محمد یاسین جہازی
اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی
ٹھیک آج سے ایک صدی پہلے11-14؍مارچ 1926ء کو منعقدجمعیت علمائے ہند نے اپنے ساتویں اجلاس کی تجویز نمبر6 میں اماموں کی تربیت کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جمعیت علمائے ہند سے مشورہ کے بعد ہی امام مقرر کریں۔ تجویز کا مکمل متن بھی ملاحظہ فرمالیں۔
جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اِس امر واقع کو دیکھتے ہوئے -کہ قصبات و دیہات میں مساجد کے امام ہی قصبوں اور گاؤں کے مذہبی مقتدا سمجھے جاتے ہیں اور ان کی مذہبی ضروریات کے متکفل ہوتے ہیں، لیکن اکثر امام محض جاہل اور بندۂ زر ہوتے ہیں، اِس وجہ سے مسلمانوں کی مذہبی حالت میں ترقی ہونے کی بجائے، روز بروز تنزل اور انحطاط ہوتا جاتا ہے- تمام قصبات و دیہات کے مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہے کہ وہ اپنی مساجد میں امام مقرر کرتے وقت، مقامی، یا اپنے سے قریب تر دفتر جمعیت علما کے مشورہ اور استصواب کے بعد امام مقرر کیا کریں، تاکہ اِن کو اچھے واقف کار امام میسر ہوں اور مساجد کے اماموں سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو نماز اور روزہ اور اسلام کے دیگر ضروری مسائل کی سیدھی سادی تعلیم دیتے رہا کریں۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، مولانا محمد یاسین جہازی)
ابھی گذشتہ دنوں جمعیت علمائے ہند کا ایک اہم اور فعال شعبہ ’’اصلاح معاشرہ‘‘ کے زیر اہتمام کل ہند سطح پر موجود صدور ونظمائے اصلاح معاشرہ کے لیے از 24 تا 27؍اگست 2026 چار روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں بہ تاریخ 25/اگست 2026، بروز بدھ ۔ بعد نماز مغرب استاذنا المکرم حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نقشبندی دامت برکاتہم نائب صدر جمیعت علمائے ہند و استاذ دارالعلوم دیوبند، ونگراں شعبہ اصلاح معاشرہ جمعیت علمائے ہند نے خطاب فرمایا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے جہاں تربیتی پروگرام کے سبھی عنوانات پر جامع تبصرہ اور رہ نمائی فرمائی، وہیں تدریب الائمہ کے حوالے سے بھی انتہائی جامع رہ نمائی فرمائی۔ اس طرح حضرت محترم نے جمعیت علمائے ہند کی ایک صدی قبل کیے گئے فیصلوں کی ضرورت و اہمیت کو دوبارہ اجاگر کردیا۔ ہم ذیل میں حضرت نقشبندی اطال اللہ عمرہ کے خطاب کا صرف وہ ضروری حصہ من و عن درج کر رہے ہیں، جو تدریب الائمہ کے حوالے سے ہے، لیجیے مطالعہ فرمائیے۔
تیسرا انھوں نے ایک عنوان لکھا ہے تدریب الائمہ کا۔ تدریب الائمہ اس زمانے کی میرے حساب سے شدید ترین ضرورتوں میں سے ہے۔ عملی صورت ابھی تک وہ نہیں بن پائی ہے جو چاہیے۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ایک مرکزی ادارہ ہو جس کی شاخیں ہر شہر میں ہوں اور اسی سے مساجد میں امام لیے جائیں۔ اس لیے کہ اجازت ہو تو یوں کہوں کہ امام اور مقتدی دونوں ہی کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ مقتدیوں کی کچھ زیادہ لیکن امام کی بھی بہرحال۔ اور موضوع ایسا ہے کہ اس زمانے کے اعتبار سے سلگتے ہوئے موضوعات میں بھی آپ اس کو کہہ سکتے ہیں۔ جیسے جیسے گل کھلائے جا رہے ہیں، ماحول میں اس کو دیکھتے ہوئے خیال ہوتا ہے کہ اس موضوع پر بہت محنت کی ضرورت ہے یعنی مسجدوں میں ایک تو مسجدوں والوں نے گڑبڑ کر رکھی ہے، مساجد کے متولیوں نے یا مقتدیوں نے ہر جگہ پر امام کو ملازم سمجھتے ہیں، لیکن اگر آپ غور کریں گے تو پتہ چلے گا کہ کچھ امام ایسے بھی ہیں جن کو مقتدی اپنا مقتدی ہی سمجھتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر ایسے امام آپ کو مل جائیں گے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہمارے اندر وہ صلاحیت اور وہ شرطیں پائی جائیں گی تو یقینا ماحول بدل سکتا ہے، ورنہ اگر امام صاحب ہر چیز میں متولی صاحب کے اشارہ ابرو کو دیکھنے والے ہوں گے اور کمزور ہوں گے تو پھر تو وہی نقصان ہوگا۔
ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے کہ مسجد کے خطیب صاحب جمعہ کے دن اپنے خطاب میں روس اور امریکہ کے صدر کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور مسجد کے صدر سے ڈرتے رہتے ہیں، یہ ہوتا ہے۔ اچھا ڈرنا اس لیے پڑتا ہے کہ مسجدوں کے جو صدر ہیں زیادہ تر، ان کو اللہ میاں سے ڈر نہیں لگتا، امام سے کیا ڈریں گے۔ انہوں نے تو یہ طے کر رکھا ہے کہ منبر سے وہ بات ہو جو ہماری مرضی کے مطابق ہو۔
مجھے اصل میں صاف بولنے کی عادت ہے عوامی مجمعے میں بھی اس موضوع پر بہت کھل کے اور بعض دفعہ سخت بول جاتا ہوں، اس لیے کہ ناس کر رکھا ہے لوگوں نے۔ اسی دہلی میں وہ مسجد ہے جہاں پر سود کے خلاف تقریر کرکے امامت چلی گئی، اس لیے کہ متولی صاحب کے کاروبار میں سود تھا۔
قریبی شہر میں وہ مسجد ہے جہاں شادی بیاہ کی رسموں کے خلاف تقریر کرنے کی وجہ سے امام صاحب کی امامت چلی گئی، چوں کہ متولی صاحب کے دوست کے یہاں اسی ہفتے میں شادی تھی، انھوں نے سمجھا یہ ہمارے خلاف تقریر ہوئی ہے۔
اور دہلی کے قریب ہی علاقے میں وہ مسجد موجود ہے، جہاں کے امام صاحب کی امامت اس لیے چلی گئی کہ امام صاحب نے اپنے گھر کی کوئی زمین بیچ کر گاؤں کے اس علاقے میں ایک پچاس گز کا پلاٹ لے لیا تھا۔ گھر بنانے کے لیے پیسے کہاں سے آئے امام کے پاس۔ امامت چلی گئی۔ واقعتاً اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے جیسے میں بول رہا ہوں ویسے ہی ہوا۔ بہت برا حال ہے نظام کا، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ظاہر ہے اپنے حالات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ میں سوچتا ہوں اور آپ دیکھیں اس کو کہ آپ کسی نئے علاقے میں نماز پڑھیں، نئے یا پرانے کی کیا بات ہے، کہیں بھی نماز پڑھیں، تو صحیح قرات کرنے والے امام اکثریت میں تو نہیں ہیں۔ کم لوگ ہیں جن کی قرات صحیح ہوتی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک آدمی امامت کا ملازم ہے، خالی اور باقی اوقات میں کوئی کام نہیں ہے، وہ تو چھ مہینے میں قاری عبدالباسط بن سکتا ہے محنت کرکے۔ اگر محنت کرے گا آدمی تو وہ ایک سال میں شان دار قاری بن جائے گا، مگر دس سال پہلے امام ہوا تھا، جیسی قرات اس وقت کرتی تھی، اس سے تھوڑی اور خراب ہی کرتا ہے اب۔
