سید جنید حسن وارثی
استھانواں بستی جو بہارشریف سے پورب دس کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے شرفا اور اہل علم کی بستی رہی ہے ،دیسنہ اور استھانواں کا نام اہل علم کے درمیان کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔لیکن افسوس کہ اب تک اس بستی کے شرفااور اہل علم کے حالات پرکائی کام نہیں ہوا،اس لئے بہت مدت سے یہ خیال تھا کہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں جو معلومات اپنے بزرگوں سے سنی ہیں ان کو محفوظ کردیا جائے ،بالخصوص یہاں کے دو خاندان جو بہت مشہور رہے یعنی حکیم سید نور الحسن بن میر قاسم کا خاندان اور واجد علی بن میر فرزند علی کا خاندان جس میں مولانا عبدالغنی وارثی اور مولانا سید رحیم الدین استھانوی اور بہت سے اہل علم وقلم پیدا ہوئے ،اور ان کے بارے میں اپنے پرانے بزرگوں سے بہت کچھ سنا ہے ۔یہ ارادہ بہت پہلے سے تھا لیکن ملازمت کی وجہ سے اس کی فرصت نہیں مل سکی ،اب ریٹائر منٹ کے بعد یہ کام شروع کردیا گیا ہے ،جو ان شاء اللہ امید ہے کہ جلد ہی پورا ہوجائے گا۔کچھ اہم معلومات میرے چچا جناب مولانا علی حسن رونق استھانوی خویش حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادسے حاصل ہوئی تھیں ، ان سے فائدہ اٹھا کر اور مزیداپنے نانا حضرت مولانا سید محمد ندوی اور خاندان کے دیگر بزرگوں سے سنی ہوئی معلومات کا اضافہ کرکے ان شاء اللہ جلد ہی پیش کیا جائے گا۔ ہم یہاں سید تقی الدین استھانوی کا ذکر شائع کررہے ہیں تاکہ لوگ ان سے واقف ہوں کیوں کہ ا س بستی پر ان کا احسان سب سے زیادہ نظر آتا ہے ۔ سید تقی الدین صاحب کے والد مولانا عبدالغنی وارثی مشہور عالم اور صوفی تھے ،اور بہار کا پڑھا لکھا طبقہ ان کو جانتا ہے ۔ تقی الدین صاحب نے ابتدائی تعلیم کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میںتعلیم حاصل کی اور اس کے بعد ڈھاکہ چلے گئے اور وہاں ڈھاکہ یونیورسٹی میں ایم اے تک تعلیم مکمل کی ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ چند سال بہارہی میںکسی عہدہ پر رہے ،غالباً پٹنہ میں کام کیا ،پھر حیدر آبادچلے گئے، جہاں ان کے والد کا بڑا حلقہ تھا ،اور حکومت کے عہدداران ان کو جانتے تھے ،ان کے بھائی سید محی الدین استھانوی بھی دکن میں اورنگ آباد کالج میں استاد تھے ،چنانچہ موصوف کو حکومت حیدرآباد میں اعلی عہدہ ملنے میں دیر نہیں ہوئی اور وہ جلد ہی ترقی کرتے ہوئے وزیر مالیات ہوگئے ،اور حکومت کے اہم وزرا میں شامل ہوگئے ۔اگر آزادی کے بعد اسی طرح حیدرآباد کی حکومت باقی رہتی تو شاید وہ وزیر اعظم ہوتے لیکن ریاست ختم ہوگئی ،اور تقی الدین صاحب کو سب کچھ چھوڑ کر جس طرح ممکن ہوا پاکستان جانا پڑا ،اور وہ نیپال کے راستہ تقریبا دیڑھ ماہ میں پاکستا ن پہنچے ،کیوں کہ وہ ریاست کا دفاع کرنے والوں میں تھے ،اگر یہاں رہتے تو ان کو قید کردیا جاتا ۔انہوں نے گاؤں میں ایک بڑا بنگلہ بنوایا تھا،وہ اور ان کے جنتے مکانات تھے حکومت کے ذریعہ کسٹوڈین نے ان سب پر قبضہ کرکے نیلام کردیا جس کو مسلمانوں ہی نے خریدا ،چنانچہ ان کا بنگلہ ڈاکٹر جمیل صاحب نے لے لیا ۔