راشٹرواد (5)
محمد یاسین جہازی
جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور ایک راشٹرواد کا نظریہ
28 جولائی 1914ء تا 11 نومبر 1918ء ہونے والی پہلی جنگِ عظیم کے دوران فوجی اور مالی تعاون کے بدلے برطانیہ نے ہندستانیوں سے سوراج اور خود اختیاری کا وعدہ کیا، عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو خلافتِ عثمانیہ کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی اور یہودیوں سے فلسطین میں قومی وطن کے قیام کا وعدہ کیا۔
مسلمانوں نے مقامات مقدسہ اور خلافت اسلامیہ کے تحفظ کی امید میں پونے نو لاکھ یا گیارہ لاکھ افراد سے مدد کی۔
لیکن جنگ کے بعد ان وعدوں کے برخلاف 30 اکتوبر 1918ء کی عارضی صلح اور 10 اگست 1920ء کے معاہدۂ سیورے نے خلافتِ عثمانیہ کو عملاً ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
اسی طرح ادھر ہندستانی سوراج اور خود اختیاری کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے، لیکن اس کے بجائے برطانوی حکومت ہند نے 19 مارچ 1919ء کو رولٹ ایکٹ نافذ کر کے ہندستانیوں کی غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑ دیا۔ جب اس کی مخالفت میں گاندھی جی کی قیادت میں 30 مارچ 1919 سے نان کوآپریشن یعنی تحریک عدم تعاون کو عملی شکل دیتے ہوئے پرامن احتجاج کیا گیا توجلیانوالہ باغ کا قتلِ عام (13 اپریل 1919ء) کا خونی سانحہ سامنے آیا۔
ادھر جب ہندستانی مسلمانوں کو خلافت عثمانیہ کی پامالی کی خبر ملی تو مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے نام سے 18/ ستمبر 1919ء کو منعقد کانفرنس میں کی چھٹی تجویز میں 17/اکتوبر1919ء ملک گیر سطح پر یوم خلافت منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے، یوم خلافت منایا۔
عارضی صلح کی خوشی میں برطانوی حکومت ہند نے 16 دسمبر 1919 کو جگہ جگہ جشن فتح منانے کا اعلان کیا تھا، اس لیے
3 نومبر 1919ء کو دہلی میں مولانا حسرت موہانی کی صدارت میں منعقدہ جلسے میں مہاتما گاندھی نے خلافت کے منصفانہ فیصلے تک صلح کا جشن نہ منانے اور ہندو مسلم اتحاد کے ذریعے مسلمانوں کے غم میں شریک ہونے کا اعلان کیا۔ ان کے اس پیغام نے پورے ہندستان میں خلافت کے حق میں ہندو مسلم یک جہتی کی فضا پیدا کر دی۔
اسی اجلاس کے موقع پر حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ نے ہندستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ برطانوی حکومت ہند کے خلاف ترک موالات کا فتوی دیا
تحفظ خلافت کے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 23 نومبر 1919ء کو دہلی دہلی میں آل انڈیا خلافت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ترک موالات کی تجویز اور ترک موالات کے فتوے کا اعادہ کیا گیا البتہ اس مرتبہ ترک موالات کا فتوی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے دیا ۔
اسی کانفرنس میں یہ بات آئی کہ سیاست میں مذہبی رہنمائی کے لیے علما کی کوئی جماعت ہونی چاہیے چنانچہ 23 نمبر 1919 کو عشا کی نماز کے بعد جمیعت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا ۔
یہ ہندستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کل ہند سطح پر مسلمانوں کی ایک تنظیم وجود میں آئی تھی۔
سوراج اور تحفظ خلافت کے وعدوں کی پامالی نے ہندستانی مسلمانوں کو بہت زیادہ برگشتہ کردیا، جس نے ہجرت کی تحریک کو ابھارا، لیکن جمعیت نے ہندستان چھوڑ کر افغانستان ہجرت کرنے کے بجائے ہندستان ہی میں رہ کر آزادی کی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ چنانچہ 6 ستمبر 1920ء کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں ترکِ موالات کی تجویز منظور کی اور 8 ستمبر 1920ء کو اس کی تائید میں سینکڑوں علما کے دستخطوں پر مشتمل فتویٰ جاری کیا ۔
اس کے بعد 18-19-20/نومبر1921 کو منعقد تیسرے اجلاس عام میں ہندستان کو آزاد کرانا مسلمانوں کا مذہبی فرض قرار دیتے ہوئے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔
اس پورے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ جمعیت نے ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ برطانوی اقتدار سے عدمِ تعاون کو عملی تحریک بنایا۔ اور جب اسی زمانے میں بعض حلقوں کی جانب سے ہندستان سے افغانستان ہجرت کی تحریک سامنے آ رہی تھی، تو جمعیت علمائے ہند نے اس کے برعکس ہندستان میں قیام، ہندو مسلم اتحاد، ترکِ موالات اور مشترکہ قومی جدوجہد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے۔ ڈومینین اسٹیٹس یا محدود خود اختیاری کے بجائے مکمل آزادی کو اپنا نصب العین بنایا اور متحدہ قومیت کی بنیاد پر ہندستانی مسلمانوں کے ایک ایسے راشٹرواد کو عملی صورت دی جس میں وطن کی آزادی کے لیے مختلف مذہبی و قومی طبقات کا باہمی اتحاد بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔
راشٹرواد کی مختلف تشریحات
جاری۔۔۔




















