بسم الله الرحمٰن الرحیم
شمع فروزاں2025.11.28
مولانا خالد سیف الله رحمانی
’’ مؤرخه: ۲۹؍۳۰؍ جمادی الاولیٰ ویكم جمادی الثانی ۱۴۴۷ ھ مطابق: ۲۱—۲۳ نومبر ۲۰۲۵ء كو المعهد العالی الاسلامی حیدرآباد میں ’’ بھارت كی تعمیر وترقی میںمسلمانوں كا حصه‘‘ كے زیر عنوان قومی سطح كا عظیم الشان سیمینار منعقد هوا، جس میںملك بھر سے تقریباََ ۶۰؍ اسكالرس نے شركت كی، اور اپنے مقالات پیش كئے، یه سیمینار ایك بڑے عوامی اجلاس پراختتام پذیر هوا، سیمینار كے لئے حضرت مولانا خالد سیف الله رحمانی نے جو كلیدی خطبه لكھا ، وه قارئین كی خدمت میں پیش هے‘‘ (اداره)اسلام نے ہمیں جن چیزوں کی محبت کا سبق دیا ہے ، ان میں سے ایک اپنا وطن بھی ہے ، رسول اللہ ﷺ جب تک مکہ مکرمہ میں رہے ، تو ٹوٹ کر اپنے شہر سے محبت فرمائی ، جب آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ’’تومجھے بہت عزیز تھا ، میں تجھ کو چھوڑنے کا روادار نہیں تھا ؛ مگر تیرے باشندوں نے مجھے یہاں رہنے نہیں دیا ‘‘۔ (سنن ترمذی : حدیث نمبر۳۹۲۵،ابن ماجہ:۳۱۰۸)جب آپ ﷺمدینہ کے قریب پہنچے تواس دو راہے پر جہاں سے مکہ کا راستہ نکلتا تھا ، آپ ﷺنے حسرت بھری نگاہ ڈالی ، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور فرمایا : ’’جلد ہی آپ کا پروردگار آپ کو آپ کے و طن کی طرف لوٹائے گا ‘‘ (القصص : ۸۵ ) چنانچہ ہجرت کے آٹھ سال بعد اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ فتح مکہ کی شکل میں پورا ہوا ، آپ ﷺکے رفقاء عالی مقام کا مکہ مکرمہ سے محبت کا حال یہ تھاکہ مدینہ میں ان کی طبیعت خراب ہوگئی ، وہ بیماری کی شدت میں مکہ کی ایک ایک چیز کو یاد کرتے تھے ، یہاں تک کہ مکہ کے پہاڑوں کا ، گھاس اور جڑی بوٹیوں کا بھی ذکر کرتے تھے ؛ (صحیح بخاری، حدیث نمبر:۱۷۹۰) لیکن اس وجہ سے کوئی مدینہ چھوڑ کر نہیں گیا ۔پھر جب آپ ﷺ نےمدینہ منورہ کو اپنے قیام کا شرف بخشا توآپ نے اس نئے وطن سے بھی بھرپور محبت فرمائی ، جب آپ کہیں سفر پر جاتے اور واپس ہوتے ہوئے اُحد پہاڑ پر نظر پڑتی توآپ ﷺ کا چہرہ کھِل اُٹھتا اور شدت اشتیاق میں آپ ﷺ کی سواری کی رفتار تیز ہوجاتی ، (صحیح بخاری، حدیث نمبر:۱۷۰۸) یہ مسلمانوں کے لیے ایک سبق تھا کہ وہ جہاں جائیں ، جہاں قیام کریں، جس خطہ کو اپنا مسکن بنائیں اور جن فضائوں میں اپنی زندگی گزاریں ، ان سے انس اورمحبت ہونی چاہیے ؛ اس لیے مسلمان دنیا کے جس خطہ میں گئے اور جہاں بس گئے ، اس کو اپنے محبوب وطن کی نظرسے دیکھا اور دل کی گہرائیوں سے اس سے محبت کی ۔بھارت خود اس کی ایک واضح مثال ہے ، یہاں مشہور فاتح سکندر بھی آیا ، یوروپ کی مختلف قومیں آئیں ، انگریز بھی آئے ، پرتگالی بھی آئے ؛ مگر انہوں نے اپنا طریقہ یہ رکھا کہ یہاں کی دولت سمیٹتے ، اورلے کر اپنے ملک چلے جاتے، مسلمان جب اس ملک میں آئے تو وہ یہیں کے ہوکر رہ گئے ، انہوں نے یہیں جینے اورمرنے کا فیصلہ کیا اور اس ملک کے دکھ اورسکھ میں برابر کے شریک رہے ، اس کی تعمیر وترقی میں حصہ لیا اور اس کے لیے عظیم تر قربانیاں دیں ۔