اتوار, جون 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ

    علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے

    الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنترائے کا چھٹا "گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” سانکھی میں کامیابی کے ساتھ منعقد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ

    علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے

    الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنترائے کا چھٹا "گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” سانکھی میں کامیابی کے ساتھ منعقد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

by Admin
جون 14, 2026
in مضامین
0
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد
0
SHARES
4
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مولاناعبدالحمید نعمانی کالم نگار ، شعبہ انڈین ہسٹری، کلچرل اینڈ تھاٹس انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز دہلی کا صدر ہے

ہندوتو، صرف اب کوئی ایک طرز حیات اور جارحانہ سیاسی نظریہ و عمل نہیں رہ گیا ہے بلکہ وہ سناتن دھرم کے لباس میں بھیانک فرقہ پرستی، ناانصافی، تخریب و انہدام میں تیزی سے بدلتا جا رہا ہے، جہاں وہ برہمن واد کے راستے ،چار طبقاتی نظام حیات کو بچانے کی جارحانہ سعی و عمل کے تحت، دلت، آدی واسی، محنت کش طبقات پر حملہ آور ہے تو وہیں اس سے آگے جا کر وہ خونخوار عفریت اور راکشسوں کا جھنڈ بن کر مسلمانوں اور اسلام اور ان سے منسوب و متعلق ماثر و معابد، مسجدوں، مدرسوں اور مکانوں کو تباہ و برباد اور بےنشان کرنے کے لیے کسی بھی طرف نکل پڑتا ہے، بس کوئی موقع اور بہانہ بھر چاہیے، اگر بہانہ نہیں ملتا ہے تو بہانہ تلاش کر لیا جاتا ہے، بلڈوزر کارروائی کو ہتھیار کے طور پر اندھا دھند استعمال کر کے ایسی سزا دی جا رہی ہے جس کا آئی پی سی کی تمام کتابوں کی کسی دفعہ میں کوئی ذکر نہیں ہے،اس کے خلاف کئی عدالتوں نے سخت تنقید و تبصرہ کرتے ہوئے مختلف احکامات و ہدایات جاری کیے ہیں، لیکن فرقہ وارانہ انتقامی جذبے میں غرق اور فرقہ وارانہ ذہنیت والی سرکاروں اور ان کے افسران پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے، گرچہ ان انہدامی کارروائیوں کی زد میں کہیں کہیں اکثریتی سماج کے لوگ بھی آ رہے ہیں تاہم دھرم اور نام دیکھ کر اقدامات کی زد میں مسلمانوں اور اسلام سے منسوب چیزیں کچھ الگ انداز سے آ رہی ہیں، ان کو نیست و نابود کرنے میں بالکل الگ طرح کی جارحیت و عجلت نظر آتی ہے، کبھی کبھار، کہیں کہیں تھوڑی بہت انصاف پسندی کا دکھاوا کر کے اصل مقاصد و عزائم پر پردہ ڈالنے کا کام بھی کیا جاتا ہے لیکن اقتدار اور اس سے باہر کے ہندوتو وادیوں کی فرقہ واریت میں اس قدر شدت ہے کہ اس کا یک بیک مختلف جہات میں جارحانہ اظہار ہو جاتا ہے، اس فہرست میں آئے دن نئے نئے مہارتھی اور مبینہ ہندوتو کے جھنڈے بردار اور پالکی بردار شامل ہوتے اور خود کو سامنے لانے میں جان توڑ کوشش کرتے نظر آتے ہیں، کچھ ہندو اکثریتی سماج کے لیڈر بن کر سیاسی حالات کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ حاشیے پر ڈال دیے گئے مسلم نام والے لیڈر بے دخلی سے نکلنے کے چکر میں ہندو مسلم مسائل میں ہندوتو وادیوں کے پلڑے میں وزن ڈال کر اپنا وزن بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں، شاہنواز حسین وغیرہ ایسے ہی لوگوں کے زمرے میں آتے ہیں، جب کہ راجا بھیا جیسے لوگ سرخیوں میں آ کر ہندوتو وادی لیڈروں کی پہلی صف میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے لوگ ہندوتو، اور سناتن کی تعبیر وتشریح کیے بغیر اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنا کر قابل توجہ بننے کی سعی کر رہے ہیں، راجا بھیا، کئی سارے دیگر ہندوتو وادی عناصر کی طرح مسلم آبادی میں اضافے کا مبالغہ آمیز ذکر کرتے ہوئے ماضی میں ہندو سماج کی