ریشمی رومال تحریک کے سلسلے میں تین خطوط لکھے گئے تھے، جن میں دو سے مولانا عبید اللہ سندھی نور اللہ مرقدہ نے اور ایک مولانا محمد میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ نے ۔ تیسرا خط درج ذیل ہے:
تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین
از حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاری نور اللہ مرقدہ
برائے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی نور اللہ مرقدہ
از کابل۸؍ رمضان المبارک۔ روز ابتدا
وسیلہ یومی و غدی حضرت مولانا صاحب مد ظلہ العالی،آداب و نیاز مسنونہ
جدہ کے بعد کا حال یہ ہے۔ بمبئی آرام و بے خطر پہنچے، بندر پر اسباب کی تلاشی میں خدام سے دانستہ اغماض برتا گیا ، فللہ الحمد ۔ مولانا مرتضیٰ کام کو ناممکن خیال کرتے ہیں ، اس لیے ان کو کام میں نہیں لیا گیا، مولوی ظہور صاحب بمبئی استقبال کو پہنچے تھے اور محمد حسین راندیر سے ، راندیر میں تحریک چندہ صرف سید صاحب کے خلاف سے ناکام رہی ، راندیر خطیب مکر جانے والے تھے نہ معلوم کیا ہوا، قاضی صاحب نے بعد ملاحظہ والا نامہ سرپرستی قبول فرمائی ، جماعت پر اعتماد بحال رکھ کر کام کرنے کی اجازت دی ، اس کام کو باضابطہ کرنے کے لیے ایک سالہ رخصت لینے کا قصد فرمارہے ہیں، جماعت کا ہر سہ ممبر سرفروشی کررہے ہیں ، مطلوب الگ ہوگیا، سید نور سست، مولانا رائے والے متفق و معاون ہیں، حکیم صاحب پچاس روپے ماہوار مکان پر جاکر خود دیتے رہتے ہیں اور درمیان میں بھی ایک دو بار جاتے رہتے ہیں اور گاہ بگاہ ڈاکٹر صاحب بھی، حنیف کو جماعت، دس روپے جیب خرچ دیتی ہے، وہ مکان پر ہی ہیں، مدرسہ نے ان سے کوئی ہمدردی نہیں کی، مالکان مدرسہ سرکار کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ، نمائش کے دربار میں شرکت کا فخر بھی نصیب ہونے لگا۔ امیر شاہ مولانا عبدالرحیم صاحب کے دستی کام کے لیے پڑا ہے ، مولانا مدرسہ سے مرعوب ہیں، مگر خدام کی صفائی فرماتے رہتے ہیں مولوی رامپوری نے بھی تائید سے کنارہ کیا، مسعود بھی شکار ہوگیا۔
بندہ حسرت، آزاد سے ملا، دونوں پیکار ہوچکے ہیں ، کیوں کہ بندہ کا لوٹنا حضور تک ممکن نہ تھا، اس لیے آگے بڑھا، غالب نامہ احباب ہند کو دکھا کر حضرات یاغستان کے پاس لایا، حاجی بھی اب مہمند میں ہیں، مہاجرین نے مہمند، باجوڑ، صوات،بینر وغیرہ علاقوں میں آگ لگا رکھی ہے، ان علاقوں میں غالب نامہ کی اشاعت کا خاص اثر ہوا، اس لیے ضروری ہے کہ حسب وعدۂ غالب مصالحت کے وقت یاغستان کی خدمت کا خیا ل رکھا جائے۔ ضعف جماعت ہند سے مہاجرین کو کافی امداد نہیں پہنچ سکی ۔ بندہ یاغستان ایک ماہ قیام کرکے وفد مہاجرین کے ساتھ کابل پہنچا، مولانا سیف جماعت سے الگ ہوکر یہاں مقیم ہیں، ان کے لیے دولت کی طرف سے کام کی تجویز ہورہی ہے ، اعضائے وفد فضلین و عبدالعزیز ہیں۔مولانا الناظم کی توجہات و حاجی عبدالرزاق صاحب کی عنایات سے وفد کو دربار نصر اللہ میں رسائی کی ابتدائی کامیابی بھی ہوئی، بندہ ان سے الگ باریاب ہوا، حضور کے زیر اثر کام اور اس کے اصول کی تفصیل کی گئی ،خاص مقبولیت ہوئی، الحمد اللہ اور ان شا ء اللہ ۔ اس ذیل میں حاضر خدمت ہوںگا۔
