غیر تحریف و تغیر :
قرآن پاک کا کوئی جزو کوئی فقرہ ایسا نہیں سنا گیا، جس کو جمع کرنے والوں نے چھوڑ دیا ہو اور نہ کوئی لفظ اور فقرہ ایسا پایا جاتا ہے، جس سے یہ معلوم ہو کہ داخل کیا گیا ہے اگر ایسی بات ہوتی تو ان احادیث میں ، جن میں محمد کی چھوٹی چھوٹی باتیں محفوظ رکھی گئی ہیں ان کا پتا ضرور چلتا ۔( ولیم میور )معجزانه کتاب:قرآن بلا شبہ عربی زبان کی سب سے بہتر اور دنیا کی سب سے مستند کتاب ہے کسی انسان کا علم ایسی معجزانہ کتاب لکھنے سے قاصر ہے۔ یہ مردوں کو زندہ کرنے سے بڑھا ہوا معجزہ ہے۔ ایک امی نا خواندہ محض کس طرح بے عیب اور لاثانی تحریر کر سکتا ہے ۔ ( جارج سیل )بے حد سلیس اور جامع :سورہ فاتحہ حمد باری کی سب سے زبردست مناجات ہے۔ سلیس اتنی کہ مزید تشریح سے بے نیاز مگر اس پر بھی معنویت سے لبریز ” (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا)اختلاف معنوی و لفظی سے مبرا:قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے، جس میں تیرہ سو برس سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ یہودی اور عیسائی مذہب میں کوئی ایسی چیز نہیں جو معمولی طور سے بھی قرآن کے مقابلے میں پیش کی جاسکے۔“( عیسائی مورخ مسٹر باڈلے )دین و دنیا کا راہ نما:مسلمان جب قرآن و حدیث میں غور و فکر کریں گے تو اپنی اور دنیاوی ضروریات کا علاج اس میں تلاش کر لیں گے۔“( اخبار الوطن مصر ” ایک مسیحی نامہ نگار)مکمل احکام کا مجموعہ:جو احکام قرآن میں موجود ہیں وہ اپنی جگہ پر مکمل ہیں ۔(ڈاکٹر آرنلڈ )انتہائی لطیف پاکیزہ اور بے مثل معجزہ :قرآن انتہائی لطیف اور پاکیزہ زبان میں ہے۔ اس کتاب سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی انسان اس کی مثل نہیں بنا سکتا۔ یہ لازوال معجزہ مردہ زندہ کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔“(سیل)جامع اور روح افزا پیغام زندگی:قرآن ایسا جامع اور روح افزا پیغام زندگی ہے کہ ہندو دھرم اور مسیحیت کی کتابیں اس کے مقابلے میں کوئی بیان پیش نہیں کر سکتیں ۔“( پروفیسر دویجاداس)اعلیٰ اخلاق کا معلم :قرآن نے دنیا کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی اور اصول جہاں بانی سکھائے ۔“(گائیڈنس آف ہولی قرآن از ڈاکٹر شنلے لین پول)فطرت انسانی کے عین مطابق:میں نے تعلیمات قرآنی کا مطالعہ کیا ہے، مجھے قرآن کو الہامی تسلیم کرنے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں ہے۔ مجھے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ نظر آئی کہ یہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔(ینگ انڈیا گاندھی)مسلمہ صداقتوں کا پر تو :وہ وقت دور نہیں جب کہ قرآن کریم اپنی مسلمہ صداقتوں اور روحانی کرشموں سے سب کو اپنے اندر جذب کرلے گا۔ وہ زمانہ بھی دور نہیں جب کہ اسلام ہندو مذہب پر غالب آجائے گا اور ہندوستان میں ایک ہی مذہب ہوگا ۔( ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور )معاشرتی سیاسی اور روحانی معلم :میں مذہب اسلام سے محبت کرتا ہوں اور اسلام کے پیغمبر کو دنیا کا مہا پرش سمجھتا ہوں ۔ قرآن کی معاشرتی اخلاقی اور روحانی تعلیم کا دل سے مداح ہوں اور اس کو اسلام کا بہترین رنگ سمجھتا ہوں جو حضرت عمر کے زمانے میں تھا۔(لالہ لاجپت رائے)مستقبل کی دنیا کا مذہب:قرآن شریف غیر مسلموں سے بے تعصبی اور رواداری سکھاتا ہے، اس کے اصول کی پیروی سے دنیا خوش حال ہو سکتی ہے اور دنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا ” (لندن میں تقریر از مسز سروجنی نائیڈو )مضامین لطیف و عالی :قرآن مجید کی عبارت نہایت فصیح و بلیغ اور مضامین لطیف و عالی ہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی امین ناصح نصیحت کر رہا ہے۔“( ڈاکٹر فرک جرمنی)اسلام کی قوت اور طاقت :اسلام کی قوت و طاقت قرآن میں ہے۔ قرآن قانون اساسی ہے اور حقوق کی دستاویز ہے ۔(مسٹر جی۔ ڈی۔ ماریل )تاثیر سے لبریز:جب قرآن کو منکر پیغمبر زبان سے سنتے تھے تو بیتاب ہو کر سجدے میں گر پڑتے تھے اور مسلمان ہو جاتے تھے ۔“( مشہور جرمن فلسفی جان جاک رلپک)امن وامان کا ضامن :زمین سے اگر قرآن کی حکومت جاتی رہے تو دنیا کا امن وامان کبھی قائم نہیں رہ سکے گا۔“اخبار فگار و مین موسیو کاسٹن کا رنے)اخوت کا روشن مینار :قرآن نے مسلمانوں کو مواخات کے بندھن میں باندھ رکھا ہے جو نسل ، رنگ اور زبان کے پابند نہیں ہیں ۔(مشہور افسانہ نگار ایچ جی ویلز)غریبوں کا دوست :قرآن غریبوں کا دوست اور غم خوار ہے اور سرمایہ داروں کی زیادتیوں کی ہر جگہ مذمت کرتا ہے ۔“ (گارڈ فرے)عظیم اور حسین:اگر ہم قرآن کی عظمت و فضیلت اور حسن و خوبی سے انکار کریں تو گویا ہم عقل و دانش سے بیگانہ ہوں گے۔”( نیر ایسٹ لندن اخبار کا خاص نمبر )یورپ کے لیے نور :قرآن شریف اس بات کا مستحق ہے کہ یورپ کے گوشے گوشے میں اسے پھیلایاجائے ۔“ (سرایڈورڈ ڈینی راس سی ۔ آئی ای)فلسفہ توحید میں بے نظیر :” قرآن وحدانیت کا سب سے بڑا گواہ ہے۔ ایک موحد فلسفی اگر کوئی مذہب قبول کر سکتا ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔ غرض سارے جہاں میں قرآن کی نظیر نہیں ملتی ۔“( ڈاکٹر گبن)زندہ جاوید تعلیمات:تیرہ سو برس کے بعد بھی قرآن کی تعلیمات کا اثر یہ ہے کہ ایک خاکروب بھی مسلمان ہونے کے بعد بڑے بڑے خاندانی مسلمان کی برابری کا دعوی کر سکتا ہے ۔ (بھو پندرناتھ باسو )مہذب مذہب:اسلام کو جو لوگ وحشیانہ مذہب کہتے ہیں انھوں نے قرآن مجید کی تعلیم کو نہیں سمجھا کہ جس کے اثرسے عربوں کی کایا پلٹ گئی ۔(فرانسیسی مصنف موسیو میر )اخوت و مساوات کا علمبردار :قرآن کی تعلیم میں ہندوؤں کی طرح امتیاز نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو محض خاندانی اور عالی عظمت کی بنا پر بڑا سمجھا جاتا ہے ۔”( مشہور بنگالی با بو چندر پال)(اس ڈائری شب و روز 2005)

















