مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ
اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ موجودہ دور میں ہم مسلمانوں پر شدید قسم کی غفلت اور بے عملی مسلط ہوگئی ہے۔ اور اس بے عملی کا تعلق کسی خاص شعبہ حیات سے نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ہم اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔ اس عمومی دینی انحطاط کا ایک چھوٹا سا شعبہ یہ بھی ہے کہ ہم نے مساجد کا حق ادا کرنے اور اس کے پیغام کی نشر و اشاعت میں اس حد تک غفلت سے کام لیا کہ اندیشہ ہے کہ ہم پر حضور علی ہے کا یہ ارشاد صادق نہ آرہا ہو کہ مساجدهم عامرة وهى خراب انکی مسجدیں ( ظاہری طور پر آباد ہوں گی لیکن ( در حقیقت ) ویران ۔ ۔ جب ہم قرآن کریم سنت المان نماز امربالم جب ہم قرآن کریم سنت نبویہ خیرالقرون کے تعامل اور سلف صالحین کے طرز پر غور کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس دور کی مسجدیں در حقیقت مسلمانوں کے روحانی مراکز کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ مساجد ہ ہیں ذکر اللہ نماز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض ادا کیے جاتے تھے۔ انہی میں قرآن وسنت کی تعلیم اسلام کی طرف دعوت کا اہتمام نو خیرنس کی صحیح اسلامی تربیت باطنی تزکیہ اور عوام الناس کے ذہنوں کو دینی نقل و حرکت اور اپنی ہر ادا سے اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔ خطوط پر استوار کیا جاتا تھا۔ یہی سے دین اسلام کی دعوت کے وہ سپاہی نمودار ہوتے تھے جو صرف زبان اور ہاتوں سے نہیں بلکہ اپنی ایک ایکجب یہ سارے کام اسی سرگرمی سے مسجد میں انجام دیئے جاتے تھے تو ہر مسجد اپنے محلہ کیلئے ہر بھلائی کا منبع اور ہر ہدایت کا سر چشمہ بن گئی تھی۔ جو مسلمانوں میں خالص دینی روح پھونکی تھی اور ان میں ایسی دینی غیرت و حمیت پیدا کر و حمیت پیدا کر دی تھی کہ وہ نہ کبھی کسی بیرونی ترغیب و ترہیب کے آگے سرجھکانے کیلے تیار تھے اورنہ کی باطل نظریہ عمل کواپنانے کا خیال ان کے دل میں آسکتا تھا۔ خواہ اس باطل نظریہ عمل کا ظاہری روکار کتنا دلکش ہو اور خواہ ساری دنیا اس کی شہرت اور رواج سے گونج رہی ہو۔اگر ہم مختصر لفظوں میں مسجد کے پیغام کو تعبیر کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے دعوت الی اللہ کلمہ حق کی نشر واشاعت خالص اسلامی ذہنیت کی تعمیر اور ایک ایسی عام دینی و روحانی فضا کا قیام جس میں نیکیوں کو خود بخود فروغ ہو اور برائیاں اپنی موت آپ مر جائیں۔ جن مساجد میں یہ سارے کام قابل ذکر اہتمام کے ساتھ ہوتے ہیں انکی تعداد بہت تھوڑی ہے یا جو حضرات اپنی مسجدوں میں ان دینی خدمات کا اہتمام کرتے ہیں تو عام طور سے یہ سارے کام کسی طور پر انجام دیتے ہیں جو عموما اپنی حقیقت اور روح سے خالی ہوتے ہیں۔ جو صرف کانوں تک پہنچتے ہیں دل میں داخل نہیں ہوتے ۔مسجد کے پیغام کو زندہ کرنے کیلئے چندا ہم تجاویز1ائمہ مساجد ایسے علماء میں سے منتخب کئے جائیں جنہوں نے اسلامی علوم کو ماہر اساتذہ سے حاصل کیا ہو۔-2 ہر مسجد میں ایک ایسی کمیٹی ہو جو امام اور اہل محلہ پر مشتمل ہو ۔ جو دعوت و تبلیغ کیلئے ایک عملی نظام بنائے ۔ جس کے تحت یہ سبلوگ ہر روز یا ہر ہفتے محلے کی عوام کے پاس جا کر ان سے شخصی ملاقاتیں کرے ۔ انہیں نماز کی پابندی، مسجد کی حاضری کی دعوت، نیکیوں کی ترغیب اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کریں۔ لیکن یہ سارا کام نرمی، محبت و شفقت اور حکمت و موعظہ حسنہ کے اصول پر ہونا چاہیے۔3. اور ہر مسجد میں روزانہ مختصر درس قرآن ہونا چاہیے۔ جس میں کوشش کی جائے کہ تمام نمازی شریک ہوں اور درس قرآن کی تعلیمات سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کی جائیں ۔ اور اس میں طویل فنی بحثیں یا علمی اختلافات نہ چھیڑے جائیں۔4۔ امام مسجد کو چاہیے کہ وہ ایک دن عورتوں کی تعلیم کیلئے مقرر کرے ۔ خواتین محلے کے کسی گھر میں جمع ہوں اور امام ان کو نصیحت کرے۔ انہیں دین کے ضروری احکام سکھائے اور نبی کریم ہے اور ازواج مطہرات کے حالات اور تاریخ اسلام کے چیدہ چیدہ واقعات سنائے۔5۔ ہر مسجد میں ایک مختصر دار المطالعہ ہونا چاہیے جس میں مقامی زبان میں لکھی ہوئی دینی کتابوں کا مستند ذخیرہ موجود ہو اور عام مسلمان ان سے فائدہ اٹھائیں۔اگر ہم ان تجاویز پرٹھیک ٹھیک عمل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو امید ہے کہ ان شاء اللہ مساجد میں وہ فوائد دوبارہ حاصل ہوسکیں گے جو ماضی میں حاصل ہوئے جن سے اب تک ہم سے محروم رہے۔ (از افادات حضرت مولانا منت محمدشفیع صاحب رحم الله فتی اعظم پاکستان(تعلیمی درس قرآن جلد دہم ص/139)





















