منگل, ستمبر 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ارکان پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی اورمودی کی شاہ خرچی

    مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش

    مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش

    ریاضی کی تدریس کے نفسیاتی طریقے

    پیرنٹنگ

    پیرنٹنگ

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ارکان پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی اورمودی کی شاہ خرچی

    مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش

    مولانا ابوالبرکات مظاہری،حیات وخدمات کے روشن نقوش

    ریاضی کی تدریس کے نفسیاتی طریقے

    پیرنٹنگ

    پیرنٹنگ

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

by Admin
ستمبر 15, 2026
in قومی و بین الاقوامی, متفرق مضامین
0
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملاحظات،
بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں،
عبدالحمید نعمانی،
اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ مذہب کی جو بھی شکل رہی ہے، بھارت قدیم ،معلوم، نا معلوم عہد سے مذہب کا حامل ملک رہا ہے، تمام معاملات پر اسی کے تناظر میں سوچا جاتا رہا ہے، ڈاکٹر بھاگوت نے امریکہ میں ملک کے موجودہ عملی حالات سے پرے جا کر ویدانت فلسفہ پیش کر کے ایسی تصویر پیش کی ہے جس سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ہے، مذہب حاوی بھارت کی ساری روایات اور کہانیوں میں بھی اپنے اعمال و مراسم کے لیے نمونے اور مثالیں تلاش کی جاتی رہی ہیں، عالمی تناظر میں وحدت انسانی کا تصور اسلام اور مسلمانوں کے لیے کوئی ان کہی کہانی نہیں ہے، جب کہ تعدد الہ پرستی چار طبقاتی نظام کے ساتھ وحدت انسانی کا تصور مکمل شکل میں سماج کے سامنے نہیں آتا ہے، یہ رکاوٹ اسلام اور مسلمانوں کے سامنے نہیں ہے، فرقہ واریت کے حامی عناصر برہمن وادی سوچ کے حامل طبقے اپنی بالا تری اور دیگر کی محکومی کو بنائے رکھنے کے لیے مختلف قسم کے حربے استعمال کر کے اپنی پسند کا یک رنگا سماج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے ماضی میں مختلف ناموں سے کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن وہ بھارت کے تنوعات اور مختلف جداگانہ روایات و افکار کی طاقت ور لہروں کے سامنے ٹھہر نہیں سکیں، ماضی قریب سے چل کر حال تک جاری کئی تحریکات، آریہ سماج، ہندو مہا سبھا، آر ایس ایس وغیرہ نے بھی ویدک آریہ ورت، ہندوتو کے نام پر اکثریتی سماج کے شدت پسند طبقات کو متحد کر کے اپنے تفوق پر مبنی ایک رنگ کے معاشرے کی تشکیل کر کے آریہ ورت چکرورتی راج، اور ہندو راشٹر قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن اسے متنوع روایات و عقائد والے ملک کے باشندوں نے کبھی قبول نہیں کیا ہے، اور نہ عالمی برادری میں اس کی کوئی پذیرائی ہے، اس لیے بڑے بڑے فرقہ پرست لیڈر اور ہندوتو اور مزعومہ سناتن کی اشاعت و حفاظت کرنے کے دعوے کرنے والے کی زبانیں بھی مختلف مواقع و اوقات میں بدل جاتی ہیں، ان کو بھارت کی اصل روح، تنوعات کی زمین پر کھڑے ہونے کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا ہے، گرو گولولکر، کے سی سدرشن، خصوصا ڈاکٹر بھاگوت کو زندگی کے مختلف مراحل میں احساس ہوتا رہا ہے کہ متنوع روایات والے بھارت میں برہمن وادی تفوق والا یکسا ں رنگ والا” ہندو استھان ” کا وجود ،عمل میں نہیں آ سکتا ہے، اس لیے انھیں بھارت کے تنوعات میں وحدت انسانی کی تلاش کر کے خود کی تکمیل کرنے کی بات کہنی پڑتی رہی ہے، گرو گولولکر کی معروف کتابیں We Or Our Nation hood defined اور Bunch of Thoughts جو علی الترتیب 1939 اور 1966میں شائع ہوئی تھیں، کے بعد نظریے میں تھوڑی تبدیلی ہوئی