مولاناعبدالحمید نعمانی کالم نگار ، شعبہ انڈین ہسٹری، کلچرل اینڈ تھاٹس انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز دہلی کا صدر ہے
ہندوتو، صرف اب کوئی ایک طرز حیات اور جارحانہ سیاسی نظریہ و عمل نہیں رہ گیا ہے بلکہ وہ سناتن دھرم کے لباس میں بھیانک فرقہ پرستی، ناانصافی، تخریب و انہدام میں تیزی سے بدلتا جا رہا ہے، جہاں وہ برہمن واد کے راستے ،چار طبقاتی نظام حیات کو بچانے کی جارحانہ سعی و عمل کے تحت، دلت، آدی واسی، محنت کش طبقات پر حملہ آور ہے تو وہیں اس سے آگے جا کر وہ خونخوار عفریت اور راکشسوں کا جھنڈ بن کر مسلمانوں اور اسلام اور ان سے منسوب و متعلق ماثر و معابد، مسجدوں، مدرسوں اور مکانوں کو تباہ و برباد اور بےنشان کرنے کے لیے کسی بھی طرف نکل پڑتا ہے، بس کوئی موقع اور بہانہ بھر چاہیے، اگر بہانہ نہیں ملتا ہے تو بہانہ تلاش کر لیا جاتا ہے، بلڈوزر کارروائی کو ہتھیار کے طور پر اندھا دھند استعمال کر کے ایسی سزا دی جا رہی ہے جس کا آئی پی سی کی تمام کتابوں کی کسی دفعہ میں کوئی ذکر نہیں ہے،اس کے خلاف کئی عدالتوں نے سخت تنقید و تبصرہ کرتے ہوئے مختلف احکامات و ہدایات جاری کیے ہیں، لیکن فرقہ وارانہ انتقامی جذبے میں غرق اور فرقہ وارانہ ذہنیت والی سرکاروں اور ان کے افسران پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے، گرچہ ان انہدامی کارروائیوں کی زد میں کہیں کہیں اکثریتی سماج کے لوگ بھی آ رہے ہیں تاہم دھرم اور نام دیکھ کر اقدامات کی زد میں مسلمانوں اور اسلام سے منسوب چیزیں کچھ الگ انداز سے آ رہی ہیں، ان کو نیست و نابود کرنے میں بالکل الگ طرح کی جارحیت و عجلت نظر آتی ہے، کبھی کبھار، کہیں کہیں تھوڑی بہت انصاف پسندی کا دکھاوا کر کے اصل مقاصد و عزائم پر پردہ ڈالنے کا کام بھی کیا جاتا ہے لیکن اقتدار اور اس سے باہر کے ہندوتو وادیوں کی فرقہ واریت میں اس قدر شدت ہے کہ اس کا یک بیک مختلف جہات میں جارحانہ اظہار ہو جاتا ہے، اس فہرست میں آئے دن نئے نئے مہارتھی اور مبینہ ہندوتو کے جھنڈے بردار اور پالکی بردار شامل ہوتے اور خود کو سامنے لانے میں جان توڑ کوشش کرتے نظر آتے ہیں، کچھ ہندو اکثریتی سماج کے لیڈر بن کر سیاسی حالات کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ حاشیے پر ڈال دیے گئے مسلم نام والے لیڈر بے دخلی سے نکلنے کے چکر میں ہندو مسلم مسائل میں ہندوتو وادیوں کے پلڑے میں وزن ڈال کر اپنا وزن بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں، شاہنواز حسین وغیرہ ایسے ہی لوگوں کے زمرے میں آتے ہیں، جب کہ راجا بھیا جیسے لوگ سرخیوں میں آ کر ہندوتو وادی لیڈروں کی پہلی صف میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے لوگ ہندوتو، اور سناتن کی تعبیر وتشریح کیے بغیر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنا کر قابل توجہ بننے کی سعی کر رہے ہیں، راجا بھیا، کئی سارے دیگر ہندوتو وادی عناصر کی طرح مسلم آبادی میں اضافے کا مبالغہ آمیز ذکر کرتے ہوئے ماضی میں ہندو سماج کی ایک تعداد کا اسلام قبول کر نے کو بزدلی اور لالچ کا نتیجہ اور خود کو بہادر اور لالچ سے دور بتانے میں لگے ہوئے ہیں، یہ سراسر من گھڑت بیانیہ اور مفروضہ کہانی ہے، اس سلسلے میں ہم نے کئی بار کوشش کی کہ ثبوتوں و حوالوں کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت ہو لیکن کوئی بھی چینل اور میڈیا پلیٹ فارم بحث و گفتگو کرنے کرانے کے لیے تیار نہیں ہے، ایسی کوئی تاریخی شہادت نہیں ہے کہ مسلم حکمرانوں نے راجا بھیا کے خاندان پر اسلام قبول کرنے کے