منگل, جولائی 28, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    کب تک بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بیٹھی رہیں گی؟

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    ایس آئی آر کے تعلق سے بیداررہنے کی ضرورت، غفلت نہ برتی جائے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    عوامی و فرقہ وارانہ اتحاد، توڑنے کی مہم

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    شہری حقوق کے تحفظ کے لیے SIR کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ضروری: مولانا محمد یاسین جہازی

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home Uncategorized

بھارت کو کیا بنانے کی کوشش ہے؟

by Admin
جون 1, 2026
in Uncategorized
0
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد
0
SHARES
15
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملاحظات

مولانا عبدالحمید نعمانی

بھارت کو کیا کچھ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور آج کی تاریخ میں اسے کہاں پر پہنچا دیا گیا ہے، اس سوال کا جواب بہت واضح شکل میں سامنے آ گیا ہے، تقسیم ہند سے پہلے، ملک کی تشکیل کے مختلف نقشے، مختلف زاویہ نظر والوں کے سامنے تھے، لیکن کسی مجاہد آزادی کے پیش نظر ملک اور سماج کو تقسیم کر کے فرقہ وارانہ خطوط پر مبنی آزاد بھارت بنانے کا منصوبہ نہیں تھا، کچھ ناقابل توجہ فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر تھے جن کے سامنے بھارت کا کچھ الگ قسم کا نقشہ تھا لیکن وہ مسلم مکت بھارت بنانے کے نعرے کے ساتھ کوئی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں تھے، آزادی کے بعد بھی ہندستانی عوام میں 1980 کی دہائی کی ابتداء تک زیادہ قابل توجہ اور اقتدار کے اہل قرار نہیں پائے تھے، حالاں کہ آزادی کے پہلے اور آزادی کے بعد پروان چڑھتی و ابھرتی فرقہ واریت اور اس کے رد عمل میں جناح اور مسلم لیگ کی فرقہ وارانہ علیحدگی کی راہ پر گامزن ہونے اور الگ ملک کے مطالبے اور پاکستان کی شکل میں علیحدہ ملک وجود میں آ جانے سے بھارت میں الگ قسم کا ماحول پیدا ہو گیا تھا، مگر سنجیدہ قیادت کے سامنے ہندو مسلم کی آبادی کا مکمل تبادلہ عملا ممکن نہیں تھا، پاکستان میں بھی غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد رہ گئی تھی، جیسا کہ بھارت میں مسلم آبادی رہ گئی، یہ آبادی تقسیم وطن کی مخالف مسلم قیادت کے ساتھ تھی، بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو مسلم لیگ اور جناح کے حوالے سے متعارف کرانا بڑی بددیانتی و بے ایمانی ہے، اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند، مومن کانفرنس، اور مولانا آزاد، مولانا مدنی رح وغیرہم کا ذکر کے بجائے جناح و لیگ کا ذکر سراسر فریب اور جھوٹی تاریخ سازی ہے، جس کی کوشش آج بھی بہ دستور کی جا رہی ہے، تقسیم ہند سے پیدا شدہ ماحول میں گاندھی، نہرو، آزاد رح مدنی رح وغیرہم کی کوششوں سے ہندوتو وادی عناصر کو اپنے مقاصد و عزائم کی تکمیل میں پوری کامیابی نہیں ملی تاہم انہوں نے مسلم لیگ کی فرقہ وارانہ سیاست کے نام پر ہندو مسلم کے تناظر میں معاملے کو الگ رخ، رنگ دینے کی بھرپور کوشش کا آغاز کر دیا تھا، اس سلسلے میں یہ چالاکی اور بے ایمانی کی جاتی رہی ہے کہ یک طرفہ طور سے مسائل کے ایک رخ کو پیش کر کے ملک کے اکثریتی سماج میں بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت پیدا کرنے کی شر انگیز سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا، فرقہ وارانہ فساد کو مسلم فساد کی بات ،بہار، گڑھ مکتیشور کے مسلم کش فسادات ہندستانی علاقوں میں مسلمانوں کے قتل عام کا ذکر گول کر کے صرف نواکھالی، کلکتہ، پاکستانی علاقوں میں غیر مسلموں کے قتل کا مبالغہ آمیز ذکر کر کے ملک میں ایک الگ قسم کا ماحول پیدا کیا گیا، جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، اپنی فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں گائے کے تحفظ کے نام پر بر سر اقتدار کانگریس سرکار اور مسلمانوں کو بیک وقت نشانہ بنانے کی مہم شروع کی گئی، اس میں جذباتی عنصر کو شامل کرکے انتخابی سیاست میں کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہوئی نظر آئی، ہندوتو وادی عناصر، گائے سے آستھا کے معاملے میں کبھی بھی ایمان دار ثابت نہیں ہوئے ہیں نہ پہلے نہ آج، اسے سیاسی کامیابی حاصل کرنے اور فرقہ وارانہ نفرت پیدا کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر ہمیشہ استعمال کیا جاتا رہا ہے، مسلمانوں اور ان کی قیادت کی طرف سے گائے کی قربانی اور اس کا ذبیحہ نہ کرنے اور قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کے باوجود پوری خاموشی اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے معاملے کو فرقہ وارانہ بنائے رکھنے کی کوششوں سے صاف ظاہر ہے کہ گائے کے نام پر ہندو سماج کا محض جذباتی استحصال مقصود ہے،1960/70کے درمیانی دور میں گرو گولولکر اور جن سنگھ کے لیڈروں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ انتخابی سیاست میں گائے کا استعمال کیا جا سکتا ہے، پنڈت جواہر لعل نہرو کے انتقال کے بعد، 1965کے بعد سے کانگریس کے داخلی اختلافات سے جن سنگھ اور دیگر کانگریس مخالف عناصر نے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار کی کرسی کی طرف قدم بڑھانے پر پوری توجہ دی اور گزرتے دنوں کے ساتھ بھارت، پاکستان کے درمیان جنگ اوربنگلہ دیش کے وجود کے ساتھ ملک میں جو حالات پیدا ہوئے ان میں کانگریس اور اندرا گاندھی مخالف لیڈروں اور پارٹیوں نے اقتدار پر قابض ہونے کی للک میں جن سنگھ اور ہندوتو وادی عناصر کو ساتھ لینے سے بھی گریز نہیں کیا، اس نے ان کے لیے ہندستانی عوام میں قبولیت کا راستہ کھول دیا، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کانگریس کی شکست کے ساتھ جنتا پارٹی کی جو سرکار بنی اس میں جن سنگھ کی شمولیت اور باجپئی، اڈوانی کے وزیر بنائے جانے کے ساتھ ہندستانی سیاست میں ایک مخصوص بدلاؤ کا آغاز ہوا، باجپئی بہت سے معاملے میں ہندو مسلم مسائل کے بارے میں اپنے طریقے سے سوچتے تھے، وہ مشترکہ سرکار میں فرقہ واریت کو ابھارنے کے حق میں نہیں تھے، لیکن لال کرشن اڈوانی کا معاملہ الگ ہے، وہ پاکستان سے فرقہ وارانہ انتقامی ذہن لے کر بھارت آئے تھے انہوں نے ایک منصوبہ بند طریقے سے اطلاعات و نشریات اور میڈیا کے شعبہ جات میں سنگھ کی آئیڈیا لوجی سے وابستہ یا اس سے ہمدردی و نرم گوشہ رکھنے والے افراد بھر دیے، گرچہ بعد میں دوہری رکنیت کے سوال اور پارٹی و سنگھ سے تعلق کو لے کر جنتا پارٹی ٹوٹ گئی اور اندرا گاندھی پوری طاقت سے اقتدار میں واپس آ گئیں تاہم وہ ذرائع ابلاغ کو فرقہ وارانہ ذہنیت والے افراد سے پاک نہیں کر سکیں، غالبا ایسا وہ چاہتی بھی نہیں تھیں، انھوں نے مختلف مواقع پر یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی