مفتی محمد حفظ الرحمن قاسمی استاذ جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدر آباد
دنیا کے مذاہب و اقوام میں تیوہار اور خوشیاں منانے کے مختلف طریقے ہیں۔ ہر ایک تیوہار کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہوتا ہے اور ہر تیوہار کوئی نہ کوئی پیغام دے کر جاتا ہے، جس سے نیکیوں کی ترغیب اور برائیوں کو ختم کرنے کی دعوت ملتی ہے؛ لیکن وقت گزرنے اور لوگوں میں بگاڑ آنے کی وجہ سے ان تیوہاروں میں کچھ ایسی بدعات وخرافات در آتی ہیں، جن سے ان کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔چناں چہ جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی گئی اور مہذب ہوتی گئی، انسانوں نے تہذیب و ثقا فت اور کلچر و آرٹ کے نام پر نئے نئےجشن اور تیوہار وضع کیے انھیں میں سے ایک نئے سال کا جشن ہے ۔حالاں کہ اسلامی تعلیم کا تقاضہ ہے کہ ،جو کچھ بھی ہم کرنے جا رہے ہیں ، اس کی کیا حیثیت ہے؛ اس لیے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سال کا جشن منایا؟ کیا صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم نے آپس میں ایک دوسرے کونئے سال کی مبارک باد دی؟کیا تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں اس رسم کو منایاگیا؟ کیا دیگر مسلمان حکمرانوں نے اس کے جشن کی محفلوں میں شرکت کی؟ جب کہ اس وقت تک اسلام کا پرچم جزیرۃ العرب سے نکل کر ایران، عراق، مصر، شام ،افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک تک پہنچ چکا تھا۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر عقل مند شخص نفی میں دے گا۔ تو پھرسوال ہے کہ آج کیوں مسلمان اس کام کو انجام دے رہے ہیں؟آخراس کی شروعات کس نے کی ؟ کو ن لوگ نئے سال کا جشن مناتے ہیں ؟ کیوں مناتے ہے؟ اور اس وقت مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ ان چند سطور کے اندر اسی کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔در اصل یہ نئے سال کا جشن عیسائیوں کاایجاد کیا ہوا ہے، عیسائیوں میں قدیم زمانے سے نئے سال کے موقع پر جشن منانے کی روایت چلی آرہی ہے، جس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق ۲۵/دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش ہوئی ، اسی کی خوشی میں کرسمس ڈے منایا جاتا ہے ،اور چوں کہ موجودہ وقت میں دنیا کی سب سے بڑی آبادی عیسائیوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے ا س دن پوری دنیا میں جشن کا ماحول رہتا ہے اور نئے سال کی آمد تک یہی کیفیت بر قرار رہتی ہے۔نئے سال کے جشن میں پورے ملک کو رنگ برنگی لائٹوں اور قمقموں سے سجایا جاتا ہے اور ۳۱/دسمبر کی رات میں ۱۲/ بجنے کا انتظار کیا جاتاہے اور ۱۲/بجتے ہی سب ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگتے ہیں ، کیک کاٹا جاتا ہے، ہر طرف ہیپی نیو ائیر کی صدا گونجنے لگتی ہے، آتش بازیاں ہوتی ہیں اور مختلف نائٹ کلبوں میں تفریحی پروگرام رکھا جاتاہے، جس میں شراب و شباب اور ڈانس کا بھر پور انتظام رہتا ہے اور بے حیائی و بے شرمی کا ننگا ناچ ناچا جاتا ہے ،اور نہ جانے کس کس طرح خرافات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ان عیسائیوں کی طر ح اب یہ خرابی مسلمانوں میں بھی در آئی ہے اور اس موقع پر بہت سے مسلمان بھی نئے سال کے انتظار میں ہتے ہیں اور ۳۱/ دسمبر کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں ، ان مسلمانوں نے اپنی اقدارو روایات کو کم تر اور حقیر سمجھ کر نئے سال کا جشن منانا شروع کر دیا ہے؛ جب کہ یہ عیسائیوں کا ترتیب دیا ہوا نظام تاریخ ہے۔ آج جو لوگ نئے سال کی آمد پر جشن منا رہے ہیں ، کیا انکو یہ معلوم نہیں کہ اس نئے سال کی آمد پر ان کی زندگی کا ایک برس کم ہوگیا ہے ، زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی ایک بیش قیمت نعمت ہے اور نعمت کے ختم یا کم ہونے پر جشن نہیں منایا جاتا؛ بل کہ افسوس کیا جاتاہے۔