مولاناطلحہ نعمت ندوی
مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ملک کے نامور علماء میں ہیں ۔ا ن کا وطن بہارشریف تھا ،اور اسی سرزمین سے ان کے دوسرے ہم نام وہم وطن عالم اسلام کی معروف شخصیت علامہ سیدسلیمان ندوی کابھی تعلق تھا ۔ مولاناسید سلیمان اشرف کے حالات پر جو مضامین وکتب دیکھنے کا موقع ملا ،بالخصوص سید قمر الاسلام کی سید سلیمان اشرف بہاری احوال وآثار(اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن حیدرآباد۲۰۱۷ء) ،جس میں اب تک کے اساسی مضامین کو یکجا کردیا گیا ہے ،مستقل دیکھی ،ان سب میں ان کے خاندان اور ابتدائی زندگی سے متعلق سے زیادہ اطلاعات نہیں ہیں ،اس لئے خیال آیا کہ وطنی نسبت کی وجہ سے ان کے خاندانی حالات وتفصیلات کا مجھے جو علم ہے وہ اہل علم کی خدمت میں پیش کردیا جائے ۔ مولانا کے متعلق علامہ سید سلیمان ندوی نے جو کچھ لکھا تھا بعد کے اہل علم کے لئے وہی بنیاد ی ماخذ رہا ،بعد کی تحریروں میں اس پر کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں نظر آتا ۔ سید صاحب نے لکھا تھا کہ وہ بہارکے ایک مردم خیز دیہات سے تعلق رکھتے تھے ،اس سے دور کے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ بہارشریف کا محلہ میرداد جو ان کی نانہال تھی ایک دیہات ہے اور ان کے آبائی وطن کا کہیں تذکرہ نہیں آیا ،بعد کے کچھ جاننے والوں نے لکھا کہ میرداد بہارشریف کا محلہ ہے ۔سیدصاحب کے جملہ مردم خیز دیہات سے ایک بستی ڈامرواں؍ڈمرانواں(جسے جیر ڈمراواں بھی کہا جاتا ہے) مراد ہے ،جو مضافات بہارشریف اور ضلع نالندہ میں سادات کی مشہور بستی ہے ،اور سید صاحب کے وطن دیسنہ سے چند میل کے فاصلہ پر اس سڑک پر واقع ہے جو موضع سارے سے کٹ کر وارث علی گنج تک جاتی ہے ،اور بہارشریف وشیخ پورہ شاہراہ کواس سے ملا تی ہے ،اسی سڑک کے کنارے کنارے سادات وشیوخ کی چند بستیاں ہیں جو کبھی اہل علم سے آبادتھیں ،سادات کی بستیوں میں ایک اور علمی بستی اگاواں بھی اسی سے متصل ہے جو عربی کے مشہور عالم وادیب مولانا مسعود عالم ندوی کا وطن ہے ۔ مولانا کے وطن سے متعلق یہ اطلاع علاقہ میں کسی تصدیق کی محتاج نہیں ۔البتہ انہوں نے اپنی نانہال محلہ میرداد بہارشریف میں سکونت اختیار کرلی تھی ،اور وطن سے ان کا تعلق برائے نام ہی رہ گیا تھا ۔محلہ میرداد بھی شرفاء کا مسکن رہا ہے ۔یہاں کے شرفاء کے حالات کے لئے میرکریم الدین علوی میردادی کی مخزن الانساب (مطبوعہ پٹنہ ۱۳۳۹ھ)دیکھنی چاہئے جو فارسی میں ہے اور اسی محلہ کے ایک ممتاز علمی خانوادہ کے ایک فرد کی تصنیف ہے ۔اس میں ایک جگہ جزوی طور پر مولانا سید سلیمان اشرف کا بھی ذکر آیا ہے،چنانچہ مصنف اپنے بڑے بھائی مولوی سید نصیر الدین احمد کی نماز جنازہ کے ذکر میں لکھا ہے ’’نماز جنازہ حسب وصیت خدمت ایشاں عزیزی مولوی سید شاہ سلیمان اشرف میردادی ادائے نمود ‘‘۔یعنی ان کی نماز جنازہ ان کی وصیت کے مطابق عزیزی مولوی سید سلیمان اشرف نے پڑھائی ‘‘۔ اس وقت غالباً وہ کم عمر ہوں گے اور جلد ہی تعلیم کی تکمیل کی ہوگی۔ سید بدرالدین عظیم آبادی جن کی کتاب حقیقت بھی کہانی بھی میں مولانا کا ذکر اس حوالہ سے آیا ہے کہ ان کے والد نے مولانا حبیب الرحمن شروانی سے پٹنہ کے سفر میں مولانا کا تعارف کرایا وہ بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔(دیکھئے سید قمر الاسلام کی محولہ بالا کتاب) علامہ سید سلیمان ندوی نے ان کے خاندان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ ان کے والد مرحوم حکیم عبداللہ صاحب اور ان کے اعمام محترم مولانا عبدالقادر صاحب،مولوی عبدالرزاق صاحب ،مولوی عبدالغنی صاحب ومولانا عبیداللہ صاحب اہل علم وفقر تھے ‘‘۔ ان کے والد کا زیادہ ووقت اپنے وطن ہی میں گذرا ،اور وہیں وہ مطب کرتے تھے ،غالباً حضرت مولانا سید سلیمان اشر ف کے بچپن ہی میں ان کا انتقال ہوگیا تھا ۔ ان کے اعمام کے متعلق تو زیادہ تفصیل نہیں ملتی ،البتہ مولوی عبدالغنی کا ذکر کئی جگہ ملتا ہے ،اور حضرت شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کے متوسلین میں بھی یہ نام کئی جگہ نظر آتا ہے ،زیادہ امکان ہے کہ مذکورالصدر بزرگ ہی مراد ہوں گے ،ان کا ایک رسالہ بھی ملتا ہے ،القول المحق لایصال الحق الی المستحق ۔سرورق پر عنوان کے بعد درج ہے ’’مرتبہ جناب مولوی حکیم سید عبدالغنی صاحب متوطن جیر ڈومرانواں پرگنہ بہار ضلع پٹنہ ،فرمائش جناب منشی عابد حسین عابد باہتمام کمترین محمد عبدالقادر عفی اللہ عنہ در سنہ ۱۳۱۲ہجری بمقام عظیم آباد احسن المطابع طبع شد‘‘۔اس کتاب میں وراثت کے ایک مسئلہ کی توضیح وتفصیل ہے ۔ کئی لوگوں نے ان کا نسب نامہ سید جہانگیر اشرف سمنانی اور ان کی ہمشیرہ سے ملایا ہے،جن کا ایک خاندان بیتھو ضلع گیا میں سید محمد درویش بیتھوی کے ذریعہ آباد ہوگیا تھا،اور وہاں ان کی خانقاہ اب بھی موجود ہے۔ (دیکھئے محولہ بالا کتاب قمر الاسلام)لیکن ان کا آبائی نسب نامہ قیاساً وہی ہوگا جو اس بستی اور اس دیار کے بیشتر سادات کا ہے اور جس سے اس علاقہ کے دیگر مشاہیر کا تعلق ہے ،یعنی سادات جاجنری یا سید منہاج الدین گیلانی سے تعلق ہوگا جن سے سادات ڈمراواں کا تعلق رہا ہے ۔شاید نام کے ساتھ اشرف دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی ہو ۔بیتھوضلع گیا کے بزرگوں سے بھی جن کا سلسلہ سید اشرف جہانگیر سمنانی سے ملتا ہے ان کی کسی قرابت کا پتہ نہیں چلتا ،اس کے لئے میر کریم الدین مذکورہ بالا کتاب دیکھی جاسکتی ہے ۔ سید صاحب نے ان کاابتدائی استاد مولانا محمد احسن استھانوی کو بتایا ہے ۔کچھ لوگوں نے غلطی سے ابوالحسن استھانوی لکھ دیا ہے جو درست نہیں ہے،یہ دوسرے بزرگ تھے ۔مولانا محمد احسن استھانوی اس دیار کے مشہور مدرس تھے ،جن کا آبائی تعلق دیسنہ سے متصل اور مولانا کے وطن سے قریب مشہور قریہ استھاواں(جوراقم السطورکا بھی وطن ہے) کے ایک ملک خاندان سے تھا ،اور بہارشریف میں مدرس تھے ،اور معقولات کے مشہور عالم تھے ،ان کے بارے میں کئی جگہ لکھا ہے کہ وہ مولانا فضل حق خیرآبادی کے شاگرد تھے ،ایسا نہیں ہے بلکہ وہ خود مولانا ہدایت اللہ خاں جونپوری کے شاگرد تھے ،اور عجب نہیں کہ درسیات کا ایک بڑا حصہ خود پڑھا کر انہوں نے ہی مولانا کو اپنے استاد سے استفادہ کے لئے ان کے پاس بھیجا ہو۔مولانا محمد احسن استھانوی کچھ دن علامہ شمس الحق ڈیانوی کے یہاں بھی رہے اور تدریسی خدمت انجام دی تھی ،وہ معقولات میں مولانا ہدایت اللہ خاں اور منقولات میں مولانا سید نذیر حسین دہلوی کے شاگرد تھے ۔تاریخ وفات کا صحیح علم نہیں ہوسکا البتہ مختلف تحریروں سے ۱۹۰۴ تک ان کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے ۔


