ایک تعداد کا اسلام قبول کر نے کو بزدلی اور لالچ کا نتیجہ اور خود کو بہادر اور لالچ سے دور بتانے میں لگے ہوئے ہیں، یہ سراسر من گھڑت بیانیہ اور مفروضہ کہانی ہے، اس سلسلے میں ہم نے کئی بار کوشش کی کہ ثبوتوں و حوالوں کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت ہو لیکن کوئی بھی چینل اور میڈیا پلیٹ فارم بحث و گفتگو کرنے کرانے کے لیے تیار نہیں ہے، ایسی کوئی تاریخی شہادت نہیں ہے کہ مسلم حکمرانوں نے راجا بھیا کے خاندان پر اسلام قبول کرنے کے لیے زور زبردستی اور دباؤ ڈالا تھا اور اس نے اس کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے قبول اسلام سے انکار کر دیا تھا اور باقی لوگوں نے لالچ، ڈر سے اسلام قبول کر لیا تھا، راجا بھیا بھی دیگر کی دیکھا دیکھی سناتن دھرم کے حوالے سے دیگر کو فروتر اور خود کو بہت اونچی جگہ پر براجمان بتانے میں لگے ہوئے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ بگاڑ کر پیش کرنے سے مبینہ سناتن اور ہندوتو کی صداقت و عظمت ثابت و ظاہر نہیں ہو سکتی ہے، سارے ہندوتو وادی لیڈر اور مبینہ دھرم گرو، سناتن کی خوبیوں اور بھارت کی مشترکہ تہذیب اور جاری متنوع روایات کی اچھائیاں بتانے کے بجائے ،اسلام اور مسلمانوں کی مفروضہ غلط شبیہ پیش کر کے اپنا قد اور جگہ بنانے میں مصروف ہیں، ان کے نام پر اپنا کاروبار حیات و سیاست چلا رہے ہیں، وہ مثبت و تعمیری باتیں بتانے کی پوزیشن میں قطعی نظر نہیں آتے ہیں، ایک آزاد جمہوری نظام حکومت اور مہذب سماج میں تمام مذہبی و سماجی اکائیاں ،آئینی آزادی کے تحت اپنے عقائد، آستھا کے معاملے میں آزاد ہوتی ہیں، اس کو نظرانداز کر کے صرف ایک مخصوص کمیونٹی کے افکار و روایات کو پورے ملک کے عقائد و مراسم بتا کر دیگر مذاہب و روایات کے حامل باشندوں پر زور زبردستی اور اقتدار کی طاقت کا بے جا استعمال کر کے لادنے کی کوشش پوری طرح غلط ہے، پورے وندے ماترم گیت کو مذہبی و سماجی اکائیوں کے عقیدہ و آستھا کے خلاف لازما گانے کا پابند کرنا، اسی زور زبردستی اور اقتدار کی طاقت کے بے جا استعمال کا حصہ ہے، حالاں کہ سپریم کورٹ کے کئی نئے پرانے فیصلوں میں واضح طور سے کہا ہے کہ کسی فرد یا مذہبی اکائی اور سماجی گروہ کے عقیدہ و نظریہ کے برخلاف وندے ماترم گیت وغیرہ کو لازم قرار نہیں دیا جا سکتا ہے، اس تعلق سے جمیعتہ علماء ہند اور مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں نے عدالتی فیصلے کے حوالے سے اپنے موقف کو ملک و قوم کے سامنے رکھنے کا کام کیا ہے، اس کے باوجود سرکاری نیم سرکاری تعلیمی اداروں میں وندے ماترم گیت کو لازمی قرار دینے کا مطلب صاف ہے کہ قومیت و وطنیت کے نام پر ملک کے دیگر مذاہب کے عقائد و روایات کو ختم کر کے ایک کمیونٹی کے افکار و روایات کو ان پر لاد کر آئین کی عطا کردہ مذہبی و تہذیبی آزادی اور بھارت کی متنوع روایات سے انحراف کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، اس کی حمایت و تائید کے لیے ایسے نام نہاد کچھ مسلم نام والے چہرے کو سامنے لایا جاتا ہے جن کا کوئی معقول و متعین عقیدہ و نظریہ حیات نہیں ہے، وہ اپنے نجی و ذاتی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں، یہ ہندو مسلم کے نام پر جاری سیاست میں معروف فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات ان سے بھی آگے جا کر اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرتے نظر آتے ہیں، جب کہ یہ ایک معلوم بات ہے کہ اپنی جڑ بنیاد سے الگ ہو چکے موقع پرست عناصر کی کسی بھی معاملے میں حمایت و مخالفت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ہے، لیکن آج کی تاریخ میں ناموں سے بھرم پھیلانے کے لیے ان کا ،ہندوتو وادی تنظیمیں وعناصر اپنے حساب سے بھرپور استعمال کر رہے ہیں، ان کو بڑی اہمیت کے ساتھ ٹی وی چینلز کے ایسے پروگراموں میں بلایا جاتا ہے جو ہندو مسلم یا مسلمانوں کو لے کر کیے جاتے ہیں، جب کہ غیر مسلموں کے مسائل پر بحث و