یہاں کا حال یہ ہے کہ یہاں فتاویٰ و سفرائے ترک و جرمن پہنچے ، ان کا اعزاز پورا ہوا، لیکن مقصد میں ناکام رہے، وجہ یہ ہے کہ ترکی کا فرض تھا کہ ایام ناطرف داری میں ایران و افغانستان سے ان کی ضروریات معلوم کرتا، اس کے پورا کرنے کی سبیل کرتا اور حسب احوال معاہدہ دوستی کرتا، افغانستان نہ بڑی جنگ میں شرکت کا سامان رکھتا ہے اور نہ کوئی بڑی دولت اس کے نقصانات کی تلافی کا ذمہ دار ہے ، اس لیے شریک حرب نہیں ہوسکتا، اگر ضروری افسران، انجینئران، اسلحہ ، روپیہ دیا جائے اور بصورت غلبۂ کفر عصمت و اعانت کا عہد نامہ کیا جائے، تو شرکت کے لیے تیار ہیں۔ باایں ہمہ سردار نائب السلطنت ، عام سرحدی وزیر آفریدی مہمند ، باجوڑ ، صوات، بنیر، چکسر، غوربند، کرناہ، کوہستان، دیر، چترال وغیرہ میں اپنا اثر منظم کرتے اور ان سے وکلا طلب کر کے عہد شرکت بصورت جنگ لے رہے ہیں۔ یہ کام ایک حد تک ہوچکا ہے، سفرا جرمن واپس اور ترک مقیم ہیں، مگر بے کار۔ تعجب ہے کہ سفرا خالی ہاتھ آئے حتیٰ کہ کوئی کافی سند سفارت بھی نہ لائے ، ا یسی صورت میں کیا ہوسکتا ہے، مولانا الناظم باعافیت ہیں، دولت میں ایک حد تک اعتماد ہوگیا ہے، انگریز ان کو یہاں جاسوس ثابت کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں، جن کا کچھ نہ کچھ اثر بھی ہوتا ہے ۔ مگر الحمد للہ کہ ان کو اب تک پوری کامیابی نہیں ہوئی۔
مہاجرین طلبہ انگریزی اور بعض سکھ بھی اب یہاں حاجی عبدالرزاق صاحب کی مدد و نائب کی مہربانی سے آزاد ہیں اور مولانا الناظم کی زیر سرپرستی دیے گئے ہیں، مصارف بذمہ دولت ہیں۔ کوئی سرکاری کام ان کے ذمہ نہیں ہے۔ البتہ مولانا کے خاص کاموں میں بہ ایمائے نائب السلطنت دست و بازو ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے
ایک جمعیۃ ہندستان آزاد کرانے والی اس کا صدر ایک ہندی راجہ مقیم کابل ہے ، جو کہ سلطان معظم اور قیصر جرمنی کے اعتماد نامہ کے ساتھ یہاں پہنچا ہے۔ ناظم صاحب و مولانا برکت اللہ اس جماعت کے وزرا ہیں ، اس جماعت نے ہندستان میں مراکز و دیگر دول سے معاہدات کرنے کے لیے حرکت کی ہے ، جس میں ابتدائی کامیابی ہوئی ہے۔اس کام میں عضو متحرک طلبہ ہی ہیں۔ ان میں بعض دربار خلافت ہوکر حاضر خدمت ہوںگے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
دوسری جماعت الجنود الربانیہ ۔ یہ فوجی اصول پر مخصوص اسلامی جماعت ہے، جس کا مقصد اولیہ سلاطین اسلام میں اعتماد پیدا کرنا ہے ، اس کا صدر جس کا نام فوجی قاعدہ سے جنرل یا القائد ہے ، حضور کو قرار دیا گیا ہے اور مرکز اصلی مدینہ منورہ۔ اس لیے خیال ہے کہ حضور مدینہ منورہ میں رہ کر خلافت علیا سے ، افغانستان ویران کے ساتھ معاہدے کی سعی فرمائیں اور افغانستان کے متعلق ، نیز یا غستان کے متعلق تجویز کو خدام تک پہنچا دینا کافی خیال فرمائیں۔
افغانستان شرکت جنگ کے لیے امور مذکورہ بالا کا طالب ہے جسے اولیا ء دولت عثمانیہ و خلافت ثانیہ تک پہنچانے کی جلد سے جلد تدبیر کیجیے۔کیوں کہ ہندستان میں کفر پر کاری ضرب لگانے کی یہی ایک صور ت ہے ، اہل مدرسہ مولوی محسن، سید نور کے ذریعے سے حضور کو ہند میں لانے کی سعی میں ہیں، کیوں کہ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ حجاز میں بھی کام ہوسکتاہے ، ادھر انگریزوں میں پہلی سی عزت بوجہ عدم ضرورت اب نہیں رہی۔