لیے زور زبردستی اور دباؤ ڈالا تھا اور اس نے اس کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے قبول اسلام سے انکار کر دیا تھا اور باقی لوگوں نے لالچ، ڈر سے اسلام قبول کر لیا تھا، راجا بھیا بھی دیگر کی دیکھا دیکھی سناتن دھرم کے حوالے سے دیگر کو فروتر اور خود کو بہت اونچی جگہ پر براجمان بتانے میں لگے ہوئے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ بگاڑ کر پیش کرنے سے مبینہ سناتن اور ہندوتو کی صداقت و عظمت ثابت و ظاہر نہیں ہو سکتی ہے، سارے ہندوتو وادی لیڈر اور مبینہ دھرم گرو، سناتن کی خوبیوں اور بھارت کی مشترکہ تہذیب اور جاری متنوع روایات کی اچھائیاں بتانے کے بجائے ،اسلام اور مسلمانوں کی مفروضہ غلط شبیہ پیش کر کے اپنا قد اور جگہ بنانے میں مصروف ہیں، ان کے نام پر اپنا کاروبار حیات و سیاست چلا رہے ہیں، وہ مثبت و تعمیری باتیں بتانے کی پوزیشن میں قطعی نظر نہیں آتے ہیں، ایک آزاد جمہوری نظام حکومت اور مہذب سماج میں تمام مذہبی و سماجی اکائیاں ،آئینی آزادی کے تحت اپنے عقائد، آستھا کے معاملے میں آزاد ہوتی ہیں، اس کو نظرانداز کر کے صرف ایک مخصوص کمیونٹی کے افکار و روایات کو پورے ملک کے عقائد و مراسم بتا کر دیگر مذاہب و روایات کے حامل باشندوں پر زور زبردستی اور اقتدار کی طاقت کا بے جا استعمال کر کے لادنے کی کوشش پوری طرح غلط ہے، پورے وندے ماترم گیت کو مذہبی و سماجی اکائیوں کے عقیدہ و آستھا کے خلاف لازما گانے کا پابند کرنا، اسی زور زبردستی اور اقتدار کی طاقت کے بے جا استعمال کا حصہ ہے، حالاں کہ سپریم کورٹ کے کئی نئے پرانے فیصلوں میں واضح طور سے کہا ہے کہ کسی فرد یا مذہبی اکائی اور سماجی گروہ کے عقیدہ و نظریہ کے برخلاف وندے ماترم گیت وغیرہ کو لازم قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، اس تعلق سے جمیعتہ علماء ہند اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں نے عدالتی فیصلے کے حوالے سے اپنے موقف کو ملک و قوم کے سامنے رکھنے کا کام کیا ہے، اس کے باوجود سرکاری نیم سرکاری تعلیمی اداروں میں وندے ماترم گیت کو لازمی قرار دینے کا مطلب صاف ہے کہ قومیت و وطنیت کے نام پر ملک کے دیگر مذاہب کے عقائد و روایات کو ختم کر کے ایک کمیونٹی کے افکار و روایات کو ان پر لاد کر آئین کی عطا کردہ مذہبی و تہذیبی آزادی اور بھارت کی متنوع روایات سے انحراف کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، اس کی حمایت و تائید کے لیے ایسے نام نہاد کچھ مسلم نام والے چہرے کو سامنے لایا جاتا ہے جن کا کوئی معقول و متعین عقیدہ و نظریہ حیات نہیں ہے، وہ اپنے نجی و ذاتی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں، یہ ہندو مسلم کے نام پر جاری سیاست میں معروف فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات ان سے بھی آگے جا کر اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرتے نظر آتے ہیں، جب کہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ اپنی جڑ بنیاد سے الگ ہو چکے موقع پرست عناصر کی کسی بھی معاملے میں حمایت و مخالفت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ہے، لیکن آج کی تاریخ میں ناموں سے بھرم پھیلانے کے لیے ان کا ،ہندوتو وادی تنظیمیں وعناصر اپنے حساب سے بھرپور استعمال کر رہے ہیں، ان کو بڑی اہمیت کے ساتھ ٹی وی چینلز کے ایسے پروگراموں میں بلایا جاتا ہے جو ہندو مسلم یا مسلمانوں کو لے کر کیے جاتے ہیں، جب کہ غیر مسلموں کے مسائل پر بحث و گفتگو کے لیے کسی ذی علم مسلم اسکالر کو نہیں بلایا جاتا