بڑے شوق سے سن رہاتھا زمانہ تمہیں سوگئےداستاں کہتے کہتے
۱۴؍دسمبر۲۰۲۵ءدن اتوارکا ہم دارالعلوم وقف کے دارالحدیث کےوسیع وعریض ہال میں سیمینار علامہ محمدانورشاہ کشمیریؒ کے پروگرام کےتیسری نششت کے آخری پڑاؤں میں تھےکہ اچانک حضرت مولاناسید احمدخضرشاہ صاحب دامت برکاتہم نے اعلان کیا کہ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمدنقشبندی ہمارے درمیان نہیں رہےاتنا سننا تھا کہ مجمع عام سےبیک زبان دعااسترجاع کی آواز بلندہوئی اورایصال ثواب کا اعلان کیا گیا۔ ۲۰۱۱ءءکا وہ لمحہ وہ دن ،وہ خوبصورت پل جو پیرصاحب کی مجلس میں محسوس کیا تھا سامنے گردش کرنے لگا گویا ابھی کی بات ہو ۱۴؍اپریل ۲۰۱۱ء بہ روز جمعرات بعد نماز مغرب دارالعلوم وقف کے وسیع وعریض میدان کا وہ خوش نمامنظر اور روحانی مجلس آ ج بھی نگاہوں کے سامنے ہے جس میں علماء وعوام کی ایک جم غفیرجمع ہےاور پیرطریقت اسٹیج پرجلوہ افروز ہیں ۔’’علم وعلماءکا مقام اورہمارے اکابر دیوبند‘‘ کی فضیلت پر سوزدل کےساتھ وعظ ونصیحت فرمارہے ہیں اورہاتھ میں ایک فہرست ہےدوران تقریرایک نظر اس پرچہ پر ہوتی اورایک نظر سامعین پر احقرنے قریب سے دیکھا تو اس پرچہ میں حدیث اور کتابوں کا اشاریہ لکھا ہواہےجوحضرت نےا سٹیج پر آنے سے پہلے تیارکی ہےیہی وجہ ہے حضرت کی تقریرحشووزوائد سے پاک اورجامع ،مرتب ہوتی تھی،پہلے تیاری کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہےکہ پوری تقریر موضوع کے دائرے میں رہتی ہے۔تقریباڈیڑھ گھنٹےکےپروگرام میں ’’علم وعلماء کا مقام اور ہمارے اکابر دیوبند‘‘کے موضوع پر ہی بولتے رہےپیر صاحب کے رقت آمیز دعاکے ساتھ مجلس ختم ہوئ۔دعاکا ایک خاص انداز پہلے مراقبہ ،محاسبۂ نفس پھر سرجھکائے التجائی منظوم کلام پھردعاہوتی ۔بیان کےبعددعا پر طلبہ، اساتذہ اور علماء اس طرح آہ و زاری کر رہے تھے کہ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ بچے، نوجوان، اساتذہ سب خدا کے دربار میں عاجزی، انکساری اور ندامت کے ساتھ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے قیامت کا ایک منظر دنیا میں اتر آیا ہو۔ان کی ہر ہونے والی مجلس کی ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے جس کو الفاظ کے پیرائے میں بیان کر نا مشکل امرہے۔ وہ شخص دنیا سے رخصت ہوا جس کی آنکھوں میں اللہ نے ایسی تاثیر رکھ دی تھی کہ جسے نگاہِ کرم سے دیکھ لیتے، یا جس سے اصلاحی تعلق قائم ہو جاتا، اس کے دل کی دنیا بدل جایا کرتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہی تاثیر ان کی کتابوں میں بھی رکھ دی ہے جو خلوص اور درد ان کی زبان میں تھی، وہی ان کی تحریروں میں بھی جھلکتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو آسانی سے پر نہیں ہو سکے گا۔ آستانۂ قاسمی کی وہ روحانی مجلس بھی آنکھوں کے سامنے ہے جس میں خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نوراللہ مرقدہ‘ نےپیر صاحب کو اجازت حدیث کی اعزازی سندسے سرفراز فرمایاتھا۔بندۂ ناچیزکوبھی دارالعلوم وقف کے صحن دارالاقامہ میں ان کی مجلس میں بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ قیام دیوبند کے دوران حضرت پیرصاحب نےدارالعلوم ،ودارالعلوم وقف دیوبندسمیت سات متعدد چھوٹی بڑی مجلسوں سے خطاب کیا ان کی تشریف آوری کے لوگ شدت سے منتظر تھے اور دور دور سے سفر کرکے ان کی ایک جھلک پانے کے لیے اور ان کی تقریریں سننے کے لیے دیوبند پہنچے ہوئے تھے۔ حضرت کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ آپ کی شخصیت دونوں ہی طبقوں میں یکساں مقبول تھیں خواہ وہ مدارس سے تعلق رکھتے ہوں یا یونیورسٹی سےعلماء طبقہ ہویا عوام، آپ کے حلقۂ ارادت میں شامل تھے اور ڈاکٹر ، انجینئربھی ،خاص وعام ہرایک کےدلوں میں جگہ بنائی ہوئی تھی آپ کے وصال سے اسلامی تصوف، اصلاحِ باطن اور روحانی تربیت کی دنیا کا گویا ایک مضبوط اور اہم ستون اٹھ گیا۔ ان کی ذات جامع الکمالات تھی علم، عمل، اخلاص، نسبتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ کا حسین امتزاج۔برصغیر ہی نہیں بلکہ ایشیا بھر کے علماء، مشائخ، مدارسِ دینیہ کے اساتذہ، خانقاہی نظام سے وابستہ حضرات، حتیٰ کہ نوجوان طلبہ، کالج و یونیورسٹی کے اساتذہ، پروفیسرز، انجینئرز اور ڈاکٹرز تک سلسلۂ نقشبندیہ سے وابستہ تھے۔ ان کے خلفاء اور متعلقین کا دائرہ وسیع تھا، مگر سب میں ایک بات قدر مشترک تھی اصلا ح قلب اور تعلق مع اللہ ان کی مجلس، ان کا بیان اور ان کی صحبت ایک عجیب کیفیت رکھتی تھی۔ واقعی وہی کیفیت جو کتابوں میں پڑھتے ہے کہ ’’اللہ والے وہ ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آ جائے‘‘—یہ بات ہم نے ان کی مجلس میں عملی طور پر دیکھی۔ ان کے سامنے بیٹھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ذکر دل پر اس طرح اثر کرتا تھا کہ دنیا کی ہر چیز پس منظر میں چلی جاتی تھی۔۔اللہ تعالیٰ حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، ان کے فیوض و برکات کو جاری رکھے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ولادت باسعادت:حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی یکم اپریل ۱۹۵۳ء؍ کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے عصری تعلیم لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، لیکن چالیس برس کی عمر میں اعلیٰ عہدہ چھوڑ کر خود کو مکمل طور پر دین کی خدمت اور اصلاحِ باطن کے لئے وقف کردیا۔حضرت کا شمار سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے سرکردہ مشائخ میں ہوتا تھا اور آپ کو اپنے شیخ حضرت مولانا غلام حبیب صاحب چکوالی رحمہ اللہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔ آپ کی روحانی مجالس، بیانات اور سفرِ ہائے اصلاح دنیا کے چالیس سے زائد ممالک تک پھیلے ہوئے تھے جن سے ہزاروں علماء، طلبہ اور عوام نے استفادہ کیا۔دینی و تعلیمی خدمات :حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے جھنگ میں’’معھدُ الفقیرالاسلامی‘‘کی بنیاد رکھی جو علومِ دینیہ اور روحانی تربیت کا اہم مرکز شمار ہوتا ہے۔ اس ادارے اور اس سے منسلک دیگر مراکز کے ذریعے قرآن و سنت کی روشنی میں تزکیۂ نفس، اصلاحِ اخلاق اور اتباعِ سنت کا پیغام عام کیا گیا۔تصنیفی خدمات:آپ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی بے حد سرگرم رہے، عربی، اردو اور انگلش سمیت مختلف زبانوں میں آپ کی درجنوں کتابیں شائع ہوئیں جن میں بعض فہرستوں کے مطابق سو سے زائد، اور بعض کے مطابق ڈیڑھ سو سے زیادہ عناوین شامل ہیں، جن کا محور اصلاحِ باطن، تربیتِ اولاد، حیا و پاکدامنی اور عملی زندگی میں سنت کی پیروی ہے۔ آپ کے اصلاحی و تربیتی بیاناتِ پوری دنیا میں مقبول رہے اور سوشل میڈیا و یوٹیوب پر لاکھوں لوگ انہیں سنتے اور اپنے حالات کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے۔اصلاحی خدمات:حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت تھے جنہوں نے جدید تعلیم یافتہ طبقے کو بھی تصوف اور شریعت کے ساتھ جوڑنے کی کامیاب کوشش کی، خود انجینئر ہونے کے باوجود انہوں نے عملی زندگی ترک کرکے دین و تزکیہ کو اپنی فکر کا محور بنایا۔ ان کے شاگرد آج دنیا کے مختلف خطوں میں خانقاہوں، مدارس اور تربیتی حلقوں کے ذریعے اسی فکر کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کا خلاصہ قرآن و سنت کی روشنی میں دلوں کی اصلاح، اخلاق کی تعمیر اور زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ نبوی کی پیروی ہے۔اہلِ علم کے نزدیک حضرت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے تصوف کو محض نظری مباحث کے بجائے عملی زندگی، معاملات، معاشرت اور خاندانی نظام کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا، ان کی درجنوں کتابیں، بیانات اور نصائح آنے والی نسلوں کے لئے بھی رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی۔وفات: ۱۴؍ دسمبر ۲۰۲۵ء بروز اتوار وفات پا گئے، آپ کی عمر تقریباً۷۲؍ برس تھی نمازِ جنازہ ۱۵؍ دسمبر بروز پیر، ساڑھے گیارہ بجے دن جھنگ میں جہاں ہزاروں شاگرد، خلفا اور عقیدت مندوں کی موجودگی میں ادا کی گئی۔ تدفین بھی وہیں معھد الفقیر الاسلامی کے احاطے میں ہوئی ہے۔
بقلم :انعام الحق قاسمی :ناظم لائبریری دارالعلوم وقف دیوبند ۲۵؍جمادی الثانی۱۴۴۷ھ مطابق۱۷؍دسمبر۲۰۲۵ء

















