بہار و جھارکھنڈ کی سرحد پر واقع گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ
گاؤں گاؤں بیداری مہم کا اہم اجلاس
5 جولائی 2026ء کوریانہ (ضلع گڈا جھارکھنڈ)بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنے والی گیروا ندی کے پُرسکون ساحل پر واقع کوریانہ بستی میں جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام ”گاؤں گاؤں بیداری پروگرام“ کا ایک نہایت مؤثر، ایمان افروز اور روح پرور اجلاس بعد نمازِ مغرب تا تاخیر عشاء منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں ذکر و ضرب کی پُرجوش اور پُرتاثیر صداؤں نے فضا کو نورانیت، رقت اور روحانیت سے معمور کر دیا، اور حاضرین پر ایک خاص کیفیت طاری ہو گئی۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد ایمان کے محاسبہ اور عملی زندگی کے جائزے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس موقع پر مولانا محمد یاسین جہازی نے بستی کے حالات و کوائف پیش کرتے ہوئے نہایت فکر انگیز انداز میں بتایا کہ اس گاؤں کی مسلم آبادی تقریباً 2800 نفوس پر مشتمل ہے، لیکن مساجد میں باقاعدہ نماز ادا کرنے والوں کی تعداد خواتین سمیت بمشکل 100 تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح چار مکاتب اور ایک اسکول میں زیرِ تعلیم بچوں کی مجموعی تعداد تقریباً 500 ہے۔ اس طرح کل ملا کر صرف 600 افراد ہی ایسے ہیں جو کسی نہ کسی درجے میں دینی تعلیم یا مسجد سے وابستہ ہیں، جبکہ تقریباً 2200 مسلمان ایسے ہیں جو دین کی بنیادی تعلیمات اور ایمان و عقائد سے ناواقف ہیں۔انہوں نے اس صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہی غفلت برقرار رہی تو آنے والا وقت ہماری دینی شناخت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ایمان و عقائد کی بنیادی معلومات حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ناگزیر ہے، ورنہ انسان لاشعوری طور پر ایمان سے دور ہو سکتا ہے۔اس کے بعد مفتی محمد زاہد امان قاسمی (مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ، بسنترائے و ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے) نے ایک مسلمان کے لیے ضروری سات بنیادی دینی امور کو نہایت مؤثر، سہل اور دلنشین انداز میں پیش کیا۔ حاضرین نے ان باتوں کو نہ صرف توجہ سے سنا بلکہ دل سے قبول کیا زبان سے اقرار کیا اور سینہ میں محفوظ کیا۔
پروگرام کے اگلے مرحلے میں مفتی محمد نظام الدین قاسمی (مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ و صدر جمعیت علمائے بسنت رائے) نے نوجوانوں کو خصوصی خطاب کرتے ہوئے ان کی غفلت، وقت کے ضیاع اور بے مقصد زندگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کامیاب زندگی کے لیے ایک واضح مقصد، مستقل مزاجی اور وقت کی قدر لازمی ہے۔ انہوں نے جدید طرزِ پیشکش (پاورپوائنٹ) کے ذریعے ویڈیوز اور تصاویر کا سہارا لیتے ہوئے نوجوانوں کو برائیوں سے بچنے اور باوقار و بامقصد زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی۔
مزید برآں مولانا محمد یاسین جہازی نے موجودہ حالات میں ایس آئی آر (SIR) سے متعلق پھیلنے والی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے سرکاری طریقۂ کار کی وضاحت کی اور عملی طور پر آن لائن فارم بھرنے کی مکمل تربیت فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ خوف و ہراس کے بجائے صحیح معلومات کے ساتھ قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق اور تشخص کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا ضروری ہے۔
پروگرام کے اختتامی مرحلے میں مولانا جہانگیر قاسمی امام جامع مسجد کوریانہ نے ذکر کی روحانی محفل قائم کی۔ مجلس کو تاریک کر کے ایک پُرسوز اور رقت آمیز ماحول پیدا کیا گیا، جس میں تقریباً دس منٹ تک ذکر و ضرب کا سلسلہ جاری رہا اور پوری محفل روحانیت میں ڈوب گئی۔ اسی نورانی کیفیت پر یہ مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔
شرکائے پروگرام:اس بابرکت نشست میں درج ذیل شخصیات نے بطورِ خاص شرکت کی:مولانا محمد شمیم صاحب (مدرسہ فخر الاسلام، کوریانہ)مفتی محمد زاہد امان قاسمی (مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ، بسنترائے و ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے)مفتی محمد نظام الدین قاسمی (مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ و صدر جمعیت علمائے بسنت رائے)مولانا محمد یاسین جہازی (مرکز دعوت اسلام، نئی دہلی)مولانا سجاد ندوی (بھاگلپور)مولانا الیاس ثمر قاسمی (ڈائریکٹر الفتح انٹرنیشنل اسکول، کرمہ بانکا)مولانا مجیب الحق (امام جامع مسجد، جھپنیاں)قاری ضیاء الحق (دھبرا)جناب جمال صاحب (جہاز قطعہ) اور اہل بستی میں سے مولانا جہانگیر قاسمی امام جامع مسجد کوریانہ حافظ فضل الرحمن جناب ماسٹر الحاج ابراہیم حافظ عبد الحلیم جناب عبد الباسط جناب محمد اخلاق جناب عبد الغفار جناب عبد القیوم جناب محمد نسیم جناب محمد مستقیم وغیرہ موجود تھے
ـپروگرام کے اختتام پر پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا، جس کی میزبانی شاعرِ اسلام و مداحِ خیرالانام مولانا محمد شمیم صاحب نے اپنے مدرسہ میں نہایت خلوص کے ساتھ کی۔ آخر میں ان کا شکریہ ادا کیا گیا، اور جمعیت علمائے بسنت رائے کا وفد رات گئے خستہ حال سڑکوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 11 بجے اپنے اپنے گھروں کو پہنچا.
یہ پروگرام دینی بیداری، اصلاحِ معاشرہ اور ملت کے روشن مستقبل کی ایک امید افزا اور قابلِ تقلید مثال ثابت ہوا۔






















