محمد یاسین جہازی
جب ہم اپنی عام گفتگو میں یہ محاورہ استعمال کرتے ہیں کہ ’’زمانہ بدل گیا‘‘، تو ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ زمانہ میں کچھ تبدیلی پیدا ہوگئی، یا ایسا ہو اکہ پہلے زمانہ شباب پر تھا اور اب بڑھاپے کی دہلیز پر ہے، یا پھر آفتاب و ماہتاب کے مقررہ نظام میں کچھ تغیر واقع ہوگیا ہے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قدرت کی عطا کردہ بے بہا اور بیش قیمت نعمت ’’ وقت اور لمحات‘‘ سے بہرہ ور ہونے والے اور اس سے مستمتع ہونے والے ناسپاس انسان بدل گئے۔
اوراس کا بھی یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پہلے کے انسان موجودہ خلقت و صورت اور ہیکل و ہیئت والے انسان سے مختلف تھے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی پیدا کردہ اس اشرف المخلوقات مخلوق انسان کی انسانیت بدل گئی۔ اور یہ ایسی اصل حقیقت ہے جس میں بنی آدم کے کسی فرد کی تخصیص نہیں، الا یہ کہ قدرت کاملہ کے دست غیب نے بروقت اس کی دست گیری کی ہو اور سفینہ ہدایت پر سوار کرکے امواج حوادث، لرزہ بر اندام تھپیڑوں ، فتنہ و فساد کی ہلاکت بار اور جاں گسار طغیانی لہروں سے نجات دے دیا ہو۔ چنانچہ اس حقیقت کی جلوہ آرائیوں کا نظارہ دنیا کی تمام چیزوں میں (خواہ اس کا تعلق سیادت و قیادت سے ہو یا معاشرت و معاملات سے، اور دین سے ہو یا دنیا سے) بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ توضیح مدعا کے لیے چند مثالیں سپرد قرطاس ہیں:
(۱) دنیاوی زندگی میں آدمی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق کی نگہانی اس کے سپرد ہوجائے، یعنی مملکت و حکومت کا وہ مالک بن جائے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور کو یاد کیجیے ، جب حضرت عبداللہ ابن عمر اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما نے حکومت و قیادت کی باگ ڈور ہاتھ میں لینے سے یکسر انکار کردیا تھا اور وہ شاندار دور حضرات تابعین کا تھا جب کہ حضرت ابراہیم بن ادہم اور قاسم ابن ربیعہ جرشی وغیرہ نے سلطنت و بادشاہت کی کرسی پر بیٹھنے سے یک قلم منھ پھیر لیا ۔ اور کسی ہیچ اور کمتر چیز کی طرح حکمرانی کی کرسی کو لات دے ماری ؛ لیکن آج کے سیاسی حالات پر نظر دوڑائیے تو یہ بات واضح ہوگی کہ حالات پیش رو زمانہ کے بالکل مختلف ہے ، بلکہ آج کے سگان دنیا سیادت کی ہڈی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر اس طرح پنجہ آزمائی کرتے ہیں کہ اس بھیانک و خوفناک لمحات کی منظر کشی کے لیے الفاظ کے تودے نہیں اور جس کا یہ موقع بھی نہیں۔
(۲) والدین کی اطاعت، بھائیوں کے ساتھ اخوت ، بہنوں کی عصمت و عفت کی حفاظت ، بوڑھوں کی توقیر و عزت ، بڑوں سے انسیت، چھوٹوں سے الفت، بچوں پر شفقت، اظہار نجابت و شرافت، استادوں کی خدمت، طالب علموں کی محنت و مشقت، شاگردوں کا عزم و ہمت، حصول علم کے لیے سامنائے کلفت، مشفقوں کی عظمت، آپسی حمیت و غیرت، غریبوں کی نصرت، ضعیفوں کی حمایت، قوم وملت کے ساتھ اتحاد و یگانگت، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک، دوست و احباب کی وفا شعاری، آشناؤں کی محبت و شیفتگی، غیروں کے ساتھ حسن گفتاری، لوگوں کے ساتھ عمدہ کرداری، مظلوموں کی غم خواہی، بے کسوں کی بیکسی میں ہمنوائی، دل شکستہ کے لیے طرب سرائی، رشتہ داروں کے ساتھ کرم فرمائی، محبین کی مہربانی، مخلصین کی کرشمہ سازی، بر موقع جاں نثاری، عشق و محبت کی راہ میں ایثار، غیروں سے خوش دل کلام اور بلا امتیاز سب کو سلام؛ یہ سب اب صرف لکھنے کے الفاظ اور برائے تنوع کلام رہ گئے ہیں اور ایک خوب صورت معاشرہ کی انوکھی منظر کشی کرنے کے لیے مواد کی حیثیت رکھتا ہے ، کیوں کہ یہ چیزیں اس زمانے میں اس طرح عنقا ہوگئی ہیں، جیسے کہ ان کا وجود پہلے کبھی تھا ہی نہیں، حالاں کہ ہم نے یہ الفاظ اور خیال قدیم زمانے ہی سے مستعار لیے ہیں۔