خراب سے میری مراد یہ ہے کہ قرات تو ویسی ہی ہے۔ پیشہ ورانہ انداز اس میں آگیا ہے۔
پیشہ ورانہ انداز یہ ہے کہ وہ جو مقتدی ہیں بیچارے، ان کو تھوڑا سا نغمہ اور کھینچ تان پسند ہے۔ تو امام صاحب انھی کے ذوق کے مطابق میں۔
پرسوں ایک جگہ تھا بمبئی میں ، تو پتہ چلا کہ لوگ کہہ کر ایکو چلواتے ہیں اور بڑھواتے ہیں قرات نماز کے وقت میں۔ حیرت ہوئی مجھے کہ کتنے بدذوقی کی بات ہے۔ بھئی قرآن کی آواز کو محسوس کرو ۔ قرات کو محسوس کرو۔ ایکو سے لطف لے رہے ہیں نماز میں۔ چوں کہ فساد ہو گیا ہے ذوق میں ،فساد آگیا ہے گانے سن سن کر، تو امام لوگ اس کے تابع چل رہے ہیں۔ ہر امام کا ایک الگ لہجہ ملے گا۔ بعض علاقوں میں ایک علاقے کا آپ کو لہجہ ملے گا۔ اور میں نام لیے بغیر بول رہا ہوں لیکن آپ جاکر تجربہ کر سکتے ہیں اور اس لہجے کا قرات کے لہجوں سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ علم قرات تو ایک مرتب فن ہے پورا، اور اس کو آپ حاصل کر سکتے ہیں ۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ علم حدیث کی طرح اتنا پھیلا ہوا ہو۔ اس کے جو ضروری اجزاء ہیں، ان کو آپ ایک سال میں سمٹ سکتے ہیں آسانی کے ساتھ، لیکن کوئی اس پر توجہ نہیں کرتا۔
اسی طرح بیان ہے، بیان کے لیے محنت نہیں کرتے لوگ۔ جمعہ کے دن بیان کرنا ہے، تو بس وہ چند چیزیں جو ذہنوں میں ہیں حافظے سے بیان کرنے کا عام مزاج ہے تو جتنا وہ آجاتا ہے وقت پر، اتنا بول دیتے ہیں۔ اس میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پندرہ منٹ کی تقریر میں پندرہ ہی موضوعات پر بات ہو جاتی ہے اور کسی پر بھی نہیں ہوتی۔ جب اتنے موضوعات پر ہوگی تو کس پر ہوگی۔ ایک موضوع پر آدمی بات کرے، یا ضرورت کے موضوع پر بات کرے، لیکن مطالعہ کرکے بات کرے۔
ہمارے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں ہم نے اس پوری اپنی زندگی میں سب سے زیادہ جو ممتاز صفت دیکھی اور لوگوں کے مقابلے میں، وہ یہ کہ ہر بیان تیاری کے ساتھ۔ اور تیاری بھی تحریری ہوتی تھی، سات آٹھ صفحے ان کے ہاتھ میں ہوتے تھے لکھے ہوئے، ہمیشہ، ہر بیان کے لیے۔
تو بہت ساری چیزیں ہیں، جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے تدریب ائمہ کے موضوع کے سلسلے میں۔ اور خیال یہی ہے کہ کوئی ایسی تدریب کی ترتیب اگر بن جائے کہ کوئی کورس ہو اور اس کو پاس کرنے کے بعد ہی آدمی مسجد کا امام بنایا جائے۔
اور اگرچہ یہ آسان کام نہیں ہے، اس لیے کہ ہر جگہ کے لوگ اپنا اختیار تنظیم کے ہاتھ میں جلدی سے دینے کو تیار نہیں ہوں گے، لیکن بہرحال جب ماحول بنے گا تو فائدہ ہوگا۔
اس کامیاب ٹریننگ کے انعقاد کے لیے شعبہ اصلاح معاشرہ کے معتمد مولانا معظم عارفی صاحب بھی صد تبریک و تحسین کے مستحق ہیں، ناچیز انھیں خصوصی ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے۔






