گزرا ہوا سال تلخ تجربات، حسیں یادیں، خوشگوار واقعات اور غم و اندوہ کے واقعات چھوڑ کر رخصت ہوجاتا ہے اور انسان کو زندگی کی بے ثباتی اور نا پائیداری کا پیغام دے کر الوداع کہتا ہے، سال ختم ہوتاہے تو زندگی کی بہاریں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور انسان اپنی مقررہ مدت کی تکمیل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔اس لیے ہمیں بیکار اور لغو کاموں میں سے دور رہ کر اپنے دین و آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :”مِنْ حُسْنِ إسْلاِمِ الْمَرْءِ تَرْکُہ مَالاَیَعْنِیْہِ“۔ (ترمذی ۲/۵۸ قدیمی) ترجمہ: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول چیزوں سے بچے۔اس لیے کہ یہ مختلف قسم کے جشن یہود و نصاری اور دوسری قومیں مناتی ہیں ؛ جیسے: مدرز ڈے، فادرز ڈے، ویلنٹائن ڈے، چلڈرنز ڈے اور ٹیچرس ڈے وغیرہ؛ اور بہ حیثیت مسلمان ہمیں ان کے منانے کی نہیں ؛ بلکہ بچنے کی ضرورت ہے؛تاکہ دوسری قوموں کی مشابہت سے بچا جاسکے؛ اس لیے کہ شریعت نے ہمیں غیروں کی اتباع اور مشابہت اختیار کرنے سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ“۔ (ابودوٴد ۲/۲۰۳ رحمانیہ) ترجمہ: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انھیں میں سے ہے۔اس لیےہمیں اس سے مکمل طور پر بچنا چاہیے،اوراس وقت مسلمانوں کو دو کام خاص طور پر کرنا چاہیے : (۱) ماضی کا احتساب (۲) مستقبل کا لائحہ عمل۔ماضی کا احتساباس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”حَاسِبُوْا أنْفُسَکُمْ قَبْلَ أنْ تُحَاسَبُوْا“۔ (ترمذی ۴/ ۲۴۷ ابواب الزہد، بیروت) ترجمہ: تم خود اپنا محاسبہ کرواس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔اس لیے نئے سال کے موقع پر ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنے محاسبہ کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ کہ ہماری زندگی کا جو ایک اہم سال گذر گیا اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟اس لیے کہ اگر ہم نے اپنا محاسبہ کر کے وقت سے پہلے اپنی غلطیوں کی اصلاح نہیں کی ، اپنی کمیوں کوتاہیوں کو دور نہیں کیا ؛ تو دوبارہ ہمیں پھر موقع میسر نہیں ہوگا۔ مستقبل کا لائحہ عملاور اپنی خود احتسابی اور جائزے کے بعد تجربات کی روشنی میں بہتر مستقبل کی تعمیر و تشکیل کے منصوبے میں منہمک ہوجائیں کہ کمزوریوں کو کس طرح اور ختم کیا جائے ؟خواہ وہ کمی وکوتاہی دینی معاملات میں ہو یا دنیوی معاملات میں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ شَبَابَکَ قَبْلَ ھَرَمِکَ ، وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ، وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ، وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ ، وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ“۔ (مشکاة المصابیح ۲/۴۴۱ کتاب الرقاق)ترجمہ: پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت سمجھو (۱) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۲) صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے (۳) مالداری کو فقروفاقے سے پہلے (۴) خالی اور فرصت کے اوقات کو مشغولیت سے پہلے (۵) زندگی کو موت سے پہلے۔آخرت کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے۔ جیساکہ ارشاد ربانی ہے:” وَأنْ لَیْسَ لِلإنْسَانِ إلاَّ مَاسَعٰی، وَأنَّ سَعْیَہ سَوْفَ یُرٰی، ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَاءَ الأوْفیٰ“۔ (سورہٴ نجم، آیت/ ۳۹،۴۰،۴۱)ترجمہ: اور ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی، اور بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی، پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔اس لیے ہمیں نئے سال کو خوشی کا موقع سمجھ کر اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو فضول اور بے کار کے کاموں میں برباد نہیں کرنا ہے؛ بلکہ گزرے ہوئے وقت سے سبق لیتے ہوئے آنے والے زندگی کے لمحات کا صحیح اور درست استعمال کرنے کےلیے لائحۃ عمل بنا کر اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرنا ہے اخیر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو غیروں کی مشابہت سے بچائے اور آقائے نامدار تاج دار بطحا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی مکمل اتباع کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین


