کہ ہندوتو اور ملک کی اکثریت کی بالا دستی کو بنائے رکھنے اور اس کے تحفظ میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں، مراد آباد کے مسلم کش فساد کے موقع پر ایک جلسے کے خطاب میں انہوں ایسا جتلانے کی کوشش بھی کی تھی، اس جلسے میں ہم بھی موجود تھے، لیکن مسلم مخالف رویہ، بی جے پی، آر ایس ایس اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کی طرح مستقل پالیسی کا حصہ نہیں تھا، اس کی وجہ سے کانگریس اور دیگر غیر بی جے پی سرکاروں میں اسلامی و مسلم تہذیبی، تمدنی اور مذہبی مظاہرومراسم کی ادائیگی کو ایک جرم، خطرہ اور سناتن روایات کے خلاف اعمال کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا تھا، جیسا کہ بھارت کو ہندو استھان بنانے کے مقصد سے 2014 سے منظم کوششیں کی جارہی ہیں، 22دسمبر 1949سے بابری مسجد کو مندر میں بدلنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا تھا لیکن اس کو لے کر کوئی مضبوط ثبوت و شہادت نہ ہونے کی وجہ سے ہندوتو وادی عناصر تذبذب و فکری ضعف میں مبتلا تھے ان میں کانگریس کے بھی کئی لیڈر شامل تھے، پنڈت نہرو، ان کے خلاف موثر کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گئے تھے یا وہ کچھ وجوہ سے کوئی بڑا جوکھم اٹھانا نہیں چاہتے تھے، فرقہ واریت کی بنیاد، بابری مسجد/رام جنم بھومی مندر کے نام پر رکھ دی گئی تھی لیکن وہ ایسی عوامی تحریک نہیں بنی تھی کہ اقتدار کی تبدیلی کا ذریعہ بن جائے، عدالتوں میں وقتا فوقتا معاملے کی شنوائی ہوتی رہتی تھی، یہ ہندو مسلم کے درمیان فرقہ وارانہ منافرت اور ووٹ کی سیاست کے لیے کوئی خاص محرک و سبب نہیں تھا ،اس کے باوجود کہ تقسیم وطن سے اکثریتی سماج کے ایک حصے میں کئی طرح کی باتیں پائی جاتی تھیں لیکن وہ ووٹ میں بدلنے سے دور تھیں، یہ دیکھتے ہوئے کئی دہانی کے بعد اڈوانی کی قیادت میں بی جے پی نے پالم پور میں ایک تجویز پاس کر کے بابری مسجد/رام جنم بھومی مندر قضیہ کو سیاسی کامیابی کے لیے موثراستعمال کا پروگرام بنایا اور ذرائع ابلاغ میں اڈوانی کے ذریعے داخل کیے گئے افراد کی مدد سے متعلقہ معاملے کو حملہ آور کی یادگار اور غلامی کی نشانی اور مندر کو بھارت کی شناخت اور عظمت و وقار کی واپسی کی شکل میں پیش کیا گیا اور اس کے ساتھ دیگر مختلف امور کو جوڑنے اور ملانے کا ایسا سلسلہ و طریقہ اختیار کیا گیا کہ کانگریس سمیت، کمیونسٹ پارٹی کو چھوڑ کر دیگر سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں/اداروں کے لیے مزاحمت مشکل ہو گئی، حتی کہ کانگریس بھی بسا اوقات مندر کے لیے راہ ہموار کرنے کا کریڈٹ لیتی نظر آتی تھی لیکن گرم اور کھلی فرقہ واریت کے مقابلے میں نرم اور ذومعنی فرقہ واریت پیچھے رہ جاتی ہے، اس سلسلے میں بھی یہی ہوا، بی جے پی اور سنگھ کا کھلا فرقہ وارانہ ایجنڈا اور ہندوتو کی سیاست و تحریک کی لپیٹ میں ملک کی ایک بڑی تعداد اور مختلف شعبہ ہائے حیات کے لوگ آتے چلے گئے، گجرات کے بھیانک مسلم کش فسادات کے ساتھ اکثریتی سماج کے افراد کی ایک بڑی تعداد، فرقہ وارانہ نفرت و عداوت کے زیر اثر آ گئے اور جب 2014میں مرکزی اقتدار میں تبدیلی کے ساتھ بہت سی چیزیں بدلتی چلی گئیں، آج یہ تبدیلیاں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ اصل جمہوری بھارت کا تصور و تصویر دونوں بدل کر رہ گئے ہیں، سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس کا نعرہ تو لگایا گیا لیکن بھارت کو