جمعہ, فروری 13, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں دہلی

سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

by Md Yasin Jahazi
فروری 13, 2026
in دہلی
0
باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

9891737350

27 جولائی 2024 ء ہفتہ کے روز ساون کی شبنمی قطرات میں بھیگتے بھیگتے جوں ہی آفس کے گیٹ پر پہنچا، حضرت  مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کا حکم ہوا کہ گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ تعمیل حکم کے بعدمقصد سفر معلوم کیا ،تو معلوم ہوا کہ تحفظ جمہوریت کے مقصد سے جواہر بھون (منسوب بہ جواہر لال نہرو) واقع نئی دہلی میں ایک پروگرام کاانعقاد کیا جارہا ہے، جس میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے شرکت کی نمائندگی کرنی ہے۔چنانچہ اس موضوع کوخود سے ریلیٹ کرنے کی وجہ سے دل چسپی میں اضافہ ہوا اور ختم اجلاس تک اجلاس میں شریک رہا۔

دنیا نے تشدد کے راستے انقلاب برپا کرنے اور حکومتوں پر فتح پانے کے طریقے کو جب فرسودہ پایا، تو عدم تشدد کا فلسفہ اپنا کر اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کا راستہ ڈھونڈھ نکالا۔ چنانچہ برصغیر بالخصوص ہندستان کی آزادی میں اس فارمولےنے بڑا کردار ادا کیا اور محض تیس سال کے اندر اس حکومت کو دیس نکالا دے دیا، جس کے متعلق یہ عقیدہ بن گیا تھا کہ اس کی حکومت کا سورج کبھی غرو ب نہیں ہوتا۔آزادی  کے بعدبھارت میں جمہوری طرزحکمرانی لاگو گئی، جس کودوسرےالفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب میدان جنگ میں دوبدو کرنے کے بجائے محض ایک انگلی کے بہتر استعمال سے  حکومت کو پلٹااور بدلا جاسکتاہے، جسے ووٹنگ سسٹم کہا جاتا ہے۔

لیکن پچھلےکچھ دنوں سے جمہوریت  کے دشمن فسطائی عناصر بھارت کی اس خوب صورتی کو ختم کرنے کے لیے اپنے مکروہ مقصد کے لیے پابہ جولاں ہیں، جس کی وجہ سےملکی سیاست کی بصیرت  رکھنے والے ماہرین اسے جمہوریت کے لیے خطرہ بتاتےہوئے، اس کے تحفظ کے لیے لائحۂ عمل پیش کرتے رہے ہیں۔ یہ پروگرام اسی نوعیت کا تھا، جس کے دوسرے سیشن میں جناب ایس وائی قریشی صاحب سابق چیف الیکشن کمیشن نے شرکت کی۔ 

جناب قریشی صاحب نے مجمع کو سلام سے اپنی بات کا آغاز کیااورکسی قسم کی تقریر سے پہلے لوگوں سے ووٹ بوتھ پر ہوئی پریشانیوں اورگڑبڑیوں کا فیڈ بیک لیا، لوگوں نے ہوئی پریشانیوں اور گڑبڑیوںکو بیان کیا،جس میں اہم باتیں یہ سامنے آئیں:

1۔ ای وی ایم مشین میں اگر وہ سیل بند ہےاور افسروں نے اس کے ساری ہدایات پر عمل کیا ہے،تو گڑبڑی ہوہی نہیں سکتی۔

2۔ ایک منٹ میں ایک ای وی ایم مشین میں صرف چھ ہی ووٹ ڈل سکتےہیں، کیوں کہ ہر ایک ووٹ کے بعد 12 سکنڈ کےلیے مشین ڈیڈ ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی لگاتار بٹن دباتا رہے گا، تو مشین مکمل ڈیڈ ہوجائے گی۔یہ اس لیے کیاگیا ہےتاکہ کوئی بوتھ پر قبضہ کرکے ان گنت ووٹ نہ ڈال سکے۔

