(حضرت مولانا عبدالستارصاحب بوڑیوی دامت برکاتہم)
جمعہ کا مبارک دن تھا، دو جنوری ۲۰۲۶ء۔ فجر کے بعد دل میں ایک خاص سی کیفیت تھی۔ مقصد کوئی عام سفر نہیں تھا بلکہ حضرت مولانا عبدالستار صاحب کی خدمت میں حاضری، جن کا نام سنتے ہی دل میں علم، وقار اور اخلاص کی ایک دنیا آباد ہو جاتی ہے۔دیوبندیہ علمی شہر، جہاں کی گلیاں بھی حدیث و سنت کی خوشبو سے معطر ہیں۔وہیں سے اس سفر کا آغاز ہوا۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا، خاموش سڑکیں، اور دل میں یہ احساس کہ آج کسی ایسے بزرگ سے ملاقات ہونے جا رہی ہے جو علمِ حدیث کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔ یہ محض فاصلہ طے کرنے کا سفر نہیں تھا، بلکہ دل سے دل تک پہنچنے کی راہ تھی۔ہم دیوبند سے ایک قافلے کی صورت میں روانہ ہوئےیہ قافلہ چھ افراد پر مشتمل جس میں:مفتی عمیر شاملی صاحب ،مفتی شمس قمر صا حب ،مفتی محمود اختر کیفی صاحب معین مدرسین دارالعلوم وقف دیوبند ،قاری دانش صاحب (استادِ تجوید)قاری منور صاحب( شعبۂ حفظ، دارالعلوم دیوبند)اوراحقرسب حضرات ایسے تھے جن کی معیت میں سفرآسان ہوتا چلاگیا ۔دوران سفر علمی گفتگوہوتی رہی۔ کہیں حدیث کا تذکرہ، کہیں اکابر کی باتیں، کہیں خاموش دل ہی دل میں درودکا ودر ،پٹھیڑاصوفی معین الدین صاحب کی خانقاہ میں حاضر ی دیتے ہوئےیوں عصر کے وقت ہماراقافلہ بوڑیہ پہنچا۔جمعہ کا دن، سفر کی تھکن کے باوجود دل میں عجیب سی تازگی تھی۔ دیوبند کی سرزمین پیچھے رہ گئی، مگر اس کی خوشبو دل کے ساتھ چلتی رہی۔ جیسے جیسے ہم ہریانہ کی حدود میں داخل ہوئے، فضا میں سکون بڑھتا گیا۔ یہ وہ سکون تھا جو کسی بزرگ کی قربت سے پہلے دل پر طاری ہو جاتا ہے۔بوڑیہ کی سرزمین اور حضرت کی دہلیزبوڑیہ پہنچ کر یہ احساس شدت سے ہوا کہ بعض مقامات اپنے رقبے سے نہیں، نسبتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔بزرگانِ دین کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ بظاہر خاموش، سادہ اور گوشہ نشین ہوتے ہیں، مگر ان کی ذات صبر، استقامت، اخلاص اور فیضِ مسلسل کا ایسا درخت ہوتی ہے جس کی چھاؤں دور دور تک پھیلتی ہے۔ ان کے پاس نہ ظاہری جاہ و جلال ہوتا ہے، نہ دنیاوی نمود، لیکن دلوں کا رجوع، اہلِ علم کی وابستگی اور اللہ کی خاص توجہ ان کے وجود کو مرکز بنا دیتی ہے۔یہی وہ درختِ سائے دار ہے جس کے سائے میں بیٹھنے کے لیے دل مدت سے آمادہ تھا۔حضرت مولانا وقاری عبدالستار صاحب دامت برکاتہم کی ذات اس اعتبار سے بھی ممتاز ہے کہ یہاں علم اور عمل، شریعت اور طریقت، تدریس اور تزکیہ ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دور و نزدیک کے علماء، اساتذہ، حفاظ اور طلبہ ان کی خدمت میں رجوع کو باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔ ہم کسی رسمی ملاقات یا محض زیارت کے لیے نہیں آئے تھے، بلکہ علمی نسبت، قلبی لگاؤ اور اصلاح کی طلب ہمیں یہاں کھینچ لائی تھی۔ یہی سبب تھا کہ جب ہم پہنچے تو وہاں اہلِ علم کا ایک معزز مجمع پہلے سے موجود تھاجن میں دارالعلوم وقف دیوبند کے مؤقراستاذِحدیث حضرت مولانا محمدواصف عثمانی صاحب، معروف قلم کارمولاناساجدقاسمی کھجناوری صاحب،مولانااحمد حسن قاسمی صاحب استاذ خادم العلوم باغوں والی اور دیگر اکابر شامل تھے۔حضرت کا اندازِ نشست و برخاست، گفتگو اور بالخصوص قرأت و تجوید کی اصلاح کا طریقہ نہایت قابلِ توجہ تھا۔ وہ محض سماعت پر اکتفا نہیں فرماتے تھے، بلکہ مخارج، صفات اور ادائیگی کی باریکیوں تک خود اصلاح فرماتے۔ ضعفِ عمر کے باوجود قرآنِ کریم سے یہ گہرا تعلق اس بات کا روشن ثبوت تھا کہ جنہوں نے اپنی جوانی قرآن کے لیے وقف کی، اللہ ان سے بڑھاپے میں بھی کام لیتا ہے-یوبند سے روانگی کے وقت بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ جن علما کے نام ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں، جن کے شاگردوں کی زبانی ان کے علمی تذکرے سنتے ہیں، آج انہی میں سے ایک عظیم شخصیت سے بالمشافہ ملاقات نصیب ہو رہی ہے۔ راستے بھر دل درود شریف میں مشغول رہا اور ذہن میں یہی دعا کہ یہ حاضری قبول ہو، محض ملاقات نہ ہو بلکہ نسبت کا ذریعہ بن جائے۔سفر کے دوران جب گاڑی ہریانہ کی حدود میں داخل ہوئی تو ماحول میں ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ بوڑیا ایک چھوٹا مگر بابرکت مقام ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم کی قدم بوسی کا شرف عطا فرمایا ہے۔ یہاں پہنچتے ہی دل نے گواہی دی کہ یہ جگہ محض جغرافیائی نقطہ نہیں بلکہ علم و تقویٰ کا مرکز ہے۔حضرت مولاناقاری عبدالستار صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات۔حضرت کی خدمت میں حاضری نصیب ہوئی تو پہلی ہی نظر میں جو چیز دل میں اتر گئی وہ تھی سادگی، وقار اور نورانیت۔ نہ بناوٹ، نہ تصنع ایک ایسے عالم کی جھلک جو علم کو اوڑھتا نہیں بلکہ جیتا ہے۔ چہرے پر متانت، گفتگو میں ٹھہراؤ، اور لہجے میں وہ شفقت جو صرف اکابر کی صحبت میں محسوس ہوتی ہے۔حضرت سے ملاقات کے دوران ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے حدیث کی کتابیں خاموشی سے بول رہی ہوں۔ ان کی باتوں میں نہ صرف علم تھا بلکہ عمل کی خوشبو بھی تھی۔ وہ بزرگ جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ حدیثِ رسول ﷺ کی خدمت میں گزار دیا ہو، ان کی مجلس خود ایک درس بن جاتی ہے۔اجازتِ حدیث: اس قافلے کی منزل، اور دلوں کی تمناتھی کہ اجازتِ حدیث حاصل ہوجائے جوحضرت نے نہایت شفقت اور انکساری کے ساتھ مرحمت فرمائی۔یہ لمحہ بیان سے زیادہ محسوس کرنے کا تھا۔ ایسا لگا جیسے وقت تھم گیا ہو، اور صدیوں سے چلی آتی روایت نے ہمارے ہاتھ میں اپنی ایک کڑی تھما دی ہو۔اس اجازت کے ساتھ ایک خاموش ذمہ داری بھی دل پر اتر آئی کہ حدیث محض روایت نہیں، عمل، ادب اور حفاظت کا نام ہے۔یہی وہ مقام تھا جہاں یہ بات دل میں پوری شدت کے ساتھ اتری کہ بزرگانِ دین کی اصل پہچان ان کا دعویٰ نہیں، ان کا عمل ہوتا ہے۔ نہ بلند بانگ خطابات، نہ تصنع، بلکہ خاموشی کے ساتھ دین کی خدمت اور یہی خاموشی سب سے بلند آواز بن جاتی ہے۔ایسی مجالس میں بیٹھ کر وہ حدیث بار بار یاد آتی رہی: “جو بندہ اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے، اللہ اس کی طرف دو قدم بڑھاتا ہے۔یقیناً یہی وہ راز ہے جس نے ان حضرات کو قبولیت اور تاثیر کا مقام عطا فرمایا ہے۔حضرت مولانا عبدالستار صاحب کا مقام محض ایک مدرس یا محدث کا نہیں، بلکہ وہ ان اہلِ علم میں سے ہیں جنہیں دیکھ کر اکابر کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ حدیث سے گہرا شغف، اسناد کی پہچان، اور مسلکِ اکابر پر مضبوط پکڑیہ سب صفات حضرت کی شخصیت میں جمع ہیں۔واپسی کے وقت دل میں یہ احساس غالب تھا کہ اگرچہ وقت اور مشاغل بار بار حاضری کی اجازت نہیں دیتے، مگر دل کا ایک حصہ وہیں رہ گیا ہے۔ یہی کیفیت شاید اس بات کی علامت ہے کہ نسبت بن چکی ہے، اور ان شاء اللہ یہ نسبت پھر حاضری کا سبب بنے گی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کی صحبت کی قدر کرنے اور ان کے فیوض و برکات سے حقیقی معنوں میں مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائےاورحضرت کا سایہ صحت وعافیت کے ساتھ درازفرمائیں۔آمین یا رب العالمین۔ انعام الحق قاسمی ناظم لائبریری دارالعلوم وقف دیوبند ۱۲رجب المرجب ۱۴۴۶ھ ۲؍جنوری۲۰۲۶ءبروزجمعہ


