تھی، Bunch of Thoughts کی اشاعت کے بعد گرو گولولکر 1973تک سات برس زندہ رہے، بعد میں بارہ جلدوں میں شائع کلیات، شری گرو سمگر میں کئی باتیں الگ نوعیت کی ملتی ہیں، بھارت پاکستان جنگ اور پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیس کے وجود میں آنے کے ساتھ ان میں احساس پیدا ہو گیا تھا کہ ہندو مسلم کے نام پر بھارت کی تقسیم صحیح نہیں تھی، اس لیے پھر سے اکھنڈ بھارت بنانے کی کوشش ہونی چاہیے، لیکن ان جیسے لوگوں کی سرگرمیوں سے بھارت میں پیدا شدہ حالات میں ملک میں فرقہ وارانہ اتحاد کی راہ وہ بھی ہموار نہیں کر سکے، اس سلسلے میں کئی باتوں کی نشاندہی، آرگنائزر کے سابق ایڈیٹر، کے آر ملکانی نے کچھ دنوں پہلے شائع اپنی کتاب، ہندو مسلم سنواد میں بڑی حد تک مثبت طریقے سے کی ہے، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا بھارت، پاکستان، بنگلہ دیس کے اتحاد کے حامی تھے، تاکہ ہندو مسلم کے نام پر نفرت کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے، سنگھ آج بھی ہند پاک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کے حق میں ہے، اس کی جڑ میں غالبا اکھنڈ بھارت کی راہ کھلی رکھنا ہے، یہ عملا ممکن نہیں ہے تاہم بھارت کے مسلمانوں کے سامنے باہمی بات چیت یا اکھنڈ بھارت کو لے کر کوئی مسئلہ نہیں ہے، ڈاکٹر بھاگوت سے پہلے سنگھ سرسنچالک کے سی سدرشن میں زندگی کے آخری مرحلے میں اسلام اور مسلمانوں کو لے کر تھوڑی مثبت تبدیلی پیدا ہو گئی تھی، اس کے متعلق روزنامہ جن ستا نے صفحہ اول پر اسٹوری شائع کی تھی، بذات خود ہم نے بھی ان میں مثبت تبدیلی دیکھی تھی، لیکن سنگھ کی بڑی اکثریت اس تبدیلی کو پسند نہیں کرتی تھی، مسلمانوں سے متعلق ڈاکٹر بھاگوت کے بھارت میں رہنے کی بات کو سنگھ والے قابل توجہ نہیں سمجھ رہے ہیں، ان کی اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا ہے، ڈاکٹر بھاگوت کو بھی بسا اوقات لگتا ہے کہ حد سے زیادہ فرقہ وارانہ نفرت و تفریق کا ملک اور عالمی سطح پر کوئی مثبت پیغام نہیں جا رہا ہے، اس کے پیش نظر وہ سنگھ کی فکری و عملی راہ سے کچھ ہٹ کر ہندستانی اساطیر، فکر و فلسفہ اور ویدانت سے رہنمائی لے کر کثرت میں وحدت کے فلسفے کو قبول کرنے کی بات کرتے ہیں، ثقافتوں کے تنوعات کو بھارت کی خصوصیت بتا رہے ہیں، اسی تناظر میں وہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت سے مسلمانوں کو باہر کرنے کا ذہن، ہندو، ہندوتو کے خلاف ہے، ایسا کہنے سوچنے والے ہندو نہیں ہو سکتے ہیں، ہندو، مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہے، انھیں باتوں کو امریکہ میں جا کر عالمی برادری کے سامنے رکھا ہے، وہاں انہوں نے کوئی نیا فلسفہ پیش نہیں کیا ہے، بھارت میں چار طبقاتی نظام پر مبنی انسانوں کی تقسیم اور تعدد الہ پرستی کے رگ رگ میں پیوست ہونے کے باوجود دنیا کو وحدت کا احساس کرانے کی کوشش کے کئی معانی ہیں، ڈاکٹر بھاگوت نے ویدانت فلسفہ سے فرقہ وارانہ سیاست سے پیدا ہونے والی نفرت انگیز تفریق اور عائد ہو رہے الزامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے، اس پر سیاست دانوں کی نظر نہیں ہے، اس سلسلے میں مولانا ارشد مدنی واحد شخصیت ہے جس نے وحدت الوجود اور ویدانت درشن اور ملک میں سنگھ سے وابستہ پارٹیوں/تنظیموں کے عملی رویے کے تضاد کو اجاگر کیا ہے، سوامی وویکا نند نے بھی 19ویں صدی میں امریکہ میں ہی ویدانت فلسفہ کے حوالے سے وحدت انسانی کا پیغام دیا تھا، لیکن وہ کہتے تھے کہ ویدانت فلسفہ ہندو سماج میں عمل تک نہیں پہنچ سکا ہے، انھوں نے ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ صرف اسلام کا فلسفہ وحدت، انسانی مساوات تک پہنچ سکا ہے، اس وضاحت تک ڈاکٹر بھاگوت کسی وجہ سے نہیں پہنچ سکے ہیں، لیکن وحدت انسانی کے پیش کردہ فلسفہ سے کسی