیا ۔ اور اگر بیہوش تھا تو طواف نہیں ہوا۔
مسئلہ: طواف میں اگر عورت مرد کے ساتھ ہوجائے تو طواف فاسد نہیں ہوتا، نہ مرد کا نہ عورت کا ۔
مسئلہ: معذور جس کا وضو نہیں ٹھہرتا، چوں کہ اس کا وضو وقت تک رہتا ہے اور وقت کے نکلنے کے بعد وضو ٹوٹ جاتا ہے ، اس لیے ایسے آدمی کا اگر چار شوط کے بعد وقت نکل جائے تو دوبارہ وضو کرکے طواف پورا کرے اور اگر چار شوط سے کم ہی کیے تھے کہ وقت نکل گیا ، جب بھی وضو کرکے باقی شوط پورے کرسکتا ہے ، لیکن از سر نو طواف کرنا افضل ہے۔
مسئلہ: طواف کی جگہ جس کو مطاف کہتے ہیں ، خانہ کعبہ کے چاروں طرف اور مسجد حرام کے اندر اندر ہے، چاہے بیت اللہ سے قریب ہو یا بعید، اور چاہے ستون اور زمزم وغیرہ کو درمیان میں لے کر طواف کرے ، طواف ہوجائے گا۔
مسئلہ: اگر کوئی مسجد کی چھت پر چڑھ کر طواف کرے ، اگرچہ بیت اللہ سے اونچا ہوجائے، تب بھی طواف ہوجائے گا۔
مسئلہ: مسجد حرام سے باہر نکل کر اگر طواف کرے گا تو طواف نہ ہوگا۔
مسئلہ: اگر کوئی طواف میں حطیم کی دیوار پر چڑھ کر طواف کرے، تو طواف ہوجائے گا، لیکن مکروہ ہے۔
مسئلہ: طواف میں بالکل خاموش رہنا اور کچھ نہ پڑھنا بھی جائز ہے۔
مسئلہ: طواف میں دعا پڑھنا قرآن پڑھنے سے افضل ہے، لیکن دعا میں ہاتھ نہ اٹھائے۔
مسئلہ: طواف میں ناجائز امور سے نہایت اہتمام سے بچنا چاہیے ۔ لڑکوں اور عورتوں کی طرف نہ دیکھے اور فضول بات بھی نہ کرے۔
مسئلہ: اگر کوئی مسئلہ سے ناواقف ہو تو اس کو حقیر مت سمجھو ، اس کو نرمی سے مسئلہ بتادو۔
مسئلہ: عورتوں کو مردوں کے ساتھ مل کے طواف کرنا اور خوب دھکم دھکا کرنا جیسا کہ اکثر عورتیں آج کل کرتی ہیں ، حرام ہے۔ عورتوں کو رات یا دن کو ایسے وقت طواف کرنا چاہیے کہ مردوں کا ہجوم نہ ہو اور طواف میں مردوں سے جہاں تک ہوسکے علاحدہ رہنا چاہیے۔
مسئلہ: بادشاہ ، امرااور بڑے لوگ جب طواف کے لیے آتے ہیں، تو ان کے خدام اور ملازمین عام مسلمانوں کو روکتے ہیں اور مطاف سے باہر نکال دیتے ہیں، یہ ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔
طواف کی دعائیں
طواف کی نیت دل سے کرے اور زبان سے یہ کہے:
اَلْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ طَوافَ بَیْتِکَ الْحَرامِ، فَیَسِّرْہُ لِیْ وَ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ۔
جس وقت ملتزم کے سامنے آئے تو یہ پڑھے:
الْلّٰھُمَّ اِیْمَاناً بِکَ وَ تَصْدِیْقَاً بِکِتَابِکَ وَ وَفَاء اً بِِعَھْدِکَ وَ اِتِّباعَاً لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ محمَّدٍ ﷺ ۔
اور جب حجر اسود سے آگے بڑھے اور دروازہ کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے:
الْلّٰھُمَّ اِنَّ ھذا البیتَ بیتُک والحَرَمَ حرَمُکَ والامنَ اَمَنُکَ و ھذا مقامُ العائِذِ بکَ مِنَ النَّارِ فاَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔
اور جب رکن شامی(شمالی مشرقی گوشہ) کے برابر آئے تو یہ دعا پڑھے:
الْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُ بِکَ من الشَّکِّ وا لشرْکِ والشِّقاقِ والنِّفاقِ و سُوئِ الاخلاقِ و سُوئِ المُنْقَلَبِ فی الاھْلِ والمالِ والوَلَدِ
اور جب میزاب رحمت (بیت اللہ کے پرنالے) کے برابر آئے تو یہ پڑھے:
الْلّٰھُمَّ اَظِلِّنِی تحتَ ظِلِّ عرْشِکَ یومَ لا ظِلَّ الَّا ظِلُّکَ ولا باقی الا وجْھُکَ و اسْقِنِیْ مِنْ حَوْضٍ نَبِِیََّکَ ﷺ شُرْبَۃً ھَنِیْئَۃً لا اَظْمَاُ بَعْدَھَا اَبَدَاً۔
اور جب رکن یمانی سے نکل جائے تو یہ دعا پڑھے:
رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
یہ سب دعائیں سلف سے مروی ہیں جناب رسول اللہ ﷺ سے کوئی خاص دعا ثابت نہیں ہے کہ وہی دعا پڑھے اور دوسری نہ پڑھے۔ طواف کرتے ہوئے تلبیہ نہ کہے۔ جو دعا یاد ہو، وہی پڑھے اور جو ذکر چاہے، کرے۔
عن ابی ھریرۃ ان النبی ﷺ قال: من طافَ بالبیتِ سبعاً لایتکلمُ الا بـ سبحان اللّٰہ، والحمدُ للّٰہِ، ولا الٰہ الا اللّٰہُ، واللّٰہ اکبرُ، ولا حولَ ولا قوۃَ الا باللّٰہِ مُحِیتْ عنہ عشَرُ سیئاتٍ و کُتبَ لہ عشرُ حسناتٍ و رُفع لہ عشرُ درجات۔ (روہ ابن ماجہ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص خانہ کعبہ کا سات پھیرا طواف کرے اور اس میں سبحان اللہ، والحمدُ للہ، ولا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر، ولا حولَ ولا قوۃَ الا باللہ کے سوا کو ئی کلام نہ کرے، تو اس کے دس گناہ مٹائے جائیں گے۔ اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس درجے بلند کیے جائیں گے۔
اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان رسول اللہ ﷺ پڑھا کرتے تھے:
رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
عن ابی ھریرۃ ان النبی ﷺ قال: و کل بہ سبعون ملکا یعنی الرکن الیمانی فمن قال: اللھم انی اسئلک العفو والعافیۃ فی الدنیا والاٰخرۃ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِقالوا آمین۔ (رواہ ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رکن یمانی پر ستر فرشتے متعین ہیں، جو شخص اَلْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّار کہتا ہے، تو فرشتے آمین کہتے ہیں۔
اور رسول اللہ ﷺ سے یہ پڑھنا بھی طواف میں ثابت ہے :
الْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الرَّاحَۃَ عِنْدَ الْمَوتِ وَ الْعَفْوَ عِنْدَ الحِسَابِ۔
اور رکن یمانی پر پہنچ کر یہ پڑھنا بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے:
الْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الُکُفْرِ والْفَاقَۃِ وَ مَواقِفِ الْخِزْیِ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ۔
اور ملتزم پر کھڑے ہوکر جو دعا چاہے مانگے، اس جگہ دعا قبول ہوتی ہے اور یہ دعا پڑھے:
الْلّٰھُمَّ رَبَّ ھَذَا البیْتِ العَتیقِ اَْعتِقْ رِقابَنا مِنَ النارِ و اَعِدْنَا مِنَ الشَّیْطانِ الرَّجِیْمِ وَ بارِکْ لنا فیما اعْطَیْنَا الْلّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ اَکْرِمِ وَفْدِکَ عَلَیْکَ، الْلّٰھُمَّ لَکَ الْحَمدُ علیٰ نِعْمائِکَ وَ أفْضَلَ صَلَوتِکَ عَلٰی سَیِّدِ اَنْبِیَائِکَ وَ جَمِیْعِ رُسُلِکَ وَ أصْفِیَائِکَ وَ عَلیٰ اٰلِہ وَ صَحْبِہِ و اَوْلِیَائِکَ۔




