انہوں نے حیدرآباد میں بھی ایک بہت بڑا گھر بنوایا تھا ،پتہ نہیں اس کا کیا ہوا ،لیکن وہ جب تک رہے ،وہاں بڑے اہتمام سے ہر ماہ اپنی بستی والوں کوجوڑتے رہے ،اور ان کے ساتھ علاقہ والوں کی بھی دعوت کرتے رہے۔ سید تقی الدین صاحب کی شادی مولوی محمد حسین استھانوی کی صاحبزادی سے ہوئی تھی جو بہار کے وزیر تعلیم رہ چکے ہیں ،البتہ وزیر تعلیم بننے کے چھ مہینے کے بعد ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا اس لئے ان کی زیادہ شہرت نہیں ہوسکی ۔ سید تقی الدین صاحب نے ریاست حیدرآباد کو بچانے کے لئے جو کچھ بھی کیا وہ الگ ہے لیکن اس سے پہلے وہ ہندوستان اور اپنے گاؤں کی خاص طور پر بہت خدمت کرتے رہے ۔اس وقت حیدر آباد سے ایک چھوٹے سے دیہات میں آنا آسان نہیں تھا ،لیکن ان کو اپنی بستی سے اتنی محبت تھی کہ وہ سال میں کم سے کم تین چار بار بستی میں ضرورآتے اور یہاں قیام کرتے ،اور اس دور میں جب کہ وہ وزیر ریاست بننے کی وجہ سے کسی چھوٹے ہوٹل میں قیام نہیں کرسکتے تھے اور کسی معمولی سواری سے سفر نہیں کرسکتے تھے ،بلکہ ہوائی جہاز سے سفر کرتے تھے ،حیدر آباد سے ہوئی جہاز سے کلکتہ اترتے اور وہاں سے پھر اپنے گاؤں آتے لیکن سال میں کم سے کم چار پانچ بار ضرور آتے ۔یہاں آتے تو پوری بستی میں بہار آجاتی ،لوگوں کی دعوتیں ہوتیں ،ضرورت مند ان کے پاس آکر اپنی ضرورت پیش کرتے اور وہ جس طرح ممکن ہوتا ان کی مدد کرتے ،گھر گھر کی خیریت معلوم کرتے اور جس کے گھر میں کسی طرح کی پریشانی ہوتی اس کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ،اور جو تعاون ممکن ہوتا اس میں کمی نہ کرتے ۔اور ہر سفر میں وہ یہاں سے کسی نہ کسی کو ساتھ لے جاتے اور حیدر آباد میں تعلیم میں لگاتے یا ملازمت میں ،چنانچہ بہت سے باروچی ،دھوبی ،اور کام کرنے والے گاؤں سے حیدرآباد گئے اور وہاں جاکر خوش حال ہوگئے ۔ ان کو یہاں کی ہر چیز یہاں تک کہ مٹی سے بھی محبت تھی ،چنانچہ انہوں نے یہاں تعلیم کی فکر کی ،گرچہ یہاں تعلیم کا نظام قائم تھا لیکن کوئی باضابطہ ادارہ نہیں تھا ،چنانچہ انجمن الفلاح جو اس وقت بستی کے مسلمانوں کی سماجی تنظیم تھی اور اس کی میٹنگ مستقل ہوتی اورتقی الدین صاحب اس میں شرکت کرتے تھے اس میں انہوں نے ایک مدرسہ قائم کرنے کی تجویز رکھی اور اس کا نام مدرسہ محمدیہ تجویز کیا ،جس کوتقریبا ایک سو سال ہونے کو ہیں کہ اس کا فیض صرف بستی نہیں بلکہ پورے علاقہ میں جاری ہے ۔ان کے بارے میں یہ اعتراض بھی ہے کہ وہ زمیندار ہوکر مدرسہ کو زمین نہیں دے سکے ،لیکن یہ لاعلمی ہے ،انہوں نے دیسنہ استھانواں روڈ پر ایک زمین پر مدرسہ قائم کرنا چاہا اور اس کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے اپنے شیخ شاہ ہدایت علی مجددی کو جے پور سے بلایا تھا اور انہوں نے سنگ بنیاد رکھ بھی دیا تھا ،اور کام شروع ہوگیا تھا ،اور تعمیر کے لئے خاص طور پر اینٹوں کابھٹہ لگایا گیا تھا ،لیکن پھر اچانک آزادی کے بعد ان کو یہاں چھوڑ کر جانا پڑا تو یہ کام رک گیا ۔ یہاں کی لائبریری بھی کسی طرح کم نہیں تھی ،گرچہ یہ پہلے سے قائم تھی ،اور جنا ب فضل الرحمن صاحب اے ایم علیگ اور استاد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بستی والوں کے تعاون سے ۱۸۸۵ میں قائم کی تھی،لیکن اس کو ترقی دینے اور آگے بڑھانے میں سید تقی الدین صاحب کا بہت بڑا حصہ ہے ،چنانچہ بعض کتابوںپر الگزنڈر جیسے انگریز کے دستخط اور سید تقی الدین کے نام لکھے ہوئے ہیں ،شاید انہوں نے اپنا پورا کتب خانہ اسی لائبریر ی کو دے دیا تھا ،اور بھی حیدر آباد میں چھپی ہوئی کتابوں کا اس میں اضافہ کیا ،اور ا س کو بہت بڑا بنایا ،پھر حکومت حیدرآباد سے مالی تعاون حاصل کرکے آبادی سے باہر پر فضا جگہ پر ۱۹۳۰ میں اس کی شاندار بلڈنگ بنوائی ۔وہاں کے بہت سے عہدداروں کو بلایا ،اس کے علاوہ ملک کے بہت سے اہل علم ان کی دعوت پر کتب خانہ کو دیکھنے آئے ۔ تقی الدین صاحب نے حج بھی کیا ،جس کے بعد ان کی زندگی میں بہت تبدیلی آگئی تھی ،ویسے تو وہ پہلے سے انتہائی شریف اور نیک اور نماز روزہ کے پابند تھے لیکن حج کے بعد چہرہ پر بھی تبدیلی آگئی اور داڑھی اور شرعی لباس میں رہنے لگے تھے ،ان کے بعد غلطی سے یہ سمجھاجاتا ہے کہ وہ شیعیت سے قریب تھے ،لیکن یہ درست نہیں ،وہ حضرت شاہ ہدایت علی مجددی سے بیعت تھے جو جے پور کے مشہور بزرگ تھے اور ابھی مسلم پرسنل لابورڈ کے سکریٹر ی سید مولانا فضل الرحیم مجددی ان کے پوتے ہیں،شیخ سے بیعت ہوکروہ اد واذکار کا بھی اہتمام کرنے لگے تھے۔مخیر وفیاض تو وہ پہلے ہی سے تھے لیکن اس کے بعد مزید اس میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ان کی علمی قابلیت بھی بہت بلند تھی ،چنانچہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں انہیں پوری مہارت تھی،البتہ انہیں مستقل کچھ لکھنے کا موقع نہیں ملا ،شاید شروع میں انگریزی میں کچھ مضامین اخبارات میں شائع ہوئے۔اس کے ساتھ ان کا اسلامیات کا مطالعہ بھی بہت گہرا تھا۔ سید تقی الدین صاحب کو اللہ تعالی نے سات بیٹوں اور سات بیٹیوں سے نوازاتھا ،اور سب ماشاء اللہ تعلیم حاصل کرکے ممتاز ہوئے ،اور اب سب کی اولادیں لندن اور آسٹریلیا میں ہیں ،ان کے پوتے کراچی میں مدرسہ بھی چلا تے تھے پتہ نہیں اب وہ ہیں یا نہیں ۔بہر حال ان کا خاندان اب بھی تعلیم میں ممتاز ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ یہاں نہیں ہے لیکن یہاں سے جانے کے بعد بھی ان کے اندر اپنے وطن سے محبت باقی ہے ،چنانچہ بیس سال قبل ان کی صاحبزادی آئیں تھیں اور اپنے والد کا یہ مدرسہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھیں ۔ تقی الدین صاحب نے بستی کے لئے جو کام کئے وہ کسی اور کے ذریعہ نہیں ہوسکے ،حالاں کہ یہاں اور بھی بڑے بڑے عہدداررہے اور کچھ نہ کچھ یہاں کے لئے ضرور کیا لیکن تقی صاحب کا کام سب پر بھاری ہے ،افسوس کہ ان کے بعد اس بستی کو ایسا مخلص پھر نہیں نصیب ہوسکا ،لیکن ان کی محبت آج بھی یہاں کے ذرہ ذرہ میں محسوس ہوتی ہے۔۱۹۵۶ میں انہوں نے لاہور میں انتقال کیا۔
