3۔  ای ویم ایک منٹ میں چھ ووٹ سے زیادہ سلو (دھیمی رفتار) نہیں ہوسکتی۔ اگرکہیں پر اس کی رفتار کو سست کرتا ہے، تو اس کےلیے افسروں کی بدنیتی ذمہ دار ہے، اس کےخلاف فورا اعلیٰ افسروں کوشکایت کریں۔

4۔ ووٹر کارڈ ووٹ ڈالنے کی گارنٹی نہیں ہے،بلکہ الیکٹورل رول گارنٹی ہے، اس لیے ہر دوچار مہینے میں اپنا ،اپنی فیمیلی اور دیگرمتعلقین کا نام چیک کرتے رہنا چاہیے۔ اور نام چاہے جیسے بھی کٹا ہو، اس کا نقصان ووٹر ہی کو ہوگا ؛ کیوں کہ وہی ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہوگا۔ الیکشن کمیشن اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

اس پر راقم سمیت کئی لوگوں نے پوچھا کہ آخر الیکشن کمیشن لوگوں کے ناموں کو کیوں کاٹ دیتےہیں، توقریشی صاحب نے اس کی وجوہات بتائیں کہ

۱۔ کمپیوٹر   ایرر۔

۲۔ پڑوسی یا کسی کی غلط شکایت۔

۳۔ افسران کی غلطی۔

۴۔ افسران کی بد نیتی۔

انھوں نےزور دے کر کہا کہ وجہ کوئی بھی ہو، نقصان آپ ہی کا ہے، اس لیے جس طرح آر ایس ایس والوں نے ہر ایک پنے پر جس میں تقریبا پچیس تیس نام ہوتے ہیں، ایک پنا پرمکھ بنا رکھا ہے، ایسے ہی تحفظ جمہوریت اور اپنی سیاسی سمجھ بوجھ کا حوالہ دینےکےلیے ووٹ کے تعلق سے بیدار رہنا ضروری ہے۔انھوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکٹورل رول کے ذریعہ الیکشن کی ہار جیت کا فیصلہ چھ مہینے، تین مہینے پہلے ہوجاتا ہے، تو جولوگ اس تعلق سے بیدار رہتے ہیں، وہ لوگ جیت جاتے ہیں، اور جولوگ ایسا نہیں کرتے، وہ لوگ ہار جاتے ہیں۔

راقم نے ایک سوال یہ کیا کہ جو لوگ کسی دوسری جگہ ملازمت کرتے ہیں، مثلا دہلی کی رپورٹ یہ ہے کہ یہاں کی مقامی آبادی کل تیس فیصد ہے ، جب کہ ستر فی صد لوگ باہر سے آکر یہاں رہ  رہے ہیں،جن میں سےبیشتر کے پاس یہاں کاالیکشن کارڈنہیں ہےاور نہ ہی یہ حضرات ملازمت کی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے بوتھ پر جاکر ووٹ ڈال پاتے ہیں، تو اس کےلیے الیکشن کمیشن نے کیا انتظام کیا ہے؟ اس پرانھوں نے کہا کہ پوسٹل ووٹنگ کاسسٹم ہے، لیکن وہ سرکاری ملازمین کےلیے مشروط ہے، عام لوگوں کے لیے نہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس سوال پر الیکشن کمیشن کو غور کرنا چاہیے۔

دوسرا سوال یہ راقم نے یہ کہا کہ نئے ووٹر کارٹ بنانے میں اگر بی ایل او معاونت نہ کرے اور معاندت سے کام لے،تو اس کا کیا حل ہے، تو انھوں نے بتایا کہ آپ تحصیل کے ادھیکاری کے پاس جاسکتے ہیں، وہاں شنوائی نہ ہورہی ہو، تو آپ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کےپاس جاسکتے ہیں ۔