اِس وقت اس سیمینار کا اصل محرک یہی ہے کہ دنیا پر یہ بات واضح کردی جائے کہ ہم اس نبیﷺ کی اُمت ہیں ، جس نے اپنے وطن سے محبت کرنا سکھایا ہے اور جس نے ہمیشہ وطن عزیز کی خدمت کی ہے ، اوراس کا نام ہمیشہ اونچاکرنے کی کوشش کی ہے ، اس ملک میں اسلام دوطرف سے آیاہے ، ایک طرف مالابار کے ساحل سے ، یہ عرب تاجروں کا قافلہ تھا جو جنوبی ہند کے ساحلوں سے لے کر سری لنکا تک پھیل گئے تھے ، بظاہر اس کا مقصد تجارت اور خریدوفروخت تھی ؛ مگر انہوں نے دل کی غذا اوردوابھی لوگوں میں تقسیم کی ، لوگوں نے ان کونفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا ؛ بلکہ ان کے اخلاق سے متاثر ہوکر محبت کی نگاہوں سے ان کا استقبال کیا ، یہاں تک کہ ظلم وجور اورنابرابری کی جس فضا میں یہاں کے لوگ زندگی گزارنے پرمجبور تھے ، اس میں ان کو یہ فرشتۂ رحمت معلوم ہوئے ، جنوبی ہند کے علاقہ میں ’’نائر‘‘ نام کی اونچی ذات تھی اور نیچی ذات والے ’’پولپا‘‘ کہلاتے تھے ، نائر نیچی ذات والے لوگوں کو بہت ہی حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے ، یہاں تک کہ اگرنیچی ذات کے کسی آدمی کا ہاتھ اونچی ذات کے کسی آدمی کو لگ گیا ، یااس کا سایہ اس پر پڑگیا توجب تک اونچی ذات کا آدمی غسل کرکے اپنا کپڑا بدل نہیں لیتا ، اپنے آپ کو ناپاک سمجھتا اور یہ ایک ایسا جرم تھا کہ حکومت کی جانب سے اس پر سزا دی جاتی ؛ چنانچہ یہ بے چارے ’’پولپو‘‘ جب راستہ سے گزرتے تو ’پولو ، پولو‘ کی آواز نکالتے ہوئے گزارتے ؛ تاکہ اگر کوئی نائر آرہاہو تو وہ کنارے ہوجائے اور اس پر اس کا سایہ نہ پڑے ، (آئینہ تاریخ جلد : ۱) ان عرب تاجروں کی آمد سے جنوبی ہند کے بہت سے قبائل مسلمان ہوگئے ، اور موجودہ سری لنکا تک اسلام پھیل گیا ۔ہندوستان میں اسلام کی آمد کا دوسرا راستہ مغربی ہند کی ریاست سندھ ہے ، ولید بن عبدالملک (۱۵-۷۰۵ء) کے زمانے میں فارس تک مسلمان فوجیں پہنچ چکی تھیں ، عراق کے حاکم حجاج بن یوسف (متوفی:۹۵ھ) نے محمد بن قاسم کو ایک خاص واقعہ کے پس منظر میں سندھ کی طرف بڑھنے کا حکم دیا، اور بڑی آسانی سے سندھ کا علاقہ فتح ہوگیا ، محمد بن قاسم نے مقامی سرداروں ، راجائوں اور برہمنوں کی بڑی عزت افزائی کی ، یہاں بھی صورت حال یہی تھی کہ برہمن دوسرے لوگوں کے ساتھ بڑی زیادتی کرتے تھے ، راجا داہر جس سے محمد بن قاسم کا مقابلہ ہوا ، اس کا حال یہ تھاکہ اس کی سلطنت میں عام رعایا کو گھوڑے پر سواری کرنے کی اجازت نہیں تھی ، نچلی ذات تصور کیے جانے والے قبائل کی عورتوں کو اپنے سینے کھلے رکھنے کا حکم تھا اور اگر وہ چھپاناچاہتیں تو ان کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا (کاسٹ اینڈ فیمیل بوڈی ان ٹراونکور : اے ہسٹوریکل ریڈنگ) جور و جفا اور ظالمانہ نابرابری کے اس ماحول میں محمد بن قاسم کے کریمانہ سلوک اورعفو عام نے سندھ کی زمین کے ساتھ ساتھ اہل سندھ کے قلوب کو بھی فتح کرلیا ، یہاں تک کہ بعض مورخین کے مطابق محمد بن قاسم کی وفات پر اس خطہ کے لوگ بہت روئے اور بطور یادگار اس کا مجسمہ بنا کر نصب کیا ۔ (اسلامی ہند کی عظمت رفتہ ، ص :۱۲۰ ، قاضی اطہر مبارک پوری)مسلمانوں نے ہمیشہ اس ملک کو اپنا مادر وطن سمجھا اور ایک ماں کی طرح اس سے محبت کی ، اس کی تعمیر وترقی میں اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کیں ، ان حکمرانوں کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہوگاکہ یہ سب کے سب بہت ہی خداتر س اور منصف مزاج حکمراں تھے ، ان میں دونوں قسم کے لوگ تھے ؛ لیکن عام طورپر اپنی رعایا کے ساتھ ان کا سلوک بہت اچھا تھا ، انہوں نے اس ملک کو تاج محل کا حسن ، قطب مینار کی بلندی ، دہلی کی جامع مسجد اور حیدرآباد کی کی مکہ مسجد کا تقدس ، شالیمار اور نشاط جیسے خوبصورت باغات ، چارمینار اور فتح پور سیکری جیسی یادگار نشانیاں عطا کیں ، اور آج سے صدیوں پہلے پندرہ سو کوس طویل ، کشادہ اور مضبوط سڑک بنائی ، جس نے موجودہ بنگلہ دیش کے سنارگائوں سے لے کر افغانستان تک کا مرحلۂ سفر آسان کردیا ، ہزاوں سرائے ، لنگر خانے بنائے ، بے شمار اسپتال اور تعلیم گاہوں کو وجود بخشا اور خدمت خلق کے اتنے غیر معمولی کام کیے ، جن کی مثال دنیا کے کسی خطہ میں ملنی مشکل ہے ، انہوں نے زرعی ترقی پر بھرپور توجہ دی اور وسط ایشیا میں جو بہترین پھل اور پھول ہوا کرتے تھے ، ہندوستان میں ان کو لائے اور پروان چڑھایا ، انہوں نے علم کی ترقی کے لیے بڑے بڑے کتب خانے تعمیر کیے ، آج کل تو حکومتیںبہت پہلے سے بنے بنائے اوربسے بسائے شہروں کانام بدل کر خود اپنے ہاتھوں اپنی پیٹھ ٹھوکتی ہیں ؛ لیکن مسلم حکمرانوں نے بنگال کی مشرقی حدود سے لے کر موجودہ افغانستان تک پچاسوں شہر تعمیر کیے ، ’’ہندوستان کے مسلم عہد کے تمدنی کارنامے ‘‘میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے ۔انہوںنے اپنے سیاسی حریفوں کو تو ضرور زک پہنچائی ، جو ہر طاقتور فرماں روا کا طریقہ ہوتا ہے اور جو آج بھی ہے ؛ مگر انہوں نےکبھی اپنی رعایاکے ساتھ سوائے اِکا دُکا واقعات کے ظلم وزیادتی کا طریقہ اختیار نہیں کیا ، اوریہ واقعات بھی بمقابلہ دوسرے ظالم حکمرانوں کے آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔انہوں نے ملک کی حفاظت اور اس کو غلامی کے داغ سے بچانے کے لیے اپنی جان و مال اور گھر بار کی قربانی دی ، پہلی جنگ آزادی ۱۷۵۷ء میں سراج الدولہ نے لڑی ، پھر ۱۷۹۹ء میں سلطان ٹیپو شہید نے جنگ آزادی کا علم اُٹھایا ، پھر ۱۸۵۷ء میں ہندوستان کی تمام قوموں کی شمولیت کے ساتھ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں جنگ لڑی گئی ، آخر ۱۹۴۷ء میں ملک آزاد ہوا ، جنگ آزادی میں ملک کی قیادت کرنے والی تنظیم کانگریس پارٹی کے متعدد صدور مسلمان تھے ۔