قاضی صاحب، حکیم صاحب، ڈاکٹر صاحب، مولانا رائے والے حضور کو مراجعت ہند کے سخت مخالف ہیں ، یہ خطرہ بوجہ قصۂ غالب کے علم ہونے کے ذریعہ مطلوب ، اب پہلے سے بہت بڑھ گیا ہے ، اس لیے ایسی کسی تحریک کو ہرگز ہر گزمنظور نہ فرمایا جائے۔
مبلغ عطاء حضور کے مکان پر اور سید نور کو ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کے سپرد کردیا گیا ، بندہ حصول قدم بوسی کی سعی میں ہے ، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ کامیاب ہوںگا۔ مولانا الناظم، مولانا سیف، فضلین وعبدالعزیز و جملہ مہاجرین طلبہ سلام عرض کرتے ہیں، والسلام
برادر عزیز واحد مولانا حسین ، ان کے والدصاحب وبرادران ، حرمت اللہ و احمد جان صاحبان کی خدمت میں سلام مسنون۔ مدنی خطوط ہند لہ ڈاک کے حوالہ کردیے گئے تھے۔ ڈاکٹر شاہ بخش صاحب کی خدمت میں سلام مسنون عرض ہے۔ و سید ہادی و خدا بخش و حبیب اللہ غازی کو بھی۔
(۲)
تحریر اینکہ در ریاستہا ئے یاغستان خدام والا دین اسلام اٰجزا نمودہ اند۔ نمونہ آن ازین خط و قاصد نواب صاحب دیر و صوات معلوم خواہد شد۔ نواب دیر قوت پنجاہ ہزار فوج دارد بذریعۂ ملا صاحب بابڑہ اورا برائے خلاف انگریز نوشتہ شدہ بود۔ اور زبانی وعدۂ واثق نمودہ است۔ چنانچہ عبدالمتین خان پسر عمراخان غازی مرحوم از کابل فرار شدہ آمدہ۔ نواب دیر اورا جائے دادہ باوجودسخت سعی انگریز اورا نہ بخشید۔ بر ریاست عمراخان مرحوم برادر زادہ اش قابض و سخت حامی انگریز است۔ نواب دیر بمقابلۂ وے از فوج و روپیہ امداد عبدالمتین نمودہ قریب این شدہ است کہ بر ریست جنددل عبدالمتین خان را قابض نماید۔
امید است کہ در امروز و فردا قبضہ شود، ان شاء اللہ۔
عبد المتین بخدمت جناب ملا صاحب بابڑ حاضر شدہ بود ، سخت دشمن کفار است۔ بعد قبضہ این باقی رؤسائے یاغستان کہ خان خارد خان جار۔ خان نوی کلی ہستند ان شاء اللہ از دوستی کفار نائب خواہند شد۔ چراکہ فوت دیرو قوت جندول ہر دو انیقدر قوی است کہ باقی ہمہ خوانین را تابعداری شان لازم است۔ خوانین علاقہ چارمنگ خورد وخان کوٹلی از اوّل دشمنانِ انگریز اند۔ مجموعہ قوۃ ذاتی شان قریباً یک ہزار نفری است۔ و معہ اقوام آزاد چار منگ (کہ در غزی شریک شان می باشند) تا ۳ ہزار می رسد۔ درین خوانین محمود خان قابل ترین و خادم دین است۔ ان شاء اللہ تعالیٰ از نواب دیروجندول وغیرہم عرضداشتہا ہمراہ خود خواہم آورد۔ این فقط نمونہ کار و احوال است۔ از دربار خلافت امید است کہ از حقوق این نواح غافل نخواہد بود۔ از احیاء ایشیا اوسطے کہ از قوۃ اسلامیہ پرودد زیر اثر کفار است چشم پوشی نتوان کرد۔ برائے ترقی و بقائے خلافت علیہ و حفاظت اسلام در خیال بندہ احیائے ایشیائے اوسطے علیٰ الخصوص ہندوستان از افریقہ کم نیست۔ پس لازم است کہ ماہمہ وسائل خویش را درین باب صرف نمایم فقط۔
محمد میاں عفی عنہ انصاری ابوایوبی
مقام جائے ملا صاحب بابڑہ (باجوڑ)، یاغستان
۱۵؍شوال المکرم ۱۳۳۵ھ


