گفتگو کے لیے کسی ذی علم مسلم اسکالر کو نہیں بلایا جاتا ہے، اس کا مطلب صاف ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ایک طرح کی منفی و مکروہ بنا کر ان کے مذہبی و تہذیبی مظاہر و مراسم کی ادائیگی سے روکا جائے تاکہ وہ اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت کھو دیں، نماز، قربانی وغیرہ سے روکنے کی کوششوں کے پس پشت اسی طرح کے مقاصد و عزائم کارفرما ہیں، مذہبی و تہذیبی اور اسلامی فکر و تعلیم کے سر چشمہ مدارس کو کئی سارے ہندوتو وادی لیڈر و دھرم گرو ختم کر دینے کے عزم کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں، یہ خبیث جذبہ و خواہش ایک مخصوص ذہنیت کا اظہار ہے، جو عام ہندو سوسائٹی و روایات سے پوری طرح متصادم و متضاد ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے چل کر حال کی جارحانہ ہندوتو کی لہر کا عام ہندستانی تنوعات کی حامل روایات و افکار اور طرز حیات سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں ہے لیکن یہ تشویش ناک امر ہے کہ عام ہندو اکثریتی سماج کے روایتی حصے بڑی تیزی سے تنگ نظر، فرقہ پرست جارح ہندوتو کی زد میں آتے جا رہے ہیں، اس صورت حال پر سنجیدہ توجہ دے کر روایتی حصے کو کاروباری اور فرقہ وارانہ تجارتی ہندوتو کی لپیٹ میں جانے سے روکنے کی اولیں ذمہ داری ہندو اکثریتی سماج کے تعمیری سوچ والے رہنماؤں اور مذہبی و سیاسی قیادت کی ہے، اس سے یہ یقینا پوشیدہ نہیں ہو گا کہ عالمی برادری اور دنیا کے مختلف حصوں کے سامنے ہندو اکثریتی سماج کی بہت مکروہ و منفی شبیہ آ رہی ہے اور یہ درج ہو رہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتیوں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جا رہا ہے، کئی عالمی پلیٹ فارمز پر فرقہ وارانہ اقدامات پر قدغن لگانے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، کئی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ مظالم و زیادتیوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور یہ دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، ان پر روک لگانے کے مقصد سے بھارت میں مسلمانوں اور ان کی قیادت کی طرف سے گائے، جس کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، یہ ایک الگ نوعیت کا ایسا معاملہ ہے جس سے فسادی ہندوتو وادی طاقتیں بے نقاب ہونے کے ساتھ بوکھلاہٹ میں مبتلا ہو گئی ہیں کہ اس سے ہمارا سارا کھیل ہی بگڑ جائے گا، اس کھیل کو جاری رکھنے کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ اور شاہنواز حسین وغیرہم کی طرف سے یہ شوشہ چھوڑا گیا کہ گائے تو ماتا ہے، اس ناتے کو بتانے اور قانونی طور اعلان و اقدام کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ سراسر راہ فرار اور اصل حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے منافع بخش کاروبار اور فرقہ واریت کے کھیل کو جاری رکھنے کی منصوبہ بند کوشش ہے، اس کا معقول جواب شنکر آچاریہ اویمکتیشورنند نے ایسے لوگوں کو کال نیمی اور نقلی ہندو قرار دیتے ہوئے دیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ حالات نے مبینہ ہندوتو کے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے، اگر یہی صورت حال رہی تو آنے والے دنوں میں مزید چہرے بے نقاب ہوں گے، مرکزی وزیر ارجن رام میگوال نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ گائے کو قومی جانور قرار دینے کی سرکار کے سامنے کوئی تجویز نہیں ہے، یہ کہنے کا مطلب بہت صاف ہے

،( کالم نگار ، شعبہ انڈین ہسٹری، کلچرل اینڈ تھاٹس انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز دہلی کا صدر ہے )

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

5 مہینے ago
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

بھارت كی تعمیر وترقی میں مسلمانوں كا حصه

7 مہینے ago

مقبول

  • وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.