راشٹرواد (3)
محمد یاسین جہازی
ذیلی عنوان:
*ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد کی دلیل نمبر (3)*
(3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا
1857ء کی جنگِ آزادی کی شکست سے اکابر دیوبند نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ
(1) تربیت یافتہ فوج، (2)جدید ہتھیاروں سے لیس, اور
(3) ہندستان سے انگلستان تک منظم حکومت کا
(1)غیر تربیت یافتہ عام ہندستانی عوام،
(2) گھریلو ہتھیاروں اور (3)منتشر قیادت کے ذریعے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، اس لیےاکابر دیوبند نے میدانِ رزم کے بجائے میدانِ بزم برپا کرنے کے مقصد سے 30/ مئی 1866ء کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ جس کے سرخیل حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
اس کے بالمقابل سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی نجات کا راستہ جدید تعلیم اور انگریزی حکومت سے مفاہمت میں تلاش کیا۔ یکم نومبر 1858ء کے ملکہ وکٹوریہ کے اعلانِ عام معافی کے بعد وہ مسلمانوں کے تعلیمی رہنما بن کر ابھرے، جس کے لیے 24/ مئی 1875ءکو علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم قائم کیا۔ جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی بنی۔ ان کا خیال تھا کہ موجودہ حالات میں انگریزوں سے تصادم مسلمانوں کے مفاد میں نہیں۔ بعد میں جب 28/ دسمبر 1885ء کو بمبئی میں اے او ہیوم کی کوششوں سے انڈین نیشنل کانگریس قائم ہوئی اور ہندو مسلم سب کے لیے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم سامنے آیا، تو سر سید نے اس کی مخالفت شروع کردی۔
18/ دسمبر 1887ء کو لکھنؤ میں سر سید نے ایک تقریر میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے۔ انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
1888ء میں پرنسپل بیک اور دوسرے انگریز رفقا کے تعاون سے کانگریس کی مخالفت میں انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن قائم ہوئی، اور سر سید اس کے نمایاں حامی بنے۔
اس سیاسی موقف کے جواب میں علمائے حق نے کانگریس کے ساتھ تعاون کا راستہ اختیار کیا۔ حضرات علمائے لدھیانہ اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے واضح کیا کہ ہندوؤں کے ساتھ دینی نہیں بلکہ مشترک دنیاوی اور ملکی مفاد کے لیے بلا ضرر تعاون جائز ہے۔ رسالہ ’’نصرۃ الابرار‘‘ میں یہ سب فتاویٰ موجود ہیں، جن میں کانگریس کے ایسے مقاصد، جو ہندو مسلم سب کے دنیاوی مفاد سے متعلق ہوں، میں شرکت کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن نے بھی 11 دسمبر 1888ء کو اس کی تائید کی۔
علمائے دیوبند کے اس موقف کی بنیاد یہ تھی کہ 1857ء کے بعد مسلمانوں کی فوجی اور سیاسی قوت باقی نہیں رہی تھی؛ اس لیے الگ اقتدار، یا دارالاسلام کے قیام کی کوشش کے بجائے ہندستان کے تمام باشندوں کو متحد کرکے انگریزی اقتدار کے خلاف مشترکہ جدوجہد ہی آزادی حاصل کرنے کا قابلِ عمل راستہ تھا۔ اسی فکر نے آگے چل کر متحدہ قومیت اور مشترکہ آزادی کی تحریک کی راہ ہموار کی ۔
متحدہ قومیت کے خلاف فرقہ پرستانہ ذہنیت کے فروغ کے لیے برطانوی حکومت ہند کی سازشیں
جاری۔۔۔۔۔
@all




