ایک ہندوتو وادی گروہ اور اس کی نمائندگی کرتے ہوئے بی جے پی کی مرکزی و ریاستی سرکاروں نے آئین کے بنیادی مطالبے تمام شہریوں اور تمام مذہبی اکائیوں کے درمیان برابری کو نظرانداز کر کے بھارت کو ایک مخصوص کمیونٹی کا برہمن وادی ملک بنانے کی جارحانہ کوششیں شروع کردی ہیں، جس کے نتیجے میں ایسی حالت پیدا ہو گئی ہے کہ مسلمان، عیدین کی نمازیں اور دیگر مذہبی و تہذیبی اعمال و مراسم بھی آزادی و مسرت کے ساتھ، بہت سے مقامات پر ادا نہیں کر پا رہے ہیں، عید الفطر اور عید الاضحٰی قریب آتے ہی نماز و قربانی کو ہوا و خطرہ اور سنگین مسئلہ بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے اور فرقہ پرست میڈیا، اسلامی عبادت و تقریب کو مکروہ شکل میں پیش کر کے اکثریتی سماج میں جارحانہ ذہن کو بڑھاوا دینے اور مسلمانوں میں عجیب قسم کا ڈر اور تشویش کا ماحول پیدا کرنے کا کام کرتا ہے، نہ صرف گائے کی قربانی بلکہ دیگر جانوروں کی قربانی کو بھی روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، اسی کا حصہ، بکرا منڈیوں پر تالے لگانے اور قانونا غیر ممنوعہ جانوروں کی آوا جاہی میں رکاوٹیں ڈالنے کا عمل ہے، اس بار مسلمانوں اور ان کی قیادت نے فرقہ پرست عناصر کی شر انگیزی اور ان پر حملے کے مد نظر گائے کی قربانی نہ کرنے اور اسے قومی جانور قرار دینے کے مطالبہ کر کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو فیل کر دیا ہے، اس سے فرقہ پرست عناصر بری طرح بوکھلاہٹ میں پڑ گئے ہیں، مرکزی سطح پر گائے کو قومی جانور یا ماتا قرار دینے میں پس پیش نے بی جے پی اقتدار والی سرکاروں کی گائے سے آستھا و عقیدت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے، شیر پہلے ہی قومی جانور قرار پا چکا ہے، یہ ایک آسان قدم تھا، لیکن گائے گوشت کی برآمدات، ملک کی مختلف ریاستوں کی غیر مسلم عوام کی غذا میں شامل ہونے کی وجہ سے ہندوتو وادی عناصر اور بی جے پی سرکاریں بری طرح دھرم سنکٹ میں پڑ گئی ہیں، کوئی گھر میں گوشت کھانے کی بات کر رہا ہے تو کوئی 14 سال سے زیادہ عمر گائے ذبح کرنے کی اجازت دیتا نظر آتا ہے تو سدھانشو ترویدی بی جے پی لیڈر شمال مشرق کی ریاستوں میں پائی جانے والی گائیوں کو مقدس و معبود ماننے کے بجائے میتھن قرار دے کر ان کے کھانے کو صحیح بتا رہے ہیں، مطلب مسلمانوں کو ان کے کردار سے الگ کرنے کے لیے کئی سارے حربے، ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، ان کو لے کر مزاحمت الگ مسئلہ ہے لیکن گائے اور مسلمانوں کے مذہبی و تہذیبی اعمال و مراسم کی ادائیگی کے حوالے سے خاص طرح کا ماحول بنا کر جس طرح بھارت کو ایک مخصوص کمیونٹی کا ملک بنانے کی جو کوشش شروع کی گئی ہے وہ ایک تشویش ناک اور سنگین معاملہ ہے اس کے خلاف سنجیدہ جدوجہد، آئین ہند پر یقین رکھنے والے تمام محب وطن ہندستانی شہریوں کی ذمہ داری ہے،

Admin

Admin

Next Post
نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

خلاصہ تحریک آزادی ہند اور جمعیت علمائے ہند

6 مہینے ago
غزہ کی خاموش چیخیں اور ایمان کا چراغ

غزہ کی خاموش چیخیں اور ایمان کا چراغ

9 مہینے ago

مقبول

  • آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • پاکستان کا بھوت کھڑا کرکے ہندستانی مسلمانوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فرقہ پرستوں کے اعتراض کا علمی و تاریخی جواب نمبر (1)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.