ملک کی معاشی اور صنعتی ترقی میں مسلمانوں نے جو کردار ادا کیا ، باوجود اس کے کہ مسلمانوں کو منظم طورپر ملازمت سے محروم کرنے اور تجارت سے دُور رکھنے کی کوشش کی گئی ، وہ بہت ہی اہم ہے ، مسلمانوں کی صف میں ہمیں عظیم پریم جی (مالک وپرو کمپنی ) میڈیسن کی مشہور کمپنی کے مالک یوسف خواجہ ، روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کرنے والے لولو گروپ کے مالک ایم اے یوسف علی ، اسپتال اور ریسرچ ادارے قائم کرنے والی ممتاز شخصیت ڈاکٹر حبیب کھورا کے نام ملتےہیں ، ان ہی میں ایس عبدالرحمٰن یونیورسٹی کے بانی عبدالرحمٰن کا نام ملتا ہے اور نہ جانے کتنے تجار اور صنعت کار ہیں جو اس ملک کی معاشی ترقی کی سعی میں لگے ہوئے ہیں ، آج ہم بجاطورپر آکاش ، ترشول اور ناگ جیسے میزائلوں پر فخر کرتے ہیں ، اوران کی وجہ سے ہمیں اپنے تحفظ کا احساس ہوتا ہے ، اس کو معرض وجود میں لانے والا بھی وطن عزیز کا ایک مسلمان فرزند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہی تھا ، سائنس کے مختلف میدانوں میں مسلمانوں نے جو خدمات انجام دی ہیں ، وہ اس کے علاوہ ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کا اس ملک پر سب سے بڑا احسان اس تہذیبی ، فکری انقلاب کی شکل میں ظاہر ہوا ، جس نے اس ملک میں پائی جانے والی سوچ کو زمین کی پستی سے آسمان کی بلند ی پر پہنچا دیا ، ہندوستان کی قدیم تاریخ میں یہاں کا معاشرہ ورن آشرم اورطبقاتی تقسیم کے ستون پر قائم تھا ، پیدائشی طورپر انسانیت کو چارطبقوں میں تقسیم کردیا گیا تھا ، سب سے اونچا درجہ برہمنوں کا جن کے بارے میں تصور تھا کہ وہ برہما کے سرسے پیدا ہوئے ہیں ، دوسرا درجہ چھتریوں کا ، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ خدا کے ہاتھوں پیدا کیے گئے ہیں ، تیسرا درجہ ویش کا جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ برہما کے پیٹ سے پیداکیے گئے ہیں ،چوتھا طبقہ شودر کا جن کے بارے میں عقیدہ تھا کہ وہ برہما کے پائوں سے پیدا کیے گئے ہیں : ’’برہمنوں کے بارے میں یہ تصور تھا کہ وہ اپنی پیدائش سے دیوتائوں کے دیوتا ہیں ‘‘ ۔ ( منوسمرتی ، باب : ۱۱، اشولک : ۸۴) اور شودر اتنا گیا گزرا ہے کہ بقول منوسمرتی اس کی جان جانوروں کی جان کے برابر تھی : ’’ بلی ، نیولا ، نیل کنٹھ ، مینڈک ، کتا ، گوہ ، اگر ان میں سے کسی کو کوئی قتل کردے تو شودر کو قتل کرنے کا پراشچت (کفارہ) ادا کرے ، یعنی ان کے قتل کو شودر کے قتل کے برابر سمجھے ‘‘۔ (منوسمرتی،باب : ۱۱،اشلوک:۱۳۱)بعض دیگر مذاہب میں بھی اگرچہ سماجی رسم ورواج کے تحت اونچ نیچ کا تصور پیدا ہوا ؛ مگراس کا براہ راست مذہب سے تعلق نہیں تھا ؛ لیکن ہندو دھرم میں صرف منوسمرتی نہیں ؛ بلکہ ان کےعقیدہ کے لحاظ سے جو الہامی کتابیں ہیں ، تقریباً سبھوں میں اس کا ذکر موجود ہے ؛ چنانچہ رگ وید میں ہے :’’برہما کے منھ سے برہمن ، بازو سے چھتری ، ران سے ویش اورپیر سے شودر کی تخلیق ہوئی ہے ‘‘۔ (رگ وید:۱۰ ، ۹۰، ۱۲)اس کی نمایاں مثال ہمیں رامائن میں ملتی ہے کہ شری رام جی نے شمبھو نامی شودر کو صرف اس بنیاد پر قتل کردیا کہ وہ مذہبی رسوم انجام دے رہاتھا ، اس کی جو تفصیل بیان کی جاتی ہے ، وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک برہمن اپنے بیٹے کی لاش اُٹھائے ماتم کناں رام جی کے محل میں آیا ، اس نے شری رام سے اس لڑکے کو دوبارہ زندہ کرنے کی منت سماجت کی ، رام جی نے کہاکہ ضرور کوئی اَدھرم (خلافِ مذہب عمل) ہوا ہوگا ، رام جی اَدھرم کا پتہ لگانے جنگل کی طرف نکل پڑے ، بڑی تلاش کے بعد ایک یوگی اُلٹا لٹکے ریاضت کرتا نظر آیا ، رام جی نے اس یوگی سے اس کی ذات پوچھی ، اس نے کہا : ’’میں شودر یونی میں پیدا ہوا ہوں ، اور عالم بہشت میں جاکر دیوتائی حاصل کرنا چاہتا ہوں ، اس لیے اتنی سخت ریاضت کررہا ہوں ، یہ سنتے ہی رام جی نے اپنی چمکتی ہوئی تلوار سے اس کا سر تن سے جدا کردیا ، غور کیجئے کہ رام جی نے شمبھو کو اس لیے قتل کیا کہ وہ شودر ہوکر برہمن والا کام کر رہا تھا ‘‘ ۔ (والمیکی رامائن ، اترکانڈ، سرگ : ۷۶ ، اشلوک : ۲ ، ہندی ترجمہ ، ص : ۷۷۵ ، مطبوعہ گیتا پریس ، گورکھپور )اسی طرح مہا بھارت کا یہ واقعہ مشہور ہے کہ دروناچاریہ نامی برہمن گرو نے اِیکلَویَہ کا انگوٹھا کٹوا دیا تھا ؛کیوں کہ وہ نیچ ذات کا ہوکر چھتری والا کام کر رہا تھا ، اور تفریق وامتیاز کی یہ لکیریں ان چاروں طبقات ہی پر ختم نہیں ہوجاتیں ؛ بلکہ بعض طبقات وہ ہیں جو شودر سے بھی زیادہ گرے ہوئے ہیں ؛ اس لیے جو مسلمان عیسائی اور ہندوستان کے باہر کے مذاہب کے ماننے والے ہیں ، ان کو ملیچھ نامی نہایت حقارت آمیز لفظ سے یاد کیا گیا ہے ۔ (دیکھیے : بھوشیہ مہاپران:۲؍۳۸۵)اسی طرح کی صورتحال کو سامنے رکھ کر ڈاکٹر امبیڈکر نے علم بغاوت بلند کیا ، اس سے اتنا فائدہ تو ضرور ہواکہ جن کو اونچی ذات کے لوگ نیچی ذات تصور کرتے ہیں، ان کو اپنی آبادی سے بہت کم ؛ لیکن کچھ ملازمتوں اور انتخابی حلقوں میں ریزرویشن مل گیا ، مگر اس سے کوئی فکری تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ، آج بھی ہندو سماج میں ان کو اتنا حقیر سمجھا جاتا ہے کہ ایک دلت صدر جمہوریہ مندر میں داخل نہیں ہوسکتا ، ایک دلت جج پر عین عدالت میں جوتے پھینکے جاتے ہیں ، اور ایسا بھی ہوتاہے کہ درج فہرست جج کے ٹرانسفر یا ریٹائر ہونے کے بعد جب اونچی ذات کا کوئی شخص کرسیٔ عدالت پر بیٹھتاہے تو وہ کمرۂ عدالت کو دُھولوا تاہے ، اوراپنے خیال کے مطابق اس کو پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے ، پھر بھی آج جو کچھ اس ملک میں مساوات کے نعرے لگائے جارہے ہیں ، دستور میں مساوات اور برابری کے تصور کو شامل کیا گیا ہے ، وہ اسلامی تعلیمات کی دین ہے ۔دوسری اہم تبدیلی جو مسلمانوں کے اس ملک میں آنے سے ہوئی ، وہ خواتین کے حقوق کی بازیافت ہے ، اگرچہ ہندو مذہب میں مختلف دیویوں کانام ملتاہے : سرسوتی ، دیوی ، لکشمی دیوی ، درگادیوی وغیرہ ؛ لیکن ان کو بت کدے تک محدود رکھاگیا : ’’عورت کے بارے میں منوجی کا تصور تھا کہ وہ شودر کے برابر ہیں ، شادی سے پہلے وہ باپ ، بھائی ، وغیرہ کی محکوم ہوتی ہے ، اورشادی کے بعد شوہر کی نوکرانی ، وراثت میں اس کا کوئی حق نہیں ، شوہر کے مرنے کے بعد اس کو سب سے بڑے بیٹے کے ماتحت زندگی