سیشن کے بالکل آخر میں راقم کا تیسرا سوال یہ تھا کہ  ایک وڈیو میں دیکھا کہ جو تین مرتبہ سے زائد ووٹ نہیں ڈالے گا، اس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور شہریت بھی ختم کی جاسکتی ہے، اس میں کتنی سچائی ہے؟ اس کا ہاتھ ہلاکر مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ بالکل افوا ہ ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

سچائی یہی ہے کہ آج کل سیاسی سوجھ بوجھ کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ووٹنگ سسٹم سے مکمل طور پر واقفیت ہو اور جب کبھی ووٹنگ ہو، تو اس میں سو فی صد ووٹ کاسٹنگ کا عزم کرتے ہوئے مکمل اتحاد کے ساتھ کسی ایک جمہوریت مزاج لیڈر کو جیتانا ضروری ہے؛ ورنہ اگر ہرانے کی سیاست کرتے رہے، تو شکست ہماری عقل و بصیرت پر ماتم کرے گی  اور مردہ قوم کا عنوان  چسپاں کرکے ہماری تباہی کا  تماشا دیکھے گی۔

اختیاری مطالعہ

اس جلاس کی مکمل رپورٹ درج ذیل ہے:

جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند کے اشتراک سے جواہر لال نہرو بھون نئی دہلی میں 27 ؍جولائی 2024 ءکو بروز ہفتہ ووٹر بیداری کے تعلق سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند ،مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا ذاکر قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا وحید الزماں صاحب قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند اور راقم محمد یاسین جہازی نے شرکت کی ریاستی جمعیت علمائے ہریانہ کی طرف سے مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہریانہ،پنجاب ہماچل پردیش کی قیادت اور مفتی سلیم احمد ساکرس کی نگرانی میں ایک بڑی تعداد نے شرکت کی.

پروگرام کا آغاز قاری اسلم بڈیڈ صاحب کی تلاوت اور نعت النبی سے ہوا۔ بعد ازاں جناب ملک صاحب نے پروگرام کے مقاصد کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہریانہ میں آنے والے اسمبلی الیکشن میں ایسا فعال کردار ادا کرنا ہے جس سے فرقہ پرستانہ سوچ کی ہار ہو۔انھوں نے ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ سیاست میں فرقہ واریت سے زیادہ سماج سے فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے اور ہمیں اسی کے لیے کام کرنا ہے۔

اس کے بعد مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے خطاب فرمایا،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارا ملک بہت خوب صورت ہے لیکن بیمار ہوگیا ہے۔ اس بیماری کی اصلاح ضروری ہے۔انھوں نے اس پر زور دیا کہ ہمیں زمینی سطح پر کیسے کام کرنا ہے اس کو سیکھنا چاہیے اور مکمل معلومات حاصل کرکے میدان میں اترنا چاہیے۔مولانا قاسمی نے پچھلے 2024 ءکے الیکشن میں خاموش طریقہ سے جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد کا بھی تذکرہ کیا۔

پروفیسر عزیز جھا صاحب نے اس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے 2024 ءکے پارلیمنٹری الیکشن میں جس طرح چار سو پار کا نریٹیو سیٹ کیا تھا، ایسا لگتا تھا کہ فرقہ واریت جیت جائے گی ؛لیکن اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والوں نے ہمت نہیں ہاری اور فرقہ واریت کو شکست دینے کے لیے کام کرتے رہے، جس کا نتیجہ اچھا آیااور فرقہ واریت کو ہار ہوئی۔

اس کے بعد جناب ندیم صاحب اور ان کے ساتھیوں نے پی پی ٹی کے ذریعہ ہریانہ میں ماحول بنانے، ووٹ کاسٹنگ کی کمی کو دور کرنے اور ووٹ اندراج کو یقینی بنانے جیسے موضوعات پر شان دار معلومات فراہم کیں۔

