عجوبہ نمبر ایک:
استعمار کی منڈی کا سب سے انوکھا کاروبار
تعجب ہے کہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندستان پر قبضہ بھی کیا، ظلم بھی کیے، پھر کہیں برطانیہ پوری دنیا میں بدنام نہ ہوجائے، اس لیے تاجِ برطانیہ نے اسی کمپنی کو پونے چار کروڑ پاؤنڈ کے عوض خرید لیا—مگر اس کی ادائیگی ہندستان کے کھاتے میں ڈال دی!
یعنی کمپنی بھی انھیں کی، خریدار بھی وہی، اور قیمت مقبوضہ قوم سے وصول کی گئی… وہ بھی سود در سود کے ساتھ!
دنیا میں اور کہیں ایسا تماشہ ہوا ہے کہ مال بھی چھینو، بیچ بھی دو، اور قیمت بھی اسی لُٹے ہوئے مالک سے وصول کرو؟
عجوبہ نمبر دو: وعدے، بھروسہ اور بے وفائی!
1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مختلف ریاستوں سے کیے گئے معاہدوں کو پامال کر کے برطانیہ نے قبضے شروع کردیے۔ لیکن جب والیانِ ریاست کی بے چینی دیکھی تو ملکہ وکٹوریہ کا اعلان شائع کر کے سب کو مطمئن کردیا کہ اب کوئی غیر قانونی الحاق نہیں ہوگا۔
چنانچہ اسی وعدے کے بھروسے کئی والیان ریاست نے انگریزوں سے وفاداری کا عملی اظہار کیا ۔
مگر حیرت ہے کہ جوں ہی انگریزوں نے اپنی گرفت مضبوط محسوس کی، اس اعلان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر دوبارہ فارورڈ پالیسی نافذ کر دی!
یعنی وعدے بھی خود کیے، یقین دہانی بھی خود کرائی، اور جب موقع ملا تو خود ہی سب کچھ توڑ ڈالا!
عجوبہ نمبر تین:
محافظ ہی سے حفاظت کی جنگ لڑنا
جنگ عظیم اول (28/جولائی 1914-11/نومبر 1918ء) کے موقع پر برطانیہ نے تین لوگوں سے تین متضاد و عدے کیے:جن میں سے ایک مسلمانان عالم سے: خلافت اسلامیہ عثمانیہ اور اماکن مقدسہ: حرمین شریفین کے تحفظ کا تھا۔ اسی وعدے کے ایفا کی لالچ میں ہندستانیوں؛ بالخصوص مسلمانوں نے جنگ عظیم اول میں برطانیہ کا ساتھ دیتے ہوئے انگریزوں کی طرف سے انھیں ترکیوں سے جاکر لڑے، جو خود خلافت اسلامیہ کے تحفظ کے لیے لڑ رہے تھے۔
واقعی یہ عجیب فیصلہ تھا،جسے شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے روحانی ذائقے کے تلخ ترین تجربہ سے تعبیر کیا ہے ۔
محمد یاسین جہازی





















