جمعہ, فروری 13, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

by Md Yasin Jahazi
فروری 13, 2026
in مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سید جنید حسن وارثی

استھانواں بستی جو بہارشریف سے پورب دس کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے شرفا اور اہل علم کی بستی رہی ہے ،دیسنہ اور استھانواں کا نام اہل علم کے درمیان کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔لیکن افسوس کہ اب تک اس بستی کے شرفااور اہل علم کے حالات پرکائی کام نہیں ہوا،اس لئے بہت مدت سے یہ خیال تھا کہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں جو معلومات اپنے بزرگوں سے سنی ہیں ان کو محفوظ کردیا جائے ،بالخصوص یہاں کے دو خاندان جو بہت مشہور رہے یعنی حکیم سید نور الحسن بن میر قاسم کا خاندان اور واجد علی بن میر فرزند علی کا خاندان جس میں مولانا عبدالغنی وارثی اور مولانا سید رحیم الدین استھانوی اور بہت سے اہل علم وقلم پیدا ہوئے ،اور ان کے بارے میں اپنے پرانے بزرگوں سے بہت کچھ سنا ہے ۔یہ ارادہ بہت پہلے سے تھا لیکن ملازمت کی وجہ سے اس کی فرصت نہیں مل سکی ،اب ریٹائر منٹ کے بعد یہ کام شروع کردیا گیا ہے ،جو ان شاء اللہ امید ہے کہ جلد ہی پورا ہوجائے گا۔کچھ اہم معلومات میرے چچا جناب مولانا علی حسن رونق استھانوی خویش حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادسے حاصل ہوئی تھیں ، ان سے فائدہ اٹھا کر اور مزیداپنے نانا حضرت مولانا سید محمد ندوی اور خاندان کے دیگر بزرگوں سے سنی ہوئی معلومات کا اضافہ کرکے ان شاء اللہ جلد ہی پیش کیا جائے گا۔ ہم یہاں سید تقی الدین استھانوی کا ذکر شائع کررہے ہیں تاکہ لوگ ان سے واقف ہوں کیوں کہ ا س بستی پر ان کا احسان سب سے زیادہ نظر آتا ہے ۔ سید تقی الدین صاحب کے والد مولانا عبدالغنی وارثی مشہور عالم اور صوفی تھے ،اور بہار کا پڑھا لکھا طبقہ ان کو جانتا ہے ۔ تقی الدین صاحب نے ابتدائی تعلیم کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میںتعلیم حاصل کی اور اس کے بعد ڈھاکہ چلے گئے اور وہاں ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایم اے تک تعلیم مکمل کی ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ چند سال بہارہی میںکسی عہدہ پر رہے ،غالباً پٹنہ میں کام کیا ،پھر حیدر آبادچلے گئے، جہاں ان کے والد کا بڑا حلقہ تھا ،اور حکومت کے عہدداران ان کو جانتے تھے ،ان کے بھائی سید محی الدین استھانوی بھی دکن میں اورنگ آباد کالج میں استاد تھے ،چنانچہ موصوف کو حکومت حیدرآباد میں اعلی عہدہ ملنے میں دیر نہیں ہوئی اور وہ جلد ہی ترقی کرتے ہوئے وزیر مالیات ہوگئے ،اور حکومت کے اہم وزرا میں شامل ہوگئے ۔اگر آزادی کے بعد اسی طرح حیدرآباد کی حکومت باقی رہتی تو شاید وہ وزیر اعظم ہوتے لیکن ریاست ختم ہوگئی ،اور تقی الدین صاحب کو سب کچھ چھوڑ کر جس طرح ممکن ہوا پاکستان جانا پڑا ،اور وہ نیپال کے راستہ تقریبا دیڑھ ماہ میں پاکستا ن پہنچے ،کیوں کہ وہ ریاست کا دفاع کرنے والوں میں تھے ،اگر یہاں رہتے تو ان کو قید کردیا جاتا ۔انہوں نے گاؤں میں ایک بڑا بنگلہ بنوایا تھا،وہ اور ان کے جنتے مکانات تھے حکومت کے ذریعہ کسٹوڈین نے ان سب پر قبضہ کرکے نیلام کردیا جس کو مسلمانوں ہی نے خریدا ،چنانچہ ان کا بنگلہ ڈاکٹر جمیل صاحب نے لے لیا ۔