محمد یاسین جہازی
یکم جنوری 1926ء کوصدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ کے تار کا جواب دیتے ہوئے سلطان حجاز و نجد عبدالعزیز ابن سعود مبارک بادی کا شکریہ ادا کیا۔
10؍جنوری1926ء کو باشندگان مدینہ کی طرف سے اور اسی تاریخ کو کو سلطان ابن سعود کی طرف سے حجاز کے تازہ ترین حالات کے متعلق ایک اور تار موصول ہوا۔
18تا21؍ جنوری 1926ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں ابن سعودکو حجاز میں اپنی بادشاہت کے اعلان کرنے پرتاربھیج کرصورت حال جاننے، جیران رسول اللہ ﷺ کی امداد کے لیے مدینہ فنڈ کاافتتاح، مجاہدین شام کے ساتھ اظہار ہمدردی، مسئلۂ موصل کے متعلق ایک قطعی رویہ کا فیصلہ، عورتوں کو حقوق میراث سے محروم رکھنے اور نکاح و طلاق کی جسٹری لازم کرنے کے خلاف سخت احتجاجی تجاویز منظور کرتے ہوئے ،مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار اورکلکتہ کے لیے اجلاس عام کی دعوت کو منظوری دی گئی۔دو سو روپے ماہ وار اخبار الجمعیۃ کی امداد کا فیصلہ، حجاز وفد کی رپورٹ کو ریکارڈ میں رکھنے کا فیصلہ ، حیدرآباد کے مفتی عدالت عالیہ بننے پر مولانا حبیب الرحمان صاحب عثمانی کو مبارک باد ، حضور دکن کی صاحب زادی کے انتقال پر تعزیت اور دورۂ بہار کے حساب کی منظوری دی گئی۔
20؍جنوری1926ء کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی ؒکا انتقال ہوگیا۔ 22؍جنوری 1926ء کو صدراور ناظم عمومی نے تعزیت مسنونہ پیش کی۔
7؍فروری1926ء کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کی زیر صدارت خلافت کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ کے لیے لائحۂ عمل طے کیا گیا۔
18؍فروری1926ء کو سلطان ابن سعودکی طرف سے ایک مکتوب موصول ہوا۔
22؍فروری1926ء کو ساتویں اجلاس عام کے ایجنڈے جاری کیے گئے۔
11تا14؍مارچ1926ء ساتواں اجلاس عام منعقد کیا گیا، جس میں درج ذیل فیصلے کیے گئے: تعزیت بروفات حضرت مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی۔ تعزیت بروفات مولانا عبدالرحمان نگرامی صاحبؒ۔ عہدے داران کے عارضی انتخاب کا استقلال۔راہ حجاز پرامن ہونے کی وجہ سے حج و عمرہ کرنے کی اپیل۔ اصلاح معاشرہ کے پیش نظر رسوم ورواج چھوڑنے کی اپیل۔ جمعیت علمائے ہند سے مشورہ کرنے کے بعد ہی اماموں کر مقرر کرنے کا مشورہ۔ صوبہ سرحدی کے متعلق برطانوی حکومت ہند کے رویے کی مذمت۔ حکومت حجازکو خلافت راشدہ کے نمونے پر قائم کرنے کا مطالبہ۔ عورتوں کو میراث نہ دینے والی رسوم کی مخالفت۔ قضیۂ موصل پر برطانیہ کو انتباہ۔ عائلی مسائل کے حل کے لیے قاضیوں کو مقرر کرنے کی اپیل۔ حکومت ہند سے محاکم قضا قائم کرنے کا مطالبہ۔ آزادی ہند مسلمانوں کا وطنی اور مذہبی نصب العین قرار دیتے ہوئے اس کے حصول کے لیے دو حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا: (۱) مسلمانوں کی منتشر قوتوں کو متحد کیا جائے ۔ اور (۲) اسلامی اصول کے ماتحت غیر مسلم حضرات سے اتحاد عمل اور متفقہ کوششیںکی جائیں۔ جمشید پور کی عیدگاہ چھیننے پر افسوس کا اظہار، حلال جانوروں کی قربانی سے ممانعت مذہبی مداخلت۔ اردو زبان اور اردو رسم الخط کو قومی قرار دینے کی اپیل۔ بنگال آرڈی نینس کا نفاذ غلامی اور جبروتشدد کی کھلی مثال۔ انگریزی اور دیگر زبانوں میں قرآن کے ترجمے و تفسیر کی اشاعت کی اپیل۔ مسلمانوں کو ارتدادسے بچانے کی اپیل۔قرآن مجید کی طباعت میں غلطیوں پر اظہار افسوس۔کارکنان و معاونین کا شکریہ۔ صدر اجلاس حضرت علامہ سید سلیمان ندوی صاحب کا شکریہ۔ اور عملی کارروائیوں کے تحت: علما سے سیاسی امور میں غور کرنے، آزادی ہند کا جذبہ پیدا کرنے، قومی اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنے اور کھدرپوشی اور چرخہ کی اشاعت کی اپیلیںکی گئیں۔
23؍مارچ1926ء کو اراکین مجلس استقبالیہ کی میٹنگ میں ساتویں اجلاس عام کے حساب و کتاب کو پیش کیا گیا۔
4؍اپریل1926ء کو جیران رسول اللہ ﷺ کے لیے مدینہ امداد بھیجنے کی تفصیلات شائع کی گئیں۔
20-21؍اپریل 1926ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں مؤتمر اسلامی حجاز کے لیے نمائندوں کا انتخاب کیاگیا۔قربانی کی ممانعت کومداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے مہاراجہ جیند کی خدمت میں وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مؤتمر حجاز میں شرکت کے لیے خلافت کمیٹی کے نمائندہ افراد سے مشاورت اور فتویٰ ترک موالات کی رپورٹ شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
8؍ مئی 1926ء کو فتویٰ ترک موالات کی سب کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی ۔ ناظم عمومی کی حجاز کی روانگی کی وجہ سے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو عارضی ناظم عمومی منتخب کیا گیا۔ سفر حجاز کے لیے قرض طلب کرنے کی اجازت دی گئی۔ اور کلکتہ کے ہول ناک فسادات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اہل خیر سے تعاون کی اپیل کی گئی ۔
21؍ ستمبر 1926ء کے اجلاس مجلس عاملہ میں فتویٰ ترک مولات کی منظوری دیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ دشمنان دین سے موالات قائم کرنا حرام ہے۔ایک دوسری تجویز میںحجاز کے حالات کی تحقیقات کے لیے ۹؍مئی کو روانہ ہوکر آخر جولائی میںواپس ہونے والے وفد حجاز کی کفایت شعاری پر مبارک بادی پیش کی گئی اور مالی دشوری کی وجہ سے شعبۂ تبلیغ کو جمعیت کے شعبوں میں شامل کردیا گیا۔





















