جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ، ضلع گڈا، جھارکھنڈ میں واقع ایک معیاری دینی و عصری تعلیمی ادارہ ہے جو دینی علوم اور جدید تعلیم کے امتزاج پر قائم ہے۔ یہ ادارہ علاقے کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے اور نوجوان نسل کو علم و عمل کی روشنی میں سنوارنے کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس کی بنیاد مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے رکھی، جو اس کے بانی و مہتمم ہیں۔ آئیے اس کی تاریخ، قیام، ترقی اور اہم مراحل پر تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں۔
بانی کا تعارف اور پس منظر
مفتی محمد نظام الدین قاسمی کا خاندانی پس منظر جہاز قطعہ کی قدیم تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا خاندان تقریباً چار صدی پرانا ہے، جہاں جہاز قطعہ کو آباد کرنے والوں میں شیخ ڈومن اور ان کی نسل شامل ہے۔ شیخ ڈومن کے بیٹے شیخ عصمت، ان کے بیٹے جماد علی، پھر الفت، غیاث الدین اور مرحوم شریف صاحب کی اولاد میں مفتی صاحب شامل ہیں۔ یہ خاندان علاقے کی دینی و سماجی خدمات کا حصہ رہا ہے۔مفتی صاحب کی تعلیم کا آغاز مقامی مکتب سے ہوا، جہاں انہوں نے حفظ قرآن مکمل کیا۔ انہوں نے چھ مختلف مدرسوں میں تعلیم حاصل کی، جن میں مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ، سرہندی بیگم مسجد (دہلی)، شاہی مسجد وسنت وہار (دہلی)، جامعہ اسلامیہ سین پور (گڈا)، مدرسہ سلیمانیہ سنہولہ ہاٹ (بھاگلپور) اور مدرسہ جیلانیہ اشرفیہ نظیر آباد (لکھنؤ) شامل ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا، جہاں سے 2006ء میں فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد 2007ء میں دیوبند سے اردو ادب، 2008ء میں مظاہر علوم سہارنپور سے عربی ادب، اور 2009ء میں جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد سے افتاء کی ڈگری حاصل کی۔ وہ حافظ قرآن، قاری، عالم، اردو و عربی کے ادیب اور مفتی ہیں۔تعلیمی کیریئر میں انہوں نے 2009ء سے 2019ء تک جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد میں تدریس کی، جہاں فارسی سے مشکوٰۃ تک کی کتابیں پڑھائیں۔ 2018ء میں وہ مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے مہتمم بنے، لیکن ناموافق حالات کی وجہ سے جولائی 2021ء میں اس سے علیحدگی اختیار کی۔ ماہنامہ "مفتاح الخیر” کے ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اصلاحی طور پر وہ مولانا احمد نصر بنارسی، مولانا صفی اللہ خاں اور مولانا قمر الزماں الہ بادی سے منسلک رہے۔
ادارے کا قیام اور مقاصد
مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ سے علیحدگی کے چار ماہ بعد، **14 نومبر 2021ء کو جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی بنیاد رکھی گئی**۔ بانی مفتی صاحب کی تحریک پر یہ ادارہ قائم ہوا، جس کا بنیادی مقصد دینی تعلیم (عقائد، دینیات، حفظ قرآن، تجوید، ناظرہ قرآن) اور عصری مضامین (ہندی، انگریزی، ریاضی، جنرل نالج) کا امتزاج ہے۔ علاقے کی تعلیمی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ ادارہ علم و عمل کا مرکز بننے کا ہدف رکھتا ہے، جہاں طلبہ کو دینی بیداری اور جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔ قیام سے ہی عصری تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا گیا، جو اسے دیگر اداروں سے ممتاز کرتا ہے۔مبنی پر **23 نومبر 2021ء سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوا**، اور اب تک دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ادارہ جہاز قطعہ، گڈا میں واقع ہے، جو ایک پسماندہ علاقہ ہے، اور یہاں دینی و سماجی خدمات کا مرکز قائم کیا گیا۔
ترقی اور اہم مراحل
**سال اول (2022–23):** تعلیم کا باقاعدہ آغاز، ابتدائی انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھی گئی۔ محدود وسائل کے باوجود مستحکم بنیاد قائم کی۔- **سال دوم (2023–24):** 35 طلبہ کا داخلہ، جن میں سے تقریباً تمام موجود رہے۔ حفظ قرآن میں تین طلبہ نے کامیابی حاصل کی۔ اساتذہ کی تعداد چار (دو دینی، دو عصری) ہوئی۔- **موجودہ سال (2024–25):** طلبہ کی تعداد 55 ہو گئی (پچھلے سال سے 57% اضافہ)۔ حفظ قرآن میں ایک مزید طلبہ نے مکمل کیا، مجموعی طور پر چار حفاظ تیار ہوئے۔ نصاب میں نورانی قاعدہ سے لے کر اعلیٰ دینیات اور عصری مضامین تک کا احاطہ ہے۔پانچ ماہ قبل "ہدی اسکول” کی بنیاد رکھی گئی، جس پر ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں اور مزید ڈیڑھ لاکھ کا پلان ہے۔ ادارہ محدود وسائل پر چل رہا ہے، لیکن نمایاں نتائج دے رہا ہے۔
کامیابیاں اور سماجی اثرات
**تعلیمی کامیابیاں:**
دو سال میں 57% طلبہ اضافہ، چار حفاظ کی تیاری، اور اعتدال پر مبنی نصاب کی وجہ سے طلبہ میں دینی و عصری شعور کی نشوونما۔- **سماجی خدمات:** بانی کی قیادت میں 2019ء میں "جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے” قائم ہوئی، جس نے 2021ء میں 5,000 ممبرز تیار کیے اور ضلع بھر میں توسیع کی۔ 2021ء میں "آسریٰ فاؤنڈیشن” کی بنیاد رکھی، جو 16 گھرانوں کو ماہانہ راشن، 12 مکاتب چلاتی ہے، اور آدی واسیوں میں کپڑے تقسیم کرتی ہے (ہر بار 250 افراد کو)۔ علاقے میں فجر کی نمازوں کا اہتمام، عورتوں کے لیے ہفتہ وار بیانات، اور دینی بیداری کی مہم چلائی جاتی ہے۔ مفتی صاحب دہلی کی جامع مسجد (گرین پارک) میں امامت بھی کر رہے ہیں۔
مستقبل کے منصوبے
ادارہ مزید تعاون اور دعاؤں کی بنیاد پر توسیع کرے گا، ہدی اسکول کو مکمل کرے گا، طلبہ کی تعداد بڑھائے گا، اور علاقائی سطح پر دینی و عصری تعلیم کو فروغ دے گا۔ یہ ادارہ نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی استحکام کا بھی ذریعہ بن رہا ہے

