گزارنی ہوگی، غرض کہ وہ کسی حال میں خود مختار نہیں ہوسکتی ، اسے ہمیشہ ماتحت رہ کر زندگی گزارنی ہے ‘‘ (منوسمرتی ، باب : ۱۴۷؍۵) ’’عورت پر تعلیم کا دروازہ بھی بند تھا ، اس کو قربانی اور عبادت کی اجازت نہیں تھی ، اگروہ بدقسمتی سے بیوہ ہوگئی تو منو سمرتی کا حکم تھا کہ وہ دوسرے شوہر کا نام بھی نہ لے ‘‘ (منوسمرتی ، باب: ۵۷؍۵) ’’اس بارے میں تعلیم تھی کہ کسی باشعور شخص کو ایسی دوشیزہ سے شادی نہ کرنی چاہیے جس کا بھائی نہ ہو ، اورنہ اس کے ساتھ جس کے باپ کا علم نہ ہو ‘‘۔ (حوالۂ سابق:۳:۱۱)ایک نہایت وحشیانہ طریقہ جو اس ملک میں رائج تھا ، وہ’’ستی‘‘ کا تھا کہ شوہر کے انتقال کے بعد اس کی لاش کے ساتھ اس کی بیوی کو نذرآتش کردیا جاتا تھا ، مغلوں نے ہندئووں کے رسم و رواج میں دخل دیئے بغیر اس کو روکنے کی بالواسطہ کوشش کی اور فرمان جاری کیا کہ کوئی عورت صوبیدار کی اجازت کے بغیر ستی نہیں کرسکتی ، اور صوبیدار عورت کو اس کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔مسلمانوں سے پہلے ہندوستان میں بڑے پیمانہ پر توہم پرستی کا تصور ملتاہے ، اس کا اثر آج بھی ہندو معاشرہ میں پوری شدت کے ساتھ موجود ہے ، رشتہ کا انتخاب ہو ، یاشادی کی تاریخ مقرر کرنی ہو ، یا کاروبار شروع کرنا ہو ، ہرجگہ فال نکالنا ، پجاریوں اورپنڈتوں سے فال نکلوالنا آج بھی عام بات ہے ، اسلام کے عقیدہ توحید کے تصور نے توہم پرستی کی زنجیر کی ٹکرے ٹکرے کردیے ، اور لولوگوں کو ان اوہام و خرافات سے آزادی حاصل ہوئی ۔اگر ملک کے موجودہ دستور کا تقابل قرآنی تعلیمات سے کیاجائے تو واضح طورپر اس میں قرآن کی جھلک نظرآئے گی ، اوریہ بات بھی محسوس ہوگی کہ مختلف ایسی دفعات رکھی گئی ہیں ، جن سے منوسمرتی اور قدیم ہندو تصورات کا رد ہوتا ہے ۔افسوس کہ اس وقت سنگھ پریوار کے لوگ گزشتہ صدیوں میں اس ملک میں انجام دی جانے والی خدمات پر سیاہی پھیرنا چاہتے ہیں ، مسلمانوں کو ظالم اور ستم گر ثابت کرنے کی مہم چلارہے ہیں ، جھوٹی تاریخ مرتب کی جارہی ہے ، میڈیا کو جھوٹ پھیلانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ، نصاب تعلیم سے پورے مسلم دور کو حذف کردیا گیا ہے ، توہمات کو قدیم سائنسی تحقیق کا نام دیا جارہا ہے ، ان حالات کے پس منظر میں المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد نے جس کامقصد تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینا ہے ، اس سیمینار کا فیصلہ کیا ، اس کامقصد کسی گروہ کو نیچا دکھانا نہیں ہے ؛ بلکہ اس ملک سے متعلق مسلمانوں کی خدمات کو مثبت انداز میں پیش کرنا اور جھوٹ کا پردہ فاش کرنا ہے ، جو آرایس ایس کی طرف سے پھیلایا جارہا ہے ، بحمداللہ یہاں اہل علم کا جو مختصر مجمع موجود ہے ، اُمید ہے کہ ان کی علمی کاوشیں اس مقصد کو پورا کریں گی ۔۰ ۰ ۰_________Khalid Saifullah RahmaniGen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.E-mail :ksrahmani@yahoo.comWebsite: www.khalidrahmani.in


