اس کے بعد جناب جوگندر یادو صاحب نے اپنا خطاب شروع کیا، انھوں نے کہا کہ بی جے پی ہارنے کے بعد اگلے الیکشن جیتنے کے لیے جائز ناجائز قانونی غیر قانونی ہر حربے استعمال کرے گی۔یہ لڑائی ذہنی لڑائی ہے، اس لیے صرف الیکشن میں بی جے پی کو ہرانے سے نہیں ہم نہیں جیتیں گے؛ بلکہ اس کے لیے آر ایس ایس کی سو سالہ جدوجہد کے خاتمے کے لیے ہمیں بھی سڑک پر اترنا پڑے گا۔

انھوں نے ہریانہ الیکشن کے ڈیٹا انالائسیس کرتے ہوئے بتایا کہ بی جے پی ہندو مسلم اور جاٹ یادو کا کارڈ کھیل کر جیتتی ہے، جس کے لیے انھوں نے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے، اس لیے ہمیں مقابلے کے لیے ابھی سے تیاری کرنی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مشینوں کی ہیرا پھیری کی بات کی جاتی ہے لیکن بی جے پی نے دماغوں کی ہیرا پھیری کردی ہے، جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں ایسے لوگوں سے بات کرنی ہوگی جس نے پہلے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے۔

میوات میں جو لوگ بی جے پی کے لیے ووٹ مانگنے آئے، وہاں کے لوگوں کو کہنا چاہیے کہ جو ہمارا مآب لنچنگ کرتی ہے اس کے لیے تم کیسے ووٹ مانگ سکتے ہو۔

ہریانہ میں کانگریس سے زیادہ بھرشٹا چار بی جے پی کے دور میں رہی۔نوکری، بے روزگاری اور اس جیسے ریل (حقیقی) ایشوز پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی فرضی مدعے اٹھاکر ماحول کو الگ رخ پر لے جاتی ہے جس سے اصل مدعے غائب کردیتی ہے۔

آر ایس ایس پچھلے دو سال سے ہریانہ میں کام کررہی ہے۔

اس کے بعد جناب پرشانت کمار صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیونیکیشن، کمپیننگ اور زمینی سطح کے کام ہی اصل کام ہے۔نھوں نے مزید کہا کہ ہمیں ماضی کی تاریخ سے ہندو مسلم اتحاد کے جو عملی مظاہرے ہوئے ہیں، اس کو سامنے لاکر سدبھاؤنا قائم کریں، جیسے کہ ہریانہ میں سرچھوٹو رام نے ایک یونینسٹ پارٹی بنائی تھی جس کی ورکنگ کمیٹی میں کئی مسلمان تھے اور انھوں نے ہندو مسلم دلت اور جاٹ کو متحد کرنے پر کام کیا۔

2024 ءکے الیکشن میں انڈیا اتحاد کے اسٹار پرچارک نے کبھی بھی ہندو مسلم بیانات نہیں دیے، بلکہ الٹے ہی بی جے پی کو اپنے ٹریک پر لانے کی کوشش کی۔آزاد بھارت میں یہ سب سے زیادہ مضبوط اپوزیشن ہے۔

انھوں نے کی میسیج دیتے ہوئے کہا کہ ہریانہ میں متھرا کاشی اور رام مندر کے معاملے کا کوئی مطلب نہیں ہے، لیکن بی جے پی ہریانہ کے باہر کے مدعے لانے کی کوشش کرے گی، جس میں ہریانہ والوں کو نہیں پھنسنا ہے؛بلکہ وہاں کے جو مقامی مدعے ہیں ان کے تعلق سے بیداری پیدا کرکے ماحول بنانے کی کوشش کریں۔

پارٹیوں میں ٹکٹ کی تقسیم میں میرا آدمی تیرا آدمی کے نام سے سرپھٹول ہوگی؛ لیکن ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے، اس کے بجائے ہمیں کمپیین میں سوشل میڈیا، میڈیا سماج کے اہم اہم لوگوں کی فہرست بنائیں اور اپنے پروگرام میں ان کو بلاکر مقامی مدعوں پر بلوائیں،اس میں کوئی کانگریس، بی جے پی نہیں کریں۔

بی جے پی کے اہم ووٹر مہیلا ووٹرس ہیں، ان کے مدعے کو بھی اٹھائیں۔

اسی کے ساتھ صبح کا سیکشن اختتام پذیر ہوگیا اور پروگرام نماز و ظہرانہ کے لیے دوسرے سیشن کے لیے ملتوی ہوگیا.