(۳) ایک وقت تھا جب کہ عورتیں پردہ کو اپنے لیے حیا اور شرافت کی چادر جانتی تھیں۔ پردہ پوشی کو باعث فخر سمجھتیں، اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کا ذریعہ گردانتیں، اپنے ناموس کی قدر دین کا ایک جزو لازم اور دنیاوی شرافت کی جزو لاینفک خیال کرتی تھیں۔ اور یہ بھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ یہ صنف نازک ملکہ خانہ اور گھر کی رونق تھی۔ اور گھروں کی چہار دیواری ہی ان کے لیے باغ و بہار ہوا کرتی تھی۔ اور ان کی شرافت و نجابت کا معیار بھی یہی ہے کہ وہ حجاب پوش ہوں اور گھروں کی چہار دیواری کو دنیا و مافیہا سمجھتیں۔ لیکن اکیسویں صدی کا یہ عالم ہے کہ جو عورت سب سے زیادہ اپنے نازک جسم کی آرائش و زیبائش کرکے خوب خوب نمائش کریںاور بدن کو لباس سے عاری، رقص و سرود کے رول کی ادا کاری، ناچ گانوں کی محفلوں میں فحاشی و عیاشی، چند سکوں کی خاطر جسم فروشی ، حصول دنیا کے لیے شہوت انگیز نغموں کی نغمہ سرائی، دل سوز و جاں ریز عشوہ طرازی، روح ریختہ ہیجان خیزی، جنسی اشتعال انگیزی اور شرم و حیا کی پردہ دری کریں، بازاروں کی زینت بنیں، اشتہار میں تصاویر چھپوائیں، میلہ ٹھیلہ کی رونق، انجمنوں اور کانفرنسوں کے لیے قمقمہ برق ہوں، وہ عورتیں دنیا بھر میں باعزت تسلیم کی جاتی ہیں۔ غرض جو چیزیں زمانہ قدیم میں باعث نقص اور عیب و عار مانی جاتی تھیں( جو بالکل مقتضائے فطرت تھی) بعینہ وہی چیزیں اکیسویں صدی میں عزت و شرافت کی علامت مانی جارہی ہیں۔
(۴) میر صادق اور میر جعفر کی بیوفائی پر صد ہزار لعنت کریں، یہ ٹھیک ہے ۔ ان کی غداری کی داستان سرائی سے کب روکا گیا ہے۔ ان کی دغابازی پر خوں فشانی قابل ملامت نہیں۔ ان کی مکاری اور دھوکہ بازی کی قصہ گوئی آئندہ نسلوں کے لیے ایک عبرت آمیز درس ہوسکتاہے ، لیکن اکیسویں صدی کے باشندگان میں سے کون ہے، جسے مجسمہ وفا کہیں اور کون ہے جو وعدہ وفائی میں عہد کہن کی یاد رسانی کرے ۔ اور وہ کہاں ہے جس کو مجسمہ صدق کے خطاب سے نوازیں۔
(۵) کچھ دن قبل کی بات ہے کہ دست سوال دراز کرنا باعث عیب و عار تھا۔ اور سوال کی ذلت و مسکنت سے اجتناب کیا جاتا تھا؛ لیکن آج دیکھیے کہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے تو درکنار، امت کے رہنما کہلانے والے سر پر ٹوپی پہن کر، لمبے چوڑے قبے زیب تن کرکے ایک ہاتھ میں قلم ، دوسرے ہاتھ میں رسید لیے گردن میں ایک جھولا ڈال کر زکوٰۃ، صدقات اور چرم قربانی مدرسوں کے مقدس نام پر مانگتے پھرتے ہیں، اور پیٹ العلوم اور پائجامۃ العلوم جیسے بے بنیاد مدارس کے نام پر امت کی تمام رقوم بنام چندہ وصول کرکے اپنے پیٹوں کو دراز کرنے اور اپنی ذاتی دنیاوی سامان تعیش مہیا کرنے میں صرف کر رہے ہیں ، ہائے رے انقلاب زمانہ!!۔
اس عنوان کے تحت یہ چند واقعات بطور تمثیل کے لکھے گئے ہیں ، ورنہ استقراء کیا جائے تو اتنے واقعات ملیں گے کہ لکھتے لکھتے دفتر کے دفتر سیاہ ہوجائیں، لیکن واقعات ختم نہیں ہوں گے۔
کلام پاک میں ہے کہ
و تلک الایام نداولھا بین الناس۔ (آل عمران، ۱۴۰)
کہ لوگوں کے درمیان ہم زمانے کو بدلتے رہتے ہیں ۔ کبھی کوئی زمانہ کسی کے لیے باعث مسرت ہوتا ہے ، تو وہی زمانہ دوسرے کے لیے باعث حسرت ہوتا ہے۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے ، تاکہ لوگ مسرت کے لمحات پر شکر وسپاس کا اظہار کریں اور حسرت کے لمحات سے عبرت حاصل کریں۔
ہم زمانے کے تغیر و تبدل اور نیرنگیوں پر غور و فکر کرتے ہیں ، تو ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ کبھی وہ زمانہ بھی تھا جو خیر القرون کہلاتا تھا، یعنی ہر طرف امن و امان کے پھول کھلے ہوئے تھے ، صلح و آشتی کے چمن میں بہار ہی بہار رہتی تھی، اخوت و محبت اور ایثار و جاں نثاری کی خوشبو سے پورا ماحول معطر رہتا تھااور ہر طرف انسانیت کا بول بالا تھا؛ لیکن موجودہ حالات سابقہ حالات کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں ، آج ہر طرف فتنہ و فساد اٹھ رہے ہیں ، ہر سمت ظلم و طغیان کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور کفرو وطغیان کی نحوست سے انسانیت چیخ رہی ہے ۔ اور ان تمام خرابیوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔
ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس۔(الروم، ۴۱)
لہذا اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ زمانہ بدل گیا، تو اس کے ساتھ ہم کو بھی بدلنا چاہیے۔ اور ہمیں زندگی کے ہر پہلو میں عہد ماضی کی پیروی کرنی چاہیے، تاکہ پھر وہی زمانہ لوٹ کر آجائے جسے ہم خیر القرون کے مقدس کے نام سے پکارتے ہیں۔

















