ریشمی رومال تحریک کا ایک اہم حصہ والی حجاز کا وہ مکتوب ہے، جسے انھوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کو اس تحریک کے تعاون و حمایت کی اپیل کرتے ہوئے دیا تھا، جس کا مستند و محقق متن درج ہے:
قائم مقام (نمائندہ ) اعلیٰ حضرت خلیفہ رسول رب العالمین، امیر المومنین دام اقبالہ۔
یہ بات کسی پر مخفی نہیں ہے کہ جنگ ،عموماً گذشتہ ایک سال سے ترکی کی اسلامی حکومت کا رخ کیے ہوئے ہے۔ روس، فرانس اور انگریز (دشمنان اسلام) ممالک عثمانیہ پر بری و بحری حملے کر رہے ہیں ۔ اس صورت حال کے پیش نظر حضرت امیر المومنین نے محض اللہ کی نصرت اور خاتم الانبیا علیہ الصلاہ والسلام کی روحانی طاقت کے بھروسے پر جہاد مقدس کا اعلان کردیا ہے ، جس کے جواب میں ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے مسلمانوں نے لبیک کہا ہے اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدان جنگ میں کود پڑے ہیں،اللہ کا شکر ہے کہ ترکی فوج اور مجاہدین کی تعداد د شمنان اسلام کی تعداد سے بڑھ گئی ہے اور انھوں نے دشمنوں کی قوت کو مات دیاور اخلاقی طور پر کمزور کردیا ہے۔
چنانچہ روسیوں کی قوت کا ایک بڑا حصہ قفقازیہ میں تباہ کردیا گیا ہے اور ایک لاکھ برطانوی اور فرانسیسی فوج اور ان کے جہاز درۂ دانیال اوردوسرے مقاما ت پر تباہ کردیے گئے ہیں ۔ ترکوں ، جرمنوں اور آسٹریلیوں نے مشرق میں روسیوں کو اور مغرب میں فرانسیسیوں اور بلجیکیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ ایک تھائی روسی اور فرانسیسی علاقے اور سارے بلجیم اور لاکھوں رائفلوں ، بندوقوں اور دوسرے سامان جنگ پر قبضہ کرلیا ہے اور ہزاروں فوجیوں کو قیدی بنالیا ہے۔ اب بلغاریہ بھی مرکزی قوتوں کے ساتھ شریک ہوکر جنگ میں شامل ہوگیا ہے اور اس نے سربیا کے علاقے میں اندر تک گھس کر وہاں کے لوگوں کو شکست فاش دے دی ہے ، اس لیے میرا یہ پیغام میرے سلام کے ساتھ ان مسلمانوں کو پہنچا دیا جائے جو ان حکومتوں کی غلامی میں ہیں کہ وہ اب مکمل طور پر شکست کھا چکی ہیںاور بالکل لاچار و بے یارو مددگار ہیں اور ان کے یعنی مسلمانوں کے سامنے جس قوت و طاقت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ، وہ محض خیالی ہے۔
مسلمانو! آج تمھاری نجات کا دن ہے، اس لیے اب اپنی ذلت و خواری اور اپنی غلامی پر راضی و قانع نہ رہو، بلاشبہ آزادی، کامیابی، فتح و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔اب خواب غفلت سے بیدار ہواور متحد ہوکر اپنے اندر تنظیم و اتحاد پیدا کرو۔ اپنی صفوں کو درست کرواور اپنے آپ کو ان چیزوں سے لیس کرو، جو تمھارے لیے ضروری اور کافی ہوںاور پھر اس ظالم و جابر عیسائی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، جس کی غلامی کا کمزور طوق تمھاری گردنوں میں پڑا ہوا ہے۔ اس زنجیر غلامی کو اپنے مذہب کی طاقت اوراپنے دین کی تیز دھار سے کاٹ ڈالو، اس طرح اپنے وجود اور انسانی آزادی کے حقوق کو حاصل کرلو۔ ہم ان شا ء اللہ عنقریب مکمل فتح اور کامیابی کے بعد معاہدے کریںگے توتمھارے حقوق کی پوری طرح حفاظت کریںگے۔
اس لیے اب جلدی کرواور پختہ عزم و ارادہ کے ساتھ دشمن کا گلا گھونٹ کر اسے موت کے منہ میں پہنچادو اور اس سے نفرت و دشمنی کو مظاہرہ کرو۔ ہم تمھاری طرف اعتماد اور بھروسے کی نظر سے دیکھتے ہیں ، اس لیے یہ اچھا موقع ہاتھ سے جانے نہ دو ، بد دل نہ ہو اور خداوند بزرگ و برتر سے دلی مراد پوری ہونے کی امید رکھو۔
تمھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مولانا محمود حسن صاحب (جو پہلے دیوبند ہندستان کے مدرسے میں تھے)ہمارے پاس آئے اور ہم سے مشورہ طلب کیا، ہم اس بارے میں ان سے متفق ہیں اور ان کو ضروری ہدایات دے دی ہیں ، ان پر اعتماد کرو۔ اگر تمھارے پاس آئیں تو روپیے ، آدمیوں سے اور جس چیز کی انھیں ضرورت ہو ، اس چیز سے ان کی مدد کرو۔
دستخط غالب (پاشا)والی حجاز


