دوسرا سیشن جناب ایس وائی قریشی صاحب سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا کے لیے وقف تھا، جس کی تفصیلات سطور بالا میں آگئی ہیں۔

بعد ازاں جناب شیو کمار صاحب پروفیسر دہلی یونی ورسٹی نے تقریر کی۔انھوں نے  کہا کہ جس تکلیف سے سب لوگ انفرادی طور پر گزر رہے ہیں اگر سب لوگ مل کر اس کو حل کریں گے تو مسئلہ ضرور حل ہوجائے گا۔انھوں نے جاوید خان کے پرائیویٹ بل پیش کرکے دوسروں کے حقوق کے لیے لڑنے کا نمونہ پیش کیا۔1857 ء میں ملک اس لیے جیت نہیں پایا کہ سب لوگ ملک کے لیے نہیں؛ بلکہ صرف اپنی ریاست کے لیے لڑ رہے تھے اور 1947ء میں ہندستانی اس لیے جیت گئے کہ انھوں نے ہندستان کے لیے لڑائی لڑی۔ہمیں سیکولرزم کی لڑائی مل کر بڑی لڑائی لڑنی ہوگی۔

ایک دوسرے مہمان مقرر نے کہا کہ اقلیتوں کی اکثریت کو ملا کر اور سڑک پر آکر کام کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہم لوگ کیا کرسکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر کام کرسکتے ہیں۔

خود اپنی کمیونٹی کے ساتھ اور دوسری کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا نہایت ضروری ہے۔

مشترکہ لوگوں کا گروپ بناکر سب کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا ضروری ہےاور لوگوں کو جوڑے رکھنے کے لیے مشترک کمیونٹی کے ساتھ مختلف مسائل پر پروگرام کرتے رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی ہر پروگرام کے بعد فیڈ بیک لینا ضروری ہے۔

جناب اشتیاق صاحب نے کہا کہ پروگرام میں سنی ہوئی باتوں کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے۔

مفتی سلیم احمد ساکرس نے  کہا کہ بہتر نتائج کی توقع ہم سب رکھتے ہیں؛ لیکن اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ،صرف خواب دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں ووٹ دیتے وقت ذاتی مفاد کے بجائے ملی مفاد کو ترجیح دینا ہے۔

مفتی ساکرس نے آخر میں یہ بھی کہا کہ علما کو قوم کا سب سے بڑا ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہمدردی اسی وقت سچی سمجھی جائے گی جب ضرورت پڑنے پر قوم کے کام کے لیے علما  آگے آئیں گے اور اس کے لیے زبردست محنت کریں گے ۔

بعد ازاں جناب ندیم صاحب نے کہا کہ ہمیں کام کرکے یہ ثابت کرنا ہے کہ مودی قابل شکست ہے۔2024 ءکا الیکشن کا ریزلٹ کسی سیاسی پارٹی کی وجہ سے نہیں؛ بلکہ سیکولر عوام کی بیداری کی وجہ سے ہے۔

مفتی سلیم احمد گڑگاواں کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

غزہ کی خاموش چیخیں اور ایمان کا چراغ

غزہ کی خاموش چیخیں اور ایمان کا چراغ

3 مہینے ago

ہندستان اس طرح آزاد ہوا

3 ہفتے ago

مقبول

  • جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • پاکی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.