خامہ بکف محمد عادل ارریاوی_______________________________
آج کے دور میں جب ایک باپ اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے بے شمار مشکلات اور غیر ضروری اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے میں رائج رسومات اور دکھاوے نے شادی جیسے مقدس عمل کو اس قدر مہنگا اور پیچیدہ بنا دیا ہے کہ ایک غریب باپ کے لیے اپنی بیٹی کی شادی کرنا ایک بہت بڑا بوجھ بن جاتا ہے۔
شادی کے موقع پر مختلف قسم کے اخراجات کیے جاتے ہیں، جیسے ہر رشتہ دار اور مہمان کے لیے الگ الگ کپڑے تیار کرنا، طرح طرح کے تحائف دینا، باراتیوں کے لیے پرتکلف کھانے پینے کا انتظام کرنا، اور اس کے علاوہ سب سے بڑا بوجھ جہیز کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ جہیز میں مہنگی گاڑی، قیمتی موبائل فون، فرنیچر، برقی سامان اور دیگر گھریلو اشیاء شامل کی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک باپ کے لیے انتہائی مشکل اور تکلیف دہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب اس کی مالی حالت کمزور ہو۔
اگر ان تمام تر کوششوں کے باوجود کہیں کوئی کمی رہ جائے تو اسی بیٹی کو ساری زندگی طعنے سننے پڑتے ہیں۔ لوگ اسے اور اس کے والدین کو کوستے رہتے ہیں اور ناشکری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ باپ جو اپنی پوری زندگی کی کمائی اور محنت اپنی بیٹی کی خوشیوں کے لیے لگا دیتا ہے، آخر وہ کیا کرے؟
مزید یہ کہ نکاح میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بھی یہی فضول رسومات اور جہیز کا بوجھ ہے۔ ایک باپ برسوں تک پیسہ جمع کرتا رہتا ہے تاکہ وہ اپنی بیٹی کو مکمل جہیز دے سکے اور کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے۔ اس دوران بیٹی کی عمر بھی بڑھتی رہتی ہے اور نکاح جیسے آسان عمل کو ہم خود ہی مشکل بنا دیتے ہیں۔
ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے نکاح کو نہایت سادہ اور آسان بنانے کی تعلیم دی ہے، مگر ہم نے اسے اپنی خواہشات اور دکھاوے کی وجہ سے بے حد مہنگا اور مشکل بنا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ کھلے عام مطالبات کرتے ہیں کہ ہمیں فلاں گاڑی چاہیے، فلاں موبائل چاہیے، ورنہ ہم شادی نہیں کریں گے۔ ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ رشتہ مانگ رہے ہیں یا تجارت کر رہے ہیں۔ اگر مانگنا ہی ہے تو پھر بیٹی والوں سے کیوں، بازار یا مسجد کے باہر جا کر مانگیں۔
دوسری طرف لڑکے والوں کی طرف سے بھی فضول خرچی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی جاتی شادی سے کئی دن پہلے ڈی جے ناچ گانا اور شور شرابہ شروع ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات پوری رات محلے والوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔ نہ بیماروں کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی کسی کی آرام کی فکر کی جاتی ہے۔ اگر کوئی منع کرے تو الٹا ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کا خوف کریں شرم کریں اور یہ سوچیں کہ وہ ایک مسلمان ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں نہ کہ دوسروں کی اندھی تقلید کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ اور ہدایت عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔



