انہوں نے حیدرآباد میں بھی ایک بہت بڑا گھر بنوایا تھا ،پتہ نہیں اس کا کیا ہوا ،لیکن وہ جب تک رہے ،وہاں بڑے اہتمام سے ہر ماہ اپنی بستی والوں کوجوڑتے رہے ،اور ان کے ساتھ علاقہ والوں کی بھی دعوت کرتے رہے۔ سید تقی الدین صاحب کی شادی مولوی محمد حسین استھانوی کی صاحبزادی سے ہوئی تھی جو بہار کے وزیر تعلیم رہ چکے ہیں ،البتہ وزیر تعلیم بننے کے چھ مہینے کے بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا اس لئے ان کی زیادہ شہرت نہیں ہوسکی ۔ سید تقی الدین صاحب نے ریاست حیدرآباد کو بچانے کے لئے جو کچھ بھی کیا وہ الگ ہے لیکن اس سے پہلے وہ ہندوستان اور اپنے گاؤں کی خاص طور پر بہت خدمت کرتے رہے ۔اس وقت حیدر آباد سے ایک چھوٹے سے دیہات میں آنا آسان نہیں تھا ،لیکن ان کو اپنی بستی سے اتنی محبت تھی کہ وہ سال میں کم سے کم تین چار بار بستی میں ضرورآتے اور یہاں قیام کرتے ،اور اس دور میں جب کہ وہ وزیر ریاست بننے کی وجہ سے کسی چھوٹے ہوٹل میں قیام نہیں کرسکتے تھے اور کسی معمولی سواری سے سفر نہیں کرسکتے تھے ،بلکہ ہوائی جہاز سے سفر کرتے تھے ،حیدر آباد سے ہوئی جہاز سے کلکتہ اترتے اور وہاں سے پھر اپنے گاؤں آتے لیکن سال میں کم سے کم چار پانچ بار ضرور آتے ۔یہاں آتے تو پوری بستی میں بہار آجاتی ،لوگوں کی دعوتیں ہوتیں ،ضرورت مند ان کے پاس آکر اپنی ضرورت پیش کرتے اور وہ جس طرح ممکن ہوتا ان کی مدد کرتے ،گھر گھر کی خیریت معلوم کرتے اور جس کے گھر میں کسی طرح کی پریشانی ہوتی اس کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ،اور جو تعاون ممکن ہوتا اس میں کمی نہ کرتے ۔اور ہر سفر میں وہ یہاں سے کسی نہ کسی کو ساتھ لے جاتے اور حیدر آباد میں تعلیم میں لگاتے یا ملازمت میں ،چنانچہ بہت سے باروچی ،دھوبی ،اور کام کرنے والے گاؤں سے حیدرآباد گئے اور وہاں جاکر خوش حال ہوگئے ۔ ان کو یہاں کی ہر چیز یہاں تک کہ مٹی سے بھی محبت تھی ،چنانچہ انہوں نے یہاں تعلیم کی فکر کی ،گرچہ یہاں تعلیم کا نظام قائم تھا لیکن کوئی باضابطہ ادارہ نہیں تھا ،چنانچہ انجمن الفلاح جو اس وقت بستی کے مسلمانوں کی سماجی تنظیم تھی اور اس کی میٹنگ مستقل ہوتی اورتقی الدین صاحب اس میں شرکت کرتے تھے اس میں انہوں نے ایک مدرسہ قائم کرنے کی تجویز رکھی اور اس کا نام مدرسہ محمدیہ تجویز کیا ،جس کوتقریبا ایک سو سال ہونے کو ہیں کہ اس کا فیض صرف بستی نہیں بلکہ پورے علاقہ میں جاری ہے ۔ان کے بارے میں یہ اعتراض بھی ہے کہ وہ زمیندار ہوکر مدرسہ کو زمین نہیں دے سکے ،لیکن یہ لاعلمی ہے ،انہوں نے دیسنہ استھانواں روڈ پر ایک زمین پر مدرسہ قائم کرنا چاہا اور اس کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے اپنے شیخ شاہ ہدایت علی مجددی کو جے پور سے بلایا تھا اور انہوں نے سنگ بنیاد رکھ بھی دیا تھا ،اور کام شروع ہوگیا تھا ،اور تعمیر کے لئے خاص طور پر اینٹوں کابھٹہ لگایا گیا تھا ،لیکن پھر اچانک آزادی کے بعد ان کو یہاں چھوڑ کر جانا پڑا تو یہ کام رک گیا ۔ یہاں کی لائبریری بھی کسی طرح کم نہیں تھی ،گرچہ یہ پہلے سے قائم تھی ،اور جنا ب فضل الرحمن صاحب اے ایم علیگ اور استاد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بستی والوں کے تعاون سے ۱۸۸۵ میں قائم کی تھی،لیکن اس کو ترقی دینے اور آگے بڑھانے میں سید تقی الدین صاحب کا بہت بڑا حصہ ہے ،چنانچہ بعض کتابوںپر الگزنڈر جیسے انگریز کے دستخط اور سید تقی الدین کے نام لکھے ہوئے ہیں ،شاید انہوں نے اپنا پورا کتب خانہ اسی لائبریر ی کو دے دیا تھا ،اور بھی حیدر آباد میں چھپی ہوئی کتابوں کا اس میں اضافہ کیا ،اور ا س کو بہت بڑا بنایا ،پھر حکومت حیدرآباد سے مالی تعاون حاصل کرکے آبادی سے باہر پر فضا جگہ پر ۱۹۳۰ میں اس کی شاندار بلڈنگ بنوائی ۔وہاں کے بہت سے عہدداروں کو بلایا ،اس کے علاوہ ملک کے بہت سے اہل علم ان کی دعوت پر کتب خانہ کو دیکھنے آئے ۔ تقی الدین صاحب نے حج بھی کیا ،جس کے بعد ان کی زندگی میں بہت تبدیلی آگئی تھی ،ویسے تو وہ پہلے سے انتہائی شریف اور نیک اور نماز روزہ کے پابند تھے لیکن حج کے بعد چہرہ پر بھی تبدیلی آگئی اور داڑھی اور شرعی لباس میں رہنے لگے تھے ،ان کے بعد غلطی سے یہ سمجھاجاتا ہے کہ وہ شیعیت سے قریب تھے ،لیکن یہ درست نہیں ،وہ حضرت شاہ ہدایت علی مجددی سے بیعت تھے جو جے پور کے مشہور بزرگ تھے اور ابھی مسلم پرسنل لابورڈ کے سکریٹر ی سید مولانا فضل الرحیم مجددی ان کے پوتے ہیں،شیخ سے بیعت ہوکروہ اد واذکار کا بھی اہتمام کرنے لگے تھے۔مخیر وفیاض تو وہ پہلے ہی سے تھے لیکن اس کے بعد مزید اس میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ان کی علمی قابلیت بھی بہت بلند تھی ،چنانچہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں انہیں پوری مہارت تھی،البتہ انہیں مستقل کچھ لکھنے کا موقع نہیں ملا ،شاید شروع میں انگریزی میں کچھ مضامین اخبارات میں شائع ہوئے۔اس کے ساتھ ان کا اسلامیات کا مطالعہ بھی بہت گہرا تھا۔ سید تقی الدین صاحب کو اللہ تعالی نے سات بیٹوں اور سات بیٹیوں سے نوازاتھا ،اور سب ماشاء اللہ تعلیم حاصل کرکے ممتاز ہوئے ،اور اب سب کی اولادیں لندن اور آسٹریلیا میں ہیں ،ان کے پوتے کراچی میں مدرسہ بھی چلا تے تھے پتہ نہیں اب وہ ہیں یا نہیں ۔بہر حال ان کا خاندان اب بھی تعلیم میں ممتاز ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ یہاں نہیں ہے لیکن یہاں سے جانے کے بعد بھی ان کے اندر اپنے وطن سے محبت باقی ہے ،چنانچہ بیس سال قبل ان کی صاحبزادی آئیں تھیں اور اپنے والد کا یہ مدرسہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھیں ۔ تقی الدین صاحب نے بستی کے لئے جو کام کئے وہ کسی اور کے ذریعہ نہیں ہوسکے ،حالاں کہ یہاں اور بھی بڑے بڑے عہدداررہے اور کچھ نہ کچھ یہاں کے لئے ضرور کیا لیکن تقی صاحب کا کام سب پر بھاری ہے ،افسوس کہ ان کے بعد اس بستی کو ایسا مخلص پھر نہیں نصیب ہوسکا ،لیکن ان کی محبت آج بھی یہاں کے ذرہ ذرہ میں محسوس ہوتی ہے۔۱۹۵۶ میں انہوں نے لاہور میں انتقال کیا۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

بہار الیکشن میں مسلم ووٹنگ بینک کی سیاست۔ مفادپرستی یا مجبوری

3 مہینے ago

قرآن حکیم غیر مسلموں کی نظر میں

4 مہینے ago

مقبول

  • جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • پاکی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.