طویل مقالہ کے خلاصہ پر مبنی تحریر
محمد یاسین جہازی
جمعیت علمائے ہند کی تاسیس اور ابتدائی وابستگی (1919ئõ1920ئ)
23/نومبر 1919ئ کو دہلی میں جمعیت علمائے ہند کی تاسیس عمل میں آئی۔ اس کے فوراً بعد 28، 31 دسمبر 1919ئ اوریکم جنوری 1920ئ کو اسلامیہ مسلم ہائی اسکول، امرتسر میں جمعیت کا پہلا اجلاسِ عام تین نشستوں میں منعقد ہوا، اور حضرت علامہ معین الدین اجمیریؒ نے ان تمام نشستوں میں شرکت فرمائی، جو ان کے قدیم ترین تعلق کا ثبوت ہے۔
متفقہ فتویٰ پر دستخط (1920ئ): جنگِ عظیم اول کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے خلافتِ عثمانیہ کے ٹکڑے کرنے اور رولٹ ایکٹ نافذ کرنے (21/مارچ 1919ئ) کے خلاف تحریک ترکِ موالات شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں 8/ستمبر 1920ئ کو مولانا محمد سجاد بہاری کا تحریر کردہ ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ جاری ہوا، جس پر علامہ اجمیریؒ نے جابر حکومت کے خوف کے بغیر اپنے دستخط ثبت کیے۔
2۔ شعبہ¿ تبلیغ و حفاظتِ اسلام اور کانفرنسیں (1923ئõ1925ئ)
راجپوتانہ میں شعبے کا قیام (1923ئõ1924ئ): 24/فروری 1923ئ کو مفتی کفایت اللہ صاحب کی صدارت میں جمعیت نے ’’شعبہ¿ تبلیغ و حفاظتِ اسلام‘‘ قائم کیا۔ 26 اور 27/ اگست 1924ئ کے اجلاس میں اجمیر (راجپوتانہ) میں اس شعبے کی شاخ قائم کرنے کی منظوری اس شرط پر دی گئی کہ اس کی سرپرستی علامہ اجمیریؒ فرمائیں گے۔
تبلیغ کانفرنس کی صدارت (1925ئ): 14/جنوری 1925ئ کو علامہ اجمیریؒ جمعیت کی مرکزیہ کے رکن بنے اور اگلے ہی دن 15/جنوری 1925ئ کو ہونے والی ’’تبلیغ کانفرنس‘‘ کی صدارت کی اور فاضلانہ خطبہ پڑھا۔ بعد میں وہ ’’تبلیغ الاسلام انبالہ‘‘ کی طرف سے رنگون بھی گئے۔
3۔ قومی و شرعی کمیٹیوں میں کلیدی کردار (1927ئ)
انسدادِ توہینِ رسالت وفد: 18/اگست 1927ئ کو نئی دہلی میں توہینِ انبیا کے انسداد کے لیے قانون سازی پر مشاورتی اجلاس ہوا۔ 28/اگست 1927ئ کو شملہ جانے والے آل انڈیا مشاورتی وفد میں اجمیر سے علامہ اجمیریؒ کو نام زد کیا گیا۔
امارتِ شرعیہ پنجاب کا قیام: 2/ستمبر 1927ئ کو دربار سیال شریف میں امارتِ شرعیہ پنجاب کا قیام عمل میں آیا۔ علامہ اجمیریؒ کو 12/رکنی مجلس شوریٰ کا رکن بنایا گیا اور ان کی مساعی کا شکریہ ادا کیا گیا۔
جدید مسائل کے لیے شرعی کمیٹی: 2 تا 5/دسمبر 1927ئ کو جمعیت کے آٹھویں اجلاس میں سود، انشورنس اور جدید تجارتی معاملات کی شرعی تحقیق کے لیے جید علما (بشمول علامہ اجمیریؒ) پر مشتمل ایک خاص کمیٹی تشکیل دی گئی۔
4۔ صدارتی تنازع اور امروہہ کا تاریخی اجلاس (1929ئõ1930ئ)
صدارت کا مسئلہ (1929ئ): 11 و 12/اگست 1929ئ کو مجلس مرکزیہ نے کثرتِ رائے سے علامہ اجمیریؒ کو نویں اجلاسِ عام کا صدر منتخب کیا۔ تاہم، کانپور کی مقامی استقبالیہ کمیٹی دستورِ اساسی کی دفعہ (43) کے برعکس ایک غیر عالم (مولانا محمد علی جوہر) کو صدر بنانا چاہتی تھی۔ علامہ اجمیریؒ نے اجمیر سے 3/ستمبر 1929ئ کو خط لکھ کر معذرت کی، مگر مفتی کفایت اللہ صاحب کے اصرار پر 19/ستمبر 1929ئ کو دوبارہ رضامندی ظاہر کی۔ کانپور کمیٹی کے نازیبا رویے کی وجہ سے 26 تا 28 /اکتوبر 1929ئ کے اجلاس میں کانپور کی دعوت مسترد کر دی گئی۔
نواں اجلاسِ عام (1930ئ): یہ اجلاس کانپور کے بجائے 3 تا 6 /مئی 1930ئ کو امروہہ میں علامہ اجمیریؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔
خطبہ¿ صدارت کا خلاصہ: اپنے خطبے میں انھوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب، برطانوی دور میں اسلامی قوانین کی بتدریج تنسیخ (1765ئ تا 1872ئ) کا تاریخی خاکہ پیش کیا۔ انھوں نے سنِ نکاح کی حد بندی کے ساردا ایکٹ کو شرعی اور آئینی طور پر کالعدم قرار دیا، نہرو رپورٹ (1928ئ) کی مخالفت کی، برطانیہ کو اصل دشمن قرار دیا، اور کسانوں و غریبوں کے لیے سود سے پاک انقلابی معاشی پروگرام تجویز کیا۔
5۔ تحریکِ آزادی اور ہجرتِ الور (1931ئõ1933ئ)
مشاورتی جلسہ (1931ئ): 19/مارچ 1931ئ کو مسلم مطالبات کی تیاری کے لیے مشاورتی جلسے میں شرکت کے لیے علامہ اجمیریؒ کو بھی منتخب کیا گیا۔
نائب صدر جمعیت اور احتجاج (1932ئ):29/ فروری تا2/مارچ 1932ئ منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں علامہ اجمیریؒ جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ 5/اپریل 1932ئ کو جامع مسجد دہلی میں ان کی صدارت میں آرڈنینس ڈے کے موقع پر عظیم الشان احتجاجی جلسہ ہوا۔
ریاست الور کے مہاجرین کی امداد: مئی 1932ئ میں الور کے مسلمانوں پر مظالم کے بعد جولائی 1932ئ میں ہزاروں مسلمانوں نے دہلی ہجرت کی۔ علامہ اجمیریؒ نے بحیثیت ڈکٹیٹر مجلسِ احرار، 29/جولائی 1932ئ کو احرار کا وفد مہاجرین کی امداد کے لیے دہلی بھیجا، جس میں بعد میں جمعیت کے اکابرین بھی شامل ہو گئے۔
حج مسودات کی مخالفت: 10/جون 1932ئ کو جامع مسجد دہلی میں حج سے متعلق حکومتی بلوں کے خلاف علامہ اجمیریؒ نے مفصل تقریر کی اور قرارداد پیش کی۔
ہندو مسلم مفاہمت کانفرنسیں: اکتوبر اور نومبر 1932ئ میں لکھنو اور الٰہ آباد میں ہونے والی ہندو مسلم مصالحت کی اہم کانفرنسوں میں علامہ اجمیریؒ کو شرکت کی خصوصی دعوتیں دی گئیں۔
وفدِ فلسطین کا استقبال (1933ئ): 22/جون 1933ئ کو جامع مسجد دہلی میں فلسطین کے مفتی اعظم سید امین الحسینی کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ جلسے کی صدارت علامہ اجمیریؒ نے فرمائی۔
6۔ درگاہ بل سب کمیٹی اور آخری ایام (1936ئõ1940ئ)
درگاہ بل سب کمیٹی (1936ئ): یکم تا 3/فروری 1936ئ کو مراد آباد کے اجلاس میں علامہ اجمیریؒ کی تحریک پر راجہ غضنفر علی خان کے ’’درگاہ بل‘‘ کی شرعی تنقیح کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔
وفات اور تعزیت (1940ئ): 17/جنوری 1882ئ کو پیدا ہونے والے علامہ معین الدین اجمیریؒ 19/فروری 1940ئ کو وفات پا گئے۔ 3، 4/مارچ 1940ئ کو مجلس عاملہ اور پھر 7 تا 9/جون 1940ئ کو جمعیت کے بارھویں اجلاسِ عام میں ان کی تعزیت کی باقاعدہ قرارداد منظور کر کے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
7۔ مختصر سوانحی خاکہ
وہ جملہ علوم و فنون اور ریاضی کے متبحر عالم تھے۔ مدرسہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس رہنے کے بعد 1908ئ میں اجمیر آئے۔ وہاں مدرسہ معین الحق (بعد میں معینیہ عثمانیہ) اور دارالعلوم حنفیہ صوفیہ میں طویل عرصے تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ تحریکِ خلافت میں دو سال قید کاٹی۔ وہ جمعیت کے نائب صدر، راجپوتانہ خلافت کمیٹی کے صدر اور تحریکِ کشمیر کے دوران مجلسِ احرارِ اسلام کے ڈکٹیٹر رہے۔ وفات کے بعد خواجہ غریب نوازؒ کی درگاہ میں مسجد شاہجہانی کے زیرِ سایہ دفن ہوئے۔
محمد یاسین جہازی





















