منگل, فروری 3, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بدلتے بھارت میں، بدلہ لینے کا پروان چڑھتا ذہن

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں

سری لنکا بنگلہ دیش اور نیپال،، کیا سے کیا ہوگیا!! –(تبدیلی کی لہر)

by Admin
اکتوبر 4, 2025
in اہم خبریں, دیگر مضامین, قومی و بین الاقوامی
0
سری لنکا بنگلہ دیش اور نیپال،، کیا سے کیا ہوگیا!! –(تبدیلی کی لہر)
0
SHARES
7
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

تحریر۔ جاوید اختر بھارتی

کہاوت ہے کہ گھور اور گھوڑے کے دن ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ گھور کہتے ہیں اس جگہ کو جہاں کوڑے کا انبار لگا رہتا ہو ایسی جگہ ہمیشہ یکساں نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہاں صفائی کرکے عالیشان محل تعمیر ہوسکتا ہے ، سرکاری یا نیم سرکاری دفاتر کی تعمیر ہوسکتی ہے مساجد ومدارس کی تعمیر بھی ہوسکتی ہے اور گھوڑے کے دن ہمیشہ یکساں نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ گھوڑا کبھی سواری ڈھوتا ہے اور کبھی تانگے کھینچتا ہے کبھی اس کی پشت پر کوئی انسان سج سنور کر دولہے کی شکل میں بیٹھتا ہے تو کبھی گھوڑا بادشاہ کی بگھی میں بھی استعمال ہوتاہے معاملہ واضح ہوگیا کہ گھور اور گھوڑے کے دن ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے ۔

حکمراں جب تک یہ سوچتا ہے کہ پورا ملک میرا خاندان ہے اور ملک کا ہر شہری میرے خاندان کا ممبر ہے تو ایسے حکمراں کو انصاف کرنے کا حوصلہ ملتا ہے اور جب ایک حکمراں کو انصاف کرنے کا حوصلہ ملے گا تو یہ پورے ملک کے لئے فخر کی بات ہوتی ہے اور جس حکمران پر ملک کی عوام فخر کرے تو یہ ایک حکمراں کے لئے خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے۔

ایک حکمراں کے لئے ضروری ہے کہ وہ بجلی ، پانی اور سڑک کو ترجیح دے اور روٹی کپڑا ، مکان کو بھی ترجیح دے یہ چھہ چیزیں چھہ خصوصیات ملک کی تعمیر و ترقی کی بنیاد مانی جاتی ہیں ، نیپال کے حکمراں کے قدم شائد ان راستوں سے بہک چکے تھے ،، قانون و انصاف کی بالادستی قائم کرنے کے بجائے انصاف کا ہی گلا گھونٹا جانے لگا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ صبر کا پیمانہ چھلک پڑا اور عوام سڑکوں پر اتر آئی آگزنی ہوئی قتل وغارت گری ہوئی اور نیپالی حکومت کا وجود تک ختم ہوگیا خدائی لہجے میں بات کرنے کا خواب دیکھنے والے حکمراں آج بھاگے بھاگے پھر رہے ہیں۔

حکومت جب تانا شاہی کے راستے پر چلے گی تو عوام سے رابطہ کمزور ہوتا جائے گا اور جب عوام سے رابطہ اور رشتہ کمزور ہوگا تو عوام کے اندر حکومت کے تئیں ناراضگی بڑھے گی اور جب عوام ہی حکومت سے ناراض ہوجائے تو وہی حال ہوتا ہے جو سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کا ہوا ہے ۔

حکومت کی جانب سے عوام کو جو مراعات اور سہولیات فراہم ہونی چاہئے اس مراعات اور سہولیات میں جب کمیشن خوری ہونے لگے گی تو حکومت کی بھی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی اور جب الٹی گنتی شروع ہوگی تو صفر یعنی زیرو پر آنا ہی آنا ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ عدلیہ اور میڈیا پر اپنا شکنجہ نہ کسے کیونکہ حکومت جب عدلیہ اور میڈیا دونوں کو اظہار خیال کی آزادی دے گی تو ایسی صورت میں حکومت کو چار چاند لگے گا۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو مجمع سے ایک شخص کھڑا ہوتاہے اور کہتاہے کہ ائے عمر خطبہ بعد میں دینا پہلے میرے سوال کا جواب دو جتنا کپڑا آپ کو ملا تھا اتنا ہی کپڑا ہمیں بھی ملا ہے لیکن قمیص تو نہیں بن پائی پھر تم تو اتنے تندرست و صحت مند ہو تمہاری قمیص کیسے تیار ہوئی اتنا سننے کے بعد امیر المؤمنین نے سوال کرنے والے کو ڈانٹا پھٹکارا نہیں بلکہ اپنے بیٹے سے کہا کہ بتاؤ میری قمیص کیسے تیار ہوئی تو امیر المؤمنین کے بیٹے نے کہا کہ میرے حصے کا کپڑا اور میرے باپ کے حصے کا کپڑا ملاکر سلا گیا ہے تو اس کی وجہ سے میرے باپ کی قمیص تیار ہوئی،، سوال کرنے والا شخص مطمئن ہوگیا اور کہا کہ ائے عمر اب خطبہ دو ہم سنیں گے۔ 

امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی کو گورنر بناتے تو اسے ہدایت دیتے کہ تم اونچی پوشاک نہیں پننا ، دروازے پر دربان نہیں رکھنا اور کوئی ملنے آئے تو ملنے سے انکار نہیں کرنا اور کسی فریادی سے سخت لہجے میں بات نہیں کرنا۔

امیر المومنین کے بتائے ہوئے اصول وضوابط اور ہدایت کے مطابق جو حکومت کرے گا تو یقیناً ملک کی عوام کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا اور حکمراں کو بھی عوام کی ناراضگی کا سامنا نہیں پڑے گا لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج کے حکمرانوں کے اندر خوش مزاجی بھرے انداز میں گفتگو کا فقدان پایا جاتا ہے ، سخت سیکیورٹی کے جھرمٹ میں رہتے ہیں ، غریب مزدور عوام سے ملنا پسند نہیں کرتے ہیں ، عہدے و منصب اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں غربت کے خاتمے کا نعرہ لگاتے اور لگواتے ہیں اور جیب و پیٹ اپنا بھرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک میں غربت ، بے روزگاری ، بدعنوانی کا گراف بڑھتا جاتا ہے اور ملک کی عوام بے بس ہوتی جاتی ہے۔

ملک کے وہ ادارے جو حکومت کو آئینہ دکھاتے ہیں ، تنقید برائے اصلاح کے جذبے اور ضابطے کے مطابق کام کرتے ہیں جب حکمراں ایسے اداروں پر شکنجہ کستے ہوئے اپنے مفاد میں استعمال کرنے لگتے ہیں تو عوام کی آواز دبانے کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہی عوام جو اپنے حکمرانوں کو مبارکباد پیش کرتی ہے ، کبھی استقبال کرتی ہے  اور کبھی نعرہ لگاتی ہے وہی عوام سر پر پگڑی اور کفن باندھ کر بے روزگاری ، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف سڑکوں پر آتی ہے تو راہ میں روکاوٹ کھڑی کرنے جو بھی آتا ہے تو اس کی دھجیاں اڑجاتی ہیں ، اس کے شیش محل میں آگ لگ جاتی ہے ، وزراء کو دوڑا دوڑا کر اس کی اوقات یاد دلا دی جاتی ہے اور اولی جیسے حکمرانوں کا گھمنڈ چکنا چور ہو جاتا ہے ، اقتدار سے بے دخل کردیا جاتاہے اور ملک چھوڑنے پر بھی مجبور کردیا جاتاہے اور یہ سارا منظر نیپال میں دیکھنے کو ملا جبکہ نیپالی حکومت کو شری لنکا اور بنگلہ دیش سے سبق حاصل کرنا چاہئے تھا لیکن نیپالی حکمراں طاقت کے نشے میں چور تھے ، عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ مارتے تھے اور عوام کی آواز کو زبردستی دباتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہاتھی نے ہی مہاوت کی دھجیاں اڑا ڈالی ،، 15 سے پچیس سال کی عمر تعلیم حاصل کرنے والی عمر ہوتی ہے ، اپنے مستقبل کو روشن بنانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے والی عمر ہوتی ہے ، اپنے آپ کو تراش کر اپنے اندر نکھار لانے کی عمر ہوتی ہے اسی لئے ایسی عمر میں سڑکوں پر نکلنا احتجاج کرنا اور تشدد کا مظاہرہ کرنا یقیناً غیر مناسب ہے یہ تو تذکرہ شدہ عمر کا ایک پہلو ہے اور اس عمر کا دوسرا رخ اور دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اسی عمر کے لوگوں کو جوان کہا جاتا ہے اور نوجوان کہا جاتا ہے تو یاد رکھیں دینی، مذہبی، سیاسی اور سماجی ہر اعتبار سے یہ ماننا ہوگا کہ جوان اور نوجوان قوم کی ، ملک و ملت کی ، سماج و معاشرے اور سوسایٹی کی عزت و آبرو ہوتا ہے ، قوم اور ملک و ملت کا مستقبل ہوتاہے ، ملک وملت کا سرمایہ ہوتاہے تو جب جوان اور نوجوان قوم کا سرمایہ ہوتاہے ، قوم کا مستقبل ہوتاہے تو اس کی قدر کرنا چاہئے اس کے جذبات اور احساسات کی صحیح ترجمانی ہونی چاہئے اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو نیپال میں دھواں نہیں اٹھا ہوتا، آگ کے شعلے بلند نہیں ہوئے ہوتے اور سارے جوان اور نوجوان سڑک پر نہیں نکلے ہوتے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نیپال کی معزول شدہ و فرار شدہ حکومت کا طریقہ کار انتہائی گھٹیا من مانی اور بدعنوانی و بے ایمانی پر مبنی تھا جس کا احساس طلبہ کو ہو گیا اور انہوں نے بدعنوانی میں غرق حکمرانوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے کمر کس لئے اور میدان میں نکل پڑے۔

نیپال میں جو کچھ ہوا اس سے پوری دنیا کے حکمرانوں کو سبق حاصل کرنا چاہئے ۔ 

Tags: بنگلہ دیشجاوید اختر بھارتیحکمراںسری لنکانیپال
Admin

Admin

Next Post
اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

بے تکلف اسلوب

2 ہفتے ago
باب اول در بیان انجام مداہنت

واپسی

1 ہفتہ ago

مقبول

  • تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • زمانہ بدل گیا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.