ہے، اس کا مطلب صاف ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ایک طرح کی منفی و مکروہ بنا کر ان کے مذہبی و تہذیبی مظاہر و مراسم کی ادائیگی سے روکا جائے تاکہ وہ اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت کھو دیں، نماز، قربانی وغیرہ سے روکنے کی کوششوں کے پس پشت اسی طرح کے مقاصد و عزائم کارفرما ہیں، مذہبی و تہذیبی اور اسلامی فکر و تعلیم کے سر چشمہ مدارس کو کئی سارے ہندوتو وادی لیڈر و دھرم گرو ختم کر دینے کے عزم کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں، یہ خبیث جذبہ و خواہش ایک مخصوص ذہنیت کا اظہار ہے، جو عام ہندو سوسائٹی و روایات سے پوری طرح متصادم و متضاد ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے چل کر حال کی جارحانہ ہندوتو کی لہر کا عام ہندستانی تنوعات کی حامل روایات و افکار اور طرز حیات سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں ہے لیکن یہ تشویش ناک امر ہے کہ عام ہندو اکثریتی سماج کے روایتی حصے بڑی تیزی سے تنگ نظر، فرقہ پرست جارح ہندوتو کی زد میں آتے جا رہے ہیں، اس صورت حال پر سنجیدہ توجہ دے کر روایتی حصے کو کاروباری اور فرقہ وارانہ تجارتی ہندوتو کی لپیٹ میں جانے سے روکنے کی اولیں ذمہ داری ہندو اکثریتی سماج کے تعمیری سوچ والے رہنماؤں اور مذہبی و سیاسی قیادت کی ہے، اس سے یہ یقینا پوشیدہ نہیں ہو گا کہ عالمی برادری اور دنیا کے مختلف حصوں کے سامنے ہندو اکثریتی سماج کی بہت مکروہ و منفی شبیہ آ رہی ہے اور یہ درج ہو رہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتیوں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا ہے، کئی عالمی پلیٹ فارمز پر فرقہ وارانہ اقدامات پر قدغن لگانے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، کئی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ مظالم و زیادتیوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، ان پر روک لگانے کے مقصد سے بھارت میں مسلمانوں اور ان کی قیادت کی طرف سے گائے، جس کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، یہ ایک الگ نوعیت کا ایسا معاملہ ہے جس سے فسادی ہندوتو وادی طاقتیں بے نقاب ہونے کے ساتھ بوکھلاہٹ میں مبتلا ہو گئی ہیں کہ اس سے ہمارا سارا کھیل ہی بگڑ جائے گا، اس کھیل کو جاری رکھنے کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ اور شاہنواز حسین وغیرہم کی طرف سے یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ گائے تو ماتا ہے، اس ناتے کو بتانے اور قانونی طور اعلان و اقدام کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ سراسر راہ فرار اور اصل حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے منافع بخش کاروبار اور فرقہ واریت کے کھیل کو جاری رکھنے کی منصوبہ بند کوشش ہے، اس کا معقول جواب شنکر آچاریہ اویمکتیشورنند نے ایسے لوگوں کو کال نیمی اور نقلی ہندو قرار دیتے ہوئے دیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ حالات نے مبینہ ہندوتو کے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے، اگر یہی صورت حال رہی تو آنے والے دنوں میں مزید چہرے بے نقاب ہوں گے، مرکزی وزیر ارجن رام میگوال نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دینے کی سرکار کے سامنے کوئی تجویز نہیں ہے، یہ کہنے کا مطلب بہت صاف ہے
،( کالم نگار ، شعبہ انڈین ہسٹری، کلچرل اینڈ تھاٹس انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز دہلی کا صدر ہے )




