سمجھ دار کو اختلاف نہیں ہے، مسئلہ عملی طور سے فرقہ وارانہ نفرت و تفریق کو ختم کرنا ہے، ڈاکٹر بھاگوت جس انسانی وجود کی وحدت کا فلسفہ و نظریہ پیش کر رہے ہیں اس سے سنگھ سے وابستگی رکھنے والی سیاسی و سماجی پارٹیوں /تنظیموں، بی جے پی، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل ودیارتھی پریشد وغیرہ کے 99فی صد افراد، دور و نفور اور شعور و ادراک سے عاری ہیں، تاہم بھارت میں اہل علم مسلم صوفیاء اور ہندو سنتوں نے اختلافات فکر و عمل کے باوجود ،انسانوں کے درمیان قرب و یگانگت کی روایات کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے، ان ہی اتحاد و محبت کی روایات کو منہدم کرنے کا کام ہندوتو وادی عناصر کر رہے ہیں، ہجومی تشدد، گائے کے نام پر تشدد کی ڈاکٹر بھاگوت نے یہ کہہ کر مذمت و مخالفت کی ہے کہ لنچنگ میں شامل شخص کو ہندو نہیں مانا جا سکتا ہے، گائے کے نام پر تشدد غلط ہے، لیکن اس طرح کی باتوں پر فساد پسند ہندوتو وادی عناصر، اپنے مقاصد کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں، یہ بڑا مشکل اور سنگین مسئلہ ہے، فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر کا بہت بڑا حصہ وہ ہے جو سنگھ سے باقاعدہ طور سے وابستہ نہیں ہے، وہ صرف سنگھ کی ان من پسند باتوں کو اختیار کرتا ہے، جن سے کاز کو تقویت ملتی ہے، ڈاکٹر بھاگوت کئی طرح سے اپنے موافق ماحول بنانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں لیکن ہندوتو وادی لیڈروں کی فرقہ وارانہ نفرت انگیز سرگرمیوں اور بیانات کو اپنے فلسفہ انسانی وحدت اور بھارت کی متنوع روایات کے مطابق بنانے میں کامیاب نہیں دکھائی نہیں دیتے ہیں، وہ اپنے نظریہ کے سمت میں کہاں تک آگے بڑھ پائیں گے، کہنا مشکل ہے، تاہم ویدانت فلسفہ کے تحت کوشش کو غلط نہیں کہا جا سکتا ہے، مسلم صوفیاء و علماء نے تو وحدت الہ، وحدت انسانی اور تکریم آدم کو عالمی تصور رسالت کے تحت اعلی ترین مقام تک پہنچا دیا ہے، اس کے پیش نظر اختلافات عقائد و اعمال کے باوجود، قرب و یگانگت کے ساتھ زندگی گزارنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، تبدیلی فکر و عمل، انسانی اعلی قدر، آزادی کے زمرے میں آتی ہے، اس حوالے سے بھارت کی تاریخ میں انسانیت و روحانیت کی تلاش کوئی اجنبی عمل نہیں ہے، ڈاکٹر اقبال نے اسرار خودی کے مقدمے میں اس کی طرف یہ کہہ کر واضح اشارہ کیا ہے "مسئلہ انا کی تحقیق و تدقیق میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی ذہنی تاریخ میں ایک عجیب و غریب مماثلت ہے، "ڈاکٹر بھاگوت نے بہتر آغاز کیا ہے لیکن مسلم صوفیاء اور دانشوروں کی طرح واضح مقام و عمل تک نہیں پہنچا سکے ہیں، مثلا اقبال نے مذکورہ کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے "بنی نوع انسان کی تاریخ میں شری کرشن کا نام ہمیشہ ادب و احترام سے لیا جائے گا "ڈاکٹر بھاگوت دوسرے پہلو کو پیش کر کے فرقہ وارانہ اتحاد کا پل بنانے کا کام کر سکتے ہیں، اس سے عظیم شخصیات کے خلاف برہنہ گفتاری پر روک لگ سکتی ہے،

Admin

Admin

Next Post

اکثریت واد کا بڑھتا دباؤ و رجحان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

پیرنٹنگ

پیرنٹنگ

4 ہفتے ago
محمد یاسین جہازی

ہجری کی تاریخ

6 مہینے ago

مقبول

  • اکثریت واد کا بڑھتا دباؤ و رجحان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بچوں کے لیے تعلیمی چیزیں،جو تدریس و تفہیم کے لیے ضروری ہیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • قرآن سے گیتا تک: انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا پیغام

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تعلیمی تصورات بچوں کی حقیقی زندگی سے اٹیچ ہونا ضروری